Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode no 09
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 27/04/2026
29 Views
Episode no 09
دو پل کو ٹھہرا عشق کا کارواں ازقلم ہما قریشی 9 قسط نمبر عبداللہ ہاؤس کےشاہانہ طرز کے کمرے میں اس وقت کینڈلز اور مصنوعی دیو ؤں کی دھیمی روشنی جگمگ کر رہی تھی، لیکن اس کے باوجود ماحول میں عجیب سا تناؤ تھا،یا پھر کوئی بوجھ جو سرخ عروسی لباس میں ملبوس بیڈ کے کنارے بیٹھی مقدس کو دل پر محسوس ہو رہا تھا ، مگر وہ روایتی دلہنوں کی طرح شرمائی لجائی سی نہیں بیٹھی تھی۔ اس کے دل میں طوفان اٹھ رہے تھے، مگر اس وقت چہرہ بے تاثر تھا۔ نہ کوئی خوشی، نہ کوئی خوف ، بس ایک عجیب سا سکون، جودر اصل اس میں پنپتی خاموش بغاوت کی پہلی جھلک تھا یا کچھ اور ۔۔۔ وہ عیسیٰ عبداللہ کے لئے پور پور سجی دلہن ،اپنے سوگوار حسن سے لاپرواہ ، سجے سنورے بستر کے کنارے بیٹھی لایعنی سوچوں میں گم تھی۔ ہاتھوں کی مہندی کا رنگ خاصہ گہرا آیا تھا، خود ساختہ سرسراتی انگلیوں کے باعث چوڑیاں کلائیوں میں خاموشی سے کھنک رہی تھیں۔۔۔ ’’’کیا مجھے اپنے ساتھ ساتھ عیسیٰ کی زندگی برباد نہیں کرنا چاہئے تھی؟‘‘وہ گہرہ سوچوں میں محو تھی۔ ’’’لیکن نہیں! یہ میرا فیصلہ تو نہیں ہے۔‘‘دل نے فوری نفی کی تھی۔ ’’’مگر عیسیٰ!‘‘اس کا سوچتے ہی دل عجیب ہی لے میں دھڑکا تھا۔ ’’’یا اللہ مجھے ثابت قدم رکھنا!‘‘و ہ سوشل میڈیا پر پرانی ویڈیوز کے تھرو،عیسیٰ عبداللہ کے تمام سابقہ افئیرز کے بارے میں جان چکی تھی۔مگر سچ تو یہ تھا کہ اسے اس سب سے کچھ فرق نہیں پڑتا تھا۔وہ اللہ کو حاضر و ناظر جان کر اسے اپنے نکاح میں قبول کر چکی تھی۔مگر اسے کیا معلوم تھا کہ قسمت ایسا کھیل کھیل جائے گی۔۔ دوسری جانب دستک کے ساتھ دروازہ کھلا تھا۔وہ ہڑ بڑا کر سیدھا ہوئی۔ وہ سیاہ شیروانی اور سفید پاجامہ میں ملبوس، تھکن زدہ مگر اس سے بے پرواہ نظر آ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں وہی پرانی بےزاری تھی، جو مقدس پہلے بھی کئی بار دیکھ چکی تھی۔وہ آندر داخل ہوا تھا۔۔ ’’شادی مبارک ہو محترمہ!آخر کار تم کامیاب ہو ہی گئیں۔‘‘ وہ طنزیہ انداز میں بولا، اور اپنی گھڑی اتارتے ہوئے صوفے کی طرف بڑھا۔ مقدس نے کوئی جواب نہیں دیا، بس سر جھکا کر اپنے دوپٹے کی جھالر سے کھیلنے لگی۔ "اب یہ دکھاوے کی معصومیت کا ڈرامہ بند کردو محترمہ۔کیونکہ مجھے تمھارے اس سجے سنورے روپ سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ۔" عیسیٰ کی دل دکھانے والی باتوں پر مقدس کی آنکھوں میں نمی اُتر آئی تھی۔ "اب یہ رونے دھونے کا ڈرامہ بند کرو،تم بہت اچھے سے جانتی تھی، کہ مجھے اس شادی میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔" مقدس نے گہری سانس لی، پھر نظریں اٹھا کر سیدھا عیسیٰ کی سیاہ رنگ آنکھوں میں دیکھا،پھر مزید گویا ہوئی۔۔" ’’’’اور تمہیں لگتا ہے کہ میں تم سے شادی کے لیے مر رہی تھی؟ عیسیٰ نے اس کے طرز تخاطب پر لب بھینچ لئے تھے۔ "بالکل !جبھی تو میرے منع کرنے کے باوجود ،اس کمرے میں موجود ہو۔" عیسیٰ نے کندھے اچکائے،مقدس نے لب بھینچے۔ ’’مجھے تم سے شادی کا کوئی شوق نہیں تھا عیسیٰ عبداللہ!آگر مجھے نکاح سے پہلے علم ہو جاتا کہ میرا نکاح،تمھارے جیسے شخص کے ساتھ ہورہا تھا تو اسی وقت منع کر دیتی۔‘‘وہ شدت سے غرائی تھی۔ ’’میرا جیسا شخص؟؟کہنا کیا چاہتی ہو تم؟‘‘اس کی تیوری چڑھی تھی۔ کچھ نہیں۔‘‘وہ ناراضی سے کہتی رخ پھیر گئی۔۔وہ کتنی ہی دیر اسکا آنداز دیکھتا رہا پھر سرجھٹک گیا۔۔ میرا بیڈ خالی کرو۔مجھے نیند آرہی ہے۔۔اور یہ سارا کچرا بھی سمیٹو۔۔‘‘اس کا اشارہ پھول پتیوں کی طرف تھا۔ ’’یہ میرا بھی بیڈ ہے اب۔۔‘‘اس نے جتانا ضروری سمجھا۔۔ "اوہ رئیلی !تو اب کیا کرنا ہے؟ پھر کیا سچ میں بیوی بننے کا ارادہ ہے؟" مقدس نےاسکے لفظوں میں چھپا مفہوم سمجھ کر نفرت سے اس کی جانب دیکھا۔ خوش فہمی سے باہر آجاؤ عیسیٰ عبداللہ!آگر میرے بس میں ہوتا تو میں کبھی مر کر بھی تم سے شادی نہ کرتی،تمھاری بیوی بننے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔‘‘ عیسیٰ نے ایک لمبی سانس لی، چہرے پر واضح بیزاری چھا گئی تھئ۔ ’’’چلو، کم از کم ایک بات پر تو ہم دونوں متفق ہیں۔‘‘ مقدس نے غصےٰ سے گھورا، جو اسکے آنداز و اطوار دیکھتا،ایک تکیہ اور کمبل اُٹھاتاصوفے کی جانب بڑھا۔ "اچھا، ایک منٹ، تم کہاں جا رہے ہو؟" مقدس نے اسے صوفے پر کمبل رکھتے دیکھ اچنبھے دیکھ پوچھا۔ ’’میں نہیں تم۔۔‘‘ ’’میں؟‘‘ ہاں تم۔۔‘‘ "کیا مطلب؟ میں صوفے پر ، اور تم بیڈ پر،" مقدس نے حیرانی کا اظہار کیا۔ " کیوں تمہیں صوفے پر ڈر لگے گا، مس مقدس؟" "مجھے اور ڈر؟" مقدس طنزیہ ہنسی ہنسی۔ "ڈرنے والی میں نہیں، تم ہو!جبھی ایک بیوی بھی برداشت نہیں ہورہی۔۔!" "ہاہاہا، اچھا مزاق ہے۔ عیسیٰ نے پہلے اسے جس آنداز میں دیکھ تھا وہ خود جذبز ہو ئی تھی۔جبکہ وہ قہقہہ لگا گیا۔ "تم کچھ بھی بولو ، میں تمہیں اپنی بیوی نہیں مانتا، اور نہ ہی کبھی مانو گا!" "یہی بات میرے لیے بھی لاگو ہوتی ہے، مسٹر عیسیٰ عبداللہ مقدس نے بھی سنجیدگی سے کہا۔۔۔ دیکھو مقدس سیدھی سی بات ہے،میں تمھارے ساتھ اس رشتہ کو بڑھانے میں انٹرسٹڈ نہیں ہوں،تو بہتر یہی ہے کہ تم جلد از جلد میری زندگی سے دور چلی جاؤ۔‘‘اس بار وہ سنجیدگی سے گویا ہوا۔کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ ’’میں ایسا نہیں کر سکتی،آگر تم مجھ سے علیحدگی چاہتے ہو،تو یہ قدم تمھیں خود اٹھانا ہوگا۔‘‘اس نے صاف سی بات کی تھی۔ ’’مطلب تم ہمیشہ میرے اپر یونہی بلا کی طرح مسلط رہنے کا ارادہ رکھتی ہو؟‘وہ غصےٰ سے بولا۔ ’’آگر تم کوئی فیصلہ نہیں لے سکتے تو ہاں۔‘‘واہ کیا شانِ بے نیازی تھی۔ ’’یہ تمھاری خوش فہمی ہے مسز!کیونکہ میں تمھیں اس نہج پر لے جاؤنگا کہ تم خود میری زندگی سے دور چلی جاؤ گی۔‘‘وہ استہزائیہ مسکرایا تھا۔ ’’چلیں دیکھ لیتے ہیں شوہر نامدار!‘‘اس کے پکارے جانے پر و ہ بھی طنزیہ بولی تھی۔جبکہ وہ ا سے غصےٰ سے گھورتا واشروم میں جاکر بند ہوگیا تھا۔۔۔ مقدس نے غصے سے چادر کھینچی اور بیڈ پر لیٹ گئی۔اسکی موجودگی کی باعث جان بوجھ کر بیڈ پر بیٹھی رہی تھی۔۔ تقریباً بیس منٹ بعد سیاہ رنگ نائٹ سوٹ میں ملبوس وہ فریش فریش سا باہر آیا تھا۔۔ وہ شاید شاور لے کر باہر آ یا تھا۔۔بالوں سے ٹپکتا پانی ہاتھوں سے جھٹکتا وہ صوفے کی جانب بڑھا تھا۔۔۔ عیسیٰ نے ایک نظر اس ضدی لڑکی پر ڈالی اور بیزاری سے اس چھوٹے سے صوفے پر ایڈجسٹ ہوتا کروٹ بدل گیا۔۔۔جبکہ مقدس لب چباتی بیڈ سے اٹھتی لباس تبدیل کرنے کی غرض سے ڈریسنگ روم کی جانب بڑھی تھی۔۔نئی زندگی کی شروعات ایسے ہوگی اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔شادی کی پہلی ہی رات اسکا شوہر اسے طلاق دینے کی بات کرے گا،یہ سوچ ہی کلیجہ چیرنے کے لئے کافی تھی۔آنکھوں میں نمی اتر آئی تھی۔۔ ’’’اپنے حصےٰ میں آئے مردوں کے معاملے میں تم اتنی بدنصیب کیوں ہو، مقدس!‘‘خودساختہ سرگوشی کرتی وہ ڈریسنگ رو م کا دروازہ لاکڈ کرتئ گھٹی گھٹی سسکیوں سے رو پڑی تھی۔دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھتی مقدس کا ضبط ٹوٹ گیا تھا۔۔۔۔ماں باپ کی یاد شدت سے ستائی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صبح کی ہلکی روشنی کھڑکیوں پر پڑے پردوں سے چھن کر کمرے میں داخل ہو رہی تھی۔ سورج کی مدھم سی روشنی میں کمرہ جھلملا اٹھا تھا، مگر آنکھوں پر پڑتی مسلسل روشنی اس کے لیے باعثِ کوفت تھی۔ صوفے پر بےترتیب پڑے
