Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode no 10
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 28/04/2026
31 Views
Episode no 10
معصومیت تھی،مگر نگاہوں کے سامنے بہت سے مناظر چلنے لگے تھے۔۔ ’’’یہ لڑکی میرے حواسوں پر سوار ہو رہی ہے۔‘‘وہ کروٹ کے بل ہوتا سر جھٹک گیا۔لیکن دماغ ہنو ز اسی کو سوچنے میں مشغو ل تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عیسیٰ عبداللہ کی خواب گاہ کی قد آور کھڑکی کی درزوں سے چھن کر آتی سنہری دھوپ کی روشنی نے تاریکی میں ڈوبے کمرے میں ہلکا سا اجالا بکھیر دیا تھا۔ صبح کی پرسوز اور پرسکون خاموشی میں پرندوں کی مدھم چہچہاہٹ سماعتوں کو بھلی سی معلوم دے رہی تھی، جیسے رات کے پرسکون ماحول پر روشن اُجالے نے دھیرے سے دستک دی ہو۔ آنکھوں پر پڑتی روشنی کے باعث بستر پر ہلکی سی جنبش ہوئی تھی۔ مقدس کی پلکیں دھیرے دھیرے لرزیں، پھر ایک لمحے بعد، الجھن زدہ سی آنکھیں نیم وا ہوئیں۔ نرم سنہری کرنیں اس کی بند آنکھوں پر پڑیں اور وہ آہستہ سے کروٹ لے کر چہرہ دوسری طرف کر گئی۔۔ اس نے گہری سانس لی، کمفرٹر کا ایک کونہ اس کے کندھے سے سرک کر بستر پر گر گیا تھا۔ روشنی اب اس کے چہرے پر مکمل طور پر قابض ہوچکی تھی، مگر وہ کسملندی سے کچھ پل اور آنکھیں موندے پڑی رہی۔۔ چہرے پر محسوس ہوتی ٹھنڈی ہوا میں ہلکی سی تازگی تھی، شاید کھِلے ہوئے پھولوں کی مہک یا کسی خوابیدہ لمحے کا سحر جو ابھی پوری طرح ٹوٹا نہ تھا۔ مقدس نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں، چند لمحے چھت کو گھورا، پھر نظریں گھما کر کھڑکی کی طرف دیکھا جہاں سورج پوری آب و تاب کے ساتھ باہر کی دنیا کو جگا چکا تھا۔ مقدس نے پلکیں جھپکیں، خواب اور حقیقت کے بیچ کچھ لمحے معلق رہیں، پھر آہستہ سے کروٹ لی۔ وہ بے ساختہ مسکرائی، جیسے کسی مانوس احساس کو محسوس کر رہی ہو۔ مگر جیسے ہی نظریں بستر کے دوسرے کنارے پر گئیں، مسکراہٹ ایک ہلکی سی الجھن میں بدل گئی۔ بستر خالی تھا۔اسے یاد تھا رات کو عیسیٰ بیڈ پر سونے کے لئے باضد تھا،تو کیا آج وہ پھر صوفے پر سو گیا تھا۔۔ اس نے ہلکی سی تیوری چڑھائی اور نظریں پورے کمرے میں گھمائیں۔ سامنے پڑے صوفے پر نظر پڑی، مگر وہ بھی خالی تھا۔ وہ حیران ہوئی ۔ آہستہ سے بستر سے نیچے اتری۔ قدم بے اختیار صوفے کی طرف بڑھے، مگر جیسے ہی نظریں نیچے جھکیں، وہ وہیں ٹھٹک کر رک گئی۔ سامنے ہی موٹی سی چادر اُوڑھے عیسیٰ عبداللہ قالین پر سو رہا تھا! اس کا لمبا قد قالین پر بے ترتیبی سے پھیلا ہوا تھا، ایک بازو سر کے نیچے دبائے، دوسرا پہلو میں گرا ہوا تھا۔ مقدس حیرانی سے پلکیں جھپکنے لگی۔ وہ بستر چھوڑ کر زمین پر کیوں سویا؟کیا اسے اس کے ساتھ ،اپنی بیوی کے ساتھ بیڈ شئیر کرنا سرے سے گوارہ ہی نہیں تھا کہ اسکے پہلو میں سونے کے بجائے اس نے زمین پر رات گزارنے کو فوقیت دی تھی۔۔۔وہ تو جان کر اسے تنگ کرنے کی غرض سے بیڈ پر ہی سو گئی تھئ۔۔کیونکہ وہ دل سے اس رشتے کو نبھانا چاہتی تھی مگر۔۔۔ ’’’کیا میں واقعی میں اس رشتے کی خاطر اپنی عزت نفس قربان کر رہی ہوں؟‘‘ یہ سوال اس کے ذہن میں تیزی سے ابھرا تھا، مگر اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور سوچتی، عیسیٰ نے ذرا کسمسا کر کروٹ بدلی تھی،کیونکہ اب روشن کرنیں اس کے چہرے پر بھی پڑنے لگی تھیں۔۔ مقدس نے بے اختیار ایک لمحے کے لیے اس کے پرسکون چہرے کو دیکھا۔کشادہ پیشانی پر بال بکھرے ہوئے تھے، سانسیں ہموار چل رہی تھیں، وہ سوتے ہوئے تو مزید حسین لگتا تھا۔۔ وہ کچھ پل وہیں کھڑی رہی، پھر الجھن سے لب کاٹتی ہوئی زمین پر بیٹھ گئی، نظریں اب بھی اس پر جمی ہوئی تھیں۔ ’’عیسیٰ!‘‘وہ اس کے قریب دوزانوں بیٹھی بڑئ بے چینی سےا سے پکار رہی تھی۔ ’’’عیسیٰ!‘‘وہ جب یونہی سوتا رہا تو مقدس نے ذرا جھنجھوڑ سا دیا تھا،وہ ہڑبڑا کر بیدار ہوا۔۔ ’’کیا ہوا؟از ایوری تھنگ از الرائٹ؟ْتم ایسے کیوں بیٹھی ہو؟‘‘وہ اس کو بیٹھا دیکھ پریشان سا اٹھ بیٹھا تھا۔۔ ’’یہاں کیوں سو رہے ہو؟‘‘وہ فکر مندانہ لہجے میں استفساریہ گویا ہوئی تو عیسیٰ نے تاسف بھرے آنداز میں اسکی جانب دیکھا تھا۔ ’’یہ مذاق تھا؟‘‘وہ سوال کر رہا تھا۔ ’’نہیں!مگر تمھیں اس طرح زمین پر رات نہیں گزارنی چاہئے تھی۔میں صرف مذاق کر رہی تھی،تم مجھے اٹھا دیتے۔۔مجھے پتہ ہی نہیں لگا کہ کب میری آنکھ لب لگی۔‘‘اب وہ بہانہ تراش رہی تھی۔ ’’زیادہ اچھا بننے کا ڈرامہ نہ کرو ڈرامہ کوئین اور اٹھو یہاں سے،اس سے قبل کے گھر کا کوئی فرد یہاں آجائے۔‘‘ عیسیٰ نے ایک بڑی سی جمائی لیتے ساتھ اسے بھی جھڑک دیا تھا،جس کی آنکھوں میں عجیب سی بے چینی تھی۔ ’’عیسیٰ میں!‘‘ اس نے کچھ کہنا چاہا۔ جلدی اٹھ جاؤ! تمھیں تیاربھی ہونا ہے،ناشتہ کرلو ،پھر سارا دن ریسٹ کرنے کا ٹائم نہیں ملے گا۔۔‘‘وہ الٹے ہی حکم سناتا واشروم میں گھس گیا تھا،جبکہ وہ اجنبی نظروں سے دیکھتی آنکھوں میں چمکتی نمی چھپاتی خاموش رہ گئی تھی۔۔ جاری ہے
