Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode no 14
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 03/05/2026
23 Views
Episode no 14
عیسیٰ نے اسے خوفزدہ دیکھ نرم لہجے میں کہا، مگر نظر نہیں گھمائی۔ مقدس نے اس کی طرف دیکھا، پھر ہونٹ بھینچ کر رخ موڑ لیا۔ اس نے خود سیٹ بیلٹ لگانے کی کوشش کی، مگر ہاتھوں میں لرزش واضح تھی۔ وہ خفت ذدہ سی بیلٹ کو بکل میں فِٹ کرنے کی کوشش میں الجھنے لگی۔ عیسیٰ نے کن اکھیوں سے دیکھا ، مگر و خاموش رہا۔ ’’’لاؤ میں لگا دوں۔۔‘‘ناچار وہ اپنی خدامت پیش کرنے کے لئے آگے بڑھا۔ مقدس نے چونک کر اس کی طرف دیکھا، پھر جلدی سے نظر پھیر لی۔ "مجھے خود کرنا آتا ہے۔" وہ سرد لہجے میں بولی۔ عیسیٰ نے گہری سانس لی، پھر خود سیٹ سے سر ٹیکا کر بیٹھ گیا۔۔ ’’ٹھیک ہے دیکھ لیتے ہیں۔۔کتنا آتا ہے تمھیں۔‘‘وہ جان کر سرگوشیانہ بڑبڑایا۔۔مقدس ہنوز اسی میں الجھی بیٹھی تھی۔۔ عین اسی وقت، جہاز نے ہلکا جھٹکا لیا، پھر رَن وے پر دوڑنے لگا۔ مقدس نے بےاختیار سیٹ کی ہتھی پر گرفت مضبوط کرلی، دل تیز دھڑکنے لگا۔ جیسے ہی جہاز فضا میں بلند ہونے لگا، اس کا معدہ عجیب سا محسوس کرنے لگا تھا، خوف مزید بڑھ گیا۔ مقدس نے جلدی سے سیٹ بیلٹ کی طرف ہاتھ بڑھایا، مگر اس کے ہاتھ کی گرفت کمزور ہو رہی تھی۔ عیسیٰ نے اسکی حالت دیکھ تاسف سے نفی میں سر ہلاتے بلا اجازت، آہستہ سے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ سے بیلٹ کا بکل پکڑ کر چٹاخ سے بند کر دیا تھا۔ مقدس نے خوف، حیرت اور غصے سے اس کی جانب دیکھا تھا، گویا کہہ رہی ہو مجھے تمھارے اس احسان کی ضرورت ہر گز نہیں تھی۔۔ "خود کو پرفیکٹ اور کول سمجھنا چھوڑ دو نیک پروین۔" عیسیٰ نےاستہزائیہ آنداز میں سرگوشی کی، اور پھر سیدھا ہوکر بیٹھ گیا۔ مقدس اب خاموشی سے اُسے ہی گھور رہی تھی،جو کیپ چہرے پر ڈالتا آنکھیں موند گیا تھا۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ صبح جلدی پہنچ گئے تھے۔اسلام آباد کی فضا میں ابھی رات میں خنکی ابھی ختم نہیں ہوئی تھی۔ آسمان ہلکی نیلاہٹ میں ڈھل رہا تھا،صبح کا منظڑ واقعی سہانا تھا عیسیٰ اسے اپنے ذاتی پینٹ ہاؤس لے آیا تھا۔ کار ایک جھٹکے سے عمارت کے عین سامنے ٹھہری تھی۔۔ مقدس نے ونڈو سے گردن موڑ کر عمارت کی طرف دیکھا، جو جدید طرزِ تعمیر کا ایک شاہکار معلوم ہو رہی تھی،ہلکے رنگوں کے اسٹون وال پینلز اور روشنیوں سے جگمگ کرتی بالکونیاں۔۔۔ عیسیٰ نے کار سے اتر کر دروازہ کھولا، ڈرائیور کو انلائن پیمنٹ کی ،مگر مقدس ابھی تک گم صم بیٹھی تھی۔ "اتر رہی ہو، یا تمہیں فلائٹ سے واپس بھجوا دوں؟" وہ اسے ساکت و صامت دیکھ اکھڑ لہجے میں بولا تھا۔۔۔ مقدس نے ذرا گڑبڑا کر اسے گھورا، پھر بنا کچھ کہے کار کا دروازہ کھولتی باہر نکل آئی تھی۔ وہ عیسیٰ کی ہمراہی میں اپنے مطلوبہ منزل پر بنے پینٹ ہاؤس میں انٹر ہوتی کچھ لمحوں کے لئے سحر میں گرفتار ہوئی تھی۔۔۔ سرمئی اور کریم رنگ کی دیواریں، نیچرل ووڈ ن فلور، اور کھڑکیوں سے آتا صبح کا مدھم اُجالا، جو آہستہ آہستہ کمرے کی فضا میں گھل رہا تھا۔ سامنے ہی ایک بڑا اوپن کچن تھا، جہاں جدید طرز کے کاؤنٹرز اور بلیک اینڈ وائٹ تھییم میں بنی شیلفس خوبصورت لگ رہی تھیں۔ ایک طرف بڑی سی آرٹ گیلری وال تھی، جہاں عیسیٰ کی چند تصاویر لگی تھیں،کچھ فیملی کے ساتھ، کچھ شاید اس کی کامیابی کے سفر کی جھلکیاں۔ عیسیٰ نے اندر آتے ہی گھڑی اتار کر سائیڈ ٹیبل پر رکھی۔ مقدس نے اِردگرد نظریں دُوڑائیں۔ "تم تھوڑی دیر آرام کرلو، میں کچھ ضروری کالز کرنی ہیں۔" وہ کہتے ہی اپنے روم کی طرف بڑھ گیا۔ مقدس نے ایک لمحے کے لیے گہری سانس لی، پھر دھیرے دھیرے قدم بڑھاتے ہوئے شیشے کی دیوار کے قریب جا کھڑی ہوئی۔ نیچے نظر آتا اسلام آباد کا ویو واضح تھا۔۔وہ سوچوں میں اس قدر محو تھی کہ وقت گزرنے کا خیال ہی نہیں آیا۔۔۔عیسیٰ اور وہ ہر گزرتے دن کے ساتھ قریب آنے کے بجائے مزید دور ہوتے چلے جا رہے تھے۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹی وی لاؤنج میں ہلکی سنہری روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ مقدس صوفے پر بیٹھی گھر بات کر رہی تھی۔ فون اسپیکر پر نہیں تھا، مگر عیسیٰ جو چند قدم کے فاصلے پر ساتھ ہی بیٹھا تھا، اس کی دھیمی آواز باآسانی سن سکتا تھا۔ "جی آنٹی ، میں ٹھیک ہوں... سب ٹھیک ہے... نہیں، زیادہ تھکن نہیں ہے۔" مقدس نرمی سے بول رہی تھی، سب کو تسلی کرا رہی تھی۔ دوسری طرف شاید اس کی ماں بہت سوال کر رہی تھیں، کیونکہ وہ تھوڑی دیر بعد ہلکا سا مسکرا کر بولی: "جی گرینڈ پا ، میں اپنا خیال رکھ رہی ہوں۔" عیسیٰ خاموشی سے بیٹھا، آہستہ آہستہ اپنے فون کی اسکرین پر انگلیاں چلا رہا تھا، مگر اس کا مکمل دھیان مقدس کی طرف ہی تھا۔ اس کے چہرے پر کوئی خاص تاثر نہیں تھا، مگر اسکی نظریں ہر چند لمحوں بعد مقدس کی طرف اُٹھ جاتیں۔ جو کبھی مسکراتی تو کبھی ہونٹ دانتوں تلے دبا جاتی۔۔ ’’’نہیں فلائٹ میں بالکل ڈر نہیں لگا تھا۔۔جی جی عیسیٰ میرے ساتھ ہی تھے۔‘‘وہ بالوں کی لٹ کان کے پیچھے اُڑستی آہستگی سے بولی تھی۔۔ عیسیٰ نے نظریں اُٹھا کر اسے دیکھا، وہ اب دھیرے سے مسکرائی تھی مگر مسکرانے کے باوجود تھوڑی اُداس لگ رہی تھی۔ فون پر بات ختم ہوتے ہی مقدس نے ایک گہری سانس لی اور فون ٹیبل پر رکھ دیا۔ "گھر میں سب خیریت ہے نا؟" عیسیٰ کی سنجیدگی میں لپٹی آواز پر وہ چونکی۔۔ مقدس نے چونک کر اسے دیکھا، پھر ہلکے سے سر ہلا دیا۔ "ہاں، سب ٹھیک ہے۔" عیسیٰ نے اسے کچھ لمحے دیکھا، پھر فون کی اسکرین بند کر کے اٹھ کھڑا ہوا۔ ’’’ڈنر کا تم دیکھ لوگی یا میں آرڈر کردوں؟‘‘وہ سوالیہ بولا۔۔آج کا سارا دن گھر میں گزر گیا تھا۔۔ ’’’دیکھ لونگی میں۔۔ویسے بھی یہاں بور ہی ہو رہی ہوں۔۔بس کچھ سامان چاہئے ہوگا،کیونکہ یہاں کچھ بھی نہیں ہے۔‘‘وہ پہلے ہی کچن کھنگال چکی تھی۔ ’’’ایک کام کرو ریڈی ہوجاؤ،ڈنر باہر ہی کریں گے۔۔اور گروسری بھی کرلیں گے۔۔ابھی شاید ایک ویک تک یہیں اسٹے کرنا پڑ جائے۔۔‘‘مقدس سر ہلا گئی۔۔۔اسلام آباد دیکھنے کے لئے صبح سے اسکا دل للچا رہا تھا۔مگر عیسیٰ سے بولتی کیسے بھلا۔۔۔ جاری ہے
