Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode no 16
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 05/05/2026
26 Views
Episode no 16
آتا اسکا عکس دیکھ رہا تھا،اب چونکا تھا۔ ’’مقدس!‘‘اس نے سنجیدگی سے پوچھا۔۔ ’’ہمم!‘‘وہ مصروف سی بولی۔ ’’کیا ڈھونڈ رہی ہو؟‘‘وہ اچھنبے سے سوال کر رہا تھا۔۔ ’’خلع کے پیپرز ڈھونڈ رہی ہوں،تم نے بنوائے تھے نا؟‘‘و اس قدر نارمل آنداز میں بولی تو عیسیٰ کو حیرت آنگیز جھٹکا لگا تھا۔۔ ’’کیوں خلع کے کاغذات کا کیا کرنا ہے تمھیں۔۔۔‘‘وہ بیڈ سے اُتر کر ایک جست میں اس کے نز دیک پہنچا تھا۔ ’’سائن کر کہ گرینڈ پا کو دینے ہیں۔۔‘‘وہ نیچے بیٹھ کر سب جگہ کھنگالتی عیسیٰ کو ورطہ حیرت میں دھکیل چکی تھی۔ ’’تمھار دماغ خراب ہے؟‘‘اسے نجانے کیوں غصہٰ آیا تھا۔مقدس نے حیرت سے اسکی جانب دیکھا تھا۔ ’’اب کیا ہوا؟ہمارے درمیان یہی تو طے ہوا تھا نا؟‘‘وہ گردن اٹھا کر حیرت سے اسے دیکھتی جتاتے لہجے میں بولی تھی۔عیسیٰ کا چہرہ اہانت کے باعث سرخ پڑ گیا تھا،جو بات وہ پچھلے ڈھائی ماہ سے بلا جھجھک بول دی کرتا تھا ،آج یہ لفظ اپنی بیوی کے منہ سے سُن کر غیرت پر زو دار طماچہ لگا تھا۔ ’’اُٹھو کوئی ضرورت نہیں ہے کچھ کرنے کی ، وہ پیپرز میں نے پھاڑ دئیے تھے۔‘‘ مقدس نے حیرت سے اسکی جانب دیکھا تھا۔ ’’کیوں؟‘‘وہ حیران ہوتی کھڑی ہوگئی۔۔ ’’’کیوں کیا مطلب ہے۔۔اب ضرورت نہیں اسکی۔۔‘‘وہ خود نہیں جانتا تھا کہ وہ ایسا کیوں بول رہا تھا۔۔نگاہیں چرا کر و ہ واپس روم میں آگیا تھا۔۔ ’’کیوں ضرورت نہیں ہے؟ ہمارے درمیان یہی طے ہو اتھا کہ طلاق میں خود لونگی تو اب کیوں ضرورت نہیں رہی۔۔۔بے فکر رہو عیسیٰ عبداللہ ان تمام باتوں میں تمھارا نام نہیں آئیگا۔۔۔‘‘وہ سینے پر بازو لپیٹ کر کھردرے لہجے میں بولی تھی۔ ’’سو جاؤ،تمھاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔‘‘وہ بیڈ پر لیٹا ، آنکھیں موند گیا۔ ’’ہاں تم سوجاؤ،کل میری وجہ سے بہت تھک گئے تھے۔۔میں نے پریشان کردیا تھا،تھینک یو،کل رات تم نے میرا اتنا خیال رکھا۔۔‘‘وہ روکھے سے لہجے میں بولتی اب دراوزے کی جانب بڑھی تھی۔ ’’کہاں جا رہی ہو؟‘‘وہ اسے جاتا دیکھ اس بار غصےٰ سے بولا تھا،مقدس کے قدم ٹھٹھک کر ٹھہر گئے تھے۔ ‘’’گرینڈ پا کی اسٹڈی میں جا رہی ہوں۔۔‘ ’’کیوں؟‘‘وہ زچ ہوا۔ ’’مجھے ان سے کچھ ضروری بات کرنی ہے۔‘‘وہ سینے پر بازو لپیٹ کر بولی۔ ’’کونسی ضروری بات؟‘‘اس کی پیشانی پر بل نمودار ہوئے۔ ’’ہمارے رشتے سے متعلق۔۔‘‘وہ نڈر لہجے میں بولی تھی۔ ’’بکواس بند کرو مقدس،میں نے تمھیں پہلے بھی کہا تھا کہ اس کمرے کی باتیں ،اس چار دیواری سے باہر نہیں جانا چاہئے۔‘‘ وہ درشتگی سے بولتا اس جست میں اسکے نزدیک آیا تھا۔ ’’’کیا کہنا چاہتے ہو تم؟؟ ایک طرف کہتے ہو کہ میں خلع لوں۔دوسری طرف کہتے ہو کہ اس کمرے کی بات باہر نہیں جانی چاہئے،آگر تم اس رشتے کو نبھانا نہیں چاہتے تو بات اس کمرے سے تو کیا،پوری دنیا میں جائے گی۔‘‘وہ غصےٰ سے پھنکاری تھی۔۔اس شخص کا دماغ خراب ہوگیا تھا۔۔ ’’’شٹ اپ!مجھے اپنی پرسنلز کا دنیا میں اشتہار لگانا پسند نہیں ہے۔۔انڈرسٹنڈ!‘‘وہ غصےٰ سے غُرایا تھا۔۔ ’’’اوہ !مسٹر عیسیٰ شاید آپ بھول رہے ہیں کہ آپ ایک پبلک فیگر ہیں۔۔اور پبلک فیگر پرسنیلٹیز کی کوئی بھی بات زیادہ دن چھپی نہیں رہ سکتی،جب آپ کی طلاق کی خبریں سوشل میڈیا پر گردش کریں گی تو کیا کریں گے آپ؟کیا پہلے بریک اپ کی طرح منظر سے غائب ہوجائیں گے۔۔لوگوں کے تلخ سوالات سے بچنے کے لئے ملک بدر ہوجائیں گے۔یا یہ کہہ کہ جان چھڑا لیں گے کہ آپ کی بیوی ایک بد کردار عورت تھی۔۔۔۔ ’’’مقدس!‘‘اسکے آئینہ دکھانے پر عیسیٰ بُری طریقے سے بلبلا اُٹھا تھا۔۔جبکہ اب وہ سپاٹ نگاہوں سےا سکا سرخ پڑتا چہرہ دیکھ رہی تھی۔۔آخر سمجھتا کیا تھا وہ شخص کہ اس کے کوئی احساسات نہیں تھے،یا پھر وہ کوئی اتنی گری پڑی لڑکی تھی،جیسے وہ جیسے مرضی چاہے ٹریٹ کرلیتا،بس مجبور ضرور تھی مگر اتنی بے بس نہیں تھی کہ بار بار اپنی عزت نفس کو کچل کر سب کچھ بھول کر بار بار نئی شروعات کرے۔ ’’’میرا دماغ خراب مت کرو،وہاں جاکر شرافت سے سو جاؤ۔صبح بات کریں گے۔‘‘وہ کیا کہہ رہا تھا۔۔اسے خود سمجھ نہیں آرہا تھا۔ ’’’کہنا کیا چاہتے ہو، تم اس رشتے کو لے کر کوئی فیصلہ کیوں نہیں لیتے ہو۔۔ایک طرف کہتے ہو کہ تم میری جیسی لڑکی کے ساتھ رہ نہیں سکتے،دوسری طرف مجھے اپنی بیوی ماننے کو بھی تیار نہیں ہو،،طلاق تم دینا نہیں چاہتے خلع کا فیصلہ تم مجھے لینے نہیں دے رہے۔‘‘ وہ غصےٰ سے غرائی تھی۔ ’’’مقدس پلیز خاموش ہوجاؤ،میرا ضبط نہ آزماؤ۔۔‘‘وہ غصےٰ سے چلایا تھا۔ ’’’کیوں نہ آزماؤں؟ایک طرف میں تمھارے ماضی کو بھلا کر تمھارے ساتھ نئی شروعات کرنا چاہتی ہوں،وہ ماضی جس سے زمانہ واقفیت رکھتا ہے،اور دوسری طرف میں،جس کی ایک غلطی،بلکہ حماقت کو تم نے میرے لئے سزا بنا دیا ہے عیسیٰ عبداللہ!‘‘وہ سخت لہجے میں غرائی تھی۔۔ جاری ہے
