Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode No 01
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 03/04/2026
506 Views
Episode No 01
اور فلسفیانہ انداز میں بولا۔ ’’ایک سوال کا جواب تو دو ۔۔کیا یہاں کی کافی پینے سے واقعی انسان کے دکھ کم ہوجاتے ہیں یا پھر میرے جیسے غریب پاکستانی کو ایک کافی کے مگ کا ڈالرز میں بل دکھ میں مزید اضافہ کردیتا ہے ؟؟‘‘ بارسٹا پہلے تو کچھ لمحے حیرانی سے اسے دیکھتا رہا، پھر زور سے ہنسا۔۔ ’’ویل سر! ڈیٹس ڈیپینڈ آن یور پریفیرڈ لیول آف سویٹنیس ان کافی ۔آفٹر آل سوئیٹنس ہیز دا پاؤر ٹو بلینس آوٹ بٹرنیس۔‘‘ سر! یہ تو اس بات پر منحصر ہے کہ آپ اپنی کافی میں کتنی چینی لینا پسند کرتے ہیں،کیونکہ مٹھاس تلخیوں کا اثر زائل کردیتی ہے۔)"( عیسی نے تاسف سے نفی میں نے سر ہلایا ،مطلب اب امریکا میں بھی درد بھلانے کی کوئی دوا ميسر نہیں تھی ۔۔کیا فائدہ سپر پاور ہونے کا۔۔ "’’اچھا !ایک کام کرو مجھے سٹرونگ سی بلیک کوفی بنا دو ۔اور آگر ممکن ہو تو اس میں پاکستانی ماؤں والی شفقت وافر مقدار میں ایڈ کردینا۔۔"بارسٹا آس عجیب سے شخص کو دیکھ ہنسا۔۔ ’’آئی ایم افیرڈ وی آونلی ہیو المنڈ،آوٹ،اینڈ ریگولر ملک۔نو ’’ماؤں والی شفقت ان اسٹاک ٹوڈے!‘‘ )"معذرت چاہتا ہوں، ہمارے پاس صرف بادام، جئی اور عام دودھ ہے۔ آج 'ماں والی شفقت' اسٹاک میں نہیں ہے"( عیسی نے ذرا افسوس سے نفی میں سر ہلایا۔جبکہ اس نے ایک کافی کا مگ اسکی جانب بڑھایا تھا۔عیسی نے کافی کا کپ اٹھایا اور پہلا گھونٹ لیا، پھر فوراً چہرہ بگاڑ لیا۔ ’’اللّه اکبر !یہ کافی ہے یا میری سادگی کا امتحان لے رہے ہو؟‘‘ سر ،از دئیر آ پروبلم ؟"بارسٹا نے حیرانی سے پوچھا۔ ہاں بھائی یہ ٹیسٹ اتنا سوفسٹیکٹڈ ہے کہ میری پاکستانی زبان انسلٹ محسوس کررہی ہے !عیسی نے ذرا سنجیدگی سے کہا تھا۔۔ پاس بیٹھے امریکی نے ہنستے ہوئے مشورہ دیا تھا۔ ’’یو شولڈ ٹرائے آور کریمل لاٹے۔آٹس سوئیٹر!‘‘عیسیٰ نے رخ اسکی جانب کیا تھا۔ "’’پاکستان میں سویٹ چیزوں کی کمی نہیں ہے بھائی !وہاں تو محبّت بھی فری میں ملتی ہے اور حلوہ بھی ۔خیر وہ تم نہیں سمجھو گے ۔مگر یہاں ایک فائدہ ہے کہ محبّت بھی انسٹالمنٹ پر مل جاتی ہے۔‘‘" اس کے جواب پر سمجھ آیا ہو یا نہ آیا مگر اس نے جس انداز میں کہا تھا ، سب ہی نے قہقہہ لگایا تھا۔ کچھ لوگ اس کی طرف متوجہ ہو کر ہنستے ہوئے سر ہلانے لگے، اور بارسٹا نے مسکراتے ہوئے اسے مفت میں ایک اور کافی پیش کی تھی۔ ’’سر! دس آونس آن دا ہاؤس!‘‘ (سر یہ ہمار ی طرف سے ہے) عیسی نے ذرا فخر سے ایک امريكی کی جانب دیکھا۔جو اسے پہچان کر مزاحیہ جملہ کس رہا تھا۔۔ "دیکھا اسے کہتے ہیں مفت کی عزت اور فری کی کافی۔۔" اس کے انداز پر ایک اور زوردار قہقہہ پڑا، اور وہ سر جھٹک کر شکریہ ادا کرتا ،اپنی کافی ہاتھ میں پکڑے، مسکراتے ہوئے باہر نکل گیا تھا۔۔! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رات کا سیاہ اندھیرہ ہر سو پھیل چکا تھا۔ پہلے پہر کا وقت تھا۔عبدالله ہاؤس کی وسیع و عریض سرسبز لان میں بلب کی نیم روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ درمیان میں رکھی میز پر چائے کے برتن رکھے تھے،مگر کسی کا دھیان چائے پر نہیں تھا۔سب ہی عیسیٰ کو لے کر پریشان دکھائی دے رہے تھے۔ لان میں رکھی آرام دہ نشستوں پر عیسٰی کے والد،عرشمان عبداللّٰہ، والدہ عائشہ ، چچا عثمان عبدالله اور چچی فریحہ سب موجود تھے۔ سب ہی عیسیٰ کو لر کر پریشان تھے۔۔جو دو سال سے بلاوجہ باہر تھا۔۔اور پاکستان لوٹ کر آنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔۔ "بابا، اگر اس بار بھی وہ کوئی بہانہ بنا کر رک گیا تو؟ پچھلی بار بھی اس نے یہی کہا تھا کہ آئے گا، مگر پھر کوئی نہ کوئی مصروفیت نکال لی۔" عرشمان عبداللّٰہ نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا۔ "اس بار ایسا نہیں ہوگا، عرشمان ۔۔بس بہت ہوگیا۔۔اس نے بہت چلالی اپنی مرضی۔۔ اب میں اس کی کوئی بہانے بازی نہیں چلنے دوں گا!" ان کے لہجے میں مکمل یقین تھا۔ "مگر بابا، وہ وہاں اکیلا ہے، ساری زندگی پاکستان میں گزری ہے۔ اس کا دل نہیں لگتا وہاں ۔مگر وہ خود کو ازیت دینے کے لئے وہاں رہنے پر باضد ہے۔۔"انہونے دکھ بھرے لہجے میں کہا تھا۔۔ "یہ دل لگنے یا نہ لگانے کی بات نہیں، بھابی۔ اس گھر کو اب اپنے وارث کی ضرورت ہے۔بابا جان بالکل صحیح کہہ رہے ہیں، اسے واپس آنا ہوگا!" عثمان صاحب اور فریحہ جو بالکل خاموش تھے،اب بات میں حصّہ ڈالا تھا۔۔ اگر وہ واقعی نہیں آنا چاہتا تو زبردستی کا بھی فائدہ نہیں۔" جو ہمیشہ سے عیسٰی کے فیصلوں کے حمایتی رہے تھے، گہری سوچ میں ڈوبے، آہستہ سے گویا ہوئے ۔اپنی بیٹی کی حرکت کے بعد سے وہ ویسے بھی زیادہ تر معاملات میں خاموش ہی رہتے تھے۔کیونکہ جوان اولاد کب منہ کو آجائے کچھ خبر نہیں ہوتی۔ "’’یہ میری ضد نہیں ہے، عثمان !عیسٰی عبداللّٰہ میرا پوتا ہے، اس خاندان کا چشم و چراغ ہے۔ میں نے اپنی زندگی کے سال لگا کر تم سب کو ہمیشہ ایک چھت کے نیچے سمیٹ کر رکھا ہے۔بزنس ایمپائیر کھڑی کی ہے۔۔ کیا اب میں اپنی آنکھوں کے سامنے اسے غیر لوگوں کے ہاتھوں میں جاتا دیکھوں؟" ابتسام عبدالله نے ایک سخت نظر اپنے چھوٹے بیٹے عثمان پر ڈالی۔ فضا میں خاموشی چھا گئی تھی۔۔سب کو احساس تھا کہ وہ ااس بار واقعی سنجیدہ تھے ۔۔پھر بھلا کوئی بھی باپ اپنے گھر کا شیرازہ بکھرتے کیسے دیکھ لیتا۔۔ "اب کی بار وہ نہیں ٹالے گا۔میں نے اسے کہہ دیا ہے کہ جلد واپسی کے انتظامات کرے۔ اگر کل یا پرسوں وہ پاکستان کے لیے نہ نکلا، تو میں خود وہاں جا کر اسے لے آؤں گا!" انھونے اٹل انداز میں باور کروایا تھا۔۔ اس بار عائشہ نے اپنے شوہر کی طرف دیکھا، جن کی پیشانی پر بل پڑ گئے تھے۔مگر وہ خاموش رہے۔ "اللہ کرے، وہ خود سے ہی آ جائے، ورنہ زبردستی اسے واپس لانے میں سب کچھ بگڑ سکتا ہے۔"عرشمان عبداللّٰہ نے مدھم آواز میں کہا تھا۔۔۔ "بعض اوقات خاندان کو جوڑنے کے لیے سخت فیصلے لینے پڑتے ہیں، عرشمان ! میں نے عیسٰی کو یہاں بلانے کا جو فیصلہ کیا ہے، وہ آخری ہے!"ابتسام صاحب نے مضبوط لہجے میں باور کرایا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نیویارک کی بلند و بالا عمارتوں کے درمیان، روشنیوں سے جگمگاتے شہر کی چمک دمک اپنی جگہ مگر ایئرپورٹ کے قریب ایک پرتعیش اپارٹمنٹ کی کھڑکی سے باہر دیکھتا عیسٰی عبداللّٰہ کسی اور ہی دنیا میں گم تھا۔ شہر کی گلیوں میں بے ہنگم ٹریفک، لوگوں کی تیز رفتار چال، اور گاڑیوں کے ہارن کی آواز ،سب کچھ عام دنوں کی طرح تھا، مگر آج عیسٰی کے لیے وقت ایک بار پھر تھم سا گیا تھا۔ ہاتھ میں پکڑا موبائل فون کان سے لگایا ہوا تھا،خوبرو چہرے پر سنجیدگی اور الجھن کے آثار نمایاں تھے۔ "عیسٰی بیٹا، اب میں تمھاری واپسی میں مزید تاخیر برداشت نہیں کروں گا۔ تمہیں جلدی پاکستان آنا ہوگا!" گرینڈ پا کی بھاری مگر مضبوط آواز فون کے دوسری جا نب سے اُبھری تھی۔ عیسٰی نے کھڑکی کے پار شہر کی روشنیاں گھورتے ہوئے گہرا سانس لیا۔ "’’گرینڈ پا ، میں ابھی یہاں ایک بہت اہم پروجیکٹ پر کام کر رہا ہوں۔ میرے لیے ابھی آنا ممکن نہیں ہے۔"اس نے ہمیشہ والا بہانہ گھڑا تھا۔ ممکن نہیں ہے؟" ابتسام صاحب کی آواز میں سختی آ گئی۔اب وہ انکی نرمی کا ناجائز فائدہ اُٹھا رہا تھا۔۔ ’’یہی بات سنُنے کے لیے
