Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode no 14
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 03/05/2026
23 Views
Episode no 14
دو پل کو ٹھہرا عشق کا کارواں ازقلم ہما قریشی 14 قسط نمبر ’’’کتنی خوش فہمی ہے آپ کو،بھلا میں کیوں اس موت کے پروانے پر سائن کرونگی،اور مجھے اس گھر میں کمی کس چیز کی ہے،محل جیسا گھر ہے،دیگر ضروریات کی فراہمی ہو رہی ہے، دولت ہے میرے شوہر کی شہر میں شہرت ہے،اور مجھے کیا چاہئے زندگی سے عیسیٰ جی!‘‘وہ صوفے سے اٹھ کر نزدیک آتی ذرا فلمی آنداز میں بولی۔ ’’’اوئے یہ ڈائیلاگ بازی میرے سامنے مت کرنا۔‘‘اس نے انگشت شہادت اٹھا کر تنبیہ کی۔ ’’’کیمرے کے سامنے ڈائیلاگز مارنا آپ کا کام ہےعیسیٰ جی ،ہمارا نہیں۔‘‘وہ مسلسل اسے زچ کر رہی تھی۔ ’’’پہلی بات تو یہ کہ تم مجھ سے دور رہ کر بات کیا کرو۔‘‘وہ اسکے مزید قریب ہونے پر دو قدم پیچھے ہوا۔ ’’’کیوں آپ کو خود پر اعتبار نہیں ہے؟‘‘عیسیٰ نے آنکھیں میچ کر خود پر ضبط کیا۔ ’’’کرلی ایکٹنگ!چلو اب سیریس ہوتے ہیں۔‘‘اس نے گلا کھنکھارا۔ ’’’اوہ واؤ اٹس مین آپ کو میری کارکردگی کافی پسند آئی ہے تو لائیے میرے پیسے نکالیں۔‘‘اس نے یکدم جوش میں بولتے ہوئے ہتھیلی پھیلائی۔ ’’کس چیز کے؟‘‘اس نے متعجب آنداز میں پوچھا۔ ’’ایکٹنگ کے۔‘‘اس نے یاد کرایا۔ ’’’’وہ اچھا!ایک منٹ۔۔‘‘عیسیٰ نے سمجھ کر سر ہلاتے،پینٹ کی جیب میں ادھر ادھر ہاتھ مار پر بمشکل پانچ کا سکہ تلاش کر کہ نکالا تھا اور سیدھا مقدس کی ہتھیلی پر رکھ دیا تھا۔ ’’یہ کیا ہے؟‘‘ اس نے صرف ایک سکےّ کو حیرت سے دیکھا۔ ’’آپ کے تھرڈ کلاس کارکردگی کا بڑا سا معاوضہ!‘‘وہ جبڑا پھیلا کر مسکرانے کا تاثر دیتا طنزیہ بولا تھا۔ ’’پاکستان کا ویل پیڈ ہوسٹ اور اتنا کنجوس! یہ عادت و اطوار تو سوشل میڈیا کی زینت بننے کے بالکل ۔۔قابل ہیں۔۔‘‘اس نے پر سوچ آنداز میں بولتے ذرا ٹھہر کر کہا تھا۔ ’’شٹ اپ! بہت کرلی تم نے بکواس۔۔فی الحال فٹا فٹ سے ان کاغذات پر سائن کرو،اپنا بوریا بستر سمیٹو اور میرے کمرے سے اپنی شکل گول کرو۔‘‘وہ اس بار اسکو جھڑکتا چٹکی بجا کر استہزائیہ گویا ہوا۔ ’’میں تو اپنا بوریا بستر تاحیات کے لئے اس کمرے میں لگا چکی ہوں،جس مخلوق کو مجھ جیسی حسین لڑکی سے تکلیف ہے،بہتر یہی ہے کہ وہ یہاں سے تشریف لے جائیں۔۔‘‘اس بار وہ شوخی سائیڈ پر رکھتی سنجیدہ ہوئی۔ ’’یہ کمرہ میرا ہے۔۔‘‘اس نے یاد دہانی ضروری سمجھی۔ ’’آگر آپ کو مجھ سے تکلیف ہے تو بہتر یہی ہے کہ آپ مجھے طلاق دیں ، کیونکہ میں تو آپ سے کبھی خلع نہیں لونگی۔‘‘اس بار اس نے سخت لہجے میں اسے باور کرانا ضروری سمجھا تھا۔ ’’اوہ!سمجھ گیا۔۔فکر نہیں کرو،خالی ہاتھ رخصت نہیں کرونگا، اتنا اماؤنٹ دے دونگا کہ تمہاری آئندہ نسلیں بیٹھ کر کھالیں گی۔۔‘‘عیسیٰ کےتنفر بھرے آنداز میں یکدم اسکی آنکھیں بھیگ گئیں تھیں۔۔ ’’اوہ پلیز !اسٹاپ دس کروکوڈائلز ٹئیرز!‘‘وہ بیزار ہوا۔۔ ’’بہتر ہوگا کہ آپ کمرے سے چلیں جائیں،ورنہ آگر میں کمرے سے گئی تو سیدھا دادا ابو کے پاس جاؤنگی اور انہیں بتاؤنگی کہ انکا پوتا کس قدر بزدل مرد ہے جو ایک عورت کے کندھے پر بندوق رکھ کر چلا رہا ہے۔۔‘‘عیسیٰ نے اسے تیز نظروں سے گھورا تھا۔۔ ’’آگر میں تمہیں کچھ کہتا نہیں ہوں تو اسکی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ ،میری نظر میں تمہاری کوئی حثیت ہی نہیں ہے،لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ تم میری ذاتیات پر حملہ کروگی،آئندہ زبان سنبھال کر بات کرنا سمجھیں۔‘‘وہ دو قدم نزدیک ہوتا،انگشت شہادت اُٹھا کر وارن کرتا خلع کے کاغذات وہیں پھینکتا ،روم سے نکل گیا تھا۔جبکہ مقدس استہزائیہ آنداز میں مسکراتی صوفے پر ڈھنے کے آنداز میں بیٹھ گئی تھی۔۔گزرے دو ماہ میں اس شخص نے اسے چھوا تک نہیں تھا،کبھی ہاتھ تک نہیں لگایا تھا،وہ زبان سے نہیں کہتا تھا مگر حقیقت تو یہی تھی کہ وہ اسے ایک بدکردار لڑکی سمجھتا تھا۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صبح کا سماں تھا،سب لوگوں معمو ل کے مطابق بریک فسٹ ٹیبل پر موجود تھے۔۔ابتسام صاحب اخبار کی سرخیوں پر نظر ڈال رہے تھے،جبکہ عرشمان اور عثمان صاحب بزنس کے حوالے سے بات کر رہے تھے،دونوں خواتین ناشتے کے ساتھ باتوں میں مشغول تھیں۔ جبکہ عیسیٰ اور مقدس خاموشی سے ناشتےکرنے میں مصروف تھے۔۔نیپکن سے منہ تھپتھپاتے عیسیٰ نے ذرا گلا کھنکھار کر سب کو اپنی جانب متوجہ کیا تھا۔۔۔۔ "میں کل شوٹنگ کے سلسلے میں اسلام آباد جا رہا ہوں، تین دن کے لیے۔" میز پر ایک لمحے کو خاموشی چھا گئی، پھر ابتسام صاحب نے مسکرا کر مشورہ دیا تھا۔ ’’اچھا بیٹا، یہ تو بہت اچھی بات ہے مقدس کو بھی ساتھ لے جاؤ۔‘‘ چائے کا گھونٹ لیتے لیتے عیسیٰ رک گیا تھا، اور مقدس نے ذرا چونک کر نگاہیں اٹھائیں۔۔ ’’ہاں بھئی عیسیٰ بابا جان بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں، نئی نویلی بیوی کو یوں اکیلا چھوڑ کر جانا مناسب نہیں۔ ویسے بھی شادی کے بعد لازمی کسی سفر پر جانا چاہیے۔ان ہنی مون کا تو تم نے دو ماہ کے بعد کا پلین کر رکھا ہے۔۔‘‘‘ نہیں، مجھے کہیں نہیں جانا۔ میں یہاں بالکل ٹھیک ہوں۔۔‘‘ مقدس نے فوراً نفی میں سر ہلایا۔۔ یہ کوئی تفریحی ٹرپ نہیں ہے، وہاں میں شوٹنگ میں مصروف رہوں گا۔ مقدس وہاں بور ہو جائے گی۔۔‘‘ عیسیٰ نے بھی فوراً کہا۔۔ ’’یہ بھی تو دیکھو، مقدس نے ابھی تک گھر سے باہر قدم نہیں رکھا۔ شادی کے بعد بیوی کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنا چاہئے۔۔‘‘ ’’’ہمارے زمانے میں تو شوہر کہیں بھی جاتے تھے، تو بیویاں بھی ساتھ ہی جاتی تھیں۔‘‘یہ چھوٹی چچی تھیں جو شرارتی لہجے میں گویا ہوئی تھیں۔۔۔ مقدس نے بے بسی سے عیسیٰ کو دیکھا، اور عیسیٰ نے بے زاری سے سانس خارج کی۔ میں واقعی مصروف ہوں گا، اور مقدس کو اکیلا چھوڑنا مناسب نہیں ہوگا۔ مصروفیت کا بہانہ بنا کر جان چھڑا رہے ہو؟‘‘" "بالکل نہیں۔‘‘ "پھر ٹھیک ہے، مقدس ساتھ جائے گی، بات ختم!" ’فیصلہ ہوگیا، کوئی مزید بحث نہیں۔‘‘ مقدس نے جلدی سے بولنا چاہا، مگر ابتسام صاحب کے فیصلہ کن لہجے پر وہ خاموشی اختیار کر گئی۔۔۔ وہ دونوں ہی ایک دوسرے سے نگاہیں چراتے خاموش بیٹھے تھے۔۔۔کیونکہ بڑوں کے حکم کو ٹالا بھی تو نہیں جا سکتا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کمرے میں ہلکی نیلی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ دبیز پردے بند ہونے کے باوجود بھی کہیں سے ہلکی سی روشنی اندر داخل ہو رہی تھی۔ کمرے میں صرف ٹی وی کی روشنی تھی، جو سامنے صوفے پر بیٹھی عورت کے چہرے پر پڑ رہی تھی۔ ہاتھوں میں ریموٹ تھا، مگر نظریں اسکرین پر جمی ہوئی تھیں۔ ٹی وی اسکرین پر مارننگ شو کا ری پلے چل رہا تھا۔ ہوسٹ، صنم، خوشگوار انداز میں نوبیاہتا جوڑے سے سوالات کر رہی تھی، اور ان دونوں کی خوش مزاجی پوری دنیا دیکھ رہی تھی۔ مقدس! اسکرین پر بیٹھی دلکش لڑکی کی ہنسی، اس کے نرم و نازک تاثرات، اس کی چمکتی ہوئی آنکھیں۔۔۔ لمحہ بھر کو سب کچھ دھندلا پڑ گیا۔ ’’اپنی ماں کی تو شاید تمھیں یاد بھی نہیں آتی۔۔‘‘نفیسہ کی کی آنکھوں میں پہلی بار مقدس کو یاد کر آنسو آگئے تھے۔۔وہ بھلے اس سے کتنا ہی اجنبی رویہ اختیار کر لیں مگر وہ اس سے غافل ہر گز نہیں تھیں،بس اپنے شوہر کی وجہ سے مجبور تھیں۔۔ مجھے معاف کردو میری بچی!تمھاری ماں ایک کمزور عورت ہے۔۔‘‘اپنے آنسوؤں پر ضبط کر پہرے بیٹھائے وہ خاموش رہ گئی تھیں۔۔۔۔ آج سے کئی سال قبل انھونے عبداللہ خاندان اور ابدال صاحب کے اکلوتے بیٹے سے بھاگ کر شادی کی تھی۔۔ ابدال صاحب سمیت انکے گھر
