Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode no 09
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 27/04/2026
29 Views
Episode no 09
کمبل کے نیچے وہ مسلسل کروٹ بدل رہا تھا۔ جسم ٹوٹ رہا تھا، گردن جیسے کسی سخت چیز پر رکھنے کی وجہ سے اکڑ سی گئی تھی۔ وہ بےچینی سے آنکھیں کھولنے کی کوشش کر رہا تھا جب اچانک۔۔۔۔۔۔۔۔دھیمی مگر مسلسل کھٹ پٹ کی آواز نے اس کی نیند توڑ دی۔ آنکھیں کھولیں تو سب سے پہلے سر میں بوجھ سا محسوس ہوا، پھر گردن میں جلن سی ہوئی۔ ایک ہاتھ سے گردن دباتے ہوئے وہ نیم وا آنکھوں سے اِدھر اُدھر دیکھنے لگا۔ ’’اب یہ کھٹر پھٹر کی آواز کہاں سے آ رہی تھی؟ عیسیٰ نے تھوڑا سیدھا ہو کر گردن موڑی تو سامنے ڈریسنگ روم کا دروازہ بند تھا، مگر اندر لائٹ جل رہی تھی۔ آواز شاید وہیں سے آ رہی تھی۔مگر وہاں کون تھا۔۔وہ ابھی تک نیند کی کیفیت میں تھا۔صورتحال سمجھ سے باہر ہوئی تھیں۔ "ٹھک۔۔ ٹھک" وہ ناسمجھی سے آنکھیں موند کر پھر لیٹنے لگا، لیکن پھر سے کھٹر پٹر کی آواز پراس نے جھنجھلا کر ہاتھ سے چہرہ مسلا اور صوفے سے اُٹھ کر بیٹھ گیا۔ کمر میں ایک ہلکی سی ٹھیس اٹھی، جیسے ہڈیوں نے شکایت کی ہو کہ یہ سونے کا کون سا نیا طریقہ ایجاد ہوا ہے عیسیٰ عبداللہ ؟‘‘اپنی حالت پر غور کیا،پھر گزری شب کی تمام تر تلخی سماعتوں میں گونج گئی تھی۔۔" "کم از کم بستر پر تو سونے دیتیں، محترمہ!" وہ ٹوٹتے بدن کے باعث نیند میں بڑبڑایا اور پھر گردن سہلائی۔ عین اسی لمحے ڈریسنگ روم کا دروازہ کھلا، اور مقدس باہر نکلی تھی۔ گلابی رنگ کے نفیس جوڑے میں دبکے کے نفیس کام والے جوڑے میں ملبوس تھی ، سر پر ایک ادا سے دوپٹہ لے رکھا تھا، ہاتھوں میں میچنگ کی چوڑیاں پہنے وہ کھلی کھلی سی باہر آئی تھی۔ کتابی چہرے کا گلابی پن اسے حیرا ن کر گیا تھا۔۔براؤن آنکھوں کی چمک ہی نرالی تھی۔۔چہرے ہلکی شرمیلی سی مسکراہٹ سجائے،وہ ایک لمحے کو عیسیٰ کو ورطہ حیرت میں دھکیل گئی تھی۔وہ اتنی محنت اور دل سے تیار ہوئی تھی گویا رات انکی بہت کوئی خوشگوار گزر ی تھی۔ عیسیٰ نے ایک بھرپور اور گہری نگاہ اسکے اپیل کرتے سراپے پر ڈال کر سر جھٹکا ۔ پھر گردن موڑ کر دوبارہ صوفے پر گر گیا۔ "اگر صبح ہی صبح شور مچانا تھا تو پہلے ہی بتا دیتیں، تاکہ میں اپنا انتظام کہیں اور کر لیتا۔" اس کے لہجے میں اب ہلکی سی ناراضی تھی۔وہ صبح صبح اپنا موڈ خراب نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔ مقدس نے ایک نظر اس کی تھکی ہوئی شکل کو دیکھا، مگر بغیر کوئی جواب دیے آئینے کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔جیسے اسکی کسی بات سے کوئی سروکار ہی نہ ہو۔۔۔ ’’’ویسے یہ تم اتنا تیار کس خوشی میں ہوئی ہو؟‘‘عیسیٰ نے ذرا گھور کر دیکھا تھا۔ ’’’آپ کی شادی کی خوشی میں۔‘‘وہ طنزیہ بولی۔ ’’اوہ!اور یہ شرمانے کی ناکام کوشش کیوں کر رہی ہو؟‘‘وہ جیسے اسکی اداؤں پر گھائل ہونے کے بجائے بیزار ہی ہوگیا تھا۔ ’کیونکہ میرے سر میں سینگ ہیں۔‘‘ الٹا ہی جواب آیا تھا۔ ’’نظر بھی آرہے ہیں۔‘‘مقدس نے آئینے سے ہی گھور کر دیکھا تھا۔ ’’کیا ہوا زیادہ پیارا لگ رہا ہوں؟‘‘اب وہ اٹھ کر اسکے عقب میں آکھڑا ہوا تھا۔جو کان میں اسٹڈز ڈال رہی تھی۔ ’’جی اتنے کے دل کر رہا ہے کہ اس چہرہ مبارک کا دیدار کیوں نہ میں زندگی بھر کرتی رہوں؟‘‘وہ آنکھیں جھپکا کر معنی خیزی سے بولی تھی۔ ’’ایسے خیالات پر فوری لاحول پڑھ لیا کرو۔۔‘‘عیسیٰ نے حساب بے باک کیا۔ ’’کیوں آپ کاخیال کیا شیطان کے خیال جیسا ہے؟‘‘عیسیٰ کو اپنے ہی لفظوں پر تاؤ آیا تھا۔ ’’مجھ سے تمیز سے بات کیا کرو لڑکی۔بدتمیز لوگ سخت ناپسند ہیں مجھے۔‘‘اس نے رعب ڈالنے کی ناکام کوشش کی۔ ’’پھر آپ مجھے اپنی ناپسندیدہ شخصیات کی لسٹ میں ٹا پ اف دا لسٹ ہی رکھ لیں، کیونکہ میں نہیں بدلنے والی۔ بالوں کو جان کر جھٹک کر پیچھے ہوتی وہ اسے زچ کر رہی تھئی۔ ’’رات کو کوئی دورہ وغیرہ پڑ گیا ہے کیا؟‘‘وہ ذرا حیران ہوا تھا۔ ’نہیں! دراصل رات میں جس جگہ میں نے قیام فرمایا تھا وہ ایک بھوت کی قیام گاہ ہے۔‘‘وہ شرارتً بولی۔ ’’’لگتا ہے ساری زندگی فضول گوئی ہی کرتی رہی ہو۔۔‘‘وہ ذرا غصےٰ سے بولتا،ڈرسینگ ٹیبل کی دراز کھول کر اس میں سے ایک مخملی کیس نکالتا پیچھے ہوا۔۔ ’یہ لو؟‘‘خاموش کھڑی مقدس نے حیرت سے دیکھا۔ ’’’یہ کیا ہے؟‘‘اس نے ذرا ناسمجھی سے اسکی جانب دیکھا،جس نے ایک گہری سانس خارج کر کہ مخملی ڈبیہ سے ایک خوبصورت سا برسلیٹ نکال کر بڑے حق سے اسکا ہاتھ تھام کر اسکی کلائی میں پہنایا تھا۔۔جبکہ مقدس نے حیرت سے اسکی کارروائی ملاحظہ کی تھی۔ ’’’تمھاری منہ دکھائی ہے۔نیچے ماما اور چچی پوچھیں تو کہہ دینا کہ رات ہی دے دی تھی عیسیٰ نے۔۔‘‘وہ کل ناچاہتے ہوئے بھی اسکے لئے منہ دکھائی کا تحفہ لے لر آیا تھا۔۔کیونکہ وہ جانتا تھا اسکے گھر والے جب تک ان دونوں کی طرف سے مطمئن نہیں ہوجاتے،وہ انکے ہر عمل پر نظر رکھیں گے۔ ’’مگر تم نے تو اب دی ہے؟‘‘مقدس نے دھیرے سے اس پر ہاتھ پھیرا تھا۔جس میں دو ہیرے جگمگا رہے تھے۔ ’’کیونکہ رات میں تمھاری زبان تمھارے قابو میں نہیں تھی۔اور بدتمیز عورتوں سے بات کرنا میں پسند نہیں کرتا۔‘‘عیسیٰ نے بے دلی سے کیس ایک طرف کو اچھالتے طنزیہ طور پر کہا۔۔ ’’’’اوہ اچھا!‘‘وہ بحث کا ارادہ ترک کر گئی۔جبکہ وہ اسے تیار دیکھ خود بھی فریش ہونے کی غڑض سے واشروم کی جانب بڑھا تھا۔تاکہ جلد از جلد تیار ہو سکے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ صوفے پر بیٹھی نیچے جانے کے لئے اسکا انتظار کر رہی تھی،کیونکہ عائشہ بیگم اسے را ت ہی کہہ چکی تھی کہ اسکا اپنا گھر ہے عیسیٰ کے ساتھ آرام سے نیچے آجائے کوئی بھی تنگ نہیں کرے گا۔۔مگر حقیتاً تو وہ یوں نیچے جانے پر بری طرح جھجھک کا شکار تھی۔۔ کچھ منٹوں کے انتظار کے ساتھ،سفید کاٹن کے کڑکڑاتے سوٹ میں ملبوس وہ خوشبوئیں بکھیرتا ڈریسنگ روم سے باہر آیا تھا۔مقدس نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر جیسے نگاہیں ہٹانا ہی بھول گئی تھی۔بلاشبہ مقابل کھڑا شخص ایک سحر انگیز شخصیت کا مالک خوبرو نواجوان تھا،جو کسی بھی لڑکی کا آئیڈیل ہوسکتا تھا۔اور آگر عیسیٰ کو اعتراض نہ ہوتا تو مقدس بنت یوسف میں بھی اتنی برداشت تھی کہ وہ ساری زندگی اس شخص کے ساتھ گزار دیتی۔۔ ’’’کیا ہوا؟نظر لگانے کا ارادہ ہے کیا؟‘‘آئینے کے سامنے کھڑا وہ اسکا خود کو یوں ٹکی ٹکی باند ھ کر دیکھنا پہلے ہی نوٹ کر چکا تھا۔۔وہ گڑبڑائی۔ ’’’نیچے چلیں دیر ہورہی ہے،۔ناشتے پر سب ہمارا ویٹ کر رہے ہونگے۔‘‘ٓس نے جیسے احساس کرایا تھا۔ ’’’ہاں چلو!اور ایک بات سن لو۔۔‘‘وہ متوجہ ہوئی۔ ’’’اس کمرے میں ہمارے درمیان جو بھی معاملات ہیں،وہ کبھی بھی اس چار دیواری سے باہر نہیں جانے چاہئے،باہر ہم ایک لونگ کپل کی طرح ہی نظر آنے چاہئے،جیسے ایک نوبہیاتا جوڑا ہوتا ہے۔‘‘وہ باوار کرانا ہر گز بھی نہیں بھولا تھا۔ ’’’یہ بات آگر آپ یاد رکھیں تو زیادہ بہتر ہے،کیونکہ میرے وجود سے آپ کو تکلیف ہے نہ کہ مجھے۔‘‘وہ استہزائیہ سر جھٹک گئی۔ ’’’جو بھی ہے مس مقدس! لیکن ہمارے رشتے کی حقیقت اس کمر ے تک ہی محدوس رہنی چاہئے،کیونکہ میں اپنی فیملی میں کسی قسم کا کوئی تماشہ نہیں چاہتا،اور جہاں تک رہی تمھاری بات،تو میرا وعدہ ہے تم سے،تم خود مجھے چھوڑ کر جاؤ گی۔‘‘عیسیٰ کے لفظ کسی تازیانے کی مانند لگے تھے، دکھ سے آنکھیں جلنے
