Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode no 15
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 04/05/2026
22 Views
Episode no 15
دو پل کو ٹھہرا عشق کا کارواں ازقلم ہما قریشی 15 قسط نمبر آگے کی جانب ٹرالی دھکیلتی وہ عیسیٰ کی ہمراہی میں ہی ساتھ چل رہی تھی۔ہر شے غور سے دیکھتی، قیمت چیک کرتی، اور ٹرالی میں ڈال دیتی۔ جبکہ عیسیٰ بس ہاتھ جیب میں ڈالے اس کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا، جو ساری خریداری اپنی مرضی سے کر رہی تھی۔۔ دودھ، پنیر، دہی۔۔۔ بریڈ،پزا کا سامان اور، مقدس نے کچھ چیزیں ٹرالی میں ڈالیں۔جبکہ عیسیٰ نے اس بار اسے گھورا تھا۔۔ ’’ہم یہاں ایک ہفتے کی گروسری کرنے آئے تھے یا پورے مہینے کا سامان اکٹھا کرنا ہے؟؟‘‘مقدس نے ذرا بیزاری سے اسکی جانب دیکھا تھا۔۔ ’’’ایک ہفتے ہم یہاں بھوکے تو نہیں رہیں گے نا۔۔پھر کل سے تم بزی ہوجاؤگے تو آگر مجھے کسی چیز کی نیڈ ہوئی تو میں کیا کرونگی؟‘‘وہ ذرا خفا ہوئی تھی۔۔ ’’’اچھا بھئی لے لو مس سمجھدار !‘‘وہ آنکھیں چلا گیا۔۔۔اس مس سمجھدار سے بحث کرنا ہی بیکار تھا۔۔ جبکہ مقدس نے سر جھٹک کر جوس، چپس، اور چاکلیٹ کے ڈھیروں پیکٹس اٹھا کر ٹرالی میں دال لئے تھے۔۔ "یہ سب بچیوں والی چیزیں کیوں لے رہی ہو؟" "کیونکہ میں بھی کبھی کبھار بچی بننے کا حق رکھتی ہوں!" ’’’پتہ نہیں گرینڈ پا نے یہ کس قسم کی مخلوق میرے گلے میں ڈال دی ہے۔‘‘وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑایا تھا۔۔ کچھ کہا۔۔‘‘ ’’نہیں محترمہ!دو تین ٹرالیاں اور فل کرلیں یہ ملازم ساتھ ہے آپ کے۔۔‘‘مقدس اسکی سنی ان سنی کر گتی آگے بڑھ گئی۔۔ جیسے ہی وہ ٹرالی کے ساتھ کاسمیٹکس کے سیکشن سے گزرے، ایک نوجوان لڑکی کی پرجوش آواز انکی سماعتوں سے ٹکرائی تھی۔۔۔ ’’’اوہ مائی گاڈ آپ عیسیٰ عبداللہ ہے ناں!آپ یہاں کیسے؟ْ" وہ لڑکی عیسیٰ کے چہرے پر ماسک ہونے کے باوجود اسے پہچان چکی تھی۔۔ ’’’جی،وہ دراصل ہم بھی عام لوگ ہیں، بس ذرا گروسری کرنے نکل آئے۔" عیسیٰ نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا۔ ’’مقدس، میں آپ کی بہت بڑی فین ہوں! آپ کا مارننگ شو والا انٹرویو دیکھا تھا، آپ دونوں ساتھ بہت اچھے لگتے ہیں!" لڑکی نے خوش ہو کر کہا۔مقدس نے نرمی سے مسکراتے ہوئے شکریہ ادا کیا۔۔۔ "آپ دونوں کے ساتھ ، ایک پکچر مل سکتی ہے پلیز؟" ضرور!" عیسیٰ نے فوراً موبائل پکڑا تھا اور مقدس کو بھی قریب آنے کا اشارہ کیا تھا۔ "سر ایک منٹ سیلفی اسنیپ چیٹ سے لیں نا، اور پلیز فلٹر لگانا مت بھولئیے گا ، ورنہ آپ دونوں تو کیجول لک میں بھی بہت پیارے لگ رہے ہیں،مگر میں بالکل بھی ااچھی نہیں آؤنگی۔۔‘‘مقدس اور عیسیٰ دونوں ہی مسکرا دیئے تھے۔۔جبکہ وہ جذباتی لڑکی کافی دیر تک ان کا دماغ کھاتی رہی تھی۔۔اور مروتً عیسیٰ بھی ہلکے پھلکے آنداز میں جواب دے رہا تھا۔۔مقدس نے دو چار چیزیں مزید جلدی جلدی سے ٹرالی میں ڈال لی تھیں۔۔!" ’’محترمہ یہ بل دیکھ کر مجھے لگ رہا ہے ہم نے سپرمارٹ ہی خرید لیا ہے ۔۔۔‘‘ اتنا سارا اماؤنٹ دیکھ کر عیسیٰ نے کریڈٹ کارڈ سے بل ادا کرتے طنز کیا تھا۔۔ ’’میں خود سے بھی بل پے کر سکتی ہوں۔۔زیادہ احسان جتانے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘اس نے عادتً ے تڑخ کر جواب دیا تھا۔۔۔ ’’ہاں بہت نیک پروین ہوں نا تم۔۔‘‘وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑاتا وہاں سے نکل آیا تھا۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عیسیٰ نے پرائیوسی کے خیال سے ذرا الگ تھلگ کو کورنر کا ٹیبل لیا تھاتاکہ مقدس اور وہ آرا م سے ڈنر انجوائے کر سکیں۔۔خاموشی کی دیوار اپنے آپ ہی ٹوٹ گئی تھی۔۔ ’’’تمھیں نہیں لگتا مقدس تم اپنے فادر کے ساتھ بہت روڈ بی ہیو کرتی ہو؟‘‘وہ کھانے کے دوران اچانک سے بولا تھا۔۔۔پاستہ کا بائٹ منہ میں لیتی مقدس کے ہاتھوں کی حرکت لمحوں کے لئے تھم سی گئی تھی۔۔ ’’اور آپ جناب کو ایسا کیوں لگتا ہے؟‘‘اس نے آئی برو اٹھائے۔ ’’’ویسے ہی میں نے محسوس کیا ہے۔‘‘اس نے آندازہ لگایا۔۔ ’’’لیکن میرے سو کالڈ فادر کو میرے کسی بھی رویے سے کوئی فرق نہین پڑتا۔۔‘‘وہ تلخ لہجے میں گویا ہوئی تھی۔ ’’’ایسا تمھیں لگتا ہے مقدس!مگرا یسا ہے نہیں۔‘‘عیسیٰ نے سنجیدگی سے کہا۔ ’’میں ان کے بارے میں کوئی بات نہین کرنا چاہتی۔‘‘وہ سر ہلا گیا۔۔دونوں کے درمیان خاموشی چھا گئی تھی۔ ’’’کیا ہم نارمل ہزبینڈ وائف کی طرح نہیں رہ سکتے؟‘‘اس قدر اچانک سے بولی تھی کہ عیسیٰ کو پھندا لگتے لگتے بچا تھا۔ ’’’کیا کہا تم نے؟‘‘ٹیشو سے لب تھپتھپاتے عیسیٰ نے ذرا اچنبھے سے پوچھا۔۔ ’’’وہی جو آپ نے سنا!‘‘اب وہ نظریں جھکا گئی تھی۔ ’’’ایسا نہیں ہوسکتا!‘‘وہ تلخ لہجہ اختیار کر گیا تھا۔ ’’’کیونکہ آپ کو لگتا ہے کہ میں ایک اچھی لڑکی نہیں ہوں؟‘‘وہ آج کسی اور ہی موڈ میں لگ رہی تھی۔ ’’’تم شاید بھول گئی ہو۔۔مگر شادی کی رات کو ہی میں نے تم پر ایک بات واضح کردی تھی کہ ہم ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔‘‘اس بار عیسیٰ نے صاف لہجے میں باور کرایا تھا۔۔ ’’’’’دو سال پہلے اس رات ، ہوٹل میں جو کچھ جو کچھ دیکھا،وہ سچ نہیں تھا عیسیٰ!‘‘وہ نجانے کیوں آج اسے صفائی پیش کر رہی تھی۔ ’’’جسٹ شٹ اپ مقدس!اس رات کا ذکر مت کیا کرو۔۔۔‘‘عیسیٰ نے دبے دبے لہجے میں غرا کر باز رکھنا چاہا تھا۔۔ ’’’کیوں نہ کروں،آپ مجھے ایک ایسے گناہ کی سزا دے رہے ہیں جو میں نے کیا ہی نہیں۔‘‘اس کے لہجے میں افسوس در آیا تھا۔ ’’’اوہ پلیز!اب آنسو بہانے مت بیٹھ جانا۔۔‘‘اس کے تاثرات بگڑے۔ ’’مجھے سمجھنے کی کوشش۔‘‘ ’’’خاموش ہوجاؤ مقدس۔۔۔۔۔میں تمھارے ساتھ رہنا ہی نہیں چاہتا۔۔بلکہ میں کسی بھی لڑکی کے ساتھ نہیں رہنا چاہتا۔۔بات ختم۔۔‘‘وہ قصہٰ ہی ختم کر گیا تھا۔۔جبکہ مقدس نے حیرانی سے اسکے تاثرات دیکھے تھے۔۔جن میں ناگورای واضح تھی۔ ’’’ویٹر!یہ پارسل کردیں۔اور بل لے آئیں پلیز!‘‘ وہ ویٹر کو آواز لگا کر اپنے سیکریٹری کو بل ادا کرنے کا اشارہ کرتا مقدس کو کچھ بھی سوچنے سمجھنے کا موقع دیئے اپنے ساتھ لے آیا تھا۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’’کیا کہہ رہی تھیں تم ہوٹل میں؟‘‘وہ غصےٰ میں اسکا بازو پکڑ کر گھسیٹ کر ساتھ لاتا بیڈ پر پٹخ چکا تھا۔۔ ’’’کیا ہوگیا ہے؟ایسا بھی کیا غلط کہہ دیا تھا میں نے؟‘‘مقدس بھی دوبدو ہوئی۔ ’’’کیا چاہتی ہو؟ڈیمانڈ بتاؤ اپنی؟‘‘عیسیٰ اس وقت اپنے دماغ کی رگیں پھٹتی محسوس کر رہا تھا۔۔مقدس نے بظاہر ایک عام سی بات کی تھی۔۔مگر وہ اسکے دل پر جا کر لگی تھی۔۔کیونکہ وہ بھی تو ایسے ہی زرتاج کے ساتھ اپنی نئی زندگی شروع کرنا چاہتا تھا۔۔ ’’یہ کیسی باتیں کر رہے ہو تم؟‘‘اس نے اسے تاسفی نگاہوں سے دیکھا تھا۔ ’’کیسی بتایں کررہا ہوں ہاں؟‘‘ ’’’کیا چاہتی کیا ہو آخر مجھ سے تم؟؟ وہ شدید تذبذب کا شکار تھا۔ ’’’عیسیٰ ریلیکس میری بات سُنو!‘‘اس کا عجیب سا رویہ دیکھ،مقدس نے کھڑے ہوکر اسکے ہاتھ تھام کر اسے ریلیکس کرنا چاہا تھا۔۔۔اسکا لمس ا یک لمحے کو اپنے سحر میں لے گیا تھا۔۔ ’’ اس رات۔۔۔‘‘ ’’’اس رات کا ذکر مت کیا کرو مقدس عبداللہ!تم کیوں بار بار اس رات کا ذکر چھیڑ کر میری غیرت پر کاری ضربیں لگا تی ہو۔۔‘‘عیسیٰ اسکی ایک ہی گردان پر آپے سے باہر ہوتا اسے کندھوں سے پکڑ کر جھنجھوڑتا ہلا چکا تھا۔۔ ’’’کیا تم ایک بار میری بات نہیں ُسن سکتے؟‘‘وہ ہارے ہوئے لہجے میں بولی تھی۔ ’’’میں پیچھلے ایک ماہ سے تمھیں ہی سن اور سمجھ رہا ہوں مقدس!مگر آگر تم بار بار اس رات کا ذکر چھیڑ کر میرا ضبط آزمانے کی کوشش کروگی تو یاد رکھنا،میں اپنے ساتھ ساتھ تمھیں بھی اس آگ میں جلا کر خاک
