Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode no 15
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 04/05/2026
22 Views
Episode no 15
بس روتی ہی رہی تھی۔۔عیسیٰ کے جانے کے بعد نہ اسے کھانے کا ہوش رہا تھا نہ کسی چیز کا۔۔۔ بھوک لگنے پر وہ صبح سے اب تک چپس اور چوکلیٹس کے پیکٹس خالی کر چکی تھی۔۔ گھڑ ی پر نظر ڈالی تو رات کے دس بج رہے تھے اور عیسیٰ کا کچھ پتہ نہیں تھا۔۔اب تو ڈر سا لگنے لگا تھا۔۔اسکا مینجر کال کرتا رہا تھا۔۔مگر وہ دو بار کال ریسیو کرنے کے بعد اسے ڈسٹرب کرنے سے منع کر چکی تھی۔۔۔ وہ سوچو ں میں گم تھی،جبھی عیسیٰ کلک کی آواز کے ساتھ دروازہ کھولتا آندر داخل ہوا تھا۔۔سادہ سے شلوار قمیض میں ملبوس وہ لاؤنج میں پڑے صوفے پر ہی بیٹھی مل گئی تھی۔۔ ’’السلام علیکم!‘‘وہ تھکا ہارا سا صوفے پر ڈھنے کے آنداز میں لیٹا تھا۔ ’’وعلیکم السلام!‘‘وہ سلام کا جواب دیتی خاموش ہوگئی۔۔کافی دیر دونوں کے درمیان خاموشی رہی تھی۔ ’’ایک گلاس پانی پلا دو۔۔‘‘وہ پیچھے سر پھینکتا سر انگلیوں سے دبا رہا تھا۔۔جبکہ وہ پاؤں میں چپل ڈالتی دوپٹہ سنبھالتی کچن کی جانب بڑھی تھی۔ ’’تھینک یو!‘‘وہ پانی کا گلاس تھامتا تشکر بھرے لہجے میں بولا،،جبکہ وہ کافی بنانے کی غرض سے کچن کی جانب بڑھی تھی۔۔ ’’کیا کر رہی ہو؟‘‘وہ اسمال سائز ہینڈ وسک کی مدد سے کافی پھینٹ رہی تھی۔جبھی وہ اسکے پیچھے آیا تھا۔۔مقدس نے کچھ کہنے کے بجائے کپ ذرا سا اونچا کیا تھا۔۔اشارہ تھا کافی پھینٹ رہی ہوں۔۔وہ سر ہلا گیا۔ ’’’کھانے میں کیا بنایا ہے؟‘‘وہ ہائی چئیر پر بیٹھتا بات کو طول دینے لگا۔ ’’’کچھ نہیں۔۔‘‘پھر وہی مختصر سا جواب۔۔جبکہ اب وہ الیکٹرک کیٹل سے گرم پانی ڈال کر کا اسکے لئے بلیک کافی بنا کر اس میں ہنی ایڈ کرتی اسے پیش کر چکی تھی۔۔جبکہ اب اپنی پھینٹی ہوئی کافی میں دودھ اور جینی ایڈ کر کہ وہاں سے جانے لگی تھی۔۔ ’’’مقدس!‘‘وہ ٹھہری۔۔ ’’’ہاں؟‘‘وہ اسکا آنداز بخوبی نوٹس کر رہا تھا۔ ’’’بھوک لگ رہی مجھے۔۔‘‘بہت ہی بیچارگی کے عالم میں کہا گیا تھا۔۔وہ گھر کا کھانا کا ہی عادی تھا۔۔عائشہ بیگم نے کبھی اسے زیادہ باہر کا کھانے نہیں دیا تھا۔۔ابھی بھی وہ اسی لئے بھوکا واپس آیا تھا کہ مقدس نے کچھ بنا لیا ہوگا۔ ’’’اوہ مجھے لگا تم کھا کر آؤگے۔۔‘‘وہ کافی کا مگ کاؤنٹر پر رکھ گئی۔ ’’’تو تم نے کیا کھایا تھا؟‘‘اب وہ متجسس ہوا۔ ’’’میں نے تو چپس ،چوکلیٹس وغیرہ۔۔۔تمھارے پیسوں سے اتنا سب جو لیا تھا،وہ سب۔۔‘‘وہ عام سے لہجے میں بوکتی،فرج سے کچھ فروزن آئٹمز نکال رہی تھی۔۔ ’’’یہ نہین پلیز!‘‘شامی کباب اور پراٹھا دیکھ کر ا سنے فوراً انکار کیا۔ ’’’کچھ لائٹ سا بنا دو سینڈ وچ وغیرہ۔۔۔‘‘مقدس نے سر ہلایا اور فریج سے بریڈ نکالتے ہوئے اُبلا ہوا چکن نکال کر ایک باؤل میں ڈال دیا۔ چکن کو نرم ہونے کے لیے کچھ دیر چھوڑ کر وہ کیبج اور کیرٹ کے باریک سلائس کاٹنے لگی، چاقو کی دھیمی دھیمی ٹک ٹک کی آواز کچن میں ارتعاش سا برپا کر رہی تھی۔ ۔ کچن کو نارمل ٹمپریچر پر آنے تک وہ کام مکمل کر چکی تھی، پھر اس نے سب کچھ ایک باؤل میں ڈال کر باریک کٹی ہوئی سبزیوں میں نمک، بلیک پیپر اور چند اسپائس چھڑک کر چکن اور مایونیز کے ساتھ اچھی طرح مکس کر لیا تھا۔ بریڈ کے کنارے احتیاط سے کاٹ کر الگ کیے، وہ نفاست سے سلائس پر آمیزہ رکھ کر سینڈوچ بناتی عیسیٰ کو ایسے اگنور کر چکی تھی،جیسے وہ وہاں موجود ہی نہ ہو۔۔۔تقریباً بیس منٹ میں وہ سینڈ وچ اسکے آگے پیش کر چکی تھی۔۔جو سر درد کے باعث کافی فنش کر چکا تھا۔۔اور اسکے تیزی سے چلتے ہاتھ دیکھ رہا تھا۔۔ ’’’کافی پھرتی ہے تمھارے ہاتھ میں۔۔ویل تھینک یو!اینڈ سوری تمھاری کافی ٹھنڈی ہوگئی۔۔‘‘وہ نرمی سے مسکرایا ساتھ ہی معذرت بھی کی مگر وہ تب بھی کچھ نہیں بولی تھی۔۔البتہ اپنی ٹھنڈی پڑی کافی کا مگ اٹھا کر ایک منٹ کے ٹائمر پر مائیکر ویو میں رکھ دیا تھا۔۔۔ ’’تو تم نے رات میں ڈنر بھی نہیں کیا ؟‘‘اب وہ مزید تفتیش پر اترا تھا۔ ’’تم آرام سے کھا لو،میں تمھارے کھانے پر نظر نہیں لگا رہی۔۔اور میرا پیٹ چوکیلیٹ سے بھر گیا تھا۔‘‘اس بار وہ ذرا تفصیلی بولی۔ ’’’ایسی بات نہیں ہے۔۔مگر چوکلیٹ سے پیٹ کیسے بھر سکتا ہے؟‘‘اب وہ سوال کر رہا تھا۔ ’’میرا تو بھر جاتا ہے،خیر اور کچھ چاہئے؟‘‘ڈسپنسر سے ایک گلاس پانی کا بھر کر اس کے سامنے رکھتی وہ سوالیہ بولی،جو فرج سے کیچپ کا پاؤچ نکال کر اب سینڈوچ کیچپ سے لگا کر مزے سے کھا رہا تھا۔۔۔ ’’افف!‘‘مقدس نے ذرا چڑ کر دیکھا تھا۔اسکی یہ حرکت بالکل بچوں والی تھی۔کیونکہ وہ خود اس طرح کیچپ کھانا بالکل پسند نہیں کرتی تھی۔۔ ’’نہیں۔۔۔‘‘اس نے نفی میں سر ہلایا۔ ’’مین سونے جا رہی ہوں۔ نیند آرہی ہے۔۔‘‘وہ جمائی روکتی شب بخیر کرتی روم میں چلی گئی تھی۔جبکہ وہ اس کا آنداز ہی دیکھتا رہ گیا تھا۔۔ ’’یہ کیا مجھے نخرہ دکھا رہی ہے؟‘‘اس بار اس نے خود ساختہ سر گوشی کی تھی۔ ’’’ویسے اچھا ہی ہے نخرہ دکھا رہی ہے یا ناراضی۔۔چپ تو ہے ورنہ اسکی چک چک سے میرے کان درد کرنے لگتے ہیں۔۔‘‘وہ سر جھٹک کر اب مزے سے باقی سینڈوچز سے انصاف کر رہا تھا۔۔ جاری ہے
