Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode no 06
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 25/04/2026
24 Views
Episode no 06
گویا بریک لگی۔۔عیسیٰ کے سخت لہجے پر وہ اچھل کر رہ گئی تھی۔ مائینڈ یور آن بزنس!مانا آپ نیو ہیں ،آور ایکسائیٹڈ ہیں،مگر آپ کو میری پرسنل لائف میں انٹر فئیر کی اجازت کس نے دی ہے مس۔۔‘‘وہ ناگواری سے دبے دبے لہجے میں غرایا تھا۔۔ ’’سوری۔۔‘‘وہ سب کو ایک نظر دیکھ منمنائی۔ "زرتاج؟" اس نے انتہائی تلخ لہجے میں وہ نام دہرایا تھا،جو اسکی زندگی کا سب سے زیادہ تلخ باب تھا، پھر ایک طنزیہ ہنسی ہنس کر ماڈل کو گھورا۔۔ ’اور اگر تم کام پر دھیان دینے کے بجائے گوسپ پر زیادہ یقین رکھتی ہو، تو شاید تم غلط فیلڈ میں ہو!اینڈ ون مور تھنگ،شو سم پروفشنلزم۔‘‘ اس کے لہجے کی سختی پر پورے اسٹوڈیو کا اسٹاف بری طرح گڑبڑایا،سٹپٹا تو وہ لڑکی بھی گئی تھی۔ماڈل گھبرا کر پیچھے ہٹ گئی، اس کے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اتنا کول بندہ ،اتنا غصیلہ مزاج بھی ہوسکتا تھا۔۔ ’ریپ اٹ اپ! آئی ایم ڈن فور ٹوڈے۔‘‘ عیسیٰ نے اسکو ایک جلتی نگاہ سے نواز کر اپنا کوٹ اٹھایا اور کسی کو دیکھے بغیر غصے سے اسٹوڈیو سے نکل گیا تھا،سب ہکا بکا رہ گئے تھے۔جبکہ اب ڈائریکٹر اس کو سخت نگاہوں سے گھور رہا تھا۔ ’نیو ماڈل ارینج کرو،امیجٹلی!‘‘وہ حکم دیتا وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا۔جبکہ وہ بچاری تو روہانسو ہوکر رہ گئی تھی۔۔آئندہ اب وہ پروفیشنلزم پر پی ایچ ڈی کر کہ ہی کسی سے اتنا فری ہونے والی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عیسیٰ اسٹوڈیو سے واپسی پر غصےٰ سے کھولتا رش ڈرائیونگ کرتا ہوا،بمشکل عبداللہ ہاؤس تک پہنچا تھا۔گاڑی ایک جھٹکے سے پورچ میں رکی تھی وہ بغیر کسی سے مخاطب ہوئے گھر کے آندرونی حصےٰ کی جانب بڑھا تھا۔ رات کا وقت تھایقیناً اس وقت تک سب ڈنر کے بعد اپنے اپنے کمروں میں بند ہوجاتے تھے۔ عیسیٰ بمشکل اپنے غصے پر قابو رکھتا، تیز قدموں سے ہال میں داخل ہوا تھا،پورا ولا نیم اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا، صرف لیمپس کی مدھم روشنی ہی تھی،جو ذرا اجالا بکھیر رہی تھی۔ مقدس جو پیاس لگنے کے باعث نیند سے اٹھ کر نیچے آرہی تھی، کہ یکدم کسی پہاڑ جیسے وجود سے جا ٹکرائی تھی،ایک لمحے کو اسکا دماغ گھوم گیا تھا۔ "آہ ہ ہ!" مقدس کا قدم ڈگمگائے، وہ پیچھے ہٹنے لگی، مگر توازن برقرار نہ رکھ سکی اور ہلکی سی چیخ کے ساتھ گرنے کو تھی کہ آخری لمحے دیوار تھام لی۔مقابل کھڑے شخص نے اسے سہارا دینا ضروری نہیں سمجھا تھا،نہ ہی نماز کے دوپٹے کے ہالے میں اندھیرے میں اسکا چہرہ اتنا واضح تھا کہ وہ شناسائی کے منزلیں طے کرتا۔۔ عیسیٰ ایک لمحے کے لیے خود سنبھلنے کی کوشش میں ٹھہر گیا تھا، مگر جیسے ہی نظر سامنے پڑی، اس کا غصہ مزید بھڑک اُٹھا تھا۔کیوں کے سامنے وہی پردہ دار حسینہ ابھی بھی دو گز کا دوپٹہ لپیٹے نیک پروین بنی کھڑی تھی۔۔ عیسیٰ کو اپنے سامنے دیکھ اُسے گھبراہٹ سی ہونے لگی تھی۔۔افف وہ ابھی پہچان لیتا اور پھر۔۔۔۔اس سے آگے اس سے سوچا بھی نہیں گیا تھا۔۔۔ "آنکھیں بند کر کے چل رہی تھیں یا ارادہ ہی مجھ سے ٹکرانے کا تھا؟" عیسیٰ کی کرخت آواز پر وہ بری طریقے سے لرزی تھی۔ مقدس کی پلکیں لرزیں، وہ جلدی سے پیچھے ہٹ کر سیدھی کھڑی ہو گئی۔ "وہ… وہ میں…" اس نے بولنے کی کوشش کی، مگر منہ سے الفاظ نکلنے سے انکاری ہوئے تھے۔۔ ’’’دیکھو لڑکی میرا دماغ پہلے ہی آوٹ ہے،صرف گرینڈ پا کی وجہ سے لحاظ کر رہا ہوں، اور اُوپر سے یہ جو تم حرکتیں کرتی پھر رہی ہو نا،سچ میں زہر لگ رہی ہو۔۔میں تمھاری جیسی لڑکیوں کی اِن اوچھی حرکتوں سے قطعی متاثر نہیں ہونے والا سمجھیں۔۔۔ اگر رات کے وقت یوں راہ میں آ کر کھڑے ہونے کا شوق ہے، تو کم از کم سامنے دیکھ کر چلا کرو۔۔ایڈیٹ۔۔‘‘ مقدس نے ہونٹ بھینچ لیے۔ اس کی نظریں فرش پر جمی سی گئی تھیں،اس کے لفظوں میں حقارت محسوس کر دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔۔ عیسیٰ نے اسے خاموشی سے سر جھکا کر کھڑا دیکھ،طنزیہ انداز میں سر جھٹکا اور مزید کچھ کہے بغیر لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہاں سے نکلتا چلا گیا۔ مقدس نے گہرے گہرے سانس فضا میں خارج کرتے خود کو سنبھالنے کی کوشش کی ، آنکھیں بند کر کہ کھولتی وہ اپنی غیر ہوتی حالت پر قابو پا چکی تھی۔ "یہ نکچڑ ا شخص… ہر وقت غصے میں کیوں رہتا ہے؟افف میں کب تک اس سنکی شخص سے بچ سکتی ہوں، تھینک گاڈ اندھیرے کی وجہ سے یہ مجھے پہچان نہیں سکا۔،ورنہ پتہ نہیں کیا کر ڈالتا۔‘‘وہ خوف سے سوچتی جھرجھری سی لے کر جلدی سے اُلٹے قدموں اپنے کمرے کی جانب بھاگی تھی۔۔پانی پیناتو اسے بھول ہی گیا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عبدﷲ ہاؤس کا وسیع و عریض ڈرائنگ روم روایتی نفاست اور جدت کا امتزاج پیش کر رہا تھا۔ دیواروں پر آویزاں نایاب فن پارے، عقیق سے جڑی لکڑی کی میز، اور بھاری پردوں کے پیچھے سے جھانکتی شام کی ہلکی روشنی… سب کچھ ویسا ہی تھا جیسا برسوں سے چلا آ رہا تھا، مگر آج اس کمرے کی فضا میں ایک عجیب سا تناؤ تھا۔ ابتسام صاحب کی رعب دار شخصیت ہمیشہ کی طرح پرسکون تھی، مگر آج ان کی آنکھیں کوئی اور ہی داستان سنا رہی تھیں۔ وہ اپنی مخصوص کرسی پر بیٹھے تھے، اور باقی گھر والے ان کے گرد نیم دائرے میں سفيد رنگ آرام دہ صوفوں پر براجمان تھے۔ ’’آپ… یہ کیا کہہ رہے ہیں، بابا جان؟" عائشہ بیگم نے بے یقینی سے پوچھا، ان کی آواز میں حیرانی کے ساتھ ساتھ ایک عجیب سی ہچکچاہٹ بھی تھی۔ ’’جو آپ سب نے سنا ہے، وہی کہہ رہا ہوں،"ابتسام صاحب نے ٹھہرے ہوئے مگر مضبوط لہجے میں جواب دیا۔ "میں نے طے کر لیا ہے کہ میرے پوتے عیسیٰ کا نکاح مقدس سے ہوگا۔" کمرے میں گہری خاموشی چھا گئی۔ ابتسام صاحب کے فیصلے ہمیشہ اٹل ہوتے تھے، مگر آج کا فیصلہ سب کو ہلا کر رکھ گیا تھا۔ "مگر بابا جان ۔۔۔۔۔! یہ کیسے ممکن ہے؟"عیسی کے والد نے گھبرا کر کہا، وہ باپ کے فیصلوں میں کبھی نہیں بولتے تھے مگر ابب ۔۔۔۔ "عیسیٰ اور مقدس کی پرورش بالکل الگ ماحول میں ہوئی ہے، ان کی پسند، ان کے خیالات… سب مختلف ہیں۔" "اور سب سے بڑھ کر، عیسیٰ کو معلوم بھی نہیں۔" عثمان صاحب نے بھی بھائی کی تائید کی۔۔۔ "کیا آپ نے اُن سے کوئی بات کی؟" ابتسام صاحب نے گہری سانس لی اور سنجیدہ لہجے کے ساتھ استفسار کیا۔۔ "نہیں ۔۔" ’’عیسیٰ کو اس فیصلے سے آگاہ کرنے کے لیے میں نے اسے اپنی سٹڈی میں بلوایا ہے۔ لیکن یاد رکھين ، یہ فیصلہ میں نے صرف خاندان کی بھلائی کے لیے کیا ہے، نہ کہ کسی کو آزمائش میں ڈالنے کے لیے۔۔‘‘ عائشہ نے بے چینی سے پہلو بدلہ۔ "مقدس پہلے ہی بہت کچھ سہہ چکی ہے، اور عیسیٰ… وہ مزاج کا تیز ہے، ضدی ہے… کیا وہ اسے قبول کرلے گا؟" ’’عیسیٰ کے مزاج سے میں بہت اچھی طرح واقف ہوں۔۔‘‘ ابتسام صاحب کی گرجدار آواز پر سب کو ہی چپی سی لگی تھی۔۔ "میرے فیصلے پر اب کوئی سوال نہیں اُٹھاے گا۔ وہ میرا پوتا ہے، مگر اس گھر کے اصولوں سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے،اور گھر میں اپنے ہی بچے موجود ہیں تو ہم کیوں اپنے بچوں کی زندگی میں باہر کے لوگ شامل کریں۔‘‘" ابتسام صاحب کے سخت لہجے
