Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode no 14
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 03/05/2026
23 Views
Episode no 14
والوں نے بھی اس شادی کو ایکسیپٹ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔۔ انھونے محبت میں شادی کر تو لی تھی،مگر یوسف صاحب کے ساتھ در در بھٹکتے انکی محبت جھاگ بن کر بیٹھ گئی تھی۔۔جبھی مقدس کے دنیا میں آنے کی خبر ملی تھی۔۔یوسف تو اس رشتے کو نبھانا چاہتا تھا۔۔مگر نفیسہ کے ساتھ چھوڑنے پر مقدس کی پیدائش پر وہ ایک فیصلہ لیتا اپنے فیصلے پر عمل بھی کر چکا تھا۔۔وہ انھیں اپنی یونورسٹی کے زمانے کے ایک دوست کی جھولی میں ڈال آئے تھے جو ایک بے اولاد جوڑا تھا،جبکہ نفیسہ کو انھونے یہی کہہ دیا تھا کہ بچہ مردہ پیدا ہوا تھا۔۔ دونوں کی راہیں جدا ہوگئی تھیں۔۔ یوسف مقدس سے غافل نہیں تھے۔۔ ابدال صاحب نہیں چاہتے تھے کہ وہ ماضی کو یاد رکھیں اس لئے انھیں کبھی اپنی اولاد سے ملنے نہیں دیا۔۔ جب سالوں بعد نفیسہ کو علم ہوا کہ اسکی اولاد زندہ ہے تو انکی ممتا تڑپ اٹھی تھی۔وہ مقدس کو ساتھ لانا چاہتی تھیں،مگر وہ ساتھ جانے سے انکار کر گئی تھی۔ انکے دوسرے شوہر بھی اچھے کردار کا آدمی نہیں تھا۔۔مگر مقدس کے ماں باپ کی وفات کے بعد انھونے اسکی شادی عمر سے کرنی چاہی جو انکار کر گئی تھی۔اسکے علاوہ وہ اسے اپنےساتھ نہیں لا سکتی تھیں۔۔حقیقت تو یہی تھی کہ وہ مقدس کی زمہ داری نہیں لے سکتی تھیں۔کیونکہ انکی بھی ایک بیٹی تھی،اور وہ اپنا دوسرا گھر خراب کرنے کی خواہش مند ہر گز نہیں تھیں۔۔‘‘ماضی میں کھوئیں وہ آنکھیں موند گئی تھیں۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کمرہ دودھیا روشنی سے منور تھا ۔ مگر دو افراد کی موجودگی میں بھی اندر ایک گہری خاموشی چھائی تھی، صرف سوٹ کیس کی زِپ کھلنے اور بند ہونے کی آواز گونج رہی تھی۔ مقدس بیڈ کنارے بیٹھی تھی، کپڑوں کو احتیاط سے تہہ کر کے سوٹ کیس میں رکھ رہی تھی، مگر اس کے ہاتھوں کی جنبش میں بے نام سی الجھن تھی۔ سامنے، صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا عیسیٰ اسے خاموشی سے گھور رہا تھا— بازو سینے پر لپیٹے، چہرے پر غیر مرئی تاثرات، مگر نظریں مقدس کے چہرے پر ہی جمی تھیں،جو اسکی نگاہوں کی تپش محسوس کر اچھی خاصی پزل ہورہی تھی۔۔ مقدس نے نظریں اٹھائے بغیر اگلی قمیض تہہ کی اور بیگ میں رکھی، جیسے اسے احساس ہی نہ ہو کہ وہ نظروں کے حصار میں قید ہے۔ مگر عیسیٰ کا گھورنا اتنا شدید تھا کہ آخر کار وہ جھنجھلا کر رُکی اور دھیرے سے بولی "کیا مسئلہ ہے؟" عیسیٰ نے ایک لمحے کو کچھ نہیں کہا، بس کرسی پر اور بھی آرام دہ انداز میں بیٹھ گیا۔ پھر بےنیازی سے بولا: "کچھ نہیں، بس دیکھ رہا ہوں کہ میرے بغیر تم اسلام آباد جانے کے لیے کتنی زیادہ ایکسائٹڈ ہو۔" مقدس نے گہری سانس لی اور واپس پیکنگ میں مصروف ہوگئی۔کیونکہ وہ اسکی کسی بات کا جواب نہیں دینا چاہتی تھی۔ ’’ویسے میں حیران ہوں کوئی عورت اتنی ڈھیٹ کیسے ہوسکتی ہے؟کہ اپنی عزت نفس تک کی پرواہ نہ کرے۔۔‘‘ مقدس نے ایک نظر اس پر ڈالی، پھر نظر پھیر کر خاموشی سے دوبارہ بیگ بند کرنے لگی۔ "تمہیں اس رشتہ کے ختم ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، ہے نا؟" عیسیٰ نے ہلکی طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ سوالیہ کیا۔ وہ کچھ نہیں بولی، بس زِپ بند کرنے کے بعد سوٹ کیس سیدھا کھڑا کیا اور نرمی سے دوپٹہ گردن سے نکال کر ایک طرف کو رکھا تھا۔۔ ’’’کیا تم واقعی اس رشتہ کو بڑھانا چاہتی ہو؟‘‘اس بار وہ دو قدموں کا فاصلہ سمیٹ کر نزدیک چلا آیا تھا۔ ’’’میں فضول باتوں کی جواب دہ نہیں۔‘‘وہ کروٹ بدل گئی۔ ’’’یہاں دیکھو میری طرف!اور مجھے سچ سچ بتاؤ تمھارے خرافاتی دماغ میں آخر چل کیا رہا ہے۔‘‘وہ اسکے آنداز پر سیخ پا ہوا۔۔ ’’’کچھ نہیں چل رہا ہے۔۔میں صرف بڑوں کے اس فیصلے کا احترام کرتی ہوں اور کچھ نہیں۔۔‘‘وہ جل کر بولیتی آنکھیں میچ گئی۔ ’’’تم کچھ بھی کہو،مگر میں اس رشتہ کو بڑھانے میں انٹرسٹڈ نہیں ہوں۔۔‘‘وہ واضح لہجے میں بولا تھا۔ ’’’تو اپنا حق استعمال کرو،طلاق دو اور قصہٰ ختم کرو۔‘‘وہ حد سے زیادہ سفاک لہجے میں بولی تھی۔ ’’’میں طلاق نہیں دونگا،تم خلع لوگی،اور میں ایسا کیوں کہہ رہا ہوں یہ تم بہت اچھے سے جانتی ہو۔‘‘وہ ایک جھٹکے سے اسکا رخ اپنی جانب موڑتا درشت لہجے میں گویا ہوا تھا۔۔مقدس کی پیشانی پر بل پڑ گئے۔ ’’’مجھے تمھارے ساتھ زندگی گزارنے اور اس رشتہ کو چلانے میں کوئی تکلیف نہیں ہے تو میں خلع کیوں لوں۔البتہ آگر تم اس رشتہ کو آگے نہیں بڑھانا چاہتے تو تو مجھے ابھی طلاق دو سمپل۔۔میں تمھاری زندگی سے ہمیشہ کے لئے نکل جاؤنگی۔‘‘عیسیٰ نےا سے گھورا تھا،جو بڑے مزے سے اسے پھنسا چکی تھی۔ ’’’کیا تم واقعی اس رشتے سے خوش ہو؟‘‘وہ جانچتی نگاہوں سے اسکی لرزتی پلکیں دیکھ رہا تھا۔ دھڑکنوں کی تیز رفتار واضح محسوس کی جا سکتی تھی۔۔ ’’کسی بھی رشتہ کو بڑھانے کے لئے اس میں خوشی کا عنصر تلاش کرنا ضروری نہیں۔‘‘وہ منطقی لہجے میں گویا ہوئی تھی۔ ’’تو پھر سمجھوتا کر رہی ہو؟‘‘وہ طنزیہ مسکرایا۔ ’’یہ جو ہمارے درمیان ہے نا اسے سمجھوتا نہیں کہتے عیسیٰ عبداللہ!‘‘وہ ایک جھٹکے سے بیڈ سے اٹھتی سامنے کھڑے عیسیٰ کی مد مقابل آنکھوں میں جھانک کر بولی۔ایک ہاتھ بیڈ پر ٹکا تھا۔۔ ’’’تو پھر کیا ہے ایسا جو تمھیں اس رشتہ میں باندھے ہوئے ہے؟‘‘وہ دونوں ہاتھ بیڈ پر اسکے اطراف میں رکھتا گھمبیر لہجے میں سوالیہ گویا ہوا۔۔اسکی اچانک قربت پر وہ بری طریقے سے سٹپٹائی تھی۔۔ ’’’آگر میں کہوں کہ میں اس رشتہ میں نہ تو خوش ہوں اور نہ ہی سمجھوتا کر رہی ہوں تو تم مان لو گے؟‘‘وہ خود پر قابو کرتی سوالیہ بولی،تو اس نے نافہم تاثرات سے بھونیں اٹھائیں۔ ’’’میں پرسکون اور مطمئن ہوں عیسیٰ عبداللہ! ہمارا رشتہ میرے لئے اطمینان کا باعث ہے۔مجھے تم سے کوئی تکلیف نہیں ہے،تو میں کیوں چھوڑوں۔مسلہ تمھیں ہے تو فیصلہ بھی تمھارا ہوگا۔۔‘‘اس بار وہ جتاتے لہجے میں بولتی واپس سے تکیہ پر سر رکھ گئی۔۔جبکہ وہ غصےٰ سے بیڈ پر مکا مارتا اپنا غصہٰ ضبط کرنے لگا۔ ’’یہ جو تم نیک پروین بننے کی کوشش کرتی ہو نا یہ ڈڑامے بازیاں گرینڈ پا کے سامنے ہی کیا کرو،وہ آئیں گے تمھاری ان سحر آنگیز باتوں میں ،میں نہیں سمجھیں۔۔اور بیڈ خالی کرو فوراً۔۔‘‘وہ غصےٰ سے حکم صادر کرتا تن فن کرتا واشروم مین جاکر بند ہوگیا تھا۔۔جبکہ مقدس تکیہ پر سر مارتی اپنے آنسو چھپا رہی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کراچی سے اسلام آباد جانے والی فلائٹ میں اس وقت وہ دونوں بھی موجود تھے۔۔کھڑکی کے قریب والی سیٹ پر رخ پھیر کر بیٹھی مقدس خاموش تھی، چہرے پر سپاٹ تاثرات سجا رکھے تھے، مگر ہاتھوں کی انگلیاں بےچینی سے دوپٹے کے کنارے سے کھیل رہی تھیں۔ عیسیٰ اس کے عین برابر میں بیٹھا تھا، آرام سے سیٹ پر ٹیک لگائے، مگر نظر سیدھی سامنے کر رکھی تھیں۔ دونوں کے درمیان خاموش جنگ ہنوز جاری تھی۔۔ مقدس نے چپکے سے کھڑکی کے پار جھانکا، مگر جیسے ہی اس نے نیچے زمین کو سکڑتے دیکھا، دل زور سے دھڑک اٹھا تھا۔۔یہ اسکی زندگی کا پہلا ہوائی سفر تھا۔۔ ’’’یا اللہ!" وہ دل ہی دل میں بڑبڑائی اور تیزی سے سیدھی ہوکر بیٹھ گئی۔ جہاز کا دروازہ بند ہو چکا تھا۔ عملہ حفاظتی ہدایات بتا رہا تھا، مگر مقدس کا دھیان کہیں اور تھا۔ دل کی دھڑکن بےترتیب ہو رہی تھی۔ "سیٹ بیلٹ باندھ لو، ٹیک آف ہونے والا ہے۔"
