Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode no 11
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 29/04/2026
29 Views
Episode no 11
نشست سنبهال گئی ۔۔۔جبکہ یوسف صاحب اسکے انداز پر بیچ و تاب کھاتے رہ گئے تھے ۔۔مقدس کے رویہ پر انکی پیشانی پر بل نمودار ہوئے تھے۔. ’’بیٹا یہ چھوٹا سا گفٹ آپ دونوں کے لئے !‘‘ انکی زوجہ نے گفٹ کی صورت ایک جیولری باكس انکی جانب بڑھایا تھا ۔۔جیسے عیسی کے اشارے پر وہ ناچار تھام چکی تھی ۔۔ٹھیک ہے وہ عبداللہ خاندان کی بہو کی حثیت سے یہ تحفہ لازماً قبول کرسکتی تھی۔۔۔ ’’شکریہ انکل !"اسے گھور کر عیسی نے ہی شکریہ كلمات ادا کئے تھے۔۔۔جبکہ اب وہ لوگ اسٹیج سے اتر گئے تھے۔۔ ’’تمھیں ذرا تمیز نہیں ہے ۔۔"بیٹھتے ساتھ ہی لبوں پر مسکراہٹ سجائے وہ خفا ہوا تھا۔جبکہ وہ اعتماد سے گردن اٹھائے بیٹھی،اسکی خفا آواز نظر آنداز کر گئی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صبح کا روشن اُجالا طلوع ہوتے ہی عبداللہ ہاؤس کے مکینوں میں ایک برق سی دوڑ گئی تھی۔۔آج مقدس اور عیسیٰ سمیت عبداللہ ہاؤس کے مکین بھی ابدال عبداللہ کے یہاں دعوت پر مدعو تھے۔کیونکہ کچھ دن بعد ہی یوسف صاحب نے اپنی فیملی کے ساتھ انگلینڈ واپس چلے جانا تھا،اور پھر واپسی چھ سے آٹھ ماہ میں ہی ممکن تھی۔اسی لئے وہ یہ دعوت بھگتا کر جانے کا ارادہ رکھتے تھے۔۔ ’’مقدس!‘‘وہ بیڈ پر بیٹھی انگلیاں مسل رہی تھی،جبھی عیسیٰ اسے پکارتا ہوا روم میں داخل ہوا۔۔ ’’ہمم!وہ چونکی۔عیسیٰ نے اسے یونہی بیٹھا دیکھ گھورا۔۔ ’محترمہ!میرے خیال سے ماما نے آپ کو صبح ہی آگاہ کر دیا تھا کہ شام میں ہمیں دعوت پر جانا ہے،اور آپ محترمہ ابھی تک گھر کے کپڑوں میں گھوم رہی ہیں۔‘‘وہ ذرا خفا ہوا۔ ’مجھے نہیں جانا عیسیٰ!‘‘وہ پہلی بار االتجائیہ لہجے میں کچھ بول رہی تھی۔ ’’اوہ کم آن!ضروری نہیں ہے کہ تم اس گھر کو اپنے باپ کا گھر سمجھ کر ہی جاؤگی، تمھارا واسطہ ہمارے گھر خاندان سے ہے،تو بہو کی حثیت سے تو تمھیں جانا ہی ہوگا۔‘‘وہ باور کراتے لہجے میں گویا ہوا تھا۔ ’’بہو!کیوں بیوی مان لیا ہے مجھے ؟‘‘وہ استہزائیہ مسکرائی۔ ’’فضول بکواس نہ کرو،میں نے پہلے بھی وارن کیا تھا،آج پھر اپنی بات دہرادیتا ہوں۔کہ اس کمرے کی باتیں یہیں تک محدود رہنی چاہئے مقدس۔۔‘‘وہ سنجیدہ لب و لہجے میں گویا ہوا تو اسے چپی سی لگی تھی۔۔ ’’اب اُٹھو جلدی!چینج کر کہ نیچے پہنچو،سب انتظار کر رہے ہیں۔‘‘وہ حکم دیتا خود ڈریسنگ رُوم کی جانب بڑھا تھا،وہ خود تو صبح سے غائب تھا،اور اب آتے ہی اس پر غصہٰ اُتارنا شروع کر چکا تھا۔مقدس نے کڑھ کر سوچا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عیسیٰ گھر میں زیادہ تر شلوار قمیض ہی پہننے کا عادی تھا،بادامی رنگ شلوار سوٹ میں ملبوس ،ہاتھ میں رولیکس کی گھڑی ڈالتا،وہ بالوں کو سیٹنگ اسپرے سے سیٹ کرتا خود پر ایک طائرانہ نگاہ گھما رہا تھا،جبھی کھٹکے کی آواز کے ساتھ مقدس بھی ڈریسنگ روم سے باہر آئی تھی،عیسیٰ کی بے ساختہ نگاہیں اسکے حسین سراپے سے الجھ سی گئی تھیں۔۔ وہ بھی ہلکے بادامی رنگ کے اسٹائلش سے گاؤن میں ملبوس تھی، جس پر باریک سا کام تھا،اس نفیس جوڑے میں اسکی شخصیت مزید کھل کر آئی تھی۔۔۔ دوپٹہ ایک کندھے پر ٹکا تھا، لمبے سلکی بال پشت پر کھلے چھوڑ رکھے تھے، ہاتھوں میں ا سکی ماں کے دیے خاندان جڑاؤ کنگن پہن رکھے تھے۔نیچرل میک اپ لک میں اسکا سڈول سراپا عیسیٰ کو پوری طرح اپنی جانب متوجہ کر چکا تھا۔۔ ۔ مقدس نے اسے یوں ٹرانس میں دیکھتا پاکر ذرا جھجھک کر نظریں جھکائیں، مگر رخساروں کی ہلکی سی لالی چھپ نہ سکی۔ ’’چلیں!میں ریڈی ہوں۔۔‘‘ایک لٹ کو کان کے پیچھے اڑستی،وہ اچھی خاصی پزل ہوئی تھی،وہ گڑبڑا کر ہوش میں آیا۔۔ ’’ہاں چلو!اور یہ رات میں بال کیوں چڑیلوں کی طرح پھیلا رکھے ہیں،سلیقے سے جوڑا بناؤ انکا،آگر تمھیں ہئیر فال ہوا تو ،سارے بال کھانے کا مزاح کرکرا کر دیں گے۔‘‘اپنی بے خودی کو چھپانے کو وہ الٹا مقدس کی تیاری پر چوٹ کرنے لگا تھا۔ ’’الحمداللہ میرے بال بالکل صحت مند ہیں۔‘اس نے دانت کچکچائے۔ ’’ہاں ہاں زیادہ بہانے نہ بناؤ۔جوڑا بناؤ جلدی۔۔۔اور یہ جیولری تو پہنو کچھ،وہاں چچی سے باتیں سننے کا ارادہ ہے کیا،تمھارے والد صاحب کی دوسری بیوی اچھی خاصی روڈ نیچر کی خاتون ہیں۔۔‘‘اس کے ذکر پر مقدس کو چڑ ہوئی تھی۔ ’’میں نہیں پہن رہی،بس ایسے ہی ٹھیک ہے۔‘‘ وہ زچ ہوئی۔ ’’اوکے فائن!جیسے تمھاری مرضی!خیر یہ بال سمیٹو،اور آئندہ میں تمھارے بال یوں کھلے ہوئے نہ دیکھوں۔‘‘وہ تنبیہ لہجے میں گویا ہوا۔ جبکہ وہ اسے ایک نظر دیکھ،اسکی لہجے میں ناگواری محسوس کر بالوں کا میسی بن بنا گئی۔۔ وہ اس وقت شاہانہ طرز کے خوبصورت سے ڈرائینگ روم میں موجود تھے،مقدس عیسیٰ کے ساتھ ایک ہی صوفے پر بیٹھی،خود کو اچھا خاصہ انکمفرٹیبل فیل کر رہی تھی،گھر کے باقی افراد ابھی تک نہیں آئے تھے۔انھیں ابدال عبداللہ نے ہی ریسیو کیا تھا۔۔ ’’’مقدس بیٹا!گھر میں ایڈجسٹ تو ہوگی ہیں نا آپ؟‘‘اسے خاموش دیکھ ،انھونے بات میں حصہٰ ڈالا۔۔ ’’’جی!‘‘وہ ناگوار لہجے میں مختصر سا جواب دیتی خاموش رہ گئی۔ ’’’السلام علیکم!سوری خواتین و خضرات آپ کو انتظار کرنا پڑا،دراصل ہمیشہ کی طرح ہماری ممی اور ڈیڈی نے ریڈی ہونے میں دیر کی ہے۔۔‘‘ایک خوش شکل نواجون کے پیچھے پیچھے دو اسکے ہم عمر لڑکے، اور مسٹر یوسف اور مسز یوسف ڈرائینگ روم میں انٹر ہوئے تھے۔۔ ’’’السلام علیکم عیسیٰ بھائی!اینڈ مسز عیسی!‘‘مقدس بہت حیرانی سے اس لڑکے کو دیکھ رہی تھی،جسکا چہرہ بالکل اسکے باپ جیسا تھا۔۔ ’’’کیسے ہو چیمپ!‘‘عیسیٰ مسکرا کر کھڑا ہوتا اسکے گلے لگا تھا۔ ’’’میں اللہ کا کرم!بھابھی کو شاید ہم سے مل کر خوشی نہیں ہوئی۔۔‘‘سب بڑوں کو مشترکہ سلام کرتا اب وہ مقدس کی جانب متوجہ تھا،جبکہ اب اسکے باقی دو بھائیوں نے بھی انھیں جوائن کیا تھا۔ ’’’نہیں ایسا۔۔۔نہیں۔۔‘‘مقدس سب بڑوں کی نگاہیں خود پر ٹکی دیکھ فوراً سنبھلی تھی،جبکہ اسکا باپ اسے بے تاثر نگاہوں سے ہی دیکھ رہا تھا۔۔ ’’’تو پھر تھورا مسکرائیں۔۔آئی ایم زین یوسف،اینڈ دس ا از مائی ایلڈر برادر جنید،اینڈ مائی ٹوئین برادر حمزہ۔۔۔‘‘اس نے مسکرا کر تعارف کراتے،اسکی جانب ہاتھ بڑھایا تھا۔۔مقدس کتنی ہی دیر بے یقینی سے ان کے مسکراتے چہرے دیکھتی رہی تھی۔اس دنیا میں اسکے تین بھائی بھی تھے،اسے آج تک پتہ ہی نہ چل سکا تھا۔۔عیسیٰ نے اسے ہونق بنا دیکھ ہاتھ پکڑ کر انکے ہاتھ میں دیا تھا۔۔ ’’’’عیسیٰ بھائی آپ کی مسز کو اسٹیچو ہونے کی عاد ت ہے کیا!‘‘دوسرا والا عیسیٰ سے بغل گیر ہوتا شرارتً بولا۔۔ ’’ایکچولی میری مسز آپ دونوں ایک شکل کے بھوتوں کو دیکھ کر تھوڑا سا ڈر گئیں ہیں۔‘‘مقدس نے آنکھیں جھپک کر ،نمی کو پیچھے دھکیلا تھا،اور اپنے تاثرات پر قابو کیا تھا۔۔۔جبکہ سب بڑے سنجیدہ نظروں سے ان کو دیکھ رہے تھے،وہ چاروں آپس میں بہن بھائی تھے یہ بات مقدس کے علاوہ وہ تینوں نہیں جانتے تھے،مگر وہ جانتی تھی،اسکی آنکھوں میں رقم ازیت کسی سے چھپی ہوئی ہر گز نہیں تھی۔۔ ’’’کیسی ہیں بیٹا!‘‘اس بار بے نیازی سے کھڑی مسکراتی مسز یوسف آگے بڑھی تھیں،اور اسکو گلے سے لگایا تھا،مقدس کو انکے گلے لگ کر کوئی خوشی نہیں ہوئی تھی۔۔یہی وہ عورت تھی،اور اسکی خوشیاں،جس کے باعث مقدس کے وجود کو ہمیشہ کسی گناہ کی مانند سب سے چھپایا گیا تھا،آگر مقابل عورت کو اسکی حقیقت کا علم ہوجاتا تو شاید وہ اسے دھکے مار کر یہاں سے نکالنے میں اک لمحہ نہیں لگاتی۔۔۔ ’’’خوش رہو!‘‘یوسف صاحب نے آگے بڑھ کر اسکے سر پر ہاتھ رکھا تھا۔۔ ’’’چلو بھئی بچوں،بہن کو لے کر جاؤ گھر دکھاؤ،ہم بڑے یہاں گپے لگا لیتے ہیں۔۔‘‘ ابدال
