Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode no 08
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 27/04/2026
27 Views
Episode no 08
دو پل کو ٹھہرا عشق کا کارواں ازقلم ہما قریشی 8 قسط نمبر جہاں ملازمین کے ساتھ عائشہ بیگم کھانے کی تیاری کر رہی تھیں،کک کو ہداہت کرتیں وہ ہر چیز پر ایک طائرانہ نگاہ گھما رہی تھیں۔ ’’السلام علیکم!‘‘اس نے ذرا جھجھک کر سلام کیا تھا۔ ’’وعلیکم السلام ! اٹھی گئی میری بیٹی!‘‘انھونے مسکرا کر آگے بڑھ کر اسکا ماتھا چوما تھا،مقدس کو ایک خوش کن احساس نے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔کیونکہ وہ عائشہ کو کل دیکھ چکی تھی۔ آج میں تھوڑا لیٹ ہوگئی۔۔‘‘اس نے ذرا جھجھک کر وضاحت تھی۔ ’’’بالکل بھی لیٹ نہیں ہوئیں۔بھئی کل ہماری بیٹی اتنا تھک گئی تھی۔ہمیں معلوم ہے آپ آرام کر رہی تھیں۔زیادہ نہ سوچا کریں۔‘‘انھونے ایک لمحے میں اس کی تمام فکریں دور کی تھیں۔ ’’کل کے لئے سوری!‘‘عائشہ نے اسے ایک نظر دیکھا پھر مسکرائیں۔ ’’میں سمجھتی ہوں بیٹا! آپ کل غصےٰ اور جذبات میں زیادہ بول گئیں۔ماں ہوں اس وقت غصہٰ آیا تھا۔مگر پھر آپ کی پوزیشن بھی سمجھ آئی۔۔آپ کو احساس ہے بس یہی کافی ہے۔باقی میں بس اتنا ہی کہونگی،کہ میرا بیٹا بہت اچھا انسان نہیں ہے مگر کردار کا بہت مضبوط ہے۔‘‘وہ شفیق لہجے میں بول رہی تھیں۔ ’’میں نے آپ کا دل دکھایا ،مجھے پلیز معاف کردیں۔‘‘مقدس کو شرمندگی ہوئی تھی۔ ’’اب بار بار معافی نہ مانگو،جس طرح عیسیٰ میرا بیٹا ہے بالکل اسی طرح آپ بھی میری بہت پیاری سی گڑیا ہیں۔‘‘ مقدس کی آنکھوں میں نمی آگئی تھی۔۔اللہ اس پر اس طرح مہربان ہوگا اس نے تو کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔۔وہ کہاں ان مخلص لوگوں کی بے لوث محبتوں کے قابل تھی۔۔۔ ’’’چلیں آپ بیٹھیں،میں آپ کے لئے ناشتہ کا انتظام کرتی ہوں۔پھر آپ جلدی سے ریڈی ہو جائیں ہم نے شاپنگ پر جانا ہے۔‘‘وہ حیران ہوئی۔ ‘’آج ہی؟ ’’’جی بیٹا جی آج ہی۔۔کیونکہ نیکسٹ سٹرڈے کا آپ دونوں کی رخصتی ہے۔آج فرائیڈے ہے۔یعنی ہمارے پاس صرف ایک ہفتہ ہے۔اور بابا جان کا حکم ہے کہ شادی کی تیاری میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں رہنی چاہئے!‘‘آپ دونوں ہمارے اکلوتے بچے ہیں۔‘‘و ہ محبت سے گندھے لہجے میں بولیں تھیں۔مقدس کی آنکھوں میں نمی تیر گئی تھی۔ چلیں بس اب تیاریاں کرنی ہیں شادی کی،میں نے ڈائزانر اور جیولر کو بھی بلوایا ہے،آپ اپنی پسند ہے سلیکٹ کر لیجئے گا،پھر ریڈی ہونے میں بھی وقت لگے گا۔اور عیسیٰ کا تو اللہ مالک ہے،انھیں تو فرصت ہی نہیں ملتی۔‘‘وہ تیز ی سے بول رہی تھیں۔جبکہ وہ خاموش کھڑی تھی،اتنی جلدی بازی میں نکاح اور اب رخصتی۔عیسیٰ کو سوچتے ہی اسکا دل بیٹھ سا جا رہا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شام کا وقت تھا،آسمان پر شفق کی لالی سی چھائی ہوئی تھی۔شادی اور ولیمے کا جوڑے کا آرڈر دے کر وہ ڈرائیور کے ساتھ سیدھی شاپنگ مال آئی تھیں۔ ’’مقدس بیٹا!آپ ایک کام کیجیے!یہاں اپنے لئے اچھا سا جیولیری سیٹ پسند کریں جب تک میں ساتھ والے بوتیک سے اپنے اور فریحہ کے ڈریس اٹھا لیتے ہیں۔‘‘ اوکے!‘‘اسے سمجھ نہیں آئی تھی کہ وہ ایسا کیوں کہہ رہی تھیں۔۔ خیر وہ شاپ میں آکر جیولری دیکھنے لگی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’’مام !پلیز کیا ہوگیا ہے آپ کو؟ میں آپ خواتین کی شاپنگ میں کیا کرونگا۔‘‘وہ گھر سے نکلنے سے پہلے اسے کال کر چکی تھیں۔ ’’’میں کچھ نہیں جانتی عیسیٰ بس فٹا فٹ سے پہنچو۔مقدس بھی ہمارے ساتھ ہے،مطلب بیوقوفی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے ،تم نے ابھی تک اپنی بیوی کا چہرہ تک نہیں دیکھا ہے۔‘‘انھونے کھٹ سے موبائل بند کرد یا تھا۔یہ انکی ناراضی کا اظہار تھا۔۔اور وہ اپنی ماں کو ناراض کرنے کا تو سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔۔۔ ’’افف کیا مصیبت ہے۔‘‘و ہ سر جھٹک گیا۔۔ مقدس!ہمم!نیک پروین۔۔۔‘‘زِیر لب نام بڑبڑاتا وہ اس لڑکی کی حرکتیں یاد کر سر جھٹک گیا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مقدس ان دونوں خواتین کا انتظار کرنے کے بعد ذرا شرمندہ سی شاپ سے باہر نکل آئی تھی۔کیونکہ اس کے پرس میں تو پھوٹی کوڑی بھی نہیں تھی اور وہ جیولر کے پاس بیٹھ کر لاکھو روپے کی مالیت کے سیٹ دیکھتی عجیب سی سبکی محسوس کر رہی تھی۔۔ وہ ادھر ادھر نگاہیں گھماتیں دونوں خواتین کو تلاش کر رہی تھی،جبھی سامنے سے کال پر بات کرتے ہوئے شخص سے وہ یکدم ٹکرا گئ تھی۔وہ اپنے خیالوں میں اتنی مگن چل رہی تھی،کہ سامنے سے آتے عیسیٰ کو دیکھ ہی نہیں سکی تھی۔۔ ’’’اوہ آئی ایم سوری۔۔۔‘‘اس نے ایک لمحے میں موبائل بند کرتے سامنے دیکھ،اور مقابل کھڑی لڑکی کو دیکھ ایک لمحے کو ٹھہرا،شناسائی کی منزلیں طے ہوئیں،مقدس کا چہرہ فق پڑ گیا تھا،اس نے خوف سے تھوک نگلا تھا۔وہ جتنا اس شخص سے بچ رہی تھی وہ اتنا ہی اس کے سامنے آئے جا رہا تھا۔۔عیسیٰ نے پبلک کی وجہ سے چہرے پر ماسک چڑھا رکھا تھا۔مگر وہ بھلا پہچاننے میں کیسے چونک سکتی تھی۔۔ ’’’تم۔۔۔۔لڑکی تم واقعی اندھی ہو،یا تم شوقیہ طور پر ح غیر مردوں سے ٹکراتی پھرتی ہو۔‘‘عیسیٰ لب بھینچ کر غصےٰ سے غرایا تھا۔اس لڑکی کو سالوں بعد دوبارہ اپنے سامنے دیکھ اسکا غصہٰ ساتویں آسمان کو چھونے لگا تھا۔وہ کبھی اس لڑکی کو چہرہ بھول ہی نہیں سکا تھا۔ ’’’دیکھیں میں صرف غلطی سے آپ سے ٹکرائی ہوں۔۔‘‘مقدس نے گڑبڑا کر صفائی دیتے ارد گرد میں نگاہ گھمائی تھی۔کہیں سے وہ دونوں خواتین نہ آجائے ورنہ وہ عیسیٰ عبداللہ کے عتاب سے کیسے بچتی۔ ’’ایڈیٹ!‘‘وہ سر جھٹک گیا،جبھی اسکا موبائل ایک بار پھر رنگ ہوا تھا۔۔ ’’ہیلو!یس مام!کہاں ہے آپ کی بہو!‘‘وہ مقدس کو تیز نگاہوں سے گھورتا ذرا جھنجھلا کر بولتا ایک طرف کو ہوا۔۔۔اور مقدس کو اب جاکر ساری کہانی سمجھ آئی تھی۔دل دو سو کی اسپیڈ سے دوڑ رہا تھا۔آگر جو اس بندے کو علم ہوجاتا کہ یہ ایڈیٹ ہی اسکی بیوی ہے تو اففف!‘‘ ’’یار کس کلر کے ڈریس میں ہے وہ؟اور آپ لوگ کے ساتھ ہوتے ہوئے وہ کھو کیسے گئی؟اب میں اسے کہاں ڈھونڈوں؟‘‘مقدس نے آنکھوں میں اُتری نمی تیزی سے رگڑ کر اسکی مخالف سمت میں قدم بڑھائے تھے۔ ’’جبھی اسے سامنے سے وہ دونوں خواتین بھی آتی دکھائی دی تھیں۔ ’’’افف !آپ یہاں ہیں،اور میں آپ کو جیولر کے یہاں ڈھونڈ رہی تھی،عیسی ٰ ملا تھے آپ کو۔۔‘انھونے اسے دیکھتے ہی سوال کیا۔۔ ’’’آنٹی میں۔۔۔۔میں وہاں۔۔۔وہ شاپ میں ایک ڈریس۔۔میں وہاں جا رہی ہوں۔۔‘‘وہ جلدی سے ایکسیلیٹر سے اُترتی گراؤنڈ فلور پر غائب ہوگئی تھی،جبکہ ان دونوں خواتین نے ہونقوں کی مانند اس کی اس حرکت کو دیکھا تھا۔ ؎’’اس کو کیا ہوا؟ہمیں چھوڑ کر ہی نیچے چلی گئی؟‘‘حفضہ نے ذرا ناگواری کا اظہار کیا۔ ’’مام!‘‘ابھی وہ دونوں کچھ سمجھتیں کہ انھیں اپنے پیچھے سے عیسیٰ کی آواز سنائی دی تھی۔ ’’’عیسیٰ!‘‘وہ دونوں چونک کر پلٹیں۔ کہاں ہے آپ کی بہو؟‘‘اس اسکی عدم موجودگی محسوس کر بیزاری سے پوچھنے لگا۔۔ ’’’وہ۔۔۔ ’’’یار مجھے بتائیں کہاں غائب ہوگئی ہے،ورنہ اس لڑکی کے غائب ہونے کا قصور بھی گرینڈ پا میرے کھاتے میں ڈال دیں گے،جیسے یہ کام بھی میری وجہ سے ہوا ہو۔۔‘‘وہ ذرا غصےٰ سے بولا۔۔ ’’وہ ابھی نیچے گئی ہے،اپنے لئے کوئی ڈریس لینے۔‘‘انھونے ہونقوں کی مانند صفائی پیش کی تھی۔ ’’پیسے ہیں ا ن کے پاس؟‘‘اس بار وہ ذرا چونک کر بولا۔ ’’نہیں۔۔‘‘دونوں یک زبان بولیں۔ ’’تو کیا اللہ واسطے پر ڈریس لینے گئی ہیں۔یار کون ہیں یہ سلی گرل۔۔۔‘‘وہ بیزاریت سے بولا ۔ ’’چلیں میرے ساتھ۔۔‘‘وہ بھی ایکسلیٹڑ پر پاؤں رکھتا،نیچے کی جانب بڑھا تھا،جہاں مقدس کی شامت آئی ہوئی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ویر از شی؟‘‘اس نے ارد گرد میں نگاہ گھمائی اور ساتھ ہی اپنی ماں اور
