Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode no 06
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 25/04/2026
24 Views
Episode no 06
دو پل کو ٹھہرا عشق کا کارواں ازقلم ہما قریشی 6 قسط نمبر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عبداللہ ہاؤس کے پچھلے حصے میں بنی وسیع، پرائیویٹ جِم میں نیم اندھیرے کا راج تھا، صرف چھت پر لگے ایل ای ڈی لائٹس کی مدھم روشنی ہر سو پھیلی ہوئی تھی۔ ایک دیوار پر قد آدم آئینہ نصب تھا، جس میں ہر زاویے سے ایک خوبرو اور مضبوط شخصیت کا عکس دکھائی دے رہا تھا۔ شیشے کے سیاہ فریم والے دروازے کے باہر سے دیکھیں تو منظر کچھ یوں تھا۔ عیسیٰ عبداللہ، سیاہ جم شارٹس اور ہلکے بھورے رنگ کی بغیر آستین کی ٹینک ٹاپ پہنے ہوئے، پسینے میں بھیگا ہوا تھا۔ اس کے چوڑے کندھے، سخت بازو، اور تناؤ میں آئے ہوئے پٹھے صاف نظر آ رہے تھے۔ سانسوں کی تیز روانی اور جسمانی مشقت کی شدت، واضح تھی۔۔ وہ بینچ پریس پر لیٹا، دونوں ہاتھوں سے بھاری وزن کو اٹھا ئے ہوئے تھا۔ ہر دفعہ جب وہ باربل کو نیچے لاتا، اس کے بازو اور سینے کی نسیں مزید ابھر آتیں۔ ۔ "ایک… دو… تین…!" وہ زیر لب خود سے سرگوشی کرتا، ہر سیٹ مکمل کرتے ہوئے خود کو مزید آگے دھکیل رہا تھا۔ ہلکے ہلکے پسینے کے قطرے اس کی پیشانی سے بہتے ہوئے، اس کی جبڑے کی ہڈی پر جا گرتے، مگر اسے اس کی کوئی پرواہ نہیں تھی۔ قریب ہی ایک ڈیجیٹل اسپیکر پر دھیمی بیٹ والا انسٹرومینٹل ٹریک چل رہا تھا، جو پورے ماحول پر سماں سا باندھ رہا تھا۔ جِم کے ایک کونے میں ڈمبلز، کیٹل بیلز، رسی، اور پنچنگ بیگ ترتیب سے رکھے ہوئے تھے، مگر اس وقت عیسیٰ کی توجہ صرف ایک چیز پر تھی۔اپنی برداشت، اپنی قوتِ برداشت پر۔۔۔! لیکن شیشے کے دروازے کے اس پار، ایک خوبصورت نظارہ اور واضح تھا۔ باہر ہلکی روشنی میں کوئی موجود تھا، مگر عیسیٰ کو اس کا علم نہیں تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مقدس کی سانسیں بے ترتیب ہو رہی تھیں۔ وہ شاید خود بھی نہیں جانتی تھی کہ اس کے قدم یہاں تک کیسے پہنچے۔ اس کے ہاتھوں میں پکڑی کافی کپ کی گرفت کچھ لمحوں کے لیے کمزور ہوئی، اور اس نے بے ساختہ تھوک نگل کر لبوں کو تر کیا۔ عیسیٰ عبداللہ اس کے بالکل عین سامنے تھا،پسینے میں بھیگا، سنجیدہ چہرہ، مضبوط بازوؤں میں کھنچاؤ، اور وہ قاتل نظریں جن میں مقدس کو عجیب سی چمک محسوس ہوتی تھی۔ مقدس نے پلکیں جھپکائیں، جیسے یقین نہ آ رہا ہو کہ وہ کیا دیکھ رہی ہے۔ مگر اگلے ہی لمحے، جیسے ہی عیسیٰ نے باربل رکھ کر اپنا سر پیچھے کیا، آنکھیں ہلکی سی جھپک پر کھولی تھیں… مقدس بجلی کی تیزی سے ایک طرف ہو گئی،۔ ’’یہ میں کیا کر رہی ہوں؟" دل میں خود کو ملامت کرتے ہوئے وہ جلدی سے پلٹنے لگی، مگر اسی وقت عیسیٰ نے کچھ غیر معمولی محسوس کر مشین سے اُٹھ کر تولیے سے اپنا چہرہ پونچھا اور دروازے کی طرف قدم بڑھائے۔۔۔ ’’ٹھک کی آواز کے ساتھ جِم کا دروازہ کھلا تھا، اور عیسیٰ باہر نکلا۔ تھوڑی کھجاتا وہ کھوجتی آنکھوں سے آس پاس دیکھ رہا تھا، کہ شاید یہاں کوئی موجود ہو۔ ایک پل کے لیے اس نے گہرا سانس لیا، چہرہ تھوڑا سخت ہوا، اور پھر ہلکے سے سر جھٹک دیا۔ "’’مجھے وہم ہو رہا ہے…اب میرم کے علاوہ اور کون آ گیا ہے، جو یوں چُڑیلوں کی طرح ہر جگہ گھوم رہا ہے؟""وہ خود سے سرگوشی کرتا ہوا پلٹا اور دوبارہ جِم کے اندر چلا گیا۔ "یا پھر وہی دادا ابو کی مقدس حور پری ہوگی ۔جو مجھ سے ایسے پردہ کرتی پھر رہی ہے جیسے میں کھا جاؤنگا ۔ایڈیٹ۔۔" پلٹ کر جاتے عیسیٰ نے ذرا جھنجھلا کر خود ساختہ سر گوشی کی تھی ۔۔ ’’بد تمیز کمائیڈين !مقدس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ پھر زِیر لب نئے لقب سے نوازتی اسکی قیاس آرائیوں پر دھیرے سے مسکرائی تھی۔ "چُڑیل؟" اس نے آہستہ سے خود ساختہ سرگوشی کی اور سر جھکا کر تیزی سے وہاں سے نکل گئی تھی ،اس سے پہلے کے بھوت اس چڑیل کو ڈھونڈ لیتا ۔۔ مگر اندر کہیں کوئی احساس تھا ۔۔جو پہلے کبھی محسوس نہیں ہوا تھا ۔یہ شاید پہلی بار تھا کہ وہ کسی مرد کو اتنا سوچ رہی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان واپس آجانے کے بعد یہ اسکا پہلا کمرشل تھا،وہ اس وقت لوکیشن پر موجود تھے۔شوٹنگ لوکیشن ایک بہترین،اسٹوڈیو تھا، جہاں ہر طرف روشنیاں جگمگا رہی تھیں۔۔ بڑی بڑی اِیل اِی ڈی اسکرینز پر موبائل فون کے ہائی ریزولوشن کلوز اپس چل رہے تھے۔ کیمرہ مین، لائٹ مین، اور دیگر اسٹاف اپنی اپنی پوزیشنز پر موجود تھے، ہر کوئی مصروف دکھائی دے رہا تھا۔عیسیٰ اپنی پوزیشن پر کھڑا تھا۔۔میک اپ آرٹسٹ تیزی سے ہاتھ چلاتی اسکا ٹچ اپ کر رہی تھی۔۔ سامنے ایک سفید اور نیلے رنگ کی بیک ڈراپ اسکرین لگی ہوئی تھی، جس کے آگے عیسٰی عبداللہ اپنے مخصوص آنداز میں ذرا اسٹائل سے کھڑا تھا۔ اس نے بلیک جینز اور نیوی بلو شرٹ پہن رکھی تھی، آستینیں ہلکی سی چڑھی ہوئی تھیں، وجیہہ چہرے پر ہلکی سی سنجیدگی ا اپنی چھاپ دکھا رہی تھی، جو کیمرہ کے سامنے مزید جاذبِ نظر لگ رہی تھی۔ ’’’لائٹ،کیمرہ ،ایکشن!‘‘ماحول میں ڈائریکٹر کی آواز گونجی تو سب فوری ایکشن میں آئے تھے۔۔ عیسیٰ نے ہاتھ میں موبائل پکڑا، اور کیمرے کی طرف دیکھ کر پروقار مگر دلکش لہجے میں اسکرپٹ پڑھنا شروع کیا۔ سب کچھ پرفیکٹ جا رہا تھا۔۔وہ کافی سالوں سے اس کمپنی کا برانڈ ایمبسڈر تھا ۔وہ بولتا جا رہا تھا اور شارٹس کیپچر کئے جا رہے تھے، اسٹوڈیو میں ہر شخص محوِ حیرت تھا کہ یہ شخص واقعی کیمرہ کو ڈومینیٹ کرنا جانتا تھا۔ شوٹ کے دوران بریک ہوئی، تو عیسیٰ نے سائیڈ میں کھڑے ہو کر پانی کی بوتل کھولی اور چند لمحے سانس بحال کرنے لگا۔۔اس کے قریب ہی ایک نئی کم عمر ماڈل اسٹائلش سی ماڈل لڑکی کھڑی تھی،جو شاید پہلی بار کسی شوٹ کا حصہٰ بنی تھی۔کیونکہ عیسیٰ کافی دیر سے نوٹس کر رہا تھا،وہ ضرورت سے زیادہ ہی ایکسائیٹڈ تھی،اور ہر معاملے میں دخل آندازی دے رہی تھی۔۔: ’’ہیلو سر !‘‘وہ قریب آئی۔ ’ہیلو!‘‘اس نے سر ہلانے پر اکتفا کیا،عیسیٰ کے روڈ آنداز پراس نے آنکھیں گھمائیں۔ ’’سر آپ کو پتہ ہے ،میں آپ کی بہت بڑی فین ہوں،اور جب کل ڈائریکٹر صاحب نے مجھے بتایا کہ اس کمرشل میں آپ بھی ساتھ ہونگے تو افف میری تو خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔‘‘سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے۔جبکہ وہ بولتی جا رہی تھی۔عیسیٰ گہری سانس بھر کر رہ گیا۔۔ ’’’ویسے، عیسیٰ سر… آپ کی اور زرتاج کی جوڑی واقعی لاجواب تھی، میں نے آپ دونوں کے بہت سے انٹرویوز دیکھے ہیں۔۔بٹ وہ اسکینڈل ،افف پتہ نہیں آپکے کپل کو کس کی نظر لگ گئی تھی۔۔‘‘وہ یکدم بولی تو عیسیٰ کو اچھو سا لگا تھا۔ سوری!‘‘اس نے ناگوار نگاہوں سے گھورا۔ ’’وہی نا سر کوئی لڑکی اتنی چیپ کیسے ہوسکتی ہے۔اس نے آپ پر کتنے الزامات لگائے تھے،میں تو دیکھتے ہی حیران رہ گئی تھی،اور مجھے پکا یقین ہے کہ آپ اتنے کول سے بندے ٹاکس نہیں ہوسکتے۔اور اچھا ہی ہوا جو آپ زرتاج کے ساتھ اس ٹاکس ریلشن شپ سے باہر نکل گئے۔‘‘وہ پٹر پٹر بولتی جارہی تھی،جبکہ عیسیٰ کی رنگت سرخ پڑ گئی تھی، سب نے حیرانی اور پریشان تاثرات سے عیسیٰ کو دیکھا تھا،جو شاید اپنا ضبط آزما رہا تھا۔۔ ’’اور پتہ ہے کیا۔۔۔‘‘وہ مزید بھی کچھ بولنے کی خواہش مند تھی۔ بس۔۔۔‘‘اس کی زبان کو
