Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode no 19
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 08/05/2026
25 Views
Episode no 19
دو پل کو ٹھہرا عشق کا کارواں ازقلم ہما قریشی 19 قسط نمبر ’’یوسف انکل،تمھارا مطلب۔‘‘وہ لفظ ادھورے چھوڑ گئی۔ ’’تمھارے بابا!تمھیں ایسا لگتا ہے کہ تمھیں اپنے دوست کی جھولی میں ڈال کر وہ تم سے بالکل غافل یا لاپراہ ہوگئے تھے،تو نہیں ایسا نہیں ہے۔‘‘انکشاف ایسا تھا جو مقدس کو کافی دیر میں لے سکت میں ڈال گیا تھا۔ ’’تمھارے پالنے والے ماں ،باپ کے پاس بھی،تمھاری ہر ضرورت ،تمھاری تعلیم کا خرچہ،یہاں تک کے تمھاری اس سو کالڈ پھپھو کے گھر میں بھی وہ تم سے اور تمھاری کسی ضرورت سے ہر گز غافل نہیں تھے،بس وہ مجبور تھے،اور یہ مجبوری بھی تمھاری ماں کی بدولت تھی۔‘‘مقدس دم سادھے سُن رہی تھی۔ ’’اب ظاہر ہے ایک مرد کی زندگی سے جب ایک عورت چلی جائے تو اسکا یہ مطلب تو ہر گز نہیں ہوتا نا کہ وہ شخص ایک عورت کے نام پر زندگی گزار دے۔ تمھاری ماں نے بھی تمھارے بابا کو بیچ منجھدار میں تنہا چھوڑ دیا تھا،مگر چھوٹے دادا کا پریشر بھی تھا،اس وقت انھیں تمہاری زات سے متعلق کڑا فیصلہ لینا پڑا تھا۔اور سچ بتاؤ مقدس کیا تمھیں ان کے گھر میں کبھی کسی پریشانی کا سامنا ہوا یقیناً نہیں ہوا ہوگا۔کیونکہ وہ بے اولاد جوڑا تھا اور وہ تمھیں سگوں سے بڑھ کر چاہتے تھے۔‘‘مقدس کی آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے تھے۔ ’’تو کیا ماں باپ کے لئے اولاد کے سامنے پیسوں کا ڈھیر لگا دینا کافی ہوتا ہے؟‘‘اسکی آواز کپکپانے لگی تھی۔ ’’یقیناً نہیں!مگر ایک بار سوچو مقدس کہ یہ سب کر کہ انھیں تمھار ہی فیوچر سیکیور کیا تھا۔فرض کرو کہ آگر انکل کی سیکنڈ وائف تمھیں ایکسپیٹ نہ کرتیں تو تم اسٹپ مام اور انکی زیر نگرانی پلنے والے بچوں کی مینٹل کنڈیشن سے تو ضرور واقف ہوگی۔‘‘اب وہ سسک رہی تھی۔عیسیٰ نےا سے خاموش نہیں کرایا تھا۔ ’’تم مجھے ان کی طرف سے صفائی کیوں پیش کر رہے ہو۔جبکہ انھونے تو مجھے کبھی سینے سے بھی نہیں لگایا،مجھے بیٹی نہ کہا۔ بس لوگوں کے ڈر سے انھوں نے اپنی ہی اولاد کو لوگوں کی ٹھوکروں میں چھوڑ دیا۔۔سگے ماں باپ کی جگہ کوئی نہیں لے سکتاعیسیٰ۔‘‘ وہ ہچکیوں سے روئی تھی۔ ’’اوکے ریلیکس! تمھاری پھپھو کا گھر آگیا ہے،میں یہیں ویٹ کر رہا ہوں۔‘‘ مقدس نے چونک کر پی ای سی ایچ ایس کی سوسائٹی کو دیکھا تھا، کراچی جیسے شہر میں اپنا گھر ہونا ہی بڑی بات تھی،ایسے میں کراچی کی سب سے مہنگی سوسائٹی میں اسکی پھپھو کا گھر اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ وہ اسکی چار دن کی سرپرستی کے عوض اسکے باپ دادا سے کتنا بڑا اماؤنٹ لے چکی ہیں۔۔‘‘مقدس نے ہتھلی سے گال رگڑ کر خشک کئے تھے۔ ’’تم بھی چلو نا ساتھ۔۔‘‘عیسیٰ نے ایک نظر دیکھا تھا اور پھر گہری سانس بھرتا باہر نکلنے کا اشارہ کرتا خود بھی ہمراہی میں باہر نکل آیا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس وقت ڈرائینگ روم میں سناٹا سا محسوس ہو رہا تھا۔۔پھپھو صاحبہ خفت زدہ سی نظریں جھکائے بیٹھی تھیں،جبکہ انکی بیٹی للچائی ہوئی نگاہوں سے عیسیٰ کو دیکھ رہی تھی۔جسے ان سے ایک بار ہوٹل میں دیکھا تھا اور اب یہ دوسری بار دیکھنا نصیب ہوا تھا۔اور اس دن کے منظر یاد کر اسے نے چور نگاہوں سے مقدس کو دیکھا جس کا دھیان اسکے ماں باپ کی طرف تھاْْ ’’پھپھو آپ کو ایک بار بھی اپنے مرے ہوئے بھائی کا خیال نہیں آیا۔۔جو آپ پر جان چھڑکتے تھے،اور آپ انہی کی اولاد کے عوض پیسہ لیتی پھر رہی ہیں۔‘‘ مقدس نے تاسفی لہجے میں احساس کرایا تھا۔ ’’بیٹا یہ بس میں نے خود سے نہیں۔۔‘‘انھونے صفائی دینے کی ناکام کوشش کی تھی۔ ’’بس کردیں۔۔میں نہیں جانتی تھی کہ آپ اتنی بے حس اور احسان فراموش ہیں۔‘‘وہ دکھ بھرے لہجے میں بولی تھی۔جبکہ وہ ناک چڑھاتی سر جھاک گئیں۔۔ ’’’اچھا مقدس بیٹا یہ سب باتیں چھوڑو نا تم ہمارے داماد کے ساتھ پہلی بار گھر آئی ہو۔ مناہل بیٹا بھائی کے لئے کچھ چائے پانی کا اہتمام کراؤ۔‘‘ مناہل لفظ بھائی پر بری طرھ جذبز ہوئی تھی۔ ’’ٹھیک ہے بابا مان لیا کہ مقدس میری بہن ہے۔مگر اب میں اتنے ہینڈسم خاص کر اپنے کرش کو بھائی تو نہیں بول سکتی۔۔‘‘عیسیٰ نے اُبرو اُٹھا کر مقدس کی طرف دیکھا تھا،جس نے کینہ توز نگاہوں سے گھورا تھا۔ ’’بہن کا شوہر بھائی ہی ہوتا ہے۔اور معاف کیجئے گا انکل،اب اس گھر کا پانی بھی مجھ پر حرام ہے،جس مال میں حرام کی کمائی شامل ہے،اور بہتر ہوگا کہ اب آپ کبھی زندگی میں ، میرے سامنے آنے کی کوشش مت کیجئے گا۔ورنہ میں لحاظ نہیں کرونگی،سیدھا جیل کرواؤگی۔۔‘‘مقدس کے لہجے کی سختی پر عیسیٰ کو نجانے کیوں ایک لمحے کو ہنسی آئی تھی۔۔جیسے وہ کمال مہارت سے ضبط کر گیا۔ ’’ارے بیٹا۔ناراض کیوں ہورہی ہو۔۔‘‘پھپھو جان فوری سنبھلی تھیں۔ ’’چلیں عیسیٰ!‘‘وہ کھڑی ہوئی تو ساتھ عیسیٰ بھی کھڑ ا ہوگیا تھا۔۔وہ بالکل خاموش تھا مگر اسکی ذات کا رعب و دبدبہ ہی تھا جو وہ لوگ بالکل سیدھے ہوئے بیٹھے تھے۔عیسیٰ کی ہمراہی میں قدم لیتی وہ ہمیشہ کے لئے ان بے نام سے رشتوں کو خیر باد کہہ آئی تھی۔ ’’ارے مقدس تمھاری ناراضی ماں بابا ہے۔۔کم از کم مجھے تو عیسیٰ سے ملوا دو۔‘‘مناہل پیچھے پیچھے بھاگتی ہوئی آئی تھی۔ کیا مسلہ ہے مناہل۔۔۔تمھارا ملنا کوئی ضروری نہیں ہے۔۔جاؤ یہاں سے۔‘‘ مقدس کو پہلے ہی اس پر غصہٰ تھا،کیونکہ عیسیٰ اور اسکے رشتے کے درمیان حائل تمام بدمزدگی کی وجہ ہی یہی تھی۔ ’’واہ مقدس عیسیٰ جیسے شخص سے شاد ی کر کہ تو تمھارے مزاج ہی بدل گئے ہیں۔‘‘عیسیٰ جو اگنیشن میں گاڑی لگاتا بس گاڑ ی اسٹارٹ ہی کر رہا تھا،کہ ہولے سے مسکرا اُٹھا تھا۔ ’’ہیلو!‘‘عیسیٰ نے ہاتھ ہلایا تو مناہل نے جھٹ سے ہاتھ آگئے بڑھایا تھا۔اور مقدس نے اسکے ہاتھ پر ہاتھ مارا تھا۔ ’’بی ان یور لمٹس!‘‘اس نے مناہل سمیت عیسیٰ کو بھی گھورا تھا،جو اسے جیلس ہوتا دیکھ مسکراہٹ دبا گیا۔ ’’جاؤ بھئی!تم تو شروع سے پاگل ہو۔۔‘‘وہ غصہٰ سے بولتی تن فن کرتی وہاں سے چلتی بنی تھی۔جبکہ عیسیٰ کو قہقہہ بلند ہوا تھا۔ ’’ڈانٹ ٹیل می کہ تم، مجھے میری انڈسٹری کی فرینڈز کے ساتھ دیکھ کر بھی جیلس فیل کرتی ہو۔‘‘ وہ مسکراہٹ دباتا گاڑی اسٹارٹ کر چکا تھا۔ ’’اتنا فالتو وقت اور دماغ نہیں ہے میرے پاس کہ فضول چیزوں پر ضائع کردوں۔‘‘وہ ناک چڑھا کر بولی تھی،جبکہ وہ مسکرا کر سر جھٹک گیا تھا۔کچھ لمحے خاموشی کی نظر ہوئے تھے،جبکہ وہ اسکا ہاتھ تھام کر لبوں سے لگاتا مقدس کو حیران ہی کر گیا تھا۔ ’’کیا ہوا اب ؟‘‘اسے خود کو حیرت سے دیکھتا پاکر اس نے ابرو اٹھائے۔ ’’مجھے تمھاری طبیعت ٹھیک ہی نہیں لگ رہی۔‘‘اب وہ اُسکی انگلیوں کے پوروں کو ایک ایک کر کہ لبوں سے لگا رہا تھا۔ جبکہ وہ سرخ پڑتے چہرے کے ساتھ حیرت کا اظہار کرتی عیسیٰ کو اور پیار ی لگی تھی۔ ’’کیوں ابھی تو تم آئیر پورٹ پر کہہ رہی تھیں کہ میں رومانس نہیں کرتا،تو اب کرنے کی کوشش کر رہا ہوں تو بھی تمھیں ایشو ہورہا ہے۔‘‘اس نے اسے گھورا تو مقدس نے نظریں چرائی تھیں،کیونکہ آج کچھ تو تھا اسکی نگاہوں میں جو مقدس کا سارا اعتماد ڈگمگا رہا تھا۔ ’’تم بہت عجیب بی ہیو کر رہے ہو۔‘‘وہ نگاہیں چُراتی خفت زدہ سی بولی تھی،کیونکہ اب وہ بار بار ہتھیلی پر لب رکھ رہا تھا۔۔مقدس کی پوری باڈی شیور کرنے لگی تھی۔۔ ’’ریلیکس یار کیا ہوگیا ہے،شوہر ہوں تمھارا۔۔‘‘وہ
