Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode no 07
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 26/04/2026
33 Views
Episode no 07
آپ نے اپنے ہیرے کے نصیب میں مقدس نامی کھوٹے سکے کو کیوں تھوپ دیا ہے؟‘‘ابدال صاحب خاموش ہوگئے۔جیسے کہنے سننے کو کچھ باقی نہ رہا ہو۔۔جبکہ عائشہ غصےٰ سے واپس پلٹ گئی تھیں۔وہ سمجھتی تھیں کہ وہ غصےٰ میں تھی، مگر جو بھی تھا بیٹے کے بارے میں غلط بات کہاں برداشت تھی۔۔ ’’خو ش رہو!اگلے ہفتہ میں تمھاری رخصتی ہے،اب تمھارا شوہر ہی تمھاری دنیا ہے،باقی سب بھول جاؤ۔‘‘اس بار وہ لہجے میں ازلی سنجیدگی سموئے تنبیہ آنداز میں بولتے وہاں سے پلٹ گئے تھے۔۔جبکہ مقدس بھاگتی ہوئی اپنے کمرے میں جاکر بند ہوگئی تھئ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؎ عیسیٰ یار کیا ہوگیا ہے ؟ بھائی ریلیکس کر۔۔‘‘یہ اسکا کوئی چوتھا پانچواں سیگریٹ تھا۔جبکہ اسکا دوست یاور مسلسل اسے سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا۔ ’’کیا تم دو منٹ کے لئے خاموشی اختیار کر سکتے ہو؟‘‘وہ سختی سے بولا تھا۔ ’’بھائی نکاح ہی ہوا ہے۔کوئی تباہی نہیں آگئی ہے۔‘‘وہ کراچی کے ساحل کنارے موجود تھے۔ ’’نکاح۔۔۔‘‘عیسیٰ نے سختی سے دانت کچکچائے۔ ’’میں سوچ رہا ہوں کہ تیرا ابھی یہ حال ہے تو تو بھابھی کے ساتھ کیا کرے گا۔‘‘وہ حیران ہوا۔ ’’’تیری بھابھی کو تو میں اچھے سے بتاؤنگا۔ساری زندگی جھونپڑی میں گزار کر وہ لڑکی اب عیسیٰ عبداللہ کے خواب سجانا چاہ رہی ہے۔گولڈ ڈگر۔۔‘‘وہ ناگواری سے پھنکارا،ساتھ ہی سیگریٹ کا ایک گہرا کش لگایا تھا۔ ’’عیسیٰ آٹس ٹو چ!تو کسی کی بھی سزا اپنی بیوی کو نہیں دے سکتا،اور آگر انھونے ان حالات میں لائف گزاری ہے تو اس میں انکا تو کوئی قصور نہیں ہے نا۔‘‘وہ شکوہ کر رہا تھا۔۔ ’’ہاں تم صحیح بول رہے ہو۔‘‘وہ استہزائیہ مسکرایا۔ ’’’کیا صحیح بول رہا ہوں ؟کم ان یار غصہٰ تھوک دے۔۔آگر اللہ نے تم دونون کو نکاح جیسے پاک بندھن میں باندھا ہے نا تو یقیناً کوئی صلحت ہوگی۔۔چپ چاپ سے رخصتی کر،اور بھابھی کے ساتھ ایک اچھی لائف گزار۔۔تو انھیں سمجھنے کی کوشش تو کر،بھائی تو نے انکی شکل تک نہیں دیکھی ۔مطلب حد ہے،نکاح کے بعد بیوی کی شکل تو دیکھنی بنتی تھی۔‘‘اب وہ شرارت سے چھیڑ رہا تھا۔ ’’’کیا پتہ دلہن کے روپ میں کسی لڑکی کو حق حلال کی بیوی محسوس کر تو اسی وقت فدا ہوجاتا۔‘‘عیسیٰ نے خشک تاثرات سے اسے گھورا تھا۔ ’’بکواس نہ کر،سچی بات تو یہ ہے کہ اب مجھے کسی عورت کی خوبصورتی اپیل نہیں کرتی۔‘‘ ’’’ہاں حرام کی عادت جو لگ گئی تھی۔۔مقدس بھابھی تیری حلال کی بیوی ہیں،اور اللہ نے حلال میں محبت و برکت رکھی ہے۔تو ایک قدم بڑھانے کی کوشش تو کر،تیرا د ل انکی جانب خود بخود ہی مائل ہوجائے گا۔‘‘عیسیٰ نے پرسوچ نظروں سے اسکی جانب دیکھا تھا،وہ اسے نجانے کیا کچھ بتا رہا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ صبح صادق سے نکلتا سورج اپنے جوبَن پر تھا۔مقدس کی آنکھ کھڑکی سے آتی دھوپ کی روشن کرنوں سے کھلی تھی،وہ رات بھر جاگتی رہی تھی،اور آنسو بہتی رہی تھی۔کبھی پالنےوالے ماں باپ کی یاد ستانے لگتی تو کبھی پیدا کرنے والے ماں باپ کی بے حسی اُسے رونے پر مجبور کر دیتی۔۔ ’’’کسی اور کی ملکیت میں پہلی صبح بہت بہت مبارک ہو مقدس عیسیٰ عبداللہ!‘‘خود ساختہ سر گوشی کرتی، کسملندی سے اُٹھ بیٹھی تھی۔ اس نے گھڑی میں وقت دیکھا جہاں دپہر کے بارھ بج رہے تھے۔ ’’ہیں؟؟؟میں اتنی دیر سوتی رہی۔۔یا میرے اللہ !آج تو پورا دن چڑھ آیا ہے۔عبداللہ ہاؤس کے مکین کیا سوچتے ہونگے میرے بارے میں ،کہ کل ہی انھونے مجھے اپنی بہو بنایا ہے اور آج ایسی غیر زمہ دارنہ حر کتیں کر رہی ہوں میں۔۔‘‘مقدس لب دانتوں تلے دبائے خود ساختہ سرگوشی کرتی تیزی سے کمبل سمیت کر ترتیب سے رکھتی،پھیلا ہوا کمرہ سمیٹتی،فریش ہونے کے لئے واش روم کی جانب بھاگی تھی۔ ’’’اور صرف پندرھ منٹ میں وہ لان کے سادھ سے جوڑے میں ملبوس ہلکی پھلکی سی تیاری کرتی ایک عزم کے ساتھ نیچے کی جانب بڑھی تھی۔ ’’’اب تم مجھ پر چیخ و چلاؤ کچھ بھی کرو،مگر اب بیوی تو تمھاری میں ہی ہوں عیسیٰ عبداللہ!‘‘خود ساختہ سر گوشی کرتی وہ، کچن میں آئی تھی جاری ہے
