Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode no 08
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 27/04/2026
27 Views
Episode no 08
چچی سے استفسار کیا۔عجیب لڑکی تھی اتنی دیر سے صرف اسے خوار ہی کئے جا رہی تھی۔ ’وہ رہی مقدس۔۔‘‘عیسیٰ نے بھی انکی نظروں کے تعقب میں دیکھا تھا۔مگر پھر وہاں خواتین کے درمیان لمبے سیاہ بالوں والی ایک لڑکی کھڑی نظر آئی تھی۔جس کی انکی جانب پشت تھی۔ ’’شکر ہے مل گئیں ہیں آپ کی بہو صاحبہ!‘‘وہ طنزیہ بولا،اس لمحے وہ ایک چیز سرے سے فراموش کر گیا تھا کہ وہ ابھی اپر اسی لڑکی سے ٹکرایا تھا۔غصےٰ میں اس نے مقدس کے حلیے پر دھیان نہیں دیا تھا،اور اس وقت وہ اسے کچن والی لڑکی دھیان میں رکھ کر اسکی جانب قدم بڑھا رہا تھا۔۔ جبکہ اسکی ماں اور چچی پہلے ہی اس تک پہنچ چکی تھیں۔۔اس بار اس کو بھی مقدس کو دیکھنے کا اشتیاق ہوا تھا۔ ’’بلاشہ اس لڑکی کے بال بہت خوبصورت اور اپیلنگ تھے،ناچاہتے ہوئے بھی اس کے دل میں اس لڑکی کو دیکھنے کی خواہش بیدار ہوئی تھی،اس کے حق حلال کی بیوی تھی۔ ’’مقدس بیٹا کچھ پسند آیا۔۔‘‘وہ ان خواتین کے پیچھے آکر کھڑا ہوا تھا۔۔مقدس کو ایسا محسوس ہوا جیسے عیسیٰ اس کے سر پر آکر کھڑا ہوگیا ہو،دل گھبرا سا گیا تھا،پیشانی پر پسینہ چمک اُٹھا تھا۔ ’’نہیں۔۔۔۔میں تو۔۔۔بس ویسے ہی۔۔‘‘گھبراہٹ میں لفظ ٹوٹ ٹوٹ کر لبوں سے آزاد ہوئے تھے۔عیسیٰ کو اب جھنجھلاہٹ ہوئی تھی،یہ لڑکی اسکی طرف پلٹ کیوں نہیں رہی تھی۔اب ایسا کونسا پردہ لگ گیا تھا،اس لڑکی کو۔ ’’’بیٹا عیسیٰ آپ کو کافی دیر سے ڈھونڈ رہے تھے۔‘‘انھونے پیچھے کھڑے عیسیٰ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا،جو کھوجتی ہوئی نگاہوں سے اسکی پشت تک رہا تھا۔۔ ’’’آپ دونوں دیکھیں،ہم بھی یہیں ہیں۔۔‘‘وہ مقدس کو گھبراتا ہوا دیکھ، وہ دونوں وہاں سے کھسکنے لگی تھیں۔۔ ’’آنٹی میں ۔۔۔میں بھی ساتھ چلتی ہوں نا۔۔میں یہاں کیا دیکھونگی۔‘‘وہ گڑبڑا کر بولی تھی۔عیسیٰ کی پیشانی پر بل نمودار ہوئے تھے۔ ’’’ارے بیٹا عیسیٰ آپ کو شوہر ہے،عیسیٰ بابا جان نے کہا تھا کہ مقدس کو انکی پسند کی شاپنگ کرانا اب آپ کی زمہ داری ہے،ہم نے لڑکے کو اتنی مشکل سے بلوایا ہے۔آپ ان کے ساتھ ٹائم اسپینڈ کریں۔۔‘‘وہ ذرا شرارتی لہجے میں بولی تھیں۔جبکہ مقدس رونے والی ہوگئی تھی۔ ’’’مام جائیں آپ۔۔میں ان کو دیکھ لیتا ہوں۔۔‘‘وہ اسکی جھجھک محسوس کر سنجیدہ لہجے میں بولا،جبکہ مقدس کا بس نہیں چل رہا تھا وہ یہیں سے بھاگ جاتی،کچھ دیر قبل ہی عیسیٰ نے اسکا چہرہ دیکھ کر جس طرح کا رئیکشن دیا تھا، اس کے بعد مقدس بیچاری کا ڈرنا بنتا بھی تھا۔۔۔ ’’’اوکے!میری بہو کا خیال رکھنا۔‘‘وہ تاکید کرتیں گلاس ڈور دھکیلتی باہر نکل آگئی تھیں،جبکہ و ہ سر کو خم دیتا،اسکی جانب پشت کئے کھڑی اپنی زوجہ محترمہ سے مخاطب ہوا تھا۔ ’’’محترمہ اب جب شادی کرنے کا فیصلہ کر ہی لیا ہے تو آپ نا دیدار بھی کرا ہی دیں۔‘‘اس کے بالکل قریب آکر کھڑا ہوتا کان کے قریب سرگوشیانہ لہجے میں بولا تھا،مقدس نے آنکھیں میچ کر بےساختہ ہی تھوک نگلا تھا۔ ’’’ا ب زیادہ نیک پروین بننے کی ضرورت نہیں۔۔شوہر ہوں تمھارا،یا بھول گئ ہو۔‘‘اسے اسٹل ہونہی کھڑے دیکھ،اس نے ذرا جھنجھلا ہٹ میں ہاتھ پکڑ کر رُخ اپنی جانب کیا تھا۔اور وہ جو کچھ بولنے لگا تھا کہ لفظ لبوں میں اَدھورے ہی رہ گئے تھے،مقابل کھڑی لڑکی ،اس کی بیوی۔۔۔ ’’’تم۔۔۔۔‘‘یقینی بے یقینی کی سی کیفیت سے دوچار عیسیٰ کے لبوں سے بمشکل لَفظ ادا ہوئے تھے۔ ’’’وہ میں۔۔۔۔مجھے نہیں پتہ تھا کہ گرینڈ پا میری شادی آپ سے کرا رہے ہیں۔۔‘‘مقدس نے جھٹ وضاحت دی تھی۔۔عیسیٰ جو غصےٰ اور بئ یقینی کی سی کیفیت سے دوچار تھا کہ مقابل کی بات سُن کر اس نے ایک لمحے کے لئے ارد گرد میں نگاہ گھمائی تو اب بہت سے لوگوں کی نظریں انہی پر مرکوز تھیں۔کچھ لوگ اسے پہچان چکے تھے مگر، پھر بھی لیڈیز کے ساتھ دیکھ کر کسی نے اسکی جانب قدم بڑھانے سے اجتناب کیا تھا۔ ’’’چلو یہاں سے۔۔‘‘عیسیٰ نے ایک لمحے میں اسکا ہاتھ تھاما تھا اور شاپ سے باہر نکل گیا تھا۔جبکہ وہ خوفزدہ سی کسی بے جان گڑیا کی مانند اس کے ساتھ کھینچی چلی جا رہی تھی۔جو اسے اپنی ہمراہی میں ایک ُسن سان گوشے میں لا کر ہاتھ چھوڑ چکا تھا۔ ’’’لڑکی تم ۔۔۔۔تم چھوٹے دادا کی پوتی ہو؟‘‘وہ لمحے کی تاخیر کئے بغیر باز پرس پر اتر آیا تھا۔مقدس کی آنکھوں میں ناگواری اتر آئی تھی۔ ’’میں کسی ابدال عبداللہ کی پوتی نہیں ہوں۔میری پیدائش پر ہی میرے ماں، باپ دنیا سے کوچ کر گئے تھے۔‘‘وہ سرد مہری سے گویا ہوئی۔ ’’میڈم مجھے آپ کے شجرہ حسب و نصب جاننے میں کسی قسم کی خاص دلچسپی نہیں ہے۔میں بس اتنا جاننا چاہتا ہوں کہ اس نکاح کے پیچھے تمھارا مقصد کیا ہے؟‘‘وہ تن ہوئی ابرو سمیت کاٹ دار لہجے میں سوال کر رہا تھا۔ ’’اس نکاح کے پیچھے کیا مقصد ہو سکتا ہے میرا؟‘‘مقدس نے دانت پیسے ’’وہی میں جاننا چاہتا ہوں۔تم میرئ گھر تک آگئیں۔اور تو اور دھوکے سے مجھ سے نکاح بھی کرلیا،بہت شاطر لڑکی ہو۔‘‘وہ غصےٰ میں زہر اگل رہا تھا،مقدس نے ہونقوں کی مانند منہ کھول کے کر اس کی گوہر افشائیاں سنی تھیں۔ ’’کیا کہا تم نے عیسیٰ عبداللہ؟‘‘وہ بھی شوہر ہونے کا لحاظ ایک طرف کرتی سیدھا تم پر آئی تھی۔ ’’تمیز سے بات کرو۔‘‘اس کو یہ بد لحاظی ایک آ نکھ نہ بھائی تھی۔ ’’کیا مطلب ہے اس بات کا کہ تمیز سے بات کروں۔آپ اپنے ہوش میں تو ہیں ،کتنا بڑا الزام لگا رہے ہیں مجھ پر۔میں نے۔۔۔میں نے آپ سے دھوکے سے نکاح کرلیا؟واؤ جوک آف دا آئیر!مطلب عیسیٰ عبداللہ نہ ہوگیا مشرقی ڈرپوک قسم کی لڑکی ہوگیا جیسے اس کی ہونے والی بیوی نے ڈرا دھماکا کر زبردستی نکاح نامے پر دستخط کرالیے،اور وہ بیچارہ اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔‘‘اس بار مقدس تنک کر گویا ہوئی،مقابل کھڑا شخص زیادہ ہی ہواؤں میں تھا۔عیسیٰ کی رنگت میں سرخیاں سی گھل گئیں تھیں۔ ’’بکواس بند کرو،اور گھر چل کر گرینڈ پا سے کہو کہ تمھیں یہ شادی نہیں کرنی۔‘‘اس بار وہ ذرا تنک کر بولا۔۔ ’’کیوں نہیں کرنی؟‘‘وہ سینے پر بازو لپیٹ کر شیر ہوئی تھی۔ ’’’کیا مطلب ہے،میں تم جیسی۔۔۔۔۔۔لڑکی سے شادی نہیں کرنا چاہتا۔‘‘تربیت کا لحاظ آڑے آگیا تھا کہ وہ اپنے سخت لفظوں پر قابوں پاگیا۔مقدس کا چہرہ اسکا مطلب سمجھ کر تذلیل کے باعث سر خ ہوگیا تھا۔ ’’آگر آپ کو مجھ سے شادی نہیں کرنی تو یہ بات جا کر خود اپنے گرینڈ پا سے کہیں،میں کسی سے کچھ نہیں کہونگی۔اور نکاح کے بعد کونسی شادی کی گنجائش رہ جاتی ہے۔‘‘آنکھوں میں اُتری نمی پیچھے کو دَھکیلتی وہ سختی سے بولی۔ساتھ ہی اسے لتاڑا بھی تھا۔۔عیسیٰ نے حیرت سے اس لڑکی کی جرات کو ملحظہ کیا تھا،جو کچھ لمحوں قبل تک بھیگی بلی بنی ہوئی تھی۔ ’’اب کھڑے کھڑے میری شکل کیا دیکھ رہے ہیں۔چلیں میرے ساتھ شاپنگ کرنی ہے شادی کی۔‘‘وہ گھور کر بولی تھی عیسیٰ نے تیز نگاہوں سے دیکھا تھا۔بس نہیں چل رہا تھا اس لڑکی کا کچھ کر ڈالتا۔ ’’میں اور شاپنگ ،وہ بھی تمھیں۔۔‘‘وہ استہزائیہ مسکرایا۔ ’’’جی۔۔میں ،شاپنگ،وہ بھی آپ مسٹر شوہر۔چل رہے ہیں یا ملاؤں ایک کال گرینڈ پا کو۔‘‘اس کے تو ہاتھ گویا اس کی دکھتی رگ ہی آگئی تھی۔جیسے وہ جب مرضی چاہئے دبا دیتی۔ ’’تمھیں تو میں۔۔‘‘عیسیٰ اس کی ٹون پر مٹھیاں بھینچ کر رہ گیا۔ ’’س منٹ ہیں تمھارے پاس،جو بھی اٹھانا ہے فوراً سے اٹھا لو۔ورنہ یہیں چھوڑ کر چلا جاؤنگا۔۔‘‘اس لڑکی کو دیکھ گو یا
