Do Pal Ko Thera Ishq Ka Karwan E Book Special Novel — Episode No 01
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 03/04/2026
506 Views
Episode No 01
دو پل ٹھہرا عشقِ کا کارواں ازقلم ہما قریشی قسط نمبر 01 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نیو یارک کے دل میں واقع مشہور ٹی وی اسٹوڈیو، جس کی بلند و بالا کھڑکیوں سے نیویارک کی جگمگاتی روشنیوں کا نظارہ باآسانی کیا جا سکتا تھا۔ اسکرینز پر شہر کے مشہور مقامات،ٹائمز اسکوائر، بروکلین برج اور اسٹیچو آف لبرٹی کے مناظر چل رہے تھے، جس سے صاف ظاہر تھا کہ اس شو کا یہ خاص ایپی سوڈ نیویارک کی سرزمین پر فلمایا جا رہا ہے۔اسٹوڈیو کے اندر، ماحول نہایت پُرتپاک تھا۔ دیواروں پر دنیا کے بڑے کامیڈینز کی تصاویر یں آویزاں تھیں۔رابن ولیمز، ایڈی مرفی، اور جیری سینفیلڈ جیسے لیجنڈز کے ساتھ اب عیسیٰ عبدالله کی تصویر بھی جمگگا رہی تھی، جس کو خاص طور پر "دی کامیڈی كنگ آف پاکستان " کے عنوان سے نمایاں کیا گیا تھا۔لائٹ گولڈن رنگ کے امتزاج سے سجا جدید اسٹیج، جہاں درمیان میں ایک شفاف گلاس ٹیبل رکھا تھا، اور اس کے ارد گرد دو آرام دہ کرسیاں تھیں۔ اسٹوڈیو کی روشنی میں عیسیٰ عبداللہ کی خوبرو شخصیتواضح تھی۔ وہ بےحد مطمئن نظر آ رہا تھا، مگر اس کی سیاہ آنکھیں بجھی بجھی سی تھیں،جو ہمیشہ چمکتی دکھائی دیتی تھیں۔ سیاہ رنگ سوٹ میں ملبوس، بےحد پُراعتماد انداز میں بیٹھا عیسیٰ عبدالله پاکستان کا مشہور کامیڈین، جس کی ذہانت اور مزاح کی دھاک اب بین الاقوامی سطح پر بھی بیٹھ رہی تھی۔ اس کے سامنے مشہور امریکی میزبان بیٹھا تھا، جس نے ہاتھ میں مختلف کارڈز پکڑ رکھے تھے۔ ’’ویلکم ٹو دا شو عیسیٰ عبداللہ! آٹس آ پلیجر ٹو ہیو یو ہئیر۔یو آر پاکستان ٹاپ کمیڈین ایند ناؤ میکنگ ویز انٹرنیشنلی ،ہاؤ ڈز اٹ فیل؟‘‘‘ (عیسیٰ عبداللہ، ہمارے شو میں خوش آمدید! آپ سے ملاقات ہمارے لیے باعث مسرت ہے۔ آپ پاکستان کے ٹاپ کامیڈین ہیں اور اب بین الاقوامی سطح پر بھی دھوم مچا رہے ہیں۔ کیسا محسوس ہو رہا ہے یہ سب؟) امریکی میزبان نے رسمی انداز میں شو کا آغاز کر نے کے بعد پرجوش انداز میں سوال کیا تھا۔ "پلیژر از آل مائن! اینڈ لیٹ می کریکٹ یو، آئی ایم ناٹ جسٹ پاکستانز ٹاپ کمیڈین، آئی ایم آل سو مائے گرینڈ پا بگسٹ ڈس اپوائنٹمنٹ!" عیسی نے ابتسام عبداللہ کی جھڑکیاں یاد کر ہلکے سے ہنستے ہوئے مائیک کے قریب ہو کر محبت سے کہا تھا۔ رئیلی بٹ وائے؟‘‘میزبان مسکرا یا تھا۔ ’’دراصل گرینڈ پا چاہتے تھے کہ میں اپنے خاندان کا اکلوتا وارث فیملی بزنس جوائن کروں،مگر بقول بابا کے میں لوگوں کو تفریح کرانے والا جوکر بن گیا۔‘‘وہ مخصوص لب و لہجے میں امریکن ایکسنٹ میں بولتا مسکراہٹ چھپا گیا۔۔ ’’’ہاہاہا! ڈیٹس انٹرسٹنگ۔ ویسے پاکستان سے یوں امریکا تک مشہوری کا سفر کیسا رہا؟ ‘‘ ’’سفر تو سفر ہوتا ہے۔۔وہ کہتے ہیں نا !کہ منزلوں کو کیا معلوم،راستوں نے کیا کچھ چھین لیا ہم سے۔‘‘اسکی گہری سنجیدگی پر پاکستا ن میں یہ شو دیکھتے عبداللہ ہاؤس کے مکینوں نے اس کا درد دل میں محسوس کیا تھا۔۔ ’’آپ کے مطابق مزاح ظرافت کس کی زیادہ اچھی ہے،پاکستانی یا امریکن؟‘‘وہ ایک بار پھر سوالیہ آنداز میں بولا تھا۔ "’’دیکھیں، پاکستان میں کامیڈی کرنے کے لئے کامیڈین ہونا ضروری نہیں، وہاں جب میں مزاحیہ باتیں کرتا ہوں، تو سب ہنستے ہیں ، لیکن جب سیاستدان سنجیدہ باتیں کرتے تھے، تب بھی سب ہنستے تھے! کیونکہ دونوں ہی کی باتوں میں سوائے تسلیوں اور دلچسپ مکالموں کے کچھ نہیں ہوتا۔۔۔اپنی صلاحیتوں کی ایسی ناقدری دیکھ میں نے سوچا، کیوں نہ اپنی صلاحیتوں کا جادو کہیں اور آزما لیا جائے۔"اس کے ذومعنی جواب پر میزبان اور ناظرین سب کا ہی قہقہ بلند ہوا تھا۔وہ مزید سوالات کے دلچسپ جواب دیتا،ماحول پر چھایا ہوا تھا۔ ’’اس سے قبل کے ہم اختتام کی جانب بڑھیں،آپ یہ بتائیے کہ آپ کی فیوچر پلینگز کیا ہیں؟‘‘ عیسی نے ایک پل کو توقف لیا، پھر شوخی سے بولا تھا۔۔ ’’ہو سکتا ہے کہ میں اپنا بین الاقوامی کامیڈی شو شروع کروں… یا پھر پاکستان میں صدر کے عہدے کے لیے کھڑا ہو جاؤں، کیونکہ سچ کہوں تو، اگر کامیڈین لوگوں کو ہنسا سکتے ہیں، تو وہ یقینی طور پر ملک بھی بہتر آنداز میں چلا سکتے ہیں۔‘‘ اسٹوڈیو میں زوردار قہقہے گونجے تھے ، ناظرین نے تالیاں بجائیں، اور انٹرویو کا اختتام ہوا۔جبکہ وہ مسکراتا چہرہ پاکستان میں موجود ہر شخص کو ہی اُداس لگ رہا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مقدس بنتِ یوسف کمرے کی دیوار سے ٹیک لگائے ،پتھر کی طرح بے حس و حرکت بیٹھی تھی۔ ويران آنکھیں خلا میں کسی غیر مرئی نقطے پر جمی ہوئی تھیں، جیسے وہ اس دنیا میں ہو کر بھی اس کا حصہ نہ ہو۔ آنسو اس کی بنجر آنکھوں میں خشک ہو چکے تھے، شاید اس لیے کہ اب رونے کی ہمت بھی ختم ہو گئی تھی۔ چند گھنٹوں پہلے ہی وہ اپنے والدین کو مٹی کے سپرد کر چکی تھی۔ وہی والدین جو اس کے جینے کی واحد وجہ تھے، جو اس کی ہر سانس کے محافظ تھے۔ لیکن آج... آج وہ سب ختم ہو چکا تھا۔ سامنے شیشے کی چھوٹی سی میز پر رکھے چائے کے کپ سے بھاپ اُٹھ رہی تھی، مگر مقدس نے اسے چھونے کی بھی زحمت نہیں کی۔ اس کے اِرد گرد بیٹھے کچھ رشتہ دار افسوس کے رَسمی جملے ادا کر رہے تھے، مگر ان کی آوازیں اس کے لیے بے معنی سی تھیں۔ اس کے دل میں اب کسی کے لئے کوئی محسوسات نہیں تھے، جیسے زندگی کا سارا رنگ کسی نے ایک جھٹکے میں نوچ لیا ہو۔ سناٹے نے اسے اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا، اور وہ بس ایک ہی سوال کے گرد گھوم رہی تھی یہ سب میرے ساتھ ہی کیوں ہوا؟"وہ اپنے رب سے شکوه كناں تھی۔ہوا کے ایک ٹھنڈے جھونکے نے ماحول میں تازگی سی بخش دی تھی، مگر مقدس کی خاموشی جوں کی توں رہی۔ اسے محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ اپنے ہی وجود میں قید ہو گئی ہو، ایک ایسی قید جہاں نہ کوئی آواز تھی، نہ کوئی اُمید۔ "’’ہائے میری بچی بھائی بھابھی کے بعد تو بالکل تنہا رہ گئی ہے۔"انھونے افسوس کا اظھار کیا ۔۔جو رشتے میں اسکے باپ کی بہن لگتی تھیں۔ اللّه پاک بچی کو صبر دے ۔۔ہمیں تو ان کی موت کا سُن کر بہت دکھ ہوا۔پہلے ہی لے پالک ہونے کی وہ وجہ سے اسکی ذات پر کم سوال اٹھتے تھے، جو اب ماں باپ کا سایہ بھی سر سے چلا گیا تھا ۔"وہ لہجے میں بہت افسوس سمو کر بولیں ۔مقدس کے آنکھوں سے آنسو روانگی سے بہنے لگے تھے۔وہ ایک لمحے میں اسکا دل نوچ چکی تھیں۔۔ شاید یہ دکھ ہمیشہ کے لیے اس کا ہمسفر بننے والا تھا... شاید اب زندگی صرف ایک طویل سیاہ رات تھی، جس کی کوئی صبح نہیں تھی۔مگر جس نے آزمائش میں ڈالا تھا ۔۔بے شک وہ بہترین سد باب کرنے والا ہے۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نیو یارک کی ایک مصروف سڑک پر، ٹھنڈی ہوا کے جھونکے درختوں کو جھُلا رہے تھے۔ ہر شخص اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھا،پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالے، عیسی ایک مشہور کافی شاپ کے اندر داخل ہوا تھا، جہاں لوگوں کی اکثریت خاموشی سے لیپ ٹاپ اسکرین پر نظریں جمائے بیٹھے کام میں مگن تھے۔۔ وہ سیدھا کاؤنٹر کی طرف بڑھا، جہاں ایک خوش مزاج بارسٹا (کافی بنانے والا) کھڑا تھا۔ "ویلکم ٹو برو ہیون! واٹ وڈ یو لائک ٹو ہیو، سر؟" بارسٹا نے خوش اخلاقی سے پوچھا۔عیسیٰ نے ذرا ارد گرد میں سرسری سی نگاہ نظر دوڑائی تھی
