Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode no 16
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 05/05/2026
26 Views
Episode no 16
دو پل کو ٹھہرا عشق کا کارواں ازقلم ہما قریشی 16 قسط نمبر وہ پورا ایک ہفتے حد سے زیادہ مصروف رہا تھا،بس کل انکی واپسی تھی،اور یہاں اسکا ایک اچانک سے برینڈ کاشوٹ آگیا تھا۔ انکی نیو کلکشن کی لانچ تھی۔جو اس نے ساتھ ساتھ ہی نمٹا لیا تھا۔۔ آج انکا آخری دن تھا۔۔کل وہ ابتسام صاحب کی جھڑکی سننے کے بعد آج مقدس کو بھی لوکیشن پر ساتھ ہی لے آیا تھا۔۔ سیدپور گاؤں اسلام آباد کے بالکل قریب، مارگلہ ہلز کے دامن میں واقع ہے۔ یہ اسلام آباد کے مرکز (بلو ایریا) سے تقریباً پندرہ سے بیس منٹ کی ڈرائیو پر ہے، اس کا فاصلہ تقریباً پانچ سے سات کلومیٹر بنتا ہے۔ یہ مقام اپنی قدیم طرز تعمیر، روایتی گلیوں، اور تاریخی پس منظر کی وجہ سے ماڈلنگ فوٹو شوٹس، ڈراموں، اور فلموں کی شوٹنگ کے لیے کافی مشہور ہے۔ ’’وہ خود اس وقت وینٹی وین میں موجود تھا،ہیر آرٹسٹ اسکے بال بنا رہے تھے،جبکہ مقدس کچھ دیر قبل ہی وین سے اتر کر باہر گئی تھی۔۔ ’’شامیر!‘‘ یہ سر!یہ اسکا سیکریٹری تھا۔ ’’میڈم کا خیال رکھنا۔۔وہ ادھر ادھر نہ چلی جائیں۔‘‘اس نے تنبیہ ضروری سمجھی۔کیونکہ وہ بزی ہوجاتا تو پھر وہ دھیان نہ دے پاتا۔ ’’شیور سر!آپ بے فکر ہوجائیں۔‘‘وہ مطمئن کردہ لہجے میں بولا تو عیسٰی سمجھ کر سر ہلا گیا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’مقدس عبداللہ!‘‘یہ ایک ماڈل تھی۔ جو عیسیٰ کےساتھ تو نہیں مگر اسکا بھی شوٹ چل رہا تھا۔ ’’جی!‘‘وہ ہولے سے مسکرائی۔ ’’آپ کو دیکھا تھا مارننگ شو میں۔‘‘وہ مزید بولی،جبکہ وہ اس وقت برینڈ کے ہی ٹو پیس میں ملبوس تھیں جو سلیوز لیس تھا۔ ’’ویسے سوری عیسیٰ سر جیسے ڈیشنگ بندے کے ساتھ،انہی کے جیسی سمارٹ اور بیوٹیفل سی لڑکی فٹ رہتی لائک زرتاج۔۔‘‘وہ ذرا منہ بنا کر بولی تھی۔مقدس کے چہرے کی رنگت سرخ پڑ گئی تھی۔ ’’بائی دا وے،ان دونوں کے درمیان اتنی اچھی انڈرسٹنڈنگ تھی تو پھر بریک اپ کیوں ہوگیا۔۔دونوں شادی کرنے والے تھے۔’’اب وہ متجسس لہجے میں بولی۔ ’’ایک کام کیجئے آپ عیسیٰ سے خود پوچھ لیں۔‘‘وہ سیخ پا ہوئی۔ ’’وہ ہم تو مذاق کر رہے تھے۔۔‘‘وہ دونوں کھیسا کر رہ گئی تھیں۔اتنے میں عیسیٰ بھی باہر آگیا تھا اور اس پر ایک نگاہ ڈالتا،وہ ڈائریکٹر کی آواز پر اسکی طرف متوجہ ہوگیا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عیسیٰ کی سیکڑوں تصاویریں کھنچ چکی تھیں،جبکہ وہ خاموشی سے ایک کونے میں بیٹھی تھی۔۔انھیں یہیں مغرب ہوگئی تھی،آج وہ سارا کام نبٹا کر ہی جانے کا اراد ہ رکھتے تھے۔۔ مقدس شدید قسم کی بوریت کا شکار ہوتی اس لوکیشن کو اکسپلور کرنے کی غرض سے مخالف سمت کے راستے نکل گئی تھی۔۔ یہ گاؤں، جو کبھی ایک چھوٹی بستی ہوا کرتا تھا، اب ثقافتی ورثے اور روایتی حسن کا امتزاج بن چکا ہے۔ یہاں کی اینٹوں سے بنی پرانی عمارتیں، لکڑی کے دروازے، اور دیواروں پر بنی دیسی طرز کی پینٹنگز ایک الگ ہی دنیا کا احساس دلاتی ہیں۔ گلیاں تنگ مگر خوبصورت تھیں، جہاں جگہ جگہ چھوٹی دکانیں اور روایتی ریستوران موجود تھے۔ وہ چلتی چلتی کافی دور نکل آئی تھی۔۔احساس تو تب ہوا تھا جب وہ اسے رات کا اندھیرا گہرا محسوس ہونے لگ اتھا۔۔ افف!یہ میں کہاں آگئی؟‘‘اب اس نے غور کیا تو اس گاؤں میں سناٹا سا ہوگیا تھا۔۔ساری دکانیں تقریباً بند ہورہی تھیں۔۔وہ راستہ بھی بھول چکی تھی۔۔ ’’’افف عیسیٰ تو میر ی جان نکال دے گا۔۔‘‘وہ سوچتی سوچتی ایک پیڑ کی آڑ میں آ گئی تھی۔۔ ’’’ا اللہ عیسیٰ کو بھیج دے۔۔‘‘اسلام آباد کے موسم نے اچانک ہی انگڑائی لی تھی۔۔اور تیز ہواؤں کے ساتھ بارش شروع ہونے لگی تھی۔ ’’’افف اس بارش کو بھی ابھی ہونا تھا۔۔‘‘وہ بری طریقے سے بیزار ہوئی تھی۔۔ساتھ ہی عیسیٰ کے آنے کی دعائیں مانگ رہی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پیک اپ!ڈائریکٹر کے لفظ سماعتوں سے ٹکراتے ہی لائٹس کیمراز سب بند ہوگئے تھے۔۔۔تیز ہواؤں کا زور دیکھ وہ وینٹی وین میں جاکر بیٹھ گیا تھا۔۔اسے یکدم سے مقدس کی غیر موجودگی محسوس ہوئی تھئ۔ ’’’شامیر مقدس کہاں ہے؟‘‘اس نے سوالیہ نگاہوں سے دیکھا۔ ’’’سر میڈم باہر ہی تھیں۔۔میں بلاتا ہوں۔‘‘وہ پیچھے سر ٹکا گیا۔کچھ دیر ہی گزری تھی کہ وہ حواس باختہ سا واپس آیا تھا۔ ’’’سوری سر بٹ میڈم باہر نہیں ہیں۔۔‘‘عیسیٰ نے حیرت سے اسنکی جانب دیکھا تھا۔۔ ’’’واٹ؟کیا بکوا ہے یہ؟‘‘وہ یکدم سے اٹھ کر باہر آیا تھا۔۔بٹ بارش کی وجہ سے سب میں افرتفری سی مچی ہوئی تھی۔۔ ’’’یہ لڑکی ہر بار میرا ضبط آزماتی ہے۔اسکا بیگ ابھی بھی وینٹی وین میں ہی پڑا تھا۔۔ ’’’سر آپ کہاں جا رہے ہیں؟‘‘اسے مخالف سمت میں جاتا دیکھ وہ پیچھے دوڑا تھا۔ ’’’مقدس کو ڈھونڈنے جا رہا ہوں۔آپ پلیز اس طرف جائیں۔۔اور کسی کو اس بارے میں نہ بتائیے گا۔۔‘‘وہ اسے خاص کر تنبیہ کرتا ایک طرف کو بڑھ گیا تھا۔۔جبکہ وہ سر ہلاتا دوسری طرف گیا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’’یا اللہ یہ بارش رک کیوں نہیں رہی۔۔‘‘دس منٹ ہوگئے تھے۔۔اور اب حالات ایسے تھے جیسے سیلاب ہی آجائے گا۔۔وہ ٹخنوں تک پانی میں کھڑی تھی۔۔۔سردی کے باعث جسم کانپ رہا تھا۔۔ ’’’عیسیٰ!اللہ پاک پلیز عیسیٰ کو بھیج دیں۔۔‘‘بارش کے پانی میں آنسو بھی گھلنے لگے تھے۔۔ ’’’مقدس! دور سے ایک شناسہ آواز سنائی تھی۔۔ساتھ ہی ٹارچ کی روشنی بھی۔مقدس کی جان میں جان آئی تھی۔۔ ’’’عیسیٰ میں یہاں ہوں۔۔‘‘اس نے بھی چیخ کر اپنی موجودگی کا احساس کرایا تھا۔۔عیسیٰ جو پیچھلے آدھے گھنٹے سے طوفانی بارش میں اسے پاگلوں کی طرح ڈھونڈ رہا تھا۔۔اس کی آواز محسوس کر اسکی جان میں جان آئی تھی۔ورنہ یہ آدھا گھنٹہ پہلے والے تین گھنٹو ں پر بھی بھاری گزرا تھا۔۔وہ ایک بار پھر آواز لگا کرا سے وہیں ٹھہرنے کا کہتا خود تیز قدم لیتا آ گے آگیا تھا۔ مقدس! وہ پیڑ کے نیچے کھڑی بری طریقے سے کانپ رہی تھی۔۔ ’’عیسیٰ!ٹارچ کی لائٹ اپنی جانب دیکھ،وہ پانی میں بھاری قدم اٹھاتی اسکے قریب جاتی،کچھ بھی سوچے سمجھے بغیر ایک لمحے میں عیسیٰ کے سینے سے لگی تھی،اور اسکے گرد کس کر اپنا حصار ڈالا تھا۔۔وہ جو ابھی اسکی موجودگی کو سمجھ ہی رہا تھا کہ اچانک افتاد پر بوکھلا کر ٹھہر سا گیا تھا۔۔ ’’پلیز چلو یہاں سے عیسیٰ۔۔۔مجھ۔۔۔مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔‘‘اسکے گردن کے گرد حصار ڈال کر سینے میں چہرہ چھپاتی وہ کسی چھوٹے سے بچے کی مانند بولی تھی۔۔جبکہ عیسیٰ کو اپنی پہلے سے ہی بھاگتی دھڑکنوں کی رفتار مزید تیز ہوتی محسوس ہوئی تھئ۔۔ ’’یہاں کیا کرنے آئیں تھیں تم،میں نے منع کیا تھا نا کہ وہاں سے مت ہلنا۔۔‘‘اس بار وہ تھوڑا خفا ہوا۔۔ ’’سوری پلیز چلو یہان سے۔۔‘‘وہ اسے خود سے جدا کرتا ذرا غصےٰ سے بولا تھا،مگر وہ ایک بار پھر اسے سینے سے لگتی رونے لگی تھی۔۔وہ شاید ڈری ہوئی تھی۔۔عیسیٰ اسکی حالے کے پیش نظر اسکا ہاتھ پکڑ کر تالاب بنے روڈ وں پر سے چلنے لگا تھا۔۔مگر مقدس کے کانپتے جود نے ساتھ دینے سے انکار کیا تھا۔ ’’میں۔۔میں نہین چل سکتی۔۔‘‘عیسیٰ ایک لمحے کو ٹھہرا۔اور ایک ہی جست میں اسے حصار میں اٹھاتا وہ آندازے سے تیز قدم لیتا وینٹی وین کی جانب بڑھا تھا،،جبکہ وہ اسکی گردن پر چہرہ رکھے گر سانسیں لے رہی تھی،وہ شاید بے ہوش ہوگئی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’یہ میڈیسن دے دییجئے گا اور یہ ڈریس لازمی چینج کروا لیں پلیز!اس طرح مزید ٹھنڈ لگ جائے گی۔صبح تک یہ ٹھیک ہوجائیں گی۔۔‘‘ وہ گاڑی میں ہیٹر چلا کر اسے سیدھا اپنے ساتھ لے کر پینٹ ہاؤس آیا تھا جو ہسپتال سے زیادہ قریب تھا۔۔ڈاکٹر کو راستے سے ہی کال کر چکا تھا۔۔ ’’تھینک
