Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode no 16
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 05/05/2026
26 Views
Episode no 16
یو ڈاکٹر!‘‘ڈاکٹر کو باہر تک چھوڑتا وہ واپس کمرے میں تو اب مقدس کمرے کے ٹمپریچر کے باعث پرسکون سانسیں لے رہی تھی،مگر اسکا لباس مکمل گیلا تھا جس کے باعث اسکا بیڈ بھی گیلا ہوگیا تھا۔۔ ’’مقدس!‘‘اس نے آگے بڑھ کر اسکا گال تھپتھپایا تھا۔ ’’مقدس اٹھو پلیز۔۔۔اٹھ کر چینج کرلو۔۔‘‘وہ نیند غنودگی میں تھی جب عیسیٰ نے اسکا گال تھپتھپایا تھا۔۔مگر وہ الٹا ا س کے ہاتھون میں جھول گئی تھی۔۔ ’’’لآخر چارو نچار وہ وارڈ روم سے اسکا ایک سادہ سا شلوار سوٹ لے کر کمرے کی ساری لائٹس آف کرتا اسکا ڈریس چینج کرتا اسے گود میں اٹھا کر اپنے بیڈ روم میں لے آیا تھا۔۔کیونکہ مقدس کا بیڈ گیلا ہوچکا تھا۔۔ ’’مقدس!‘‘اس نے ایک بار پھر پکارا مگر جواب ندار!اسے بیڈ پر لیٹا اس پر کمبل درست کرتا وہ اپنا ڈریس چینج کرنے کی غرض سے واشروم کی جانب بڑھا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دس منٹ بعد اسکا سوپ کا آرڈر بھی آچکا تھا۔۔مقدس کو اس وقت گرمائش کی ضرورت تھئ۔ ؎’مقدس یار اُٹھ جاؤ۔۔‘‘کمرے کا ٹمپریچر اچھا خاصہ بدل چکا تھا۔۔مگر وہ ابھی تک ہلکا ہلکا کانپ رہی تھی۔۔اس کواُٹھا کر بیٹھاتا وہ ساتھ ہی بیٹھا تھا جو سینے پر سر رکھتی خود سے غافل تھی۔۔ اس کے منہ میں سوپ ے چمچ ڈالتا وہ پورا پیالہ پیلا کر دو انڈے بھی زبردستی منہ میں ڈالتا اسے واپس سے لٹا چکا تھا۔۔۔ ’’افف! اس لڑکی کی وجہ سے کسی دن مجھے کچھ ہوجائے گا۔۔‘‘اپنی کمر جواب دیتی محسوس کر وہ ساتھ ہی پیچھے کو گرا تھا،اسکا صوفے پر سونے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔۔۔اپنے ساتھ ساتھ اس پر بھی کمفرٹر درست کرتا وہ آنکھیں موند گیا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رات کا نجانے کونسا پہر تھا، جب مقدس کی آنکھ کسی احساس کے تحت کھلی تھی،اپنے اُپر بوجھ سا محسوس ہوا تھا۔۔ُاس نے پلکیں جھپکا کر نیم اندھیرے میں دیکھنے کی کوشش کی تو اپنی گردن کے پاس کسی کی گرم سانسیں سی محسوس ہوئی تھیں،مقدس برُی طریقے سے چونکی تھی۔رخ پھیر کر دیکھا تو اس پر اپنا ایک ہاتھ اور پاؤں رکھے عیسیٰ بے سد سا سو رہا تھا۔وہ اسے اپنا تکیہ سمجھ کر خود میں بھینچ کر سو رہا تھا۔ کتنے ہی لمحے تو وہ بے یقین رہی تھی،پھر دھیرے سے کل رات کا منظر،عیسیٰ کو ڈھونڈتے ہوئے وہاں آنے،اسکے اسے اپنے حصار میں اٹھا کر وینٹی وین تک لانا سب کچھ یاد آتا چلا گیا تھا۔۔۔ وہ اس کے بے حد نزدیک کسی معصوم بچے کی مانند سو رہا تھا،مقدس کو اپنی دھڑکنوں کی رفتار بڑھتی محسوس ہوئی تھی،اس بار اس نے ذرا سا کھسک کر پیچھے ہونا چاہا تو وہ الٹا نیند میں اسکے قریب ہوتا،اسے مزید کچھ میں بھینچ گیا تھا۔۔ مقدس کا دل زوروں سے دھڑکا تھا،آگر ابھی یہ شخص ہوش و حواس میں ہوتا تو۔۔ سوچ کر ہی پیشانی پر پسینے آنے لگے تھے۔۔بمشکل گھڑی پر نگاہ دوڑائی تو رات کا تیسرا پہر تھا۔۔ابھی تو صبح میں بہت وقت باقی تھا،اور وہ اسے اٹھا کر بالکل بھی رسک نہیں لے سکتی تھی۔۔دوبارہ سے آنکھیں موند کر وہ یونہی سونے کی کوشش کرنے لگی تھی جو کی اس کی قربت میں ناممکن سی بات تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صبح صادق سے نکلتا سورج اپنے جوبن پر تھا۔۔عیسیٰ کی آنکھیں کسی اجنبی احساس کے تحت کھلی تھی، کمرے میں آتی سورج کی ہلکی روشنی دن طلوع ہونے کا عندیہ سنا رہی تھئ۔۔ وہ آنکھیں مسلتا ہوا کروٹ بدل کر بیدار ہونے لگا تو اسے ایک نرم سا لمس اپنے گرد لپٹا محسوس ہوا تھا۔۔وہ چونکا اور دھیان دینے پر اُسے یاد آیا رات وہ مقدس کی فکر میں اُسی بیڈ پر سُو گیا تھا۔۔ مگر اس وقت وہ دونوں جس قدر نزدیک سو رہے تھے،عیسیٰ کے محسوسات لمحوں میں تبدیل ہوئے تھے۔وہ مقدس کو خود میں بھینچ کر سو رہا تھا،جبکہ اسکا بھی حصار اسکے گرد قائم تھا،اور اس وقت وہ نیند میں بے سدھ سو رہی تھی۔۔ ’’اوہ گاڈ!‘‘باڈی میں بجلی سی کوند گئی تھی۔،و ہ ہڑبڑا کر شرمندہ سا پیچھے کو ہٹ گیا تھا۔۔اسکی حرکت پر مقدس پہلے ہی بیدار ہوچکی تھی مگر شرمندگی سے بچنے کے لئے وہ یونہی آنکھیں بند کئے پڑی رہی تھی۔۔ ’’’تھینک گاڈ یہ بلا ابھی تک سو رہی ہے۔۔‘‘لب چباتا وہ جلدی سے بیڈ سے اٹھ کر واشروم کی جانب بڑھا تھا،تاکہ فریش ہونے کے بعد اسے بھی جگا سکے۔۔ جبکہ اسکے واشروم میں گم ہوتے ہی مقدس نے جھٹ سے آنکھیں کھولی تھیں،دل سو کی اسپید سے دوڑ رہا تھا۔۔ ’’افف اس کے ساتھ بیڈ شئیر کرنا کتنا ڈنجرس ہے۔۔‘‘ وہ سونے کے بعد کب خود بھی قریب ہوگئی تھی،اسے پتہ نہیں چل سکا تھا،جبکہ اب وہ مزید شرمندگی سے بچنے کے لئے دوبارہ سوتی بن گئی تھی۔۔ تقریباً پندرھ منٹ بعد فریش سا عیسیٰ واشروم سے باہر آیا تو مقدس کو ہنوز لاپرواہی سے سوتا دیکھ اس نے ایک گہرا سانس بھرا تھا۔اور مقدم اٹھا کر نزدیک چلا آیا۔۔ ’’مقدس!ا سنے ہولے سے پکارا مگر جواب ندار۔۔ ’’مقدس اُٹھو!اس بار اس نے دھیرے سے ہلایا تو وہ ہڑبڑا کر اٹھنے کی ناکام ایکٹنگ کرتی آنکھیں کھول گئی۔ ’’اُٹھ جاؤ صبح ہوگئی ہے۔۔۔‘‘وہ اسکی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر ٹمریچر چیک کرتا سنجیدگی سے بولا،وہ آنکھیں مسلتی نیم دراز ہوکربیٹھی تھی۔۔ ’’طبیعت کیسی ہے تمھاری؟‘‘ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے جاکر اپنے بال سیٹ کرتا وہ سرسری سے لہجےمیں بولا تھا،جبکہ وہ ارد گرد میں اپنا دوپٹہ تلاش کر رہی تھی۔۔عیسیٰ نے اسے ذرا حیرانی سے ارد گرد میں دیکھتا پاکر گہری سانس لی تھی۔ ’’رات تمھاری طبیعت ٹھیک نہیں تھی اسی لئےروم میں لے آیا تھا تمھیں۔۔‘‘مقدس نے چونک کر دیکھا،اصل شرمندگی تو اپنے کپڑے دیکھ کر ہوئی تھی،جن پر اس نے رات سے غور ہی نہیں کیا تھا۔مگر اب وہ اپنا سرخ پڑتا چہرہ جھکا کر خود کو لاپرواہ ظاہر کرتی بیڈ سے اُٹھنے لگی تھی۔ ’’’اُٹھ کر فریش ہوجاؤ،میں جب تک ناشتہ بنا کر تمھیں میڈیسن بھی لینی ہے، دپہر میں ہماری فلائٹ ہے۔‘‘وہ اسکا رنگ بدلتا چہرہ دیکھ، اسے سنجیدگی سے آگاہ کرتا روم سے نکل گیا تھا۔دونوں ہی اپنی اپنی جگہ خفت کا شکار ہوگئے تھے۔۔صورتحال ہی ایسی پیش آگئی تھیں۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رات کا وقت تھا وہ دونوں اس وقت عبداللہ ہاؤس میں ڈائننگ ٹیبل پر موجود تھے۔ ’’’مقدس بیٹا اسلام آباد کیسا لگا؟‘‘یہ عثمان صاحب تھے۔ ’اچھا ہے انکل!‘‘وہ دھیرے سے بولی تھی،عیسیٰ خاموشی سے کھانا کھا رہا تھا،اب وہ انھیں کیا ہی اپنی حماقت کے بارے میں بتاتی۔ ’عیسیٰ لگتا ہے تم نے ہماری بیٹی کو اسلام آباد ٹھیک نہیں گھمایا؟‘‘اس ابر ابتسام صاحب نے ذرا رعب دار آنداز میں کہا تھا۔ ’’’نہیں ایسا نہیں ہے۔‘‘مقدس نےا س کے کچھ بھی بولنے سے قبل جھٹ سے صفائی پیش کی تھئ۔ ’’’میڈم بیمار ہوکر پڑ گئی تھیں۔۔السلام آباد کا موسم انھیں راس نہیں آیا۔‘‘نپکن سے منہ تھپتھپاتا وہ ذرا طنزیہ آنداز میں بولا۔ ’’اللہ خیر بچے اپنا خیال نہیں رکھا آپ نے؟‘‘عائشہ کے لہجے میں فکر تھی۔ ’’نہیں آنٹی،بس وہ بارش میں بھیگنے کی وجہ سے طبیعت خراب ہوگئی تھی۔‘‘ اس نے جلدی سے صفائی پیش کی۔ جبکہ اب سب ہلکی پھلکی باتوں میں مشغول ہوگئے تھے۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ دونوں روم میں واپس آ گئے تھے،فلائٹ کی تھکن تھی کہ عیسیٰ تو بیڈپر گرتے ہی بس بے ہوش ہونے والا تھا۔۔مقدس روم میں آتی ڈریسنگ روم میں گم ہوگئی تھی۔۔کپ بورڈ ک نیچلے حصےٰ پر جھکی کھڑی شاید وہ کچھ تلاش کر رہی تھی۔۔عیسیٰ جو کافی دیر سے آئینے سے نظر
