Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode no 09
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 27/04/2026
29 Views
Episode no 09
لگی تھیں۔ ’’’میرے خیال سے ہمیں نیچے چلنا چاہئے۔‘‘وہ آنکھوں کی نمی چھپا گئی تھی،اور ساتھ ہی قدم دروازے کی جانب بڑھائے۔۔ ………………. ساحل کے قریب واقع عبداللہ ہاؤس میں ناشتے کی میز پر خوب رونق لگی ہوئی تھی۔۔ ناشتے کی میز پر پھیلی تازہ ناشتے کی خوشبو سبھی کی بھوک چمکانے کا باعث تھی،اس وقت میز پر عبداللہ ہاؤس کے مکینوں کے علاوہ بھی تمام مہمان موجود تھے،جنھونے رات وہیں اسٹے کیا تھا۔۔بڑی سی میز پر انواع و اقسام کے کھانے سجے تھے—گرما گرم پراٹھے، آملیٹ، شہد، مکھن، اور تازہ جوس۔ کروسنٹس، اور ناشتے کی دیگر لوازمات جن کا اہتمام خاص طور پر گھر میں،اور کک کے ساتھ مل کر گھر کی خواتین نے ہی کیا تھا۔۔۔۔۔ وہ دونوں ایک ساتھ چند قدمو ں کے فاصلے سے چلتے ڈائننگ ہال میں داخل ہوئے تھے،انھیں دیکھ سب کے لبوں سے بے ساختہ ماشاء اللہ ادا ہوا تھا۔۔ ٹیبل پر بیٹھے سب کی نظریں لمحہ بھر کے لیے ان دونوں پر جا رکیں۔ "لو بھئی، آگئے ہیں وہ میزبان جن کا ہم نے کیا لمحوں کو گن گن کر انتظار!!" میرم نے ان دونوں کو دیکھ شوخی سے کہا، سب ہی کے چہروں پر میں دبی دبی ہنسی نے اپنی چھاپ دکھائی تھی۔زاران اورمیرم عیسیٰ کی شادی کے باعث ایک دن قبل ہی پاکستان پہنچے تھے۔۔ ’’السلام علیکم !‘‘اس نے مشترکہ سلام کیا تھا،سب نے ہی زیر لب جواب دیا۔ ’’’مقدس میرا بیٹا!یہاں آئیے میرے پاس!‘‘عیسیٰ اپنے باپ اور چچا اور زاران کے سینے سے لگا تھا جبکہ مقدس کا ماتھا چومتے وہ شفقت بھرے آنداز میں اسے دعاؤں سے نواز رہے تھے۔۔۔ ’’’جزاک اللہ گرینڈ پا!‘‘ عائشہ بیگم سے دعائیں لیتے عیسیٰ نے آنکھیں گھمائیں۔ "مقدس، بیٹا، یہاں آ کر بیٹھو ۔" عائشہ آنٹی نے نرمی سے کہا، ان کی آنکھوں میں خالص اپنائیت تھی۔وہ انکی محبت سے انکاری نہیں ہو سکتی تھی،جنھونے نکاح کے بعد سے اسے ایک لمحے کے لئے اجنبیت محسوس نہیں ہونے دی تھی۔۔ مقدس نے نظریں جھکائیں اور خاموشی سے کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی۔ عیسیٰ نے ایک نظر اس پر ڈالی اور خود بھی اس کے برابر والی کرسی سنبھال لی۔ ’’عیسیٰ ہمارے یہاں رسم ہے پہلا ناشتہ دلہن کو دلہا ہی سرو کرتا ہے، جو ذرا شروع ہوجائیں۔‘‘میرم کی شرارت پر سب نے مسکراہٹ چھپائی تھی۔ ’’واٹ؟آئی تھنک لاجکلی تو یہ کام محترمہ کا ہونا چاہئے۔‘‘اس نے ناک چڑھائی۔ ’’کیوں بھئی؟ ہماری بیٹی تمھارے کام کرنے کے لئے آئی ہے کیا؟‘‘ٓس بار ابتسام صاحب نے ذرا خفگی سے دیکھا۔ ’’میں نے ایسا تو نہیں کہا گرینڈ پا!‘‘وہ جھٹ سے بولا،کہیں وہ محتر مہ کی وجہ سے ناراض ہی نہ ہوجائیں۔ ’’چلیں پھر ہماری بیٹی کو سرو کریں تاکہ انھیں پتہ چلے کہ وہ اپنے نئے گھر میں ایک نئی اور خوش کن شروعات کرنے جا رہی ہیں۔‘‘ایسی کوئی رسم تھی تو نہیں ،البتہ میرم کی شرارت اور عیسیٰ کے دامن بچانے پر اب انھونے ذرا رعب سے کہا۔ حکم!‘‘وہ سر کوخم کرگیا۔مقدس نے بھی اس بار مسکراہٹ چھپائی تھی۔ "کیا کھاؤ گی، مقدس؟" عیسیٰ نے پہلی بار اس سے براہ راست یوں سب کی موجودگی میں مخاطب ہو ا تھا۔۔۔وہ ذرا جھجھک کا شکار ہوئی تھی۔نظریں اٹھائیں تو دیکھا کہ سبھی لوگ ان کی طرف متوجہ تھے۔ دل کی دھڑکن لمحہ بھر کو تیز ہوئی، پھر جلدی سے بولی کچھ بھی ڈال دیں!‘‘ الفاظ مدھم تھے، مگر عیسیٰ سن چکا تھا۔ ’’’یہ لو، پھر تم میری ماما کے ہاتھ کا پراٹھا اور آملیٹ کھاؤ،جو آپ کی بدولت آج سالوں بعد ہمیں بھی نصیب ہونے جا رہا ہے،اور میری ڈائٹ کا تو ہوگا بیڑا غرق۔۔" عیسیٰ نے اس کی پلیٹ میں رکھا تو سب ہی مسکرا دئیے۔ "یہ ہوئی نا بات، عیسیٰ میاں! اپنی بیوی کا بہت خیال رکھنا ہے آپ نے ۔" عیسیٰ نے ہلکا سا مسکرا کر سر جھکا لیا، جبکہ مقدس کا دل عجیب سے آنداز میں دھڑک رہا تھا،کیونکہ سب کی معنی خیز نگاہیں اسی پر جمعی ہوئی تھیں،ناشتہ کے دوران شوخ سی میرم کوئی نہ کوئی شوخ جملہ بول دیتی اور سب ان دونوں کو امتحان میں ڈال دیتے،جبکہ وہ ساتھ ساتھ ولوگ بھی شوٹ کرتی جا رہی تھی۔۔۔ جاری ہے
