Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode no 10
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 28/04/2026
31 Views
Episode no 10
دو پل کو ٹھہرا عشق کا کارواں ازقلم ہما قریشی 10 قسط نمبر دبئی شہر کو رات کی تاریکی نے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا، مگر فلک بوس عمارتوں سے جھلملاتے قمقمے، اور شہر کی بے پناہ روشنیوں میں نہایا ہوا ایک مصروف روف ٹاپ بار۔ یہ بار دبئی کے مشہور جمیرا بیچ روڈ پر ایک اونچی عمارت کی چھت پر واقع ہے، جہاں سے شہر کا نظارہ کسی خواب کی مانند لگتا ہے۔ دبئی کے الٹر رچ کلچر کو واضح کرتیں نیچے سڑ ک پرسے گزرتی لگژری سپورٹس کار،جو دیکھنے میں بھلی معلوم دیتی ہیں۔ ہلکی ہلکی سمندری ہوا اور پس منظر میں بجتے مدھر میوزک نے ماحول کو مزید پرالطف بنا دیا تھا اس بار کا اندرونی حصہ بھی اتنا ہی شاندار تھا۔ گولڈن اور نیون بلیو لائٹس کے امتزاج سے جگمگاتا ڈیکور، بلیک ماربل کی چمکدار بار کاؤنٹر، اور چاروں طرف بیٹھے لوگ،کوئی بزنس کی دنیا کا بے تاج بادشاہ تھا ، تو کوئی سیاح، اور کوئی محض دبئی نائٹ لائف کا مزہ لینے آیا تھا۔ ایک کونے میں، بڑی شیشے کی کھڑکی کے قریب دو لڑکیاں ایک سفید سنگ مرمر کی ٹیبل پر آنے سامنے کرسیوں پر بیٹھی تھیں۔ سامنے رکھی دو ہائی کلاس مارٹینی گلاسز، اور ایک طرف جلتی خوشبو دار موم بتی کی روشنی میں ان کے چہروں کاعکس واضح تھا،جس میں حسد اور جلن کی رمق واضح تھی۔ وہ سلور گرے رنگ کا سلک جمپ سوٹ پہنے ہوئے تھی جس کی کمر پر ایک پتلا بیلٹ سے بندھا تھا، ریشمی بھورے بال کندھے پر ڈال رکھے تھے،گہری براؤں آنکھوں میں ہمیشہ والی جلن واضح تھی۔ ’’’واٹ ربش!یہ کیا بکواس ہے۔‘‘زرتاج نے جب سے سوشل میڈیا پر گردش کرتی عیسیٰ عبداللہ کی شادی کی تصاویریں دیکھی تھیں،وہ سیخ پا ہوئی بیٹھی تھی۔ ’’کم آن زرتاج!تمھارا اور عیسیٰ کا بریک اپ ہوچکا ہے،اب وہ کسی سے بھی شادی کریں،آٹس نان آف یور بزنس ہنی!‘‘اس کی دوست نے وائن کا گلاس لبوں سے لگاتے باور کرایا۔۔وہ اس وقت دبئی مین موجود تھی۔ واٹ ڈو یو مین بائی ڈیٹ!وہ فراڈی شخص تو کہتا تھا کہ زرتاج میں تمھارے بغیر مر جاؤنگا،اور اتنی سبکی جھیلنے کے بعد تو اسے واقعی سچ میں مر جانا چاہئے تھا،مگر تم دیکھ رہی ہو،کل رات سے اسکی شادی کی خبر سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر رہی ہے۔وہ کل سے خبروں کی زینت بنا ہوا ہے،کبھی انٹرویوز،کبھی دلہا دلہن کے کلوز اپس اور کبھی ایونٹ کی تصاویریں۔۔‘‘وہ حد سے زیادہ جیلسی کا شکار ہو رہی تھی۔ ’’’سو تمھیں کیا پروبلم ہے یار!‘‘اس نے ریلکس کرنا چاہا۔ ’’’نو نیور!میرا کرئیر خراب کر کہ آگر عیسیٰ عبداللہ کو لگتا ہے کہ وہ آرام سے رہ لے گا۔تو نہیں اسے غلط لگتا ہے،کیونکہ عیسیٰ عبداللہ کی زندگی کا ڈاؤن فال تو اسی دن شروع ہوگیا تھا جب اس نے مجھ سےغداری کی تھی۔‘‘دانت کچکچاتی وہ انتقامی کارروائی کا سوچے بیٹھی،مقابل لڑکی نے سر جھٹکا۔ ’’’مرضی ہے تمھاری!عیسیٰ عبداللہ کو برباد کرنے کی پلاننگ کرنے سے پہلے ایک بات یاد رکھنا کہ اس کی ایک ایکشن کی بدولت تمھیں دو سال کے لئے ملک بدر ہونا پڑا تھا،ایسا نہ ہوا س بار وہ تمھیں سیدھا اندر ہی کروا دے۔‘‘ اسنے جتایا تو وہ لب بھینچ گئی۔ساتھ ہی گھونٹ گھونٹ مادہ حلق سے اتارا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سارا دن گھر والوں کے ساتھ گزارنے کے بعد وہ دونوں ڈنر کے فوراً بعد اپنے روم میں واپس آگئے تھے۔کیونکہ کل ان دونوں کا ولیمہ تھا،اور صبح ذرا جلدی اٹھنا تھا،کیونکہ ولیمے کی تمام تر زمہ داری بھی عیسیٰ کے ناتوان کندھوں پر آئی ہوئی تھی۔ ’’افف!یہ شادی اور پھر خوش ہونے کی ایکٹنگ کرنا کتنا بورنگ کام ہے۔۔‘‘وہ اپنے بیڈ پر اوندھے منہ گرا تھا،جبکہ سنگھار آئینے کے سامنے کھڑی مقدس نے اسے گھور کر دیکھا تھا۔ ’’’تو کس نے کہا ہے ایکٹنگ کرنے کو؟‘‘اس نے یونہی سرسری لہجے میں کہا تھا۔ ’’اوہ پلیز محترمہ!میرا موڈ بہت اچھا ہے،خراب کرنے کی ضرورت نہیں ہے،عیسیٰ نے زچ ہوکر کہا۔ ’میں تو ایک بات کہہ رہی ہوں۔‘‘کلائی سے چوڑیاں اتارتی وہ اپنی بات پر ڈٹی ہوئی تھی۔ ’’’ویسے سچ بتاؤ!تم میں واقعی سیلف ریسپیکٹ نام کی کوئی چیز نہیں ہے؟‘‘اس نے کان کھجایا۔ ’’’کیا کہنا چاہتے ہیں؟‘‘مقدس کی پیشانی پر بل نمودار ہوئے تھے۔ ’’’یہی کہ تم واقعی خود کو لاپرواہ اور بے نیاز ظاہر کرتی ہو یا واقعی ایسی ہو؟‘‘اس نے نوٹس کیا تھا کہ وہ سارا دن اپنے سگے باپ اور دادا کی موجودگی میں بھی اسے رہی تھی،جیسے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا ہو۔ ’’’کیا مطلب ہے آپ کی اس بات کا؟‘‘اس کی پیشانی پر بل نمودار ہوئے تھے۔ ’’’یہی کہ تم جنھیں سارا دن نظر آنداز کرتی رہی ہو،جنھیں تم نے آنکھ اٹھا کر دیکھنا تک گواری نہیں کیا وہ تمھارے سگے ہیں۔‘‘وہ استہزائیہ مسکرایا۔ ’’’’کوسنے سگے؟ جن کے لئے میرا تعارف باعث شرمندگی ہے؟‘‘وہ خفگی سے بولی۔ ’’’اولاد کا تعارف کب سے باعث شرمندگی ہونے لگا،اور تمھارے بابا مجھ سے تمھارے بارے میں پوچھ رہے تھے،ایک تم ہو بدتمیز لڑکی جس نے ان سے سلام تک کرنا ضروری نہیں سمجھا۔‘‘عیسیٰ کے لہجے میں تاسف در آیا تھا۔ ’’’آپ اس معاملے سے دور رہیں تو ہی بہتر ہے عیسیٰ صاحب!‘‘وہ غصےٰ اور تنفر سے بولتی زور سے دروازہ پٹک کر بند کر کہ جا چکی تھی۔ ’’’عجیب پاگل بدتمیز لڑکی ہے۔‘‘عیسیٰ کو طیش آیا تھا،وہ جانتا تھا کہ بچپن میں اس کے ساتھ تھوڑی زیادتی ضرور ہوئی تھی،مگر اب ایسا بھی کیا کہ سگے باپ سے نفرت پر اتر آؤ۔‘‘ وہ سوچ کر سر جھٹک گیا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بیڈ پر نیم درازی کی پوزیشن میں لیٹا موبائل پر اسکرولنگ کر رہا تھا، ہر جگہ سے مبارک باد دی جا رہی تھی،وہ تو سب کو رسپانس کر کر کہ بھی تھک گیا تھا،اب اس نے اپنےسب فینز کا شکریہ ادا کرنے کے لئے ٹویٹ کیا تھا،جو صرف سیکنڈز میں وائرل ہو گیا تھا۔۔جبھی کھٹکے کی آواز پر وہ چونکا،مقدس سادہ سے نائٹ سوٹ میں ملبوس ڈریسنگ روم سے باہر آئی تھی۔ ’’’تمھیں معلوم ہے تمھارے نام کے ساتھ عیسیٰ عبداللہ کا نام جڑتے ساتھ ہی تم راتوں رات فیمس ہوگئی ہو۔ہر کوئی تمھارے خوش نصیبی کے گن گا رہا ہے۔‘‘عیسیٰ نے اسے بے نیازی سے چئیر پر بیٹھ کر ہاتھوں پر موئسچرازر لگاتے دیکھ باور کرایا۔ ’’’تو اس میں کونسی بڑی بات ہے؟اکثر مشہور شخصیات کی بیویاں بھی اسی طرح فیمس ہوجاتی ہیں ،وہ بھی راتوں رات۔‘‘وہ شانِ بے نیازی سے بولی۔ ’’’اور ان بیویوں کی بھی بات ہی الگ ہو تی ہے جو شوہر سے پہلے ہی دنیا میں ایک نام اور مقام بنا لیتی ہیں۔‘‘اس نے طنز کا تیر چھوڑا تھا۔ ’’’اب ہر بلند مقام عورت سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کرے یہ ضروری تو نہیں۔‘‘اس لے لہجے میں طنز تھا،عیسیٰ نے اسکا مفہوم سمجھ کر غصےٰ سے گھورا تھا۔ ’’’آج تم نے اس بات کا حوالہ دے دیا آئندہ یہ غلطی بھول کر بھی نہ کرنا،ورنہ ایک سیکنڈ میں اس کمرے سے نکال باہر کرونگا۔‘‘وہ غصےٰ سے بستر چھوڑتا تن فن کرتا واشروم میں جاکر بند ہوگیا تھا۔آنکھوں کی رنگت سرخ پڑ گئی تھی،زرتاج کا ذ کر اسے یونہی طیش میں مبتلہ کر دیتا تھا۔ ’’’لگتا ہے ایکس سے بڑی شدتوں کا عشق تھا موصوف کو۔۔‘‘مقدس نے اسکی حالت دیکھ دل میں سوچتے سر جھٹکا،ساتھ ہی برش اٹھا کر وہ بالوں میں پھیرنے لگی تھی۔۔لبوں پر مسکراہٹ سی کھل رہی تھی،عیسیٰ عبداللہ کو تپانے کا بھی اپنا ہی مزاح تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’تم پھر میرے بستر پر
