Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode no 08
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 27/04/2026
27 Views
Episode no 08
اپنا گال سالوں بعد ایک بار پھر جلتا محسوس ہونے لگا تھا۔ہوٹل کے کمرے کے باہر کا منظر نگاہوں کے سامنے گھوم گیا تھا۔۔۔ ’’شاپنگ کرنی ہے بوری بند لاشیں نہیں یا پھر بندے نہیں اُٹھانے،جو دس منٹ میں اُٹھالوں۔‘‘وہ تنک کر گویا ہوئی تھی۔عیسیٰ اسکی زبان درازی پر عش عش کر اٹھا تھا۔وہ اسکے نکاح میں کیا آگئی تھی،گویا سارا ڈرو خوف ہی بیچ کھایا تھا۔۔ ’’بہت شوق ہے نا تمھیں میرے ساتھ رخصتی کروانے کا،ذرا صبر کر جاؤ تم۔۔تمھیں آنسو بہانے پر مجبور نہ کردیا تو کہنا۔‘‘وہ زچ ہوگیا تھا۔ ’’اوہ!واہ کیا بات ہے۔۔ اپنی بیوی کو ایک مرد ایسی دھمکیاں دیتا بالکل اچھا نہیں لگتا۔آگر واقعی ہمت ہے تو مجھ سے مقابلہ کر کہ دکھاؤ۔‘‘ ’’ہاہاہاہا! اوہ مائی گاڈ،لگتا ہے تمھیں نے ان رئیلسٹک انڈین سریلز بہت دیکھ رکھے ہیں، جبھی تیس مار خان بننے کی ناکام کوشش کر رہی ہو۔‘‘وہ طنزیہ بولتا سر جھٹک گیا ،ساتھ ہی نگاہیں ارد گرد میں بھی دوڑائی تھیں،وہ دونوں کافی دیر سے یہاں کھڑے تھے۔ ’’مجھے لگتا ہے پاکستانی شائقین نے آپ کو کچھ زیادہ ہی آسمان پر چڑھا دیا ہے،جبھی کسی بھی وقت دماغ ٹھکانے پر نہیں رہتا۔‘‘وہ کونسا کم تھی۔ْ ’’’تم لوئر کلاس لڑکیوں کی زبان ایسی ہی گز بھر کی ہوتی ہے،میں بھی کس سے بات کر رہا ہوں۔‘‘وہ یکدم ہلکی سی جھرجھری لیتا حقارت ذدہ لہجے میں بولا تھا،مقدس کی رنگت سرخ پڑی تھی،مگر ضبط کر گئی۔ ’’اور اس زبان کی دھار وزیرا آباد کی چھری سے بھی زیادہ تیز ہوتی ہے خیال کیجئے گا عیسیٰ صاحب کہیں یہ تیز دھار چھری آپ پر ہی نہ چل جائے۔‘‘عیسیٰ نے ایسی نگاہوں سے دیکھا تھا گویا وہ اسکی اس زبان درازی سے ذرا امپریس نہ ہوا ہو۔۔ ’’’تم کتنے پانی میں ہو، یہ مجھے نہ بتاؤ،اور آئندہ یہ ڈائیلاگ بازی میرے سامنے مت کرنا،ورنہ پھر انجام کی زمہ دار تم خود ہوگی۔‘‘وہ ناگوار لہجے میں تنبیہ آنداز میں بولتا آگے بڑھ گیا تھا۔خفت ذدہ سی مقدس نے بھی ساتھ ہی قدم بڑھائے تھے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عیسیٰ پیچھلے آدھے گھنٹے سے اسکے ساتھ ساتھ چلتا مسلسل کسی نہ کسی بات پر ٹوک رہا تھا،جو جان بوجھ کر فضول سی غیر ضروری چیزیں خرید رہی تھی،وہ بھی نامناسب قیمتوں پر صرف عیسیٰ کو تپانے کے لئے۔ ’’’اور کتنی شاپنگ کرنی تم نے۔‘‘وہ بیس پچیس بیگز تھامے ذرا چڑ کر بولا تھا۔سد شکر تھا،کہ وہ چہرے کور کر کہ یہاں آیا تھا۔۔ورنہ آگر کسی نے تصویر لے لر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کردی ہوتی تو اب تک اسکی عزت کا فالودہ ہو چکا ہوتا۔ ’’یااللہ کیا فائدہ اتنے امیر شوہر کا آگر وہ بیوی کی ضرورت کی چیزوں کا بھی حساب کتاب رکھے،اتنا دیا ہے اللہ نے مگرخرچ کرنے کے معاملے میں دل چڑیا جتنا ہے۔‘‘وہ ذرا بلند آواز میں بڑبڑائی تھی۔ ’’ڈرامہ کوئین!‘‘عیسیٰ زیرِ لب بڑبڑایا تھا۔اتنے میں دونوں خواتین نے بھی وہاں چھاپا مارا تھا۔ ’’’ملاقات ہوگئی آ پ دونوں کی؟‘‘وہ دونوں ضرورت سے زیادہ ہی پرجوش دکھائی دے رہی تھیں۔ ’’’جی!‘‘عیسیٰ نے ماسک کے پیچھے چھپا منہ بگاڑا تھا۔ ’’’تو پھر کیسی لگی میری بہو؟پیاری ہے نا؟‘‘وہ شرارتی لہجے میں پوچھ رہی تھیں۔ جی ماشاء اللہ بہت! اس قدر حسن کی تاب نہیں لا سک رہا میں۔‘‘وہ ذرا چڑ گیا تھا۔جبکہ مقدس نے مسکراہٹ ضبط کی تھی،وہ اتنے دنوں بعد کھل کر مسکرا رہی تھی۔وہ دونوں ایسے لڑ رہے تھے،جیسے برسو کے شناسہ رہے ہوں۔ ’’’خیر مقدس ساری شاپنگ ہوگئی؟‘‘انھونے اب نگاہیں گھمائیں ،،مقدس نے بے چاری سی شکل بنا کر نفی میں سر ہلایا۔ ’’کیوں بھلا؟‘‘انھونے حیرت سے پوچھا۔ ’’’وہ عیسیٰ کہہ رہے ہیں کہ میں زیادہ مہنگی چیزیں نہ لوں،بس میرے پاس جو کچھ ہے اسی میں رخصتی ہوجائے گی۔‘‘معصومیت کی انتہا ہوئی تھی،عیسیٰ نے حیرت سے اُس ڈرامہ باز لڑکی کو دیکھا تھا۔ ’’’عیسیٰ!بیٹا یہ کیا بتا کی ہے آپ نے مقدس سے۔بیٹا بیوی ہیں اب آپ کی،زمہ داری ہیں آپ کی،ان کی ہر ضرورت کا خیال کرنا آپ کی زمہ داری ہے،اور شوہر کے پیسوں پر سب سے زیادہ حق بیوی کا ہی ہوتا ہے۔‘‘وہ ناراض لہجے میں گویا ہوئی تھیں۔ ’’’میں نے ایسا کچھ نہیں کہا مام،مذاق کر رہا تھا،مگر شاید آپ کی بہو کی حسِ مزاح بالکل بیکار ہے۔‘‘وہ ضبط کرتا بمشکل نرم لہجے میں گویا ہوا تھا،ورنہ زرتاج کے بعد تو وہ گھر والوں کے علاوہ اسٹرینجرز کے ساتھ نرم نہیں رہ پاتا تھا،مگر عادت کے برخلاف وہ مقدس کی ہر بات بہت ظرف سے برداشت کر رہا تھا۔ ’’’ہاں بیٹا مقدس اسے عادت ہے سیریس ہوکر مزاق کرنے کی۔خیر آہستہ آہستہ آپ دونوں ایک دوسرے کو سمجھ جائیں گے۔چلیں باقی کی شاپنگ بھی کمپلیٹ کر لیتے ہیں۔‘‘عائشہ بیگم ازلی نرم خوئی سے گویا ہوتیں ان دونوں کو اپنی ہمراہی میں لئے اگلی دکان کی جانب بڑھی تھیں۔ جاری ہے
