Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode no 06
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 25/04/2026
24 Views
Episode no 06
پر سب ہی خاموشی اختیار کر گئے تھے۔۔آج تک عبداللہ ؤاوس میں ہونے والے تمام تر فیصلے وہی لیتے آئے تھے۔۔اور آج بھی یہی ہونا تھا۔۔۔ "’’مگر بابا جان، کیا نکاح کا رشتہ اتنا آسان ہوتا ہے؟ کیا دو لوگوں کو ایک ساتھ باندھ دینا ہی کافی ہے؟"عائشہ نے ہلکی مگر کاٹ دار آواز میں کہا۔ بات بیٹے کی تھی۔۔اور جب بات اولاد پر آجائے تو اصولوں کی پاسداری مشکل ہوجاتی ہے۔۔۔ ابتسام صاحب نے پہلی بار نظریں اٹھائیں، ان کی آنکھوں میں وہی ٹھہراؤ تھا۔جو ہمیشہ سے تھا۔ "’’رشتے صرف پسند سے کے نہیں ، بلکہ وقت اور حالات کے بھی محتاج ہوتے ہیں۔وہ دونوں ہی عاقل و بالغ ہیں،عیسیٰ پہلے ایک بار اپنی مرضی چلا چکے ہیں۔۔اب عیسیٰ اور مقدس دونوں کو زندگی کی حقیقتوں کا سامنا کرنا ہوگا۔ اور جو فیصلے بڑوں کی دانائی سے کیے جائیں، وہ ہمیشہ مضبوط ثابت ہوتے ہیں۔"کسی کے پاس مزید کچھ کہنے کے لیے الفاظ نہیں تھے۔ اس فیصلے نے سب کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اور اب، سوال یہ تھا… عیسیٰ کا ردِعمل کیا ہوگا؟جو پہلے ہی اس رشتہ سے بدظن تھا ۔۔وہ اپنی زندگی میں کسی عورت کا سایہ تک برداشت نہیں کر سکتا تھا۔کجاکہ زبردستی شادی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ باہر سے واپسی پر ابتسام صاحب کے حکم پر سیدھا انکے اسٹدی میں آیا تھا،جہاں وہ اسے حیرت کے جھٹکا دینے کے لئے تیار بیٹھے تھے۔ وہاٹ؟ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں گرینڈ پا ؟‘‘وہ حیران در حیران ہوا تھا۔۔ بیٹے ایسا بھی کیا انوکھا کہہ دیا ہم نے کہ ، آپ اس قدر حیرانی کا مظاہر ہ کر رہے ہو۔‘‘ انھونے اپنے پوتے کو گھور کر دیکھا تھا۔ ’’گرینڈ پا ! مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ آپ ایسی بات کر کیوں رہے ہیں؟‘‘وہ ذرا خفا ہوا۔۔ ’’میں نے ایسی بھی کوئی انوکھی بات نہیں کی،کہ آپ اس طرح کا رویہ اختیار کر رہے ہیں۔‘‘ وہ ذرا برہم لہجے میں بولے تھے۔ ’’میں اس لڑکی سے قطعی شادی نہیں کرونگا۔۔‘‘اس نے فیصلہ سنایا تھا۔ ’’’کیوں؟کوئی خاص وجہ؟کیا آپ کسی اور کو پسند کرتے ہیں؟‘‘انہونے ذرا گھور کر استفسار کیا۔’ ’’ایسی بات نہیں ہے۔‘‘وہ زچ ہوا۔ ’’تو پھر کیسی بات ہے؟ شادی سے انکار کی وجہ بتادیجئے،ہم آپ کو فورس نہیں کریں گے۔‘‘وہ کھوجتی نگاہوں سے اسکے بدلے تاثرات دیکھ رہے تھے،جو بے بسی کی تصویر بنا کھڑا تھا۔۔ ’’بس مجھے نہیں کرنی ہے شاد ی گرینڈ پا۔‘‘اس نے سپاٹ لہجے میں انکار کیا تھا۔ ’’شادی تو کرنی پڑے گی عیسیٰ عبداللہ!اور یہ ہمارا حکم ہے،ورنہ ہم بھول جائیں گے کہ ہمارا کوئی پوتا بھی تھا۔‘‘انہونے سخت لہجے میں کہتے نگاہیں پھیر لی تھیں۔ ’’آپ مجھے وہ سب کرنے پر مجبور کررہے ہیں،جس کام کو کرنے کے لئے میرا دل آمادہ نہیں ہے۔‘‘اس نے لب بھینج لئے تھے۔ ’’دل کی آمادگی کی بات نہ کرو عیسیٰ عبداللہ ۔رضامندی ظاہر کرو،تاکہ نکاح کی سنت ادا کی جا سکے۔‘‘وہ فیصلہ کن لہجے میں بولے تو وہ کتنی ہی دیر خاموش رہا۔ ’’آگر میں انکار کردوں؟‘‘اس نے آئی برو اٹھائے۔ ’آپ کے پاس انکار کی گنجائش نہیں ہے۔‘‘انہونے سختی سے باور کرایا ،جبکہ عرشمان صاحب ایک طرف کو بالکل خاموش کھڑے تھے۔ ’’’آپ ایک بار پھر مجھ پر اپنی مرضی مسلط کرنا چاہ رہے ہیں دادا جان۔‘‘ایک آخری کوشش۔ ’عرشمان نکاح خواہ کا انتظام کرو،یہ نکاح،ابھی اور اسی وقت ہوگا۔‘‘اس بار وہ فیصلہ کن لہجے میں گویا ہوئے تھے،تو وہ لب بھینچ گیا۔ ’’ٹھیک ہے جیسی آپ کی مرضی !مگر مجھ سے مزید اچھے کی اُمید نہ رکھئے گا،کہ آخری بات، آپ صرف میرے ساتھ نہیں بلکہ آپ اس لڑکی کے ساتھ بھی زیادتی کر رہے ہیں۔‘‘وہ ناگواری سے بولتا وہاں سے واک آوٹ کر گیا تھا۔ جاری ہے
