Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode no 17
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 06/05/2026
25 Views
Episode no 17
دو پل کو ٹھہرا عشق کا کارواں ازقلم ہما قریشی 17 قسط نمبر ’’’اوہ پلیز زیادہ نیک پروین بننے کی کوشش نہ کرو مقدس صاحبہ! کیونکہ میں آنکھوں دیکھا بھول نہیں سکتا،اور کیا کہا تم نے غلطی؟؟ عزت دار خاندان کی لڑکیاں یوں رات کی تاریکی میں ہوٹل کے کمرے میں غیر مردوں کے گلے کا ہار نہیں بنی ہوتی۔۔‘‘وہ حد سے زیادہ تیز لہجے میں غرایا تھا۔۔ ’’عیسیٰ میں لحاظ کر رہی ہوں تمھارا۔۔‘‘وہ ضبط کے باعث پھولے تنفس سمیت گویا ہوئی تھی۔ ’’’کیا لحاظ کر رہی ہو؟یہ جو عبداللہ ہاؤس کے مکین تمھیں سر پر بیٹھا رہے ہیں نا آگر انھیں خبر ہوجائے، کہ تم کس قسم کی لڑکی ہو تم وہ تمھاری شکل تک دیکھنا گوارہ نہیں کریں گے۔‘‘مقدس کی آنکھوں میں آنسو چہرے پر بہتے بے مول ہورہے تھے،وہ اس کے بارے میں ایسی سوچ رکھتا تھا۔۔یہ سوچ ہی دل دکھا رہی تھی۔ سینے میں درد سا اٹھا تھا۔اسکا وجود اتنا غیر ضروری اور عارضی تھا کہ وہ کوئی بھی کچھ بھی رائے اخز کر لیتا۔۔ ’’’تو ٹھیک ہے نا پھر۔۔۔۔تمھیں کوئی ضرورت نہیں ہے میری جیسی بدکردار اور بے حیا لڑکی کے ساتھ رہنے کی۔۔‘‘ دکھ کے باعث آواز کپکپانے لگی تھی۔عیسیٰ بھی غصےٰ میں پاگل ہو رہا تھا۔ ’’’کہاں جا رہی ہو اب؟‘‘وہ اسے ایک بار پھر کمرے سے جاتا دیکھ استفساریہ گویا ہوا۔۔جبکہ وہ سُنی اَن سُنی کرتی ، کمرے سے باہر نکل گئی تھی۔۔ ’’’مقدس! ‘‘وہ اسکے پیچھے ہی آرہا تھا،جو تیز قدموں سے عبداللہ ہاؤس کا ہال عبور کرتی باہر جا رہی تھی۔۔ ’’’مقدس رُک جاؤ!کیوں تماشہ بنا رہی ہو۔‘‘وہ ڈرائیو ے بھاگنے کے آنداز میں پار کرتی بس چلتی چلی جا رہی تھی۔ جبکہ وہ گھر میں سناٹا دیکھ سکھ کا سانس خارج کرتا اسکے پیچھے گیاتھا۔۔ ’’’کہاں جا رہی ہو؟‘‘ اس بار وہ بھاگ کر اس کے قریب آتا کندھا پکڑ کر جھنجھوڑ چکا تھا۔ ’’’ہاتھ چھوڑو میرا!‘‘ اُس کے لہجے میں بغاوت واضح تھی۔ ’’’چھوڑ دونگا۔۔پہلے میرے ساتھ گھر چلو۔تماشہ مت بناؤ،ہم صبح بیٹھ کر بات کریں گے۔‘‘ اس بار عیسیٰ نے تحمل کا مظاہرہ کیا تھا۔ ’’’ہاتھ چھوڑو میرا!‘‘وہ سختی سے بولتی ہاتھ جھٹک گئی،اور دو چار قدم لیتی ابدال عبداللہ ہاؤس کی دہلیز پار کر گئی تھی۔۔ ’’’ارے بھابھی آپ اس وقت!واٹ آ پلیزنٹ سر پرائز!‘‘وہ آندر آنے تک اپنا چہرہ رگڑتی آنسو پونچھ چکی تھی۔ ’’’مجھے تمھارے گرینڈفادر اور ڈیڈ سے ملنا ہے۔‘‘وہ سپاٹ لہجے میں بولی تھی۔ ’’’سب خیریت۔۔۔‘‘وہ حیران ہوا۔ ’’’مقدس!‘‘اتنے میں عیسیٰ بھی وہاں آگیا تھا۔ ’’’بھائی از ایوری تھنگ از الرائٹ!‘‘وہ سوالیہ بولا۔مقدس کا رویا رویا چہرہ اسکی نگاہوں سے مخفی ہر گز نہیں تھا۔ ’’ہاں سب ٹھیک ہے۔۔تم بتاؤ سب کہاں ہیں؟‘‘وہ غصہٰ ہوئی۔ ’’گریپی تو اپنے روم میں ہیں،اور باقی سب تو صبح کی فلائٹ سے انگلینڈ واپس چلے گئے ہیں،بس میں اور گریپی بھی کچھ دنوں میں چلے جائیں گے۔۔‘مقدس نے گہرے سانس لئے تھے۔ ’’میں مل کر آتی ہوں۔۔‘‘وہ تیز قدموں سے سیڑھیاں عبور کر گئی،جبکہ عیسیٰ خاموش کھڑا اسکی حرکتیں دیکھ رہا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ارے بیٹا مقدس تم یہاں؟‘‘وہ اسے یوں اچانک سیدھا اپنے کمرے میں دیکھ حیران ہوئے تھے، جو روم لاکڈ کرتی انکے مقابل آئی تھی۔ ’’میری اور عیسیٰ کی شادی کا فیصلہ کس کا تھا؟‘‘وہ سوال کر رہی تھی۔ ’’مطلب؟‘‘وہ حیران ہوئے۔ ’’میں نے کہا مجھے پھپھو کے گھر سے یہاں لانے اور شادی کا فیصلہ کس کا تھا؟‘‘وہ غصےٰ میں تیز لہجے میں بولی تھی۔ ’’میرا اور بھائی صاحب کا مشترکہ فیصلہ تھا۔‘‘وہ سنجیدگی سے بولے۔ ’’کیا تمھارے اور عیسیٰ کے درمیان کچھ ہوا ہے؟‘‘ وہ سوال کر رہے تھے۔ ’’ہاں!میں عیسیٰ کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی کیونکہ میں کسی اور کو پسند کرتی ہوں۔‘‘وہ اس قدر اچانک اور سفاک لہجے میں بولی تھی کہ ابدال صاحب کو الفاظ گم ہوتے محسوس ہوئے تھے۔ ’’میں یہ بات گرینڈ پا سے نہیں کہہ سکتی کیونکہ ان کے بہت احسانات ہیں مجھ پر۔لیکن میں عیسیٰ کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی،میں خلع چاہتی ہوں۔اور یہ بات آپ گرینڈ پا سے کریں گے، ورنہ میں آپ کے بیٹے کے جوانی کے کارنامے آپ کی بہو کو بتادونگی،پھر چاہے انکا گھر برباد ہو یا کچھ بھی۔۔‘‘وہ پھولے تفنس کے ساتھ بیٹھ کر بولتی چلی جارہی تھی۔ ’’یہ کیا بکواس کر رہی ہو لڑکی۔۔‘‘ان کی غیرت نے فوری جوش مارا تھا۔ ’’بکواس نہیں حقیقت بیان کر رہی ہوں۔۔عیسیٰ سے علیحدگی چاہئے مجھے۔۔صرف کل تک کا وقت ہے آپ کے پاس۔۔۔ آگر آپ نے کل یہ بات نہ کی تو میں اپنے لفظوں سے پیچھے ہٹنے والوں میں سے نہیں ہوں۔۔یاد رکھئے گا۔‘‘وہ تیز لہجے میں باور کراتی ایک جھٹکے سے درواز ہ کھولتی باہر نکلی تھی۔عیسیٰ اسے دیکھ فوری اسکی طرف بڑھا تھا۔۔جبکہ جنید پریشانی سے تمام صورت حال سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔ ’’مقدس!کیا کہا ہے تم نے چھوٹے دادا سے۔‘‘وہ فوری غصےٰ سے اسکی طرف بڑھا تھا۔ ’’بھابھی سب ٹھیک تو ہے نا؟‘‘وہ پریشان ہوا تھا۔ ’’سب ٹھیک ہے۔۔‘‘وہ عیسیٰ کو نظر آنداز کرتی گھر سے باہر نکل گئی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مقدس کمرے میں آتی بیڈ پر لیٹ گئی تھی،جبکہ کچھ دیر بعد ہی عیسیٰ روم میں واپس آیا تھا اور خونخوار نگاہوں سے مقدس کو دیکھا تھا،جو اب خاموشی سے چھت کو گھور رہی تھی۔ ’’’کیا کہا ہے تم سے چھوٹے دادا سے؟‘‘اب وہ سر پر کھڑا باز پرس کر رہا تھا۔ ’’یہی کہ مجھے تم سے خلع چاہئے،اور تم میرے جیسی برکردار لڑکی کے ساتھ زندگی نہیں گزارنا چاہتے۔‘‘وہ نگاہیں یونہی غیر مرئی نکتے پر جمائے بے باکی سے بولی تھی۔۔ ؎’’اب تم نے آگر ایک بار اور کسی قسم کی بکواس کی نا تو میں کچھ کردونگا تمھارا۔۔‘‘میں طیش میں آیا تھا۔جبکہ وہ اب کمبل سر تک اوڑھتی آنکھیں موند گئی تھی۔۔اور وہ بیچ و تاب کھاتا رہ گیا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عیسیٰ اور مقدس کے مابین ہوئی تلخ کلامی کے بعد ابدال صاحب نہ تو عبداللہ ہاؤس آئے تھے اور نہ ہی انھونے کوئی بات کرنا گوارہ کیا تھا۔الٹا وہ ابتسام عبداللہ کو تمام معاملات سے آگاہی دیتے جنید کی ہمراہی میں خود بھی اپنےپوتے ے ساتھ باہر چلے گئے تھے۔۔۔ وہ اس وقت عائشہ بیگم کے ساتھ بیٹھی باتوں میں مصروف تھی،جبھی اسکی ماں عمر کی ہمراہی میں عبداللہ ہاؤس کی دہلیز پار کرتی گھر میں داخل ہوئی تھی، ملازمہ نے آکر کسی مہمان کے آنے کی خبر دی تھی۔ ’’میڈم باہر ایک خاتون آئی ہیں،انکا کہنا ہے وہ مقدس بی بی کی والدہ ہیں۔۔‘‘مقدس جو خاموشی سے پوٹ میں فلاور سیٹ کر رہی تھی،،یکدم چونکی تھی۔۔ ؎’’اچھا انھیں ڈرائینگ روم میں بیٹھائیں۔۔اور بابا جان کو اطلاع دیں۔‘‘عائشہ نے ایک نظر مقدس پر ڈال کر کہا۔ ’’اچھا بی بی۔‘‘وہ مودب سی سر ہلاتی وہاں سے نکل آئی تھی۔ ’’مقدس!بیٹا آپ کی والدہ آئی ہیں،بابا جان نے ہی بلوایا تھا۔۔‘‘انھونے مقدس کو ساکت و صامت دیکھ آگاہ کیا۔ ’کیوں؟‘‘وہ حیران ہوئی۔ ’’شاید کچھ بات کرنی ہو۔‘‘وہ خاموش رہ گئی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عبداللہ ہاؤس کے مہمان خانے میں اس وقت گہری خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ جبکہ مقدس ایک طرف عبداللہ ہاؤش کے مکین کی ہمراہی میں مقدس خاموش بیٹھی تھی،دوسری طرف عمر کی ہمراہی میں سفینہ بیگم ترسی ہوئی نگاہوں سے مقدس کو دیکھ رہی تھیں،جس نے انھیں نظر تک اٹھا کر دیکھنا ضروری نہیں سمجھا تھا۔۔ ’’’مقدس یہ تمھاری ماں ہیں جانتی ہو ناتم؟‘‘ابتسام صاحب کی آواز نے خاموش فضا میںسکوت سا توڑا تھا۔۔وہ عیسیٰ کو بھی کال کر کہ بلا چکے تھے،جو شاید کہیں راستے میں تھا۔۔ ’’جی جانتی ہوں۔۔‘‘وہ سپاٹ آنداز
