Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode no 10
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 28/04/2026
31 Views
Episode no 10
لیٹ گئی ہو؟‘‘عیسیٰ نے اسے اپنے بیڈ پر دیکھ غصے سے کہا۔ ’’’آپ کا بستر؟‘‘ اس نے حیرت سے پوچھا۔ ’’یار میں بحث کے موڈ میں نہیں ہوں۔اپنا پلو لو،اور صوفے پر تشریف لے جاؤ۔‘‘وہ عاجزانہ لہجے میں بولا تھا۔ ’’مجھے صوفے پر نیند نہیں آئے گی۔‘‘وہ ازلی بے نیازی سے بولی،عیسیٰ نے ضبط سے اسکی جانب دیکھا تھا۔ ’’میں مذاق کے موڈ میں نہیں ہوں،مائی سوئیٹ وائفی!‘‘وہ شریں لہجے میں بولنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔ ’’میں بھی آدھی رات کو کسی قسم کے فضول سے مذاق کے موڈ مین نہیں ہوں ڈئیر ہزبینڈ!‘‘وہ بھی چہرے پر مسکراہٹ سجائے گویا ہوئی۔ ‘‘‘اوہ گاڈ!‘‘وہ سر تھام گیا! ’’’تم چاہتی ہو کہ میں اس دو فٹ کے صوفے پر ایڈجسٹ ہوں؟‘‘ٓس نے غصےٰ سے گھورا۔ ’’’صبح کوئی بڑے سائز کا صوفہ منگوا لیجئے گا۔بلکہ ایک کام کریں اپنا بیڈ اپنے پاس رکھ لیں،مجھے ایک سنگل بیڈ!‘‘اس کے لفظ لبوں میں ادھورے ہی تھے،جب دروازے پر دستک ہوئی تھی۔ ’’آجائیں!‘‘سد شکر تھا کہ مقدس میڈم ابھی تک بیٖڈ پر ہی تھیں۔ عیسیٰ بھائی!وہ گرینڈ پا نے آپ کو اسٹڈی میں بلوایا ہے۔‘‘ملازمہ انکا پیغام پہنچاتی وہاں سے چلی گئی تھی،جبکہ وہ اسےا یک تیز نگاہ سے نوازتا وہاں سے نکل آیا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’’السلام علیکم!‘‘وہ اسٹڈی میں داخل ہوا تو وہاں ابتسام صاحب کے علاوہ ابدال صاحب پہلے سے موجود تھے۔ ’’’وعلیکم السلام!آؤ میرے بچے!‘‘وہ شفقت بھرے لہجے میں بولے تو وہ مسکرایا۔ ’’’آپ مقدس کے ساتھ خوش تو ہیں نا!‘‘وہ نرمی سے پوچھ رہے تھے،اب وہ انکی پوتی کی ان سے بھلا کیا برائی کرتا۔ ’’’’آپ بتائئے اتنی رات کو یہاں کیسے؟‘‘ان کے بنگلوز ایک دیوار کے فرق سے ساتھ ساتھ ہی تھے۔ ’’’بس بیٹا!مقدس کی طرف سے فکر لگی ہوئی تھی،وہ تو ہم سے کوئی تعلق ہی نہیں رکھنا چاہتی،بات تک نہیں کرتی ۔۔‘‘ان کے لہجے میں رنج در آ یا تھا۔عیسیٰ کو افسوس ہوا،وہ لڑکی واقعی بہت ضدی تھی۔ ’’عیسیٰ تمھارے چھوٹے دادا تم سے کچھ بات کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ابتسام صاحب کے حد درجہ سنجیدہ لہجے پر انھیں کھٹکا سا ہوا تھا۔ ’’’بیٹا تم تو جانتے ہو کہ یوسف کی اور مقدس کی ماں کی زیادہ نبھ نہ سکی،اور انھونے علیحدگی کا فیصلہ کرلیا۔‘‘وہ تہمید باند رہے تھے،البتہ وہ خاموش رہا تھا۔ ’’’یوسف اپنی دوسری بیوی اور بچوں کے ساتھ اپنی زندگی میں خوش ہے،اب میں انھیں مقد س کے بارے میں بتا کر انکی زندگیوں میں بھو نچال نہیں لانا چاہتا۔‘‘عیسیٰ نے سمجھ کر سر ہلایا۔ ’’’مقدس کا تعارف عیسیٰ عبداللہ کی بیوی کے طور پر رہے یہی بہتر ہے۔‘‘ایک لمحے کے لئے عیسیٰ کی تیوری چڑھی تھی،مگر وہ بدستور خاموش رہا۔ ’’’یہ مقدس کے حصےٰ کی پراپرٹی کے کاغذات ہیں،وہ تو نہیں لے گی،مگر میں تمھارے حوالے کرنا چاہتا ہوں۔‘‘انھیں لگتا تھا کہ یہ سب کر کہ وہ مقدس کا اپنا خون ہونے کا حق ادا کر دیں گے۔ ’’’معذرت چھوٹے دادا مگر جب مقدس خود نہیں لینا چاہتی تو اسکی پراپرٹی میں کس حق سے لے سکتا ہوں،اور آپ نے صحیح کہا اس کے لئے میری شناخت ہی کافی ہے تو میرا جو کچھ ہے اب وہ میری بیوی کا ہے تو میرا نہیں خیال کہ مقدس کو ان سب بے بنیاد چیزوں کی ضرورت رہی ہوگی،ہاں شاید اسے ان چیزوں کی ضرورت اس وقت رہی ہو ،جب اسکا نام میرے نام کے ساتھ نہیں جڑا تھا،یا شاید تب،جب اس نے زندگی کا ایک حصہٰ غیروں کے گھر میں عام سے آنداز میں گزار دیا جبکہ وہ عبداللہ خاندان کا خون تھی،ابدال عبداللہ کی اکلوتی پوتی۔۔۔مگر خیر۔۔۔اب اس کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔‘‘عیسیٰ کے لہجے کی مضبوطی پر ابتسام صاحب کے لبوں پر ایک محظوظ کن مسکراہٹ کھل گئی تھی،انھیں اپنے فیصلے پر اب کوئی پچھتاؤ یا گلٹ باقی نہیں رہا تھا۔ ’’مگر بیٹا!‘‘ ’’’پلیز دادا ابو!میں یہ نہیں لے سکتا۔۔۔‘‘وہ سبھاؤ سے انکار کر چکا تھا تو وہ خاموش رہ گئے۔ ’’’عیسیٰ بیٹا جاؤ تم! صبح جلدی اٹھنا ہے۔مقدس آ پ کا انتظار کر رہی ہونگی۔‘‘انھونے اسے منظر سے ہٹانا چاہا جو سر ہلاتا وہاں سے نکل آیا تھا۔بھلا اسکی بیوی کی جائیداد پر اس کا کیسا حق؟؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’’ابدال ماضی میں تم اور تمھارا بیٹا مقدس کے ساتھ جو کچھ کر چکے ہو،وہ سب ان کاغذ کے چند ٹکروں کی چمک سے ٹھیک نہیں کیا جا سکتا،مقدس کو تھوڑا وقت دو،وقت کے ساتھ شاید وہ یہ سب اپنا نصیب سمجھ کر قبول کر لے اور تمھیں معاف کردے،مگر میں پھر وہی بات کرونگا کہ آگر تم واقعی مقدس کو کچھ دینے کے خواہش مند ہو تو اسکو اسکے باپ کا نام دے دو۔۔ عبداللہ خاندان میں اسکی پہچان دے دو،معاشرے میں اپنے بیٹے کے اس رشتے کو ایک مقام دے دو ،جو صرف تمھاری بدولت پنپنے سے قبل ہی مرجھا گیا۔‘‘ابدال صاحب سر جھکائے خاموش رہ گئے تھے۔کیونکہ پسند کی شادی کے بعد طلاق ان دونوں میاں بیوی کاذاتی فیصلہ تھا،مگر مقدس کو دنیا کے سامنے اپنی شناخت سے محروم رکھنا یہ سب ابدال عبداللہ صاحب کی وجہ سے ہوا تھا۔۔یوسف صاحب کبھی بھی بیٹی سے غافل نہیں رہے تھے۔مگر وہ باپ کی سختیوں پر مجبور ہو گئے تھے۔۔ ’’’خیر میں نے یہان ہماری غلطیوں کو دہرانے کے لئے نہیں بلایا ہے،میرا تمھیں یہاں بلانے کا صرف ایک ہی مقصد تھا کہ مقدس اور عیسیٰ کی شادی ہو چکی ہے تو بہتر ہے کہ تم مقدس کے سامنے نہ آیا کرو،اسے یہاں سیٹل ہونے دو کیونکہ یہ اسکا میکا اور سسرال دونوں ہے۔۔اور میں چاہتا ہوں کہ مقدس اور عیسیٰ ایک اچھی زندگی گزاریں۔میں جانتا ہوں کہ بظاہر وہ دونوں ایک اچھے ہزبینڈ وائف ہونے کا ڈڑامہ کر رہے ہیں،مگر حقیتاً وہ دونوں ہی اب تک ایک دوسرے کو تسلیم نہیں کر سکے ہیں۔‘‘وہ پر سوچ سے بولے۔۔ ’’تو؟‘‘انھونے اچبنھے سے پوچھا۔ ’’تو یہ کہ میں کچھ عرصے میں مقدس کو عیسیٰ کے ساتھ ہنی مون پر بھیج دونگا تاکہ دونوں کا زیادہ تر وقت ایک ساتھ گزرے اور ایک دوسرے کو سمجھنے کا موقع بھی ملے۔‘‘وہ مزید بولے۔ ’’چلو جیسے تمھاری مرضی!مگر بھائی جان مقدس سے کہیں کہ وہ مجھے معاف کردے ۔‘‘ابتسام صاحب سر ہلا گئے،جبکہ اب وہ یوسف کے بابت باتیں کر رہے تھے۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’مام آپ نے دیکھا مقدس اور عیسیٰ عبداللہ کی شادی ہوگئ ہے۔‘‘وہ عمر تھا اور سوشل میڈیا پر وائرل تصاویریں دیکھ مقدس کی ماں سے مخاطب تھا،جو اسے تصاویروں میں د لہن بنا دیکھ آنسو ضبط کر گئی تھیں۔ انکی بیٹی کی آنکھوں کی ویرانی ا ن سے چھپی ہر گز نہیں تھی۔وہ خود کو کتنا ہی لاپرواہ ظاہر کرتیں مگر حقیقت تو یہی تھی نا کہ انھونے اس بد نصیب کو پیدا کیا تھا۔۔ ’’اللہ نصیب اچھے کرے۔‘‘کسی نے انھیں انکی بیٹی کی شادی میں مدعو کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا تھا۔ ’’آپ کل ولیمے میں چلیں گی؟‘‘وہ سوالیہ بولا۔کیونکہ وہ عیسیٰ عبداللہ کی طرف سے انوائیٹڈ تھا کاروباری نہج پر ان کے اچھے مراسم تھے۔ ’’نہیں بیٹا! مقدس کو اچھا نہیں لگے گا۔اور میں اتنے اہم دن پر اسکا موڈ نہیں خراب کرنا چاہتی۔۔‘‘وہ سمجھ کر سر ہلا گیا۔۔۔اور وہاں سے واک آوٹ کر گیا۔۔جبکہ انھونے آنکھوں میں در آئی نمی پونچھ کر اسکے لئے دعا کی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عیسیٰ روم میں واپس آیا تو مقدس کو بیڈ کی ایک سائیڈ پر سکڑا سمٹا سا سوتا پاکر وہ تاسف بھری نگاہ ڈال کر قالین پر چادر اور تکیہ پھینکتاچت لیٹ گیا تھا۔۔ نظریں ہنوز مقدس پر ہی ٹکی تھیں،جس کے چہرے پر بلا کی
