Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode no 07
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 26/04/2026
33 Views
Episode no 07
دو پل کو ٹھہرا عشق کا کارواں ازقلم ہما قریشی 7 قسط نمبر عیسیٰ غصےٰ سے تن فن کرتا، اپنے پرسنل جِم میں آگیا تھا،کیونکہ اب یہی واحد جگہ تھی،جہاں وہ اپنا غصہٰ اتار سکتا تھا، سیاہ آنکھوں میں میں غصے کی سرخی مزید واضح ہوگئی تھی۔ ہوا میں معلق سیاہ پنچنگ بیگ پر اس نے بنا کوئی وقت ضائع کیے ایک زوردار مکا مارا تھا۔یہ گھونسا گویا ان تمام لڑکیوں کو مارا ہو ،جو اس کے سر پر مسلط ہونے کی کوشش کرتی تھیں،۔۔۔۔ ’’سریسلی!اس ڈرامہ کوئین کا نکاح ،وہ بھی مجھ سے۔‘‘ پنچنگ بیگ پرایک اور مکا، اتنی شدت سے مارا تھا کہ بیگ زنجیروں سمیت تیز تیز جھولنے لگا تھا ۔ ہر بار میرے ساتھ ہی کیوں؟ گرینڈ پا کو قربانی کا بکرا بنانے کے لئے ہمیشہ میں ہی نظر آتا ہوں؟‘‘’’ غصے کی شدت سے اس کا سانس دھونکنی کی مانند چلنے لگا تھا، پیشانی کی رگیں تن گئیں۔ وہ اتنی شدت سے زوردار گھونسے مار رہا تھا ، کہ ہاتھ کی پوریں سُرخ ہو گئیں تھیں۔۔ "میں کسی کے فیصلے کا غلام نہیں ہوں! میں اپنی مرضی سے جینے والا انسان ہوں۔" ’مجھے آپ کی اس ڈرامہ کوئین سے شادی نہیں کرنی گرینڈ پا!اپنی پوتی کے لئے آپ کسی اور بکرے کو تلاش کرلیں۔۔‘‘وہ تیز لہجے میں غراتا گویا خود کو یقین دلا رہا تھا۔ساؤنڈ پروف دروازوں سے آواز واپسی آرہی تھی ۔کیونکہ گرینڈ پا تو حکم صادر کر چکے تھے۔ ’’میں۔۔۔میں تمھاری زندگی برباد کردونگا۔گرینڈ پا کی منہ چڑی۔۔تم عیسیٰ عبداللہ سے شادی کر کہ صرف پچھتاؤگی۔۔اب سمجھ آیا کہ یہ نیک پروین ہونے کے ڈرامے کیوں کر رہی تھی کہ لڑکی۔۔‘‘وہ خود ساختہ بڑبڑاتا سارا قصور مقدس کے کھاتے میں ڈال چکا تھا۔ پتہ نہیں کیا مصیبت ہے۔‘‘جھنجھلا کر وہ اپنے بال ہاتھوں میں تھام گیا۔وہ اسے مقدس کی حقیقت اور تمام حالات سے آگاہی دیتے کہیں نہ کہیں بے بس کر گئے تھے۔ ’اس دنیا کی ساری لڑکیاں ایک جیسی ہوتی ہیں،جھوٹی اور مکار،ڈرامے باز،تمھیں تو میں نہیں چھوڑونگا ڈرامہ کوئین۔۔‘‘عجیب فرسٹیشن تھی،جو وہ جنونی آنداز میں پنچنگ بیگ پر نکال رہا تھا۔ایک اشتعال سا برپا تاھا۔سمجھ نہیں آرہا تھا کہ زندگی آخر اس سے چاہتی کیا تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رات کا سیاہ اندھیرا ہر سو اپنے پنکھ پھیلا چکا تھا،کمرے میں مدھم روشنی پھیلی ہوئی تھی، اور کھڑکی کے پردے ہلکی ہلکی ہوا میں سرسرا رہے تھے۔ مقدس کے کانوں میں خبریں پڑ چکی تھیں۔وہ خاموشی سے بیڈ کے کنارے بیٹھی، دوپٹے کے کنارے مروڑ رہی تھی۔ ذہن خالی تھا، سوچیں مفلوج ہو گئی تھیں۔عائشہ دروازے پر دھیرے سےدستک دیتیں،کمرے میں داخل ہوئی تھیں۔۔ ’’مقدس، بابا جان نے کہا ہے تیار ہوجائیں،آپ کا اور عیسیٰ کا نکاح ہے۔‘‘انھونے نرمی سے اسکی جانب دیکھا تھا،وہ بھی اتنی ہی بے بسی تھی جتنا عیسیٰ۔یا شاید وہ بچی تو عیسیٰ سے زیادہ بے بس تھی۔اور بابا جان کا فیصلہ بھی،محض اسکے قدم اس گھر میں مضبوط کرنے کے لئے تھا۔۔انھیں اس رشتہ پراعتراض ضرور تھا،مگر وہ جتنے دن سے یہاں تھی،ایک بات تو وہ بخوبی سمجھ گئی تھیں کہ وہ ایک سلجھی ہوئی لڑکی تھی۔ ’’نکاح؟‘‘ مقدس کے انگلیاں دوپٹے میں ہی جم گئیں تھیں، آنکھیں حیرت اور بے یقینی سے پھیل گئیں تھیں۔ دل جیسے ایک لمحے کو دھڑکنا بھول گیا۔ "عیسیٰ سے ؟!" وہ بمشکل سرگوشی کر پائی تھی۔دل میں خوف پنجے گاڑ کر بیٹھا تھا۔ "ہاں… عیسیٰ سے۔۔" عائشہ نے نرمی سے اُس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا۔ کمرے میں چند لمحے خاموشی کا راج رہا۔ مقدس کے پاس انکار کی گنجائش نہیں تھی۔ ’’آپ کا جوڑا کچھ دیر میں ملازمہ دے جائے گی۔آپ تیار ہوجائیں۔اور بے فکر ہوجائیں۔میرا بیٹا آپ کا بہت خیال رکھے گا۔‘‘وہ مسکرا کر بولتی کمرے سے نکل گئیں تھیں۔۔جبکہ اسکی نگاہوں کے سامنے ایک منظر چلنے لگا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "چٹاخ!" زور دار تھپڑ کی گونج فضا میں بکھرتے ہی ہر نگاہ اس سمت مڑ گئی تھی۔ ایک لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی، جیسے کسی نے پورے مال کی آواز کو میوٹ کر دیا ہو۔ عیسیٰ عبداللہ کا ہاتھ غیر ارادی طور پر اپنے جلتے ہوئے گال پر جا ٹکا تھا۔ آنکھوں میں بے یقینی تھی، وہ کبھی سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھ رہا تھا، کبھی ارد گرد جمع ہوتے لوگوں کو۔ "تم سمجھتے کیا ہو خود کو؟" مقدس کا پورا وجود غصے سے لرز رہا تھا، وہ آنکھوں میں سلگتی چنگاریاں لیے اس شخص کو گھور رہی تھی، جس کی شہرت کے قصے ہر طرف پھیلے ہوئے تھے، جو لاکھوں لوگوں کا آئیڈیل تھا۔ مگر اس وقت وہ بے بس لگ رہا تھا۔ "تم… تم نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا؟" عیسیٰ کے چہرے پر حیرت کا رنگ گہرا ہوگیا۔ اسے یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ کسی نے،بلکہ ایک لڑکی نےاسے سب کے سامنے تھپڑ مار دیا تھا۔ مال میں لوگوں کا رَش بڑھنے لگا تھا، سرگوشیاں ہونے لگیں، کوئی موبائل نکال کر ریکارڈنگ کرنے لگا، تو کوئی اس نظارے کو کھڑے کھڑے انجوائے کرنے لگا۔ "ہاں! کیونکہ آپ جیسے شخص کے لیے یہی سزا کافی ہے!" مقدس کی آواز بلند تھی، اتنی کہ آس پاس کے لوگ مزید متوجہ ہوگئے۔ "تم!" عیسیٰ کا غصہ آسمان کو چھونے لگا تھا، وہ آگے بڑھنے ہی والا تھا کہ اچانک اس کا مینجر درمیان میں آ گیا۔ "سر، پلیز! یہاں پبلک ہے، آپ کی ریپوٹیشن کا سوال ہے!" عیسیٰ نے لب بھینچ کر خود پر قابو پایا، مگر اس کی آنکھوں میں غصے کی لہر واضح تھی۔ "میڈم، پلیز! جائیے یہاں سے، ورنہ مجبوراً پولیس کو بلانا پڑے گا۔‘‘مقدس اس پر ایک تیز نگاہ ڈالتی مال سے نکل آئی تھی۔۔جبکہ عیسیٰ حیران و پریشان سا تھا۔۔اسے سمجھ ہی نہیں آیا تھا کہ اتنی چھوٹی سی بات پر ایک لڑکی اسے تھپڑ مار چکی تھی۔ ’’یہ لڑکی۔۔۔‘‘ ’’سر دراصل مس انڈر اسٹنڈنگ ہو گئی ہے۔ ہم یہاں رئیل پرینک کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔مگر یہ لڑکی کوئی اور تھی یہ ماڈل گرل نہیں تھی۔۔اس لئے آپ کے اس طرح ہاتھ پکڑنے پر وہ غصہٰ ہوگئی۔‘‘مینجر نے قریب آکر سمجھایا۔۔ ’’بھاڑ میں گیا تمھارا لائیو پرینک۔۔تمھاری وجہ سے ایک لڑکی مجھے اتنی باتیں سنا گئی ہے۔‘‘عیسیٰ غصےٰ سے بولتا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔ ’’اوہ گائز! آپ لوگ کیوں اتنے پریشان ہیں۔۔آٹس آ لائیو پرینک۔۔۔ جسٹ ریلیکس! اُمید ہے کہ آپ نے انجوائے کیا ہوگا۔۔‘‘لوگوں کو ہونق بنا اپنی جگہ پر ساکت کھڑا دیکھ،انھونے مسکرا کر دفاع کیا۔۔جس پر سب سر جھٹک کر اپنے راستے چل پڑ ے تھے۔کیونکہ وہ عیسیٰ سے تو اچھی خاصی واقفیت رکھتے تھے۔ جو ایک ابھرتا ہوا نام تھا۔۔اب نجانے وہ سچ کہہ رہا تھا یا جھوٹ،لیکن لوگ اپنے اپنے رستہ ہولئے تھے۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوپہر کی نرم گرم دھوپ کی کرنیں عبداللہ ہاؤس کے وسیع و عریض لان میں اترتی منظر میں ترو تازگی سی بخش رہی تھی ، جہاں سفید اور سنہری پھولوں سے سجی میزیں اور روایتی انداز میں بچھے قالین ایک خاص تقدس کا احساس دلا رہے تھے۔ درمیان میں حائل پردے کی ایک جانب مولوی صاحب بیٹھے تھے، اور دوسری طرف خاندان کے بزرگور خاموشی سے نکاح کی سنت ادا کرنے کے لیے بیٹھے تھے ۔۔سب کچھ محض چند گھنٹوں میں اناً فاناً ہوا تھا۔۔گھر کی دونوں خواتین خاموش تماشائی بنی ہوئی تھیں۔۔ سفيد مخملی پردے کے پیچھے بیٹھی مقدس یوسف دلکش مگر سادہ ایمبرائیڈڈ شلوار سوٹ کے لباس میں ملبوس خاموش بیٹھی ہوئی تھی۔ اس کے چہرے پر کسی قسم کا گھونگھٹ نہیں تھا، مگر حیا کی
