Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode no 15
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 04/05/2026
22 Views
Episode no 15
کردونگا۔۔‘‘اس کے لہجے سے وحشت عیاں تھی،،مقدس کو چپ سی لگی تھی۔۔ ’’اتنی نفرت عیسیٰ عبداللہ!‘‘وہ بیڈ پر گرنے کے آنداز میں بیٹھتی آنسوؤں سے رو پڑی تھی۔۔ ’’’اوہ پلیز!یہ رونے دھونے کا ڈرامہ میرے سامنے مت کیا کرو،یہ سب تم لڑکیوں کے حربے ہیں۔۔‘‘وہ بالوں میں ہاتھ گھماتا ، استہزائیہ مسکرایا تھا۔۔ ’’’ٹھیک ہے،میں یہاں سے واپس جاتے ہی گرینڈ پا کو کہہ دونگی کہ ہم ساتھ نہیں رہنا چاہتے۔۔‘‘وہ جیسے کسی نتیجے پر پہنچی تھی۔۔عزت نفس کو مزید روندا نہیں جا سکتا تھا۔۔ ’’’ہم نہیں تم مقدس بی بی۔۔کیونکہ غلطی تمھاری ہے تو اسکا خمیازہ بھی تمھیں بھگتنا ہوگا۔۔‘‘ عیسیٰ نے کاٹ دار لہجے میں درستگی کی تھی۔۔ ’’’صحیح!‘‘وہ بیدردی سے گال رگڑتی بیڈ پر گرا دوپٹہ اٹھا کر گلے میں ڈالتی،کمرے سے نکل گئی تھی۔۔وہ دونوں یہاں الگ الگ کمروں میں رہ رہے تھے۔۔بھلا یہاں پوچھنے والا کون تھا۔۔جبکہ اسکے جاتے ہی عیسیٰ نے مکا بنا کر دیوار پر دے مارا تھا۔۔ انگلیوں کی جلد پھٹ کر وہاں سے خون بہنے لگا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مقدس کمرے میں آتی ضبط کھو کر دیوار سے ٹیک لگاتی ہچکیوں اور سسکیوں سے رو پڑ ی تھی۔۔۔ ’’’میرا ساتھ ہی کیوں اللہ پاک!ہمیشہ مجھے ہی کیوں ہر رشتے میں آزمایا جاتا ہے۔۔پہلے باپ،پھر ماں،پھر دادا ، اور پھر امی بابا اور اب شوہر۔۔۔کیا مکمل خوشیوں پر میرا کوئی حق نہیں ہے۔‘‘خود ساختہ سرگوشی کرتی وہ چہرہ گھٹنوں میں چھپا کر رو پڑی تھی۔۔ ’’’یا اللہ مجھے نہیں رہنا ان لوگوں کے ساتھ۔۔ان بے حس لوگوں کے ساتھ۔۔مجھے نہیں رہنا۔۔۔اتنا بے بس کیوں کر دیا مجھے۔۔۔میں ۔۔۔اپنی عزت نفس کو کچل کر ہر لمحہ اس شخص کے ساتھ گزارہ کرنے کی کوشش کر رہی ہوں۔۔مگر اسے تو میری کوئی پرواہ ہی نہیں ہے۔۔‘‘ بیدردی سے آستینوں سے آنسو پونچھتی وہ اب وہ خاموش ہوگئی تھی۔۔بس کبھی کبھی کوئی سسکی بھر لیتی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ساری رات آنکھوں میں ہی کٹ گئی تھی۔۔وہ ساری رات جاگ کر مقدس کے لفظوں کو سوچتا رہا تھا،اسکی پہل یادآتی،پھر اس رات کا منظر نگاہوں میں گھوم جاتا،رات بھر میں وہ کتنے سگریٹ پھونک چکا تھا۔۔اسے خود بھی نہیں پتہ چل سکا تھا۔۔ اسکی سو چوں میں خلل ڈالتی ، موبائل کی رنگ ٹون نے اسے حقیقت میں لا پٹخا تھا۔ ’’ہیلو! ’’یار مجھے تھوڑی دیر ہوجائے گی۔۔۔دس بجے تک پہنچتا ہوں سیٹ پر۔۔ ’’گولڈن ٹائم سے کیا مراد ہے؟موبائل کا ایڈ ہے یا ’’پھر۔۔۔۔‘‘وہ غصےٰ میں کچھ سخت بولنے لگا تھا۔جبکہ اپنے سیکریٹری کے کچھ کہنے پر وہ لب دبا گیا۔۔ اُٹھ کر بیٹھتے سب سے پہلے شاور لینے کے ارادے سے وہ واشروم میں جاکر بند ہوگیا تھا۔۔تقریباً آدھے گھنٹے بعد وہ سیٹ پر جانے کے لئے بالکل ریڈی تھا۔۔۔اور اسکے قدم مقدس کے کمرے کی جانب اٹھے تھے۔۔۔ ’’’مقدس!‘‘اس نے دھیرے سے دروازہ کھٹکھٹایا۔۔وہ جو رات گزر جانے کے بعد خود پر ممکناً حد تک قابو کر چکی تھی۔ فریش ہوکر وہ بس ناشتہ بنانے کی غرض سے روم سے باہر ہی جا رہی تھی کہ سماعتوں سے ٹکراتی اسکی سنجیدہ آواز پر جلدی سے دروازے کی جانب بڑھی۔۔ ’’’مقد۔۔۔‘‘اُسکے لفظو لبوں میں ادھورے ہی رہ گئے تھے۔۔کیونکہ وہ خود ہی باہر آگئی تھی۔۔آدھا دروازہ کھولے اب وہ سوالیہ نگاہوں سے دیکھتی ساتھ جائزانہ نگاہوں سے بھی اسے اپر سے لیکر نیچے تک دیکھ رہی تھی۔۔۔ عیسیٰ نے اس وقت سلیٹ گرے رنگ کی فل سلیو ٹی شرٹ کے ساتھ ، ڈارک بلیو ڈینم جینز پہن رکھی تھی، جو نہ زیادہ لوز تھی، نہ زیادہ فٹ۔۔! جبکہ دایاں ہاتھ ہی کلائی پر ایک بلیک لیدر اسٹریپ والی فاسل واچ چمک رہی تھی، اور دوسرے ہاتھ میں ایک براؤن بریسلیٹ بھی موجود تھا، بالوں کو ہلکا سا میسی اسٹائل دیا تھا، جو زیادہ ایفرٹ لیس اور نیچرل سا لگ رہا تھا۔ فٹ وئیر میں وائٹ اسنیکرز پہنے تھے، جو اس کیژول سی لک میں بھی ڈیشنگ لگ رہا تھا۔۔۔مقدس نے تو اسکا دیوانہ ہونا ہی تھا۔۔پرفیو م کی مہک اسے حواسوں پر سوار ہوتی محسوس ہوئی تھی۔۔وہ ایک ہی نظر میں اسکا جائزہ لے چکی تھی۔۔ ’’افف اسٹائل ائیکون بننے کا کتنا شوق ہے اس آدمی کو۔۔‘‘مقدس نے ذرا بیزاری سے سوچا تھا۔۔جبکہ وہ اسے سوچوں میں ڈوبا دیکھ خاموش کھڑا تھا۔۔۔ ’’آگر مجھے دیکھ لیا ہو تو میں کچھ بولوں؟‘‘وہ جیبوں میں ہاتھ اڑستا سنجیدگی سے بولا،وہ اسکی محویت اچھے سے نوٹس کر چکا تھا۔ ’’’تمھیں ہی سن رہی ہوں۔۔وہ نے گڑبڑا کر بیزار سا تاثر دیا تھا۔۔ ’’میں جارہا ہوں۔۔آندر سےت دروازہ اچھے سے لاکڈ کرلو۔۔مجھ سے کونٹیکٹ میں رہنا یا پھر میرا سیکریڑتی تم سے کونٹیکٹ میں رہے گا۔۔کوئی بھی ایشو ہو جسٹ اسے بتا دینا وہ مجھے بتا دے گا۔۔‘‘مقدس نے خاموشی سے سن لیا تھا۔ ’’ناشتہ۔۔۔‘‘اس نے مروتً پوچھ لیا تھا۔۔ورنہ اس کے جانے کا سن کر دل یکدم اچاٹ ہوگیا تھا۔۔ تم کرلو۔میں وہیں سیٹ پر کر لونگا۔۔‘‘اس نے گھڑی پر نگاہ دوڑا کر کہا تو وہ سر ہلا گئی۔ ’’’اللہ حافظ!‘‘خشک لہجے میں بولتی وہ یونہی دروازہ کھلا چھوڑ کر کمرے میں واپس چلی گئی تھی۔۔جبکہ عیسیٰ نے شادی کے بعد آج پہلی بار اسکے لہجے میں بیزاری محسوس کی تھی۔۔وہ کتنی ہی دیر اسکے انتظار میں کھڑا رہا کہ وہ پلٹ کر آئے گی مگر وہ نہیں آئی تھی۔۔ایک گہری سانس بھرتا وہ پینٹ ہاؤس سے نکل آیا تھا۔۔جہاں پہلے ہی گاڑی اسکا انتظار کر رہی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عبداللہ ہاؤس میں ایک وقت سب لان میں بیٹھے شام کی چائے سے لطف آندوز ہورہے تھے۔۔ ’’’بچوں کے چلے جانے سے گھر کتنا سونا سونا سا ہوگیا ہے نا؟‘‘ عرشمان صاحب نے دل کی بات کی تھی۔ ’’’یہ تو ہے، بس کچھ دن کی بات ہے پھر دونوں نے واپس آجانا ہے۔‘‘عثمان صاحب نے مسکرا کر کہا۔۔ ’’’میرم ٹھیک ہے۔۔وہ تو زیادہ ہی مصروف ہوگئی ہے۔‘‘زاران اور میرم مستقل طور پر باہر ہی شفٹ ہوگئے تھے۔۔ ’’’ہاں خوش ہے ماشاء اللہ سے،اور اب تو خیر سے ہم گرینڈ پرینٹس بننے والے ہیں۔‘‘ عائشہ بیگم نے مسکرا کر آگاہ کیا تو سب نے ما شاء اللہ کہتے دعاؤں سے نوازہ تھا۔ ’’’اللہ ساتھ خیریت سے سب کردے۔۔بچی وہاں اکیلی ہوجائے گی۔‘‘عائشہ بیگم نے ذرا دکھ سے کہا۔ ’’’جی بھابھی۔اسی لئے میں نے اور عثمان نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ بس ہم میرم کے پاس ہی چلے جائیں گے۔۔آپ کو تو معلوم ہے نا کتنی لاؤبالی ہے۔۔زاران بھی مصروف ہوتا ہے۔۔ڈلیوری تک ہم وہیں شفٹ ہوجائیں گے۔‘‘انھونے حل پیش کیا۔ ’’بیگم ہم نہیں آپ۔۔اب بھلا داماد کہ گھر رہتا اچھا لگونگا۔۔‘‘عثمان صاحب نے صاف انکار کیا۔ ’’تو میں اکیلی کیسے جاؤنگی۔‘‘ابتسام صاحب خاموش بیٹھے تھے۔ ’’میں ساتھ جاؤنگا۔مگر پھر آپ وہیں ٹھہر جائیے گا میرم کے پاس۔۔۔پھر ان شا ء اللہ سب خیر سے ہوجائے تو میں آپ دونوں کو لینے آجاؤنگا۔۔بلکہ زاران ہی ساتھ آجائے گا تو اور اچھی بات ہے۔‘‘وہ تفصیلی آنداز میں بولے تو وہ سر ہلا گئیں ۔۔ ’’بس اب تو میری ایک ہی دعا ہے اللہ پاک جلدی سے میرے عیسیٰ کے گھر بھی اپنا کرم کردے۔۔‘‘عائشہ بیگم دعائیہ لہجے میں گویا ہوئیں تو س ب نے زیر لب آمین کہا تھا۔۔عیسیٰ کی اولاد کا تو سب کو ہی بہت انتظار تھا۔۔وہ اس خاندان کا اکلوتا وارث تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رات کے سائے گھیرے ہونے لگے تھے۔۔مقدس سارا دن بور ہوتی رہی تھی۔۔کبھی اپنا محرمیوں سے بھرا بچپن یاد آجاتا تو کبھی ماں باپ کی یاد ستانے لگتی،تو کبھی پیدا کرنے والے ماں باپ کی بے حسی یاد آجاتی،اور پھر عیسیٰ کے تلخ الفاظ۔۔۔۔وہ آج سارا دن
