Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode no 07
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 26/04/2026
33 Views
Episode no 07
چادر میں وہ خود کو مکمل طور پر سمیٹے ہوئے تھی۔ اس کی نظریں حیا سے جھکی ہوئی تھیں،دل میں عجیب سے خدشات پنجے گاڑ کر بیٹھے تھے۔۔ لبوں پر اللّه کا ذکر جاری تھا ۔۔یہ وہ لمحہ تھا جب مقدس کا پورا وجود بری طرح سے کپکپا رہا تھا۔ماں باپ کی یاد بری طرح سے ستا رہی تھی۔۔۔ پردے کے اس پار سامنے عیسیٰ عبداللہ سفید کاٹن کے نفیس شلوار قمیض سوٹ میں ملبوس، پر وقار انداز میں سکون کی تصویر بنا بیٹھا تھا۔ چہرے پر سنجیدگی چھائی ہوئی تھی ،اس کی تیز نظریں نکاح نامہ کے علاوہ ساتھ رکھے دستاویزات پر جمی بھی ہوئی تھیں، مگر دل کی دھڑکنیں کچھ اور ہی کہہ رہی تھیں۔ قاضی صاحب نے نکاح کے الفاظ دوہرائے، اور ہال میں موجود ہر شخص کی سماعتیں انہی لفظوں پر مرکوز ہو گئیں۔ "’’بیٹی مقدس یوسف! کیا آپ کو عیسیٰ عبداللہ سے نکاح قبول ہے؟"مقدس کا دل ایک لمحے کو جیسے رک سا گیا تھا ، ہاتھوں کی پوریں پسینے سے بھیگنے لگیں۔ اس نے آہستہ سے آنکھیں موند کر بے لغام ہوتے دل کو خود ہی سنبھالا، اور پھر مدھم مگر پُراعتماد لہجے میں اللّه اور اسکے رسول کو شاہد بنا کر نکاح منظور کرچکی تھی۔۔ "قبول ہے!" یہ تین الفاظ ادا ہوتے ہی کائنات جیسے گواہ بن گئی۔اور پھر قاضی صاحب نے عیسی کی طرف رخ کیا۔ "عیسیٰ عرشمان عبداللہ ولد عرشمان ابتسام عبداللہ ! کیا آپ کو مقدس یوسف ولد یوسف ابدال عبداللہ کے ساتھ نکاح قبول ہے؟" عیسیٰ نے ایک گہرا سانس لیا، ایک ناراض نگاہ پاس کھڑے عبدالله ہاؤس کے مکينوں پر ڈالی اور پھر مضبوط لہجے میں جواب دیا۔ "قبول ہے!" تین بار یہی الفاظ دہرا دیے گئے، نکاح مکمل ہونے کی صدا کے ساتھ ہی درود و سلام کی آوازیں بلند ہوئیں۔ مقدس کی پلکوں پر نمی ٹھہر گئی تھی، جبکہ عیسیٰ عبداللہ کے چہرے پر ایک عجیب سی مسکراہٹ تھی۔گویا یہ نکاح اس نے کسی خاص مقصد کے تحت کیا ہو جیسے۔۔۔۔۔ عبداللہ ہاؤس کے ہال میں دو دل، دو روحیں ایک مقدس رشتے میں جُڑ گئیں تھیں ۔۔نئے باب کھل رہے تھے ۔۔نئی کہانیاں جنم لے رہی تھیں ۔۔ہر طرف مبارک سلامت کی صدائیں گونج رہی تھیں۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مقدس دم سادھے خاموشی سے ایک طرف کو بیٹھی تھی،نکاح کے فوراً بعد عیسیٰ اس سے ملاقات کئے بغیر ہی نجانے کہاں غائب ہوگیا تھا،اپنا آپ بہت بے مول محسوس ہو رہا تھا،دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔ عائشہ بیگم اسے پیار کرنے کے بعد دعاؤں سے نوازتیں اپنی ہمراہی میں ساتھ لئے آندر آگئی تھیں،جہاں اس وقت کوئی بھی نہیں تھا۔نکاح میں محض عبداللہ ہاؤس کے مکین اور ا بدال صاحب کے گھر والے مدعو تھے۔مگر شرکت صرف مقدس کے سگے دادا یعنی ابدال صاحب نے ہی کی تھی۔۔۔وہ اکیلی خاموش بیٹھی، انگلیاں مسل رہی تھی جبھی کسی کے قدموں کی چاپ قریب محسوس ہوئی تھی،اس نے چونک کر سر اٹھایا تو نگاہ سیدھی مقابل کھڑی شخصیت سے جا ملی تھی۔ نکاح کی بہت مبارک ہو میری بچی!‘‘ابدال صاحب نے آگئے بڑھ کر اس کے سر پر ہاتھ رکھا تھا،اور وہ حیرت اور بے یقینی کی تصویر بنی بس انھیں دیکھتی رہ گئی تھی۔اس تقریب میں وہ بھی شامل تھے،وہ تو جانتی تک نہیں تھی،تو کیا اسکا باپ بھی۔۔۔۔ ’’کیسی ہو؟‘‘وہ پاس بیٹھ گئے تھے۔دل تو چاہ رہا تھا کہ اکلوتی پوتی کو سینے سے لگا لیتے،جیسے انھونے کبھی اون نہیں کیا تھا۔ ’’آپ۔۔۔‘‘مقدس کے لب کپکپائے تھے۔ ’’’میں جانتا ہوں کہ میری بیٹی مجھ سے شدید قسم کا نارض ۔۔۔‘‘ان کے لفظ لبوں میں ہی ادھورے رہ گئے تھے۔ ناراض۔۔۔‘‘مقدس کو اپنی آواز کھائی سے آتی محسوس ہوئی تھی۔دل دو سو کی اسپیڈ سے دوڑ پڑا تھا۔ ’’میں آپ سے ناراض ہو سکتی ہوں؟ابدال عبداللہ سے۔۔میری کیا اوقات ہے سر۔۔‘‘وہ طنزیہ بولی تو ابدال صاحب کو وہ خود ے بہت دور محسوس ہوئی تھی۔ ’’ایسے نہ کہو میری بچی!تم میری اولاد ہو،میرا خون ہو۔۔‘‘وہ تڑپ کر بولے تھے۔ ’’خون؟؟کیا گارنٹی ہے آپ کے پاس اس بات کی۔کہ میں آپ کے بیٹے کا خون ہوں،میری رگوں میں آپ کے اعلیٰ خاندان کا خون دوڑ رہا ہے میری رَگوں میں۔اَرے میری ساری زندگی ایک مڈل کلاس عام سے علاقے کے رہائشی دو میاں بیوی کے گھر میں گزری ہے،جن کے پاس آپ جتنی دولت تو نہیں تھی،مگر احساس بہت تھا،انسانیت کا جذبہ تھا،جو انھونے مجھ لاوارث یتیم کو اپنا نام دیا،گھر میں پناہ دی،میری پرورش کا بیڑہ اٹھایا۔‘‘وہ دکھ بیان کرتے مقدس کی آنکھوں سے آنسوں روان تھے،دل میں درد سا اٹھ رہا تھا۔آواز بھیگ سی گئی تھی۔ مجھے معاف۔۔۔معاف کردو میرے بچے!‘‘وہ شاید پہلی بار کسی کے سامنے نادم ہوئے تھے۔ ’’کیا میرے نکاح میں آپ کا بیٹا بھی شامل تھا؟‘‘وہ تلخی سے پوچھ رہی تھی۔ ’’نہیں! آج یوسف اپنی فیملی کے ساتھ، دبئی میں ایک پارٹی میں انوئٹڈ تھا، اور تمھارا نکاح بھائی صاحب نے بہت جلد بازی میں کیا ہے،آگر پہلے سے پلین ہوتا تو بیٹا تمھارا باپ بھی اس نکاح میں ضرور شامل ہوتا۔‘‘انھونے اسکا دل صاف کرنا چاہا تھا۔ ’’اوہ!اب میں سمجھی کہ آپ میرے پاس کیوں آئے ہیں۔ آپ کے اصل خون جو آپ کے ساتھ نہیں ہے تو آپ مجھ دو ٹکے کی عورت کو خون کو ہمدردی کے تحت مبارک دینے آگئے۔‘‘وہ سمجھ کر استہزائیہ مسکرائی تھی۔ابدال صاحب نے بے بسی اس کی جانب د یکھا تھا۔اس بچی کی زندگی میں اتنی تلخیاں گھولنے والے بھی تو وہ بدذات خود ہی تھے۔ ’’ویسے داد دینی پڑے گی آپ کو۔سب کچھ کر کہ بھی کتنے مطمئن ہیں نا آپ۔‘‘مقدس کادل غم سے پھٹا جا رہا تھا۔ ’’میں مانتا ہوں کہ میں نے ماضی میں تمھارے ساتھ بہت زیادتی کی تھی،میں معافی نہیں مانگو نگا،جب تم اپنے بوڑھے دادا کو اس قابل سمجھو تو دل سے معاف کردینا،مگر ہاں آج تمھاری زندگی کا ایک فیصلہ لے کر میں بہت خوش اور مطمئن ہوں،عیسیٰ بیٹا بہت اچھا ہے،مجھے یقین ہے کہ وہ تمھارے لئے ایک اچھا ہمسفر ثابت ہوگا۔‘‘وہ آاپنے آنسوؤں پر ضبط کرتے بمشکل بول پائے تھے۔ ’’’اوہ تو یہ آپ کا فیصلہ ہے۔مجھے لگا میرے محسن کا فیصلہ تھا،ویسے بھی مقدس تو سب کے احسانوں کے بوجھ تلے اتنی دب چکی ہے کہ اب تو کندھے بھی ٹوٹتے محسوس ہوتے ہیں۔جن کی گردن بوجھ تلے جھک چکی ہوں وہ بھلا اپنا حق کے لئے کیا آواز اٹھا سکتے ہیں۔یعنی آپ نے اپنی خود گرزی اور ضمیر کی ملامت میں ایک بار پھر مجھے ایک ان چاہے بوجھ جیسے رشتہ میں باندھ دیا ہے،واہ ابدال صاحب واہ۔۔۔آپ میری زندگی میں کہیں نہ ہوکر بھی ہر جھہ دخل آندازی کا باعث بنتے ہیں۔‘‘مقدس کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔ ’’عیسیٰ اچھا بچہ ہے۔‘‘انھونے بس اتنا ہی کہا تھا۔ ’’’ہاں وہ اچھا بچہ،جو مجھ سے پہلے بھی کئی لڑکیون میں انولو رہا ہے،اسکی محبت کے قصے پوری دنیا جانتی ہے،اس کے ٹاکس ریلیشن شپ کی حقیقت پوری دنیا کے سامنے واضح ہے۔جو کریکٹرلیس مرد ہے۔‘‘وہ کہیں کا جھنوڑ کہیں اتارنے کے چکر میں جو منہ میں آتا بولتی چلی جا رہی تھی۔عائشہ بیگم جو کچھ لمحے قبل ہی وہاں آئیں تھیں،اپنی نئی نویلی بہو کے منہ سے اپنے بیٹے کے لئے اس طرح کے جملے سن کر انکا پارہ ہائی ہوا تھا۔ ’’’نہ میرا بیٹا! عیسیٰ بہت فرمابردار اور نیک بچہ ہے ہمارا،ہیرہ ہے ہیرہ،،وہ لڑکی ہے بد بخت تھی ہیرے کی قدر نہ کر سکی،‘‘انکے لہجے میں افسوس تھا۔ ’’’تو
