Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode no 19
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 08/05/2026
25 Views
Episode no 19
اپنے اور اسکے رشتہ کی اس نئی شروعات سے قبل اسے زہنی طور پر اپنا بنا رہا تھا،وہ جانتا تھا کہ گزشتہ تین ماہ میں ان دونوں کے درمیان کافی فاصلہ آگیا تھا۔۔اور اب اس کو عیسیٰ نے ہی سمیٹنا تھا۔۔ مقدس خاموش رہی تھی،اسکی پیا م دیتی نگاہوں کا مفہوم سمجھ کر دل ابھی سے زورو سے ڈھڑکنے لگا تھا۔ گاڑی سگنل پر ٹھہرگئی تھی۔جبھی ایک بچہ گجرے لئے کار کے نزدیک آیا تھا۔۔ ’’بھائی اپنی بیوی کے لئے لے لو۔‘‘اچانک سے آواز پر مقدس چونک کر اسکی جانب متوجہ ہوئی تھی۔ ’’کتنے کا دے رہے ہو۔‘‘عیسیٰ نے اس سے ایک پئیر لیتے ویسے ہی پوچھ لیا تھا۔ ’’پانچ سو کی جوڑی،آپ چار سو دے دو۔۔‘‘وہ خود ہی ڈسکاؤنٹ دے رہا تھا۔۔عیسیٰ کے ساتھ ساتھ مقدس بھی مسکرا دی تھی۔ ’’چار سو کیوں یار! تم پورے ہزار لو۔۔‘‘عیسیٰ نے ایک نوٹ نکال کر اسکی جانب بڑھایا تھا۔ ’’تم پڑھتے نہیں ہو؟‘‘مقدس نے اس کم عمر بچے یوں دیکھ ویسے ہی پوچھ لیا تھا۔ ’’پڑھتا ہوں صبح جاتا ہے اسکول۔۔‘‘وہ شکریہ کے ساتھ نوٹ جیب میں رکھ کر بولا تھا۔ ارے واہ!پھر تو تمھیں اسکول کی چیزوں کی ضروت بھی ہوتی ہوگی؟‘‘عیسیٰ نے ایک بار پھر والٹ نکالا تھا۔ ’’ہوتی ہے،مگر دوستوں سے لے لیتا ہوں۔‘‘ وہ مسکرا کر بولا۔۔ ’’اچھا یہ لو ،اپنی کتابیں خرید لینا۔۔اور یہ کارڈ بھی رکھو،آگر اسکول چینج کرنا ہو تو مجھے اس نمبر پر کال کرلینا۔۔موبائل ہے؟‘‘ وہ سوالیہ بولا تھا۔ ’’موبائل نہیں ہے۔لیکن مجھے یاد آگیا آپ وہی والے بھائی ہو نا جس نے پہلے بھی مجھے پیسے دئیے تھے،اور یہ کارڈ بھی۔مگر اس وقت کوئی اور باجی ساتھ تھی آپ کے۔۔‘‘عیسیٰ کا چہرہ بجھ گیا تھا،مقدس کو اس حوالے پر ہنسی آئی تھی۔ ’’’یار اس باجی کا ذکر ضروری نہیں تھا۔۔خیر وہ باجی بس باجی ہی تھی۔اور یہ میری بیوی ہے،اور اب سے تمھیں میرے ساتھ بس یہی نظر آئیے گی۔ویسے مجھے تمھارا یاد نہیں ہے،مگر تم مجھے کسی کے بھی فون سے کال کرلینا۔۔‘‘وہ مسکرا کر بولا جبکہ وہ بچہ مسکرا کر چلا گیا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’یہ تم کیا ہر کسی بچے کو کارڈ دیتے پھرتے ہو؟‘‘وہ کلائی میں موجود گجروں کی خوشبوں سونگھتی سوالیہ بولی تھی۔۔ گاڑی ایک بار پھر اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھی۔ ’’’ہر کسی کو نہیں!اس طرح کے بچے کو،کیونکہ عبداللہ خاندان کے نام سے کافی چیرٹی ہوتی رہتی ہے،اور ملیحہ پھپھو کے گزر جانے کے بعد،انکی جائیداد کے حصہٰ کا ففٹی پرسنٹ ہم اسکول کے بچوں پر لگا تے ہیں۔۔ دراصل گرینڈ پا نے وہ اسکول قائم ہی اس طرح کے بچون کے لئے کیا ہے وہ تعلیم افورڈ نہیں کر سکتے۔۔‘‘ مقدس نے اوہ کے آنداز میں سر ہلایا۔ ’’ملیحہ پھپھو زاران بھائی کی مما نا؟‘‘وہ تصدیقی آنداز میں سوال کر رہی تھی۔ ’’جی ہاں زاران کی مما!‘‘ یہ بھی ایک لمبی کہانی تھی جو وہ پھر کبھی سُنانے کا اَرادہ رکھتا تھا۔۔ ’’میرے خیال سے ا ب ہمیں ڈنر باہر ہی کرلینا چاہئے!‘‘وہ گھڑی میں وقت دیکھ کر بولا،وہ جو سوچوں میں گم بیٹھی تھی۔۔چونک گئی تھی۔۔ ’’ہاں! ہمیں ڈنر کر ہی لینا چاہئے!‘‘وہ تائیدی آنداز میں سمجھ کر سر ہلا گئی تھی۔۔کچھ ہی دیر میں ڈنر کے بعد پیٹرول پمپ سے گاڑی کی ٹینک فل کرانے کے بعد اب وہ سیدھا گھر آئے تھے۔۔ ’’تم روم میں جاؤ!میں ذرا گاڑدز کو چیک کر کہ آتا ہوں۔۔‘‘کارپورچ میں گاڑی کے ٹھہرتے ہی مقدس اُترنے لگی تھی اس سے قبل ہی عیسیٰ کی نرم سی آواز سماعتوں سے ٹکرائی تھی۔۔ ’’سویٹ ہارٹ آئی وانٹ یو ٹو بی ریڈی۔ناٹ جسٹ ود یور اسمائل ،بٹ ود یور ہارٹ ۔۔بکاز ٹونائٹ ،ایوری مومنٹ بلانگ ٹو اس ،اونلی آس۔۔‘‘وہ دھڑکتے دل سے اسکا معنی خیز جملہ سنتی،بغیر پلٹے تیزی سے گاڑی سے اُترتی تیز قدموں سمیت ہی عبداللہ ہاؤس کے آندورنی حصےٰ کی جانب بڑھی تھی۔۔۔جبکہ وہ اُسکے آنداز پر ہولے سے مسکراتا بالوں میں ہاتھ گھماتا کار کا دروازہ کھول کر باہر نکلا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’افف!یہ بندہ تو آج میری جان نکلوا کر ہی دم لے گا۔۔۔‘‘اپنی دھڑکنوں کو تیز آواز پر وہ بہت مشکل سے قا بو پاتی خود ساختہ سرگوشی کرتی ہال میں ہی ٹھہر گئی تھی۔وہ ابھی تک لب چباتی اسکے واضح لفظوں کا مفہوم بھی ناسمجھی کی کیفیت میں دہراتی وہیں جم کر کھڑی تھی۔۔ جبھی ایک بار پھر سے عیسیٰ کی آواز سماعتوںس ے ٹکرائی تھی۔ ’’جانم ابھی تک یہیں کھڑی ہو۔۔مجھے اپنی بیوی اپنے لئے سجی سنورئ چاہئے!‘‘وہ اسکے قریب کان آکر کندھے پر دھیرے سے لب رکھتا اس بار مقدس کو بری طرح سے سٹپٹا نے پر مجبور کر گیاتھا۔۔ ’’تم ایسے نہیں جاؤگی۔۔۔‘‘وہ ایک ہی لمحے میں اسے اپنے حصار میں اُٹھاتا سیڑھیوں کی جانب بڑھا تھا۔۔ ‘’’عیسیٰ چھوڑو میں۔۔خود۔‘ ’’چلی گئی تم خود۔۔فضول میں وقت ضائع کر رہی ہو۔۔ویسے تو بڑا بیوی بیوی کا راگ الاپتی پھرتی ہو،اب جب بیوی ہونے کا حق ادا کرنے کا وقت آیا ہے تو تمھیں چپی لگ گئی ہے۔۔‘‘وہ جان کر چھیڑ رہا تھا۔۔جبکہ وہ شرما کر اسکے سینے میں چہرہ چھپا گئی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’آئی ایم ویٹنگ فار یو!‘‘وہ اس وقت روم میں موجود بیڈ پر نیم دراز مقدس کے نمبر پر پیغام بھیجتا،آنکھیں موند گیا تھا،جو پیچھلے آدھے گھنٹے سے ڈریسنگ روم میں بند تھی۔ ’’آجاؤ یارا! نہیں کھا رہا میں تمھیں۔۔‘‘اس باروہ شرارت سے بولا تھا،جبکہ ہینڈل پر ہاتھ رکھ کر کھڑی مقدس لب دانتوں تلے دبائے باہر آئی تھی۔جبکہ عیسیٰ نےاسے دیکھ مسکراہٹ چھپائی تھی۔ سرخ رنگ کے کی گھیر دار فراک کے ساتھ،ہاتھوں میں سرخ چوڑیاں پہنے،لمبے بالوں کو پشت پر بکھرائے وہ ذرا جھجھک کر باہر آئی تھی۔ ’’مجھے تو لگا تھا آج میں تمھارے انتظار میں ہی بوڑھا ہوجاؤنگا۔۔‘‘وہ اٹھ کر اسکے پاس آتا شرارت سے بولا تو،جس کو عیسیٰ کو دیکھ نظریں اٹھانا محال لگ رہا تھا۔۔ ’’پیاری لگ رہی ہو۔۔‘‘اسکی پیشانی پر مہر محبت ثبت کرتا وہ گھمبیر لہجے میں بولا تھا۔۔جبکہ وہ شرمائی شرمائی،سیدھا دل پر لگ رہی تھئ۔۔ ’’لیٹس ڈانس؟؟‘‘اسے شرماتا دیکھ اسکی جانب ہاتھ بڑھاتا ،اب وہ اسے ریلیکس کر رہا تھا،وہ ایک گہری سانس لیتی ایک نظر اسے دیکھ کر اپنا نازک سا ہاتھ اسکے مضبوط ہاتھوں میں دے چکی تھی۔۔ ’’تمھیں پتہ ہے، مجھے تمھارے بال بہت پیارے لگتے ہیں۔۔۔‘‘اسکے بالوں کی لٹیں سنوارتا وہ گھمبیر لہجے میں بولا تھا،جبکہ دھیرے دھیرے سالسا ڈانس کے اسٹیپ لیتے ہلکے سے مسکرائے تھے۔ ’’اور!‘‘و ہ اُسے گول گول گھوماتامقدس کو کھلکھلاتا دیکھ ،مسکرایا تھا۔جبکہ وہ مزید جاننے کے لئے متجسس ہوئی۔۔ ’’پوری کی پوری تم۔۔اور تمھاری حاضر جوابی۔۔‘‘وہ مسلسل کھلکھلا رہی تھی۔۔ ’’سوری !‘‘گول گول گھوماتا اسے خود سے قریب کرتا،وہ نرم لہجے میں بولا تھا۔۔مقدس ہولے سے مسکراتی ،اسکے سینے پر سر رکھ گئی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عیسیٰ کی آنکھ کھلی تو مقدس کو کمرے میں نا پاکر وہ ایک گہری سانس لیتا فریش ہونے کے بعد نیچے کی طرف بڑھا تھا۔۔جہاں مقدس پہلے سے ہی موجود تھی۔۔ ’’گڈ مارننگ سویٹ ہارٹ!‘‘ وہ عقب سے ا س پر اپنا حصار قائم کرتا مقدس کو مسکرانے پر مجبور کر گیا تھا۔۔ ’’گڈ مارننگ!‘‘وہ شرمیلی مسکراہٹ سمیت بولی تھی۔عیسیٰ نے اسکی پیشانی پر اپنے لب رکھ دئیے تھے۔۔ ’’آج ناشتہ باہر کریں۔‘‘اس کے بالوں سے چہرہ لگائے کھڑا وہ استفساریہ گویا ہوا تھا۔ ’’نہیں!آج ہم ناشتہ گھر میں ہی کریں گے۔۔‘‘عیسیٰ مسکرا دیا۔ ’’تو پھر کیا بنا رہی ہو؟‘‘وہ ہائی چئیر پر بیٹھتا،اسکا گلابی چہرہ اپنی نگاہوں کے حصار میں لئے سوالیہ آنداز میں بولا تھا۔ ’’ایگ وائٹ آملیٹ ود ویجیٹیبلز،اوٹمیل
