Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode no 11
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 29/04/2026
29 Views
Episode no 11
دو پل کو ٹھہرا عشق کا کارواں ازقلم ہما قریشی قسط نمبر 11 رات کا پرسکون سماں تھا۔ جبکہ سمندر کے قریب واقع فائیو اسٹار ہوٹل بھرپور رو شنیوں سے جگمگا رہا تھا، یہ عیسیٰ عبداللہ کے ولیمے کی تقریب تھی،جس میں شہر بھر کی اثر و ثوق والی شخصیات کو مدعو کیا گیا تھا۔انڈسٹری کے بھی کافی لوگ جمع تھے۔۔ہوٹل سے باہر مہنگی گاڑیوں کی لمبی قطاریں تھیں،انھیں خیر مقدم کرنے کے لئے گھر کے لوگ انٹرنس پر موجود تھے۔ یہ تقریب جس طرز پر اورگنائز کی گئی تھی،یقیناً سوشل میڈیا پر تصاویریں جاتے ہی دھوم مچ جانی تھی۔ بیک گراؤنڈ میں دھیمی میوزک کی دھنیں، ماحول کو مزید پرکشش بنا رہی تھیں۔ مقدس، جو آج ولیمے کی دلہن بنی ہوئی تھی، وہ اس وقت ہلکے سنہری رنگ کے مہنگے بریڈل گاؤن میں ملبوس تھی، جس پر کامدار جالی اور چمکتے نگینے جڑے تھے۔ گاؤن کا لمبا ٹریل ہال کے فرش کو چھوتا ہوا پیچھے کو تھا، جبکہ اس کے بال ہلکی سیوی وِیوز میں کندھوں پر بکھرے تھے۔ ڈائمنڈز کے نفیس زیورات، کانوں میں چمکتے اسٹڈز، نیل پالش میں سجے نازک ہاتھ,وہ کسی شہزادی سے کم نہیں لگ رہی تھی۔ اس کا میک اپ انتہائی نفاست سے کیا گیا تھا، گلابی شیڈ سے سجے لب، بڑی بڑی آنکھوں میں گھنی پلکیں، اور چہرے پر وہ دلہن کا سا روپ جو ہر کسی کی توجہ اپنی طرف کھینچ رہا تھا۔ ہال میں ہر کوئی ان کی طرف متوجہ تھا، کچھ تعریفوں میں مصروف تھے، کچھ اندر ہی اندر رشک کر رہے تھے۔ میڈیا کے نمائندے دلہن دلہا کا انٹرویو لینے کے لئے بے تاب نظر آرہے تھے۔آگر نظر اسٹیج پر گھمائی جائے تو بلیک ڈنر سوٹ میں ملبوس ہیڈسم سا عیسیٰ اپنی خوبرو شخصیت سےلاپرواہ،شرمائی گھبرائی سی مقدس کی کمر میں ہاتھ ڈالے فوٹو شوٹ کرانے میں مصروف تھا۔جو اس وقت ٹیل گھیر دار ل رنگ کی میکسی زیب تن کئے عیسیٰ عبداللہ کے برابر میں کھڑی بھرپور ٹکر دے رہی تھی۔دونوں کی جوڑی کمال کی تھی۔ ہر نگاہ ان پر ہی ٹھہری ہوئی تھی۔آج کی سرخیوں میں بس انہی کی شادی چرچا میں رہی تھی۔ ’’میرا ہاتھ چھوڑیں!‘‘ان دونوں کے کلوز اپس بن رہے تھے،عیسیٰ اسکے چہرے پر نزدیک چہرہ کئے اسکی حالت سے خظ اٹھا رہا تھا۔ ’’کیوں بیگم!ابھی تو ہماری کافی تصویریں کیپچر ہونی ہیں،تھوڑا رومانٹک پوز تو دینے دو۔‘‘عیسیٰ اسے تپانے کی غرض سے ایک لمحے میں اسکا ہاتھ گھما کر اسکی پشت اپنے سینے سے لگاتا کان میں سرگوشیانہ بولا،اسٹیج کے ارد گرد کھڑے لوگوں میں ہوٹنگ اسٹارٹ ہوگئی تھی۔ ’’یہ کیا بدتمیزی ہے،سب ہمیں دیکھ رہے ہیں۔‘‘وہ گھر کے بزرگوں کی موجودگی کے باعث شرمندہ ہوئی،عیسیٰ کو بھی یکدم اپنی بے ساختگی کا احساس ہوا تھا،اور وہ دھیرے سے فاصلہ قائم کرتا پیچھے ہوا۔۔مقدس نے رکا ہوا سانس فضا میں خارج کیا تھا۔ ’’حد ہوتی ہے بدتمیزی کی،میں ذرا آپ کے ساتھ تصاویریں بنوانے کیا کھڑی ہو گئی،آپ تو فری ہی ہونے لگے ہیں۔۔‘‘مقدس جھلبلا کر بولی تو عیسیٰ ارد گرد لووگوں کی موجودگی کے باعث خاموش رہا تھا۔جبھی اس کے مینجر نے کان میں آکر میڈیا اور انٹرویوز کا کہا تھا تو وہ سر ہلا کر اجازت دے چکا تھا۔۔وہ لوگ کافی دیر سے ویٹ کر رہے تھے اور اب مزید انتظار کرنا ٹھیک نہیں تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’کیسے ہیں عیسیٰ صاحب!سب سے پہلے تو شادی کی بہت بہت مبارک باد آپ کو۔۔‘‘یہ مارننگ شو ہوسٹ ،اور اسکی بہت اچھی دوست صنم تھی،جو میڈیا والوں کے ساتھ خود بھی اسٹیج پر چلی آئی تھی۔ ’’اللہ کا شکر!تھینکس فار کمنگ صنم!‘‘وہ مسکرا کر بولا،جبکہ اب وہ مقدس سے ملا رہی تھی۔ ’’عیسیٰ آپ نے اتنی اچانک سے شادی کرلی۔ابھی تو آپ باہر سے واپس آئے تھے اور پاکستان آتے ہی اپنے فینز کو اتنا بڑا سرپرائز دے دیا،یہ سب اچانک ہوا یا پہلے سے پلین تھا۔‘‘ایک رپورٹر کے سوال پر وہ دھیرے سے مسکرایا۔ ’’زندگی میں بیوی،بس اسٹیشن پر بس کبھی بھی کسی بھی وقت آسکتے ہیں۔یہ سب پری پلینڈ نہیں ہوتا۔‘‘وہ ہولے سے مسکرایا۔ ’’تو عیسیٰ آپ کی بھابھی سے پہلی ملاقات کہاں ہوئی تھی؟‘‘اس سوال پر مقدس کواچھو لگا تھا، جبکہ عیسیٰ نے گلا کھنکھارا۔۔ ’’مقدس میری کزن ہیں۔۔‘‘وہ مختصر سا گویا ہوا۔۔ ’’اوہ یعنی کزن میرج! جبھی تو۔۔ویسے وائف بہت پیاری ہیں عیسیٰ تمھاری۔‘‘اس بار میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ صنم نے بھی مداخلت کی۔ ’’تو ہم کسی سے کم ہے کیا؟‘‘اس نے شرارت سے بھونیں اٹھائے۔ ’’بالکل نہیں،کمال کی جوڑی ہے ہمارے ہیر رانجھا کی۔‘‘مقدس نے بمشکل کھانسی روکی تھی۔ ’’ویسے آپ کہتے ہیں کہ شادی ایک بہت بڑا رسک ہے تو پھر آپ نے یہ رسک اتنا اچانک کیسے لے لیا؟‘‘ایک اور سوال داغا گیا تھا۔ ’’زندگی میں نو رسک نو گیم،بہت رسک لئے اس بار نیا تجربہ کرنے کی ٹھان لی تھی۔‘‘سب مسکرا دئے، ’’ویسے بھابھی کے ساتھ نکاح کے بعد وہ کونسی تبدیلی میں جو فوری محسوس ہوگئی تھی۔‘‘اس بار صنم نے جان کے چھیڑا تھا۔ ’’یہی کہ اب موصوفہ زندگی کا حصہٰ بن گئی ہیں،اپنا تو کوئی اپینین رہا نہیں،اب بس انہی کی پرمیشن چلے گی۔‘‘مقدس بے ہوش ہوتے ہوتے بچی تھی۔ ویسے عیسیٰ اتنے کم وقت میں شادی کی تیاری ہوئی ہیں۔ تقریب اتنی شاندار ہے،کہ آپ کی شادی برسوں تک مختلف حلقوں میں یاد رکھے جانے والی ہے تو آپ اس کا کریڈٹ کس کو دیں گے؟بھابھی کو یا خود کو۔کیونکہ انکل بتا رہے تھے سارے انتظامات آپ دونوں نے خود ہی کئے ہیں۔ ’’کریڈٹ؟ ہاہاہا! بھائی، شادی میں شوہر کو کریڈٹ نہیں، بس "ڈیبٹ" ملتا ہے… وہ بھی بینک اکاؤنٹ سے!‘‘سب کا ہی قہقہہ بے ساختہ تھا۔ ’’مسز عیسیٰ !ہمارے لیجنڈ کے وائف بن کر کیسا محسوس ہورہا ہے؟‘‘اس بار روپورٹرز اسکی جانب گھومے۔ ’’اللہ کا شکر ہے۔بڑوں کا فیصلہ ہے یقیناً ہمارے حق میں بہتر ثابت ہوگا۔وہ سچے دل سے بولی تھی۔ ’’ان شاء اللہ!اللہ پاک آپ دونوں کی جوڑی بنائے رکھے۔ایک بار پھر شادی کی بہت بہت مبارک ہو۔۔وقت دینے کا شکریہ۔‘‘پانچ سے چھے منٹ کے مختصر سے انٹرویو کے بعد وہ سب اسٹیج سے اُتر گئے تھے۔جبکہ عیسیٰ اور مقدس نے سکھ کا سانس لیا تھا۔کھانے کا دور چل نکلا تھا۔سب سیٹس پر موجود تھے۔اب وہ دونوں ہی تھے جو ایک دوسرے کو نگاہون کی نگاہوں میں گھور رہے تھے۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ولیمہ بہت بہت مبارک ہو برو !"یہ اسکا دوست یاور تھا ۔۔عیسی نے مسکرا کر اسے سینے سے لگایا ۔۔ ’’’ولیمے کی بہت مبارک بھابھی !" اب وہ ذراسر کو خم دے کر مبارک باد دے رہا تھا۔۔ ’’’شکریہ بھائی "وہ مسکرائی ۔۔۔جبکہ عیسی اب واپس سے بیٹھ گیا تھا۔۔ ’’’ابھی کچھ دیر میں یوسف انکل اپنی وائف اور بیٹوں کے ساتھ اسٹیج پر آئینگے تو ان کے سامنے زیادہ اور ریکٹ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔تم انهیں اپنے سسر کی نظر سے ہی دیکھنا اور ذرا احترام کر لینا !"وہ خاموش رہی۔۔ جبھی سامنے سے یوسف صاحب آتے دکھائی دیے ۔۔عیسی انھیں دیکھ کر فوری کھڑا ہوگیا تھا جبھی ناچار مقدس کو بھی نشست چھوڑنی پڑ گئی تھی۔۔ ’’’بہت مبارک ہو آپ دونوں بچوں کو ۔۔اللّه جوڑی سلامت رکھے ۔آمین ۔۔"یہ یوسف صاحب کی بیوی آمنہ تھیں۔ ’’’شکریہ انٹی ! یوسف صاحب نے بغور اپنی اكلوتی بیٹی کو دیکھا تھا۔اس کے بعد اللّه نے انھیں تین بیٹوں کی نعمت سے نوازہ تھا ۔۔مگر رحمت کی کوئی مہر بانی نہیں ہوئی تھی۔۔" ’’’کیسی ہیں بیٹا !"انھونے پہل کی۔ ’’اللّه کا شکر "وہ اکھڑ لہجے میں بولتی ۔۔۔اپنی
