Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode no 17
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 06/05/2026
25 Views
Episode no 17
میں بولی۔ ’’یہ تم سے ملنا چاہتی تھیں،ویسے تو ان کا عبداللہ ہاؤس میں آنا ممنوں ہے،یہی وجہ تھی کہ ہم نے انھیں تمھاری شادئ میں بھی نہیں بلایا تھا۔ مگر پھر بھی انھونے آپ کو پیدا کیا ہے۔‘‘وہ مزید بولے۔ ’’ماں بننے کے لئے آگر پیدا کرنا کافی ہوتا ہے تو میں نہیں مانتی۔‘‘وہ غصےٰ میں تھی۔ ’’مقدس ہم نے کبھی تمھارا برا نہیں چاہا تھا بیٹا،خاص کر میں نے تو بالکل بھی نہیں۔۔میں تو ایک عرصہ تمھارے وجود سے واقف ہی نہیں تھی۔۔یقین کرو،آگر میرے علم میں ہوتا کہ تم زندہ ہو تو میں کبھی تمھیں یوں لاوارث نہ چھوڑتی۔۔‘‘مقدس استہزائیہ مسکرائی تھی۔ ’’اب کیوں آئی ہیں؟‘‘وہ سوالیہ بولی۔ ’’مجھے پتہ چلا تھا کہ تم عیسیٰ سے خلع چاہتی ہو،میں تمھیں اپنے ساتھ لے جانے آئی ہوں۔۔‘‘مقدس نے بے یقینی سے ابتسام صاحب کو دیکھا تھا۔ ’یہ بات میں نے انھیں نہیں بتائی،ابدال نے بتائی ہے۔‘‘انھونے پوزیشن کلئیر کی۔اتنے میں عیسیٰ بھی وہاں آگیا تھا۔۔وہ سلام کر کہ خاموشی سے ایک طرف کو کھڑا ہوگیا تھا۔۔ ’’میں اپنی زندگی کے ہر فیصلے میں آزاد ہوں تو بہتر یہی ہے کہ آپ مجھ سے دور رہیں۔‘‘وہ تفصیلی آنداز میں بولی تھی۔ ’’مقدس مام کی بات تو سن لو یار!‘‘اس بار عمر نے مداخلت کی،اسکے لہجے پر عیسیٰ کی پیشانی پر بل نمودار ہوئے تھے۔ ’’مجھے تمھاری مام کی کوئی بات نہیں سننی!تو بہتر یہی ہے کہ تم انھیں یہان سے لے جاؤ۔۔‘‘وہ باور کراتے لہجے میں گویا ہوئی تھی۔۔ ’’میں تمھاری ماں ہوں بیٹا!خو دکو اکیلا مت سمجھا کرو۔۔میں نے تمھاری اس نام کی پھپھی کو بھی کہا تھا جس نے تمھارے عوض عبداللہ خاندان سے ایک اچھی خاصی اماؤنٹ وصولی ہے۔‘‘مقدس کی پیشانی پر بل نمودار ہوئے تھے۔ ’’واٹ!لیکن کیوں؟‘‘وہ حیران ہوئی۔عیسیٰ کو اب اس میلو ڈرامہ سے بیزاری ہونے لگی تھی۔ ’’’مقدس کوئی خلع نہیں چاہتی ہے۔ بس ہم دونوں کی ایک بات پر جرح ہوگئی تھی تو یہ غصےٰ میں آگئی۔۔باقی آپ لوگ اپنا قیمتی وقت یوں برباد نہ کریں۔۔یہ میرا اور میری بیوی کا معاملہ ہے۔ہم خود ہی حل کر لیں گے۔‘‘اس بار عیسیٰ کو مداخلت کرنی پڑی تھی۔ مقدس خاموش رہی تھی۔ ’’’مقدس بیٹا اپنی ماں کو مطمئن کردیں آپ۔۔‘‘ابتسام صاحب کے کہنے پر وہ گہرا سانس لے گئی۔ ’’’آپ میرے بارے میں کیا کچھ جانتی تھیں یا کیا نہیں۔اس سے میرا کوئی کنسرن نہیں،کیونکہ میں نے آپ لوگوں کے بغیر جینا سیکھ لیا ہے۔۔اور ٹھیک کہا ہے عیسیٰ نے میں شاید زیادہ ہی جذباتی ہوگئی تھی، اپنی زندگی کا تلخ تجربہ رہا ہے نا بس اسی لئے۔۔لیکن آپ کو میرے لئے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘وہ کاٹ دار لہجے میں بولی۔ ’’’مگر مقدس!‘‘عمر نے کچھ کہنا چاہا۔ ’’’میرے خیال سے آنٹی آپ ہمارا وقت برباد کر رہی ہیں۔۔اور یہ جو بھی بھائی صاحب ہیں انھیں کہیں کہ یہ یہاں سے تشریف لے جائیں،کیونکہ یہ ہمارا فیملی میٹر ہے۔۔دخل آندازی کی ضرورت نہیں۔۔‘‘ان دونوں کو چپی سی لگی تھی۔۔ ’’’تم اپنی ماں کو معاف نہیں کر سکتیں؟‘‘ان کے لہجے میں آس پوشیدہ تھی۔ ’’’نہیں!اور پلیز آئندہ یہاں آنے کی زحمت نہ کیجئے گا۔۔‘‘وہ تلخٰ سے بولی۔ ’’’یہ غلطی تمھارے باپ کی تھی۔‘‘وہ خفا ہوئیں۔ ’’’غلطی آپ کی ہو یا میرے سو کالڈ باپ کی،لیکن آپ دونوں کی مشترکہ غلطی کی وجہ سے مقدس یوسف کا بیکار سا وجود تو دنیا میں آگیا نا۔۔۔‘‘وہ جس آنداز میں بولی تھی ،سب کو ہی اس کے لہجے میں کرب محسوس ہوا تھا۔ ’’’مگر بیٹا تمھارے باپ نے تمھاری پیدائش کے وقت ہی تمھیں اپنے کسی دوست کی جھولی میں لے جا کر ڈال دیا تھا۔اور مجھے کہا کہ بچہ مردہ پیدا ہوا تھا۔۔‘‘وہ مزید ضبط نہیں کر سکی تھیں۔۔مقدس کا چہرہ ضبط سے سرخ پڑا تھا۔۔ ’’’آگر آپ ماں،باپ اپنی حماقتوں سے پہلے ایک چیز سمجھ لیں کہ آپ کے پاس پارٹنر کا انتخاب کرنے کا آپشن موجود ہوتا ہے مگر بچے ماں باپ کا انتخاب نہیں کر سکتے۔انھیں ہر حال آپ جیسے ماں باپ کے ساتھ گزارہ کرنا ہوتا ہے۔‘‘ثمینہ کو لگا تھا کہ بھری محفل میں انکی بیٹی نے انھیں بے عزت کر کہ رکھ دیا تھا۔۔ ’’’بہت ہے کہ آپ یہاں سے چلی جائیں۔۔اور کبھی واپس نہ آئیے گا،کیونکہ میرے دل میں اتنی جگہ نہیں ہے کہ میں آپ جیسی بے حس عورت کو معاف کر سکوں،جو اولاد پیدا کر کہ ہی بھول جائے۔۔‘‘وہ تلخی سے بولتی وہاں سے واک آوٹ کر گئی،جبکہ باقی سب خاموش رہ گئے تھے۔۔ ’’’عبداللہ صاحب۔۔۔۔۔‘‘انھونے کچھ کہنا چاہا۔۔ ’’تم یوسف کی بھول تھیں،مگر مقدس اس خاندان کا خون ہے ہمارے گھر کی عزت ہے،ہماری نسلوں کی امین ہے،تو بہتر یہی ہے کہ تم اس سے فاصلے پر رہو،دوسری بات ابدال نے غصےٰ میں تمھیں وہ سب کہہ دیا جو مقدس جذباتیات میں کہہ بیٹھی تھی۔مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ لاوارث ہے۔‘‘اس بار انھونے سخت لفظوں میں باور کرایا تھا۔۔عیسیٰ فوراً کمرے کی جانب بڑھا تھا۔۔جبکہ سب مہمان خانے سے نکل آئے تھے۔وہ وہ عمر کے ساتھ خاموش بیٹھی تھیں،عمر کے پاس دلجوئی کے لئے ایک لفظ تک نہ تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’یوں اس کمرے کی ہر بات کا اشتہار لگا کر مل گیا تمھیں سکون؟‘‘عیسیٰ کمرے میں آتا غصےٰ سے بولا تھا۔۔ ’’’میں نے اشتہار لگایا ؟‘‘اس نے انگلی سے رخ اپنی جانب کیا تھا۔ ’’’تو اور کس نے لگایا ہے؟نہ تم چھوٹے دادا سے یوں ساری باتیں کہتی نہ یوں اس کمرے کی بات باہر نکلتی۔‘‘ اس بار اس نے دانت کچکچائے۔ ’’’چھوٹے دادا،یہ سب کیا دھرا ہی تمھارے چھوٹے دادا کا ہے۔ ان سے میں نے ایک بات کہی ،اور انھونے کوئی مثبت فیصلہ کرنے کے بجائے زمانے میں پھیلا دی۔‘‘وہ استہزائیہ مسکرائی تھئ۔ ’’’تم نےیہ بات کی ہی کیوں تھی؟‘‘وہ ضبط سے غرایا۔ ’’جب تم بار بار مجھے خلع لینے کا کہو گے تو کسی سے تو یہ بات کرنی ہوگی نا۔‘‘اس بار وہ بھی تیز لہجے میں بولی تھی۔ ’’’’اور میں نے منع بھی تو کیا تھا۔۔وہ بھول گئی ہو؟‘‘وہ مقدس کو کندھوں سے تھام کر پیچھے دیوار سے لگاتا سیخ پا ہوا تھا۔ ’’’نہیں کچھ نہیں بھولی،تمھارا ا کہا ایک ایک لفظ یاد ہے۔۔اور خلع تو میں تم سے لے کر رہونگی۔۔‘‘اس کو پیچھے دھکیلتی وہ غصےٰ سے غرائی تھی۔ ’’’مقدس !‘‘وہ ضبط سے آنکھیں میچ گیا۔ ’’کیوں اپنی اور میری زندگی مشکل بنا رہی ہو؟‘‘وہ ضبط سے بولا تھا۔ ’’میں مشکل بنا رہی ہوں یا تم؟تم میرے ساتھ جب رہنا ہی نہیں چاہتے تو پھر اس بے مقصد باتوں کا مطلب؟‘‘وہ غصےٰ سے استفساریہ بولی تھی۔ ’’’بہت سوچا میں نےا س بارے میں،اور مجھے لگتا ہے کہ ہمیں اس رشتے کو ،خاص کر مجھے اس رشتے کو ایک موقع ضرور دینا چاہئے۔‘‘اس بار دل کی بات لبوں تک آہی گئی تھی۔۔ ’’’’اوہ اور ایسا کیوں لگتا ہے چیف صاحب کو؟‘‘وہ استہزائیہ مسکرائی۔ ’’’شاید تم صحیح تھیں،جس طرح میرے ماضی پر تمھارا کوئی حق نہیں ہے، بالکل اسی طرح تمھارے ماضی پر بھی میرا کوئی حق نہیں ہے۔مجھے لگتا ہے کہ ہمیں اس رشتے کو ایک موقع ضرور دینا چاہئے۔‘‘ مقدس نے خاموش نگاہوں سےا سے دیکھا تھا۔ ’’’اور آگر تمھارے دل میں میرے لئے کوئی گنجائش نہ نکل سکی تو؟‘‘ اس نے ابرو اٹھائے۔ ’’’تو ہم اپنے راستے جدا کرلیں گے۔۔‘‘مقدس مسکرائی۔ ’’’چلو تمھاری خاطر اس رشتے کو ایک موقع اور دے لیتی ہوں،کیونکہ میں تو ہمیشہ سے اس رشتے کو چلانا چاہتی تھی،مگر تم تھے جو شروع دن سے میرے ساتھ نبھا نہیں کرنا چاہتے۔مگر ایک بات
