Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode no 11
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 29/04/2026
29 Views
Episode no 11
صاحب مقدس کے تاثرات دیکھ ،ایک بار پھر شرمندگی کی اتھا گہرائیوں میں چلے گئے تھے۔ ’’’شیور گرینڈپا وائی ناٹ!آجائیں سسٹر!‘‘اس بار انھونے بھابھی بولنے کے بجائے بہن کہہ کر پکارا تھا،اور مقدس کا دل کیا وہ دھاڑے مار کر روتی۔۔۔۔ ’’’تو میں بھی ساتھ چلوں کیا؟‘‘عیسیٰ نے مقدس کے تاثرات دیکھ ذرا شرارت سے پوچھا۔۔ ’’’ویسےہم بوائیز والڈ مینز کو اپنے گروپ میں نہیں لیتے،مگر سسٹر خود کو مس فٹ فیل نہ کریں تو ہم آپ کو برداشت کر لیں گے۔۔‘‘وہ تینوں ایک سال کے چھوٹے بڑے تھے۔ چوبیس سال کا اور دونوں جڑواں اس سے ایک سال چھوٹے۔۔۔ ’’’برخوردار میرا ینگ اور ڈیسنگ پوتا آپ کو اولڈ لگ رہا ہے؟‘‘اس بار ابتسام صاحب نے ذرا گھمبیر لہجے میں بولتے انھیں گھورا۔۔ ’’’بگ جی ہم سے تو اولڈ ہیں نا بھائی۔۔‘‘انھونے ذرا منہ بنایا تو سب ہی مسکرا دیئے۔۔ ’’’جاؤ بیٹا مقدس!یہ تینوں بہت شرارتی ہیں تم انکی کمپنی خوب انجوائے کرو گی۔‘‘ اس بار عائشہ بیگم نے آگے بڑھ کر اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ ناچار مسکرائی تھی۔۔ساتھ ہی قدم انکی ہمراہی میں بڑھائے تھے۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’’یہ جو سامنے فوارہ ہے ناں، اس میں ہم بچپن میں کتنی بار نہائے ہیں۔‘‘وہ ذرا شرارت سے بولا تو مقدس مسکرائی۔۔ ’’اور وہ جو لائبریری نظر آ رہی ہے، وہاں بابا کی اجازت کے بغیر داخلہ بند ہے!" جنید نے ذرا سرگوشیانہ آنداز میں کہا تھا۔ ’’’اور یہ جو دائیں طرف گیسٹ ہاؤس ہے، یہاں بڑے بڑے سیاستدان اور بزنس مین آ کر ٹھہرتے ہیں!ہمارے گریمپس کاسیاست میں بھی ایک نام رہا ہے۔۔" اس کے لہجے میں فخر تھا۔مقدس نے محض سر ہلانے پر اتفاق کیا تھا۔ مقدس خاموشی سے سب کچھ دیکھ رہی تھی، اور ان تینوں کی باتوں سے صاف ظاہر تھا کہ وہ اپنے گھر سے بے حد محبت کرتے تھے۔ مقدس کے دل میں ایک چبھن سی ہوئی تھی،کہ اپنا گھر خاندان سب کچھ ہوتے ہوئے بھی وہ آج تک غیروں کے گھر میں پل بڑھ کر جوان ہوئی تھی۔عیسیٰ آج بالکل خاموش تھا۔ وہ بس اس کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا، اُسے محسوا ہوا کہ وہ مقدس کی ہر حرکت کو محسوس کر رہا ہو، لیکن کچھ کہہ نہیں رہا تھا۔کہیں نا کہیں وہ اسکے دل کی حالت سمجھ رہا تھا،وہ ایک میچور مرد تھا،کوئی چھوٹا بچہ نہیں تھا، جو اسکے تاثرات نہ جانچ پاتا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ سب اس وقت ڈائینگ ٹیبل پر بیٹھے ہلکی پھلکی باتوں کے درمیان ڈنر انجوائے کر رہے تھے،جبھی مقابل بیٹھی مسز یوسف نے مقدس کو مخاطب کیا تھا۔۔۔ ’’’تو بیٹا پھر آپ کو ہمارا گھر کیسا لگا؟‘‘مسز یوسف کے سوال پر مقدس ایک لمحے کو ٹھہر سی گئی تھی،سب نے سوالیہ نگاہوں سے اسکی جانب دیکھا،جبکہ یوسف صاحب اور عیسیٰ رغبت سے کھانا کھانے میں مشغول تھے۔۔ ’’ما شاءاللہ سے بہت پیارا ہے۔۔‘‘نوالہ حلق سے اتارتے اپنے دل کی حالت چھپاتی وہ مسکراتے لہجے میں بولی تھی۔ ’’بہن کو ایکورئیم دکھایا ،وہ مجھے میری ممی نے شادی پر گفٹ کیا تھا،بہت پیارا ہے اور انٹیک ہے کیونکہ وہ میرے دادا ابو کے زمانے کا ہے۔۔‘‘انھونے بیٹوں کو دیکھتے تفصیل بتائی۔ ’’اوہ اتنی اہم چیز تو مام ہم دکھانا ہی بھول گئے۔‘‘انھونے دانت دکھائے۔ ’’خیر ہے میں دیکھا دونگی۔۔‘‘مقدس مسکرا کر رہ گئی۔۔۔سب خاموش تھے کیونکہ وہ سب ہی انکی شو آف والی طبیعت سے بخوبی واقف تھے،جبکہ ابتسام صاحب اور ابدال صاحب مسلسل مقدس کے چہرے کے بدلتے رنگ دیکھ رہے تھے،یقیناً اسکے دل کا حال کسی سے چھپا ہوا نہیں تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’مقدس!‘‘وہ طبیعت کا بہانہ بنا کر سب بڑوں کے آنے سے پہلے ہی عیسیٰ کی ہمراہی میں گھر آگئی تھی۔کیونکہ اب مزید اس سے وہاں بیٹھنا برداشت سے باہر ہوا تھا۔۔ ’’ہمم!‘‘وہ سیدھی ڈریسنگ روم میں آئی تھی،عیسیٰ بھی اسکے پیچھے ہی آیا تھا،کیونکہ وہ اسکی آنکھوں میں آنسو دیکھ چکا تھا۔ ’’’یہ انتہائی غیر اخلاقی حرکت کی ہے تم نے۔‘‘وہ اسکا دھیان بھٹکانے کو بولا تھا۔ ’’’تو تم اخلاقیات نبھا لیتے،اور وہیں ٹھہر جاتے۔۔‘‘وہ ناگوار لہجے میں گویا ہوئی تھی۔ ’’’تم اتنی بدتمیز کیوں ہو۔‘‘وہ جھنجھلایا تھا۔ ’’’مجھے چینج کرنا ہے۔‘‘سیدھا سیدھا دفعہ ہونے کو کہا گیا تھا۔وہ خاموشی سے روم میں آتا،کچھ دیر صوفے پر بیٹھ کر اسکا انتظار کرتا رہا،مگر جب وہ باہر نہیں آئی تو وہ روم سے ہی نکل گیا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’’بیٹا مقدس ٹھیک ہے؟‘‘وہ سب بھی جلدی واپس آگئے تھے۔ابتسام صاحب نے عیسیٰ کو دیکھ سوالیہ لہجے میں پوچھا تھا۔ ’’’جی ٹھیک ہے،بس تھوڑا ڈسٹرب ہوگئی تھی۔۔بٹ ناؤ شی از فائن!‘‘وہ مطئن لہجے میں بولا۔۔ ’’’ٹھیک ہے آپ دونوں آرام کریں۔۔آج تھک گئے ہونگے۔‘‘ سب اپنے کمروں کی جانب بڑھ گئے تھے،جبکہ عیسیٰ سیڑھیاں پھلانگتا پول آئیریا کی جانب آگیا تھا،تاکہ کھلی فضا میں سیگریٹ پی سکے۔۔وہ سیگریٹ پینے کا عادی ہر گز نہیں تھا،مگر مہینے دو میں اسے فلیور سیگریٹ کی ضرورت پڑ ہی جاتی تھی۔۔ جاری ہے
