Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 39&40
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 13/10/2025
5 Views
Episode no 39&40
لینے خود اکیلے ہی نکل پڑی تھی۔دوسری جانب شیر افگن نے بھی اُسے پہلی اور آخری بار ملنے کے لئے بُلایا تھا،وہ ایک آخری کوشش ضرور کرنا چاہتی تھی۔۔جس شخص سے وہ پچھلے تین سالوں میں نہ ملی تھی ،آج اُس سے ملنے کے لئے اکیلی ہی نکل کھڑی ہوئی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دپہر کا وقت تھا۔۔گھر میں افراتفری کا عالم تھا۔۔ہر سو مسکراہٹیں رقص کر رہی تھیں۔حیات پچھلے ایک گھنٹے سے غائب تھی۔اُس کی ماں کو جب یہ خبر ملی تو حیات کی چھوٹی بہن کی خوب خبر لی تھی۔جو بہن کو نکاح سے ایک دن قبل اکیلے ہی بازار کے لئے نکال چکی تھی۔مگر وقت گزرتا جارہا تھا۔۔اور حیات کی غیرموجوگی نے اُس کے گھر سے فرار ہونے پرمہر لگا دی تھی۔دن ڈھل گیا۔اور پھر اگلا دن طلوع ہوگیا تھا۔۔رات کا پہر تھا۔۔نکاح کی تقریب میں مدعو چند ایک قریبی احباب تو حیات کی حرکت پر تھو تھو کر کے جا چکے تھے۔جبکہ کاظمیٰ صاحب شرمندگی سے سر جھکائے بیٹھے تھے،گھر میں اس کی ماں اور بہن کی بین کرنے کی آواز واضح تھیں۔۔گھر میں تایا ابا کی آواز واضح گونج رہی تھی۔۔جو کاظمیٰ صاحب کو بیٹی کو اس قدر چھوٹ دینے پر لعن طعن کر رہے تھے۔مگر وقت کے چکر کو کون پلٹ سکتا تھا۔کل کی ساری رات ،آج کا سارادن اور ساری رات بیت چکی تھی۔۔صبح کی پو بھی پهوٹ چکی تھی۔مگر حیات کو کچھ نہ پتہ چل سکا۔۔البتہ تلاشی کے دوران حیات کے بیڈ پر تکیے کے نیچے ایک شیرافگن کی تصویر ضرور رکھی تھی۔۔جس نے شک پہ مہر لگا دی تھی،اور کاظمیٰ صاحب نے پھر ایسی چپ ساد لی تھی ،کہ پھر موت بھی اس قفل کو نہ توڑ سکی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حیات کی جب آنکھ کھلی تو سب کچھ تباہ برباد ہوگیا تھا۔۔وہ بیچ راستے سے کہاں غائب ہوگئی تھی۔اسے خبر نہ ہوسکی۔مگر اس وقت وہ ایک آندھیری جگہ پر تھی۔ ’’میڈم آپ ٹھیک تو ہیں ناں۔‘‘وہ کسی نرم بستر پر نڈھال سی بیٹھی تھی۔ذہن ابھی تک نیم غنودگی میں تھا۔ ’’میڈم شیرافگن صاحب نے آپ کے لئے پیغام بھیجوایا ہے کہ وہ جلد پاکستان آکر آپ سے رابطہ کریں گے۔۔انہیں ایمرجنسی میں کہیں جانا پڑ گیا تھا۔۔اور آگر ان سے رابطہ ممکن نہ ہوسکے۔تو آپ فی الحال سر کے گھر چلی جایئے گا۔۔جو آیڈریس آپ کو سر نے دیا تھا۔‘‘وہ کوئی شخص تھا،جو شاید دروازہ کھول کر روم میں آیا تھا۔۔نجانے اس کی آنکھیں بند تھیں یا کمرے میں واقعی اندھیرا تھا۔۔دماغ میں بس ایک افگن کا نام فکس ہوگیا تھا۔۔کیا یہ سب اس نے کیا تھا۔۔۔ ’’افگن۔۔۔۔افگن کہاں ہیں؟‘‘ بھاری ہوتے سر سے بامشکل پوچھا تھا۔ ’’سر آپ سے ملنا چاہتے تھے۔۔مگر ایمرجنسی کی وجہ سے نہ آسکے۔مگر آپ فکر نہ کریں۔ آپ ان کے گھر چلی جائے گا۔‘‘شیر افگن کے گھر کا آیڈریس احمر اُسے کئی ماہ پہلے ہی فراہم کر چکا تھا۔۔اور آج وقت تھا اس آخری پتے کو کھیلنے کا۔وہ سائیں سائیں کرتے ذہن سے دوبارہ نیم غنودگی میں چلی گئی تھی۔اور جب دوبارہ آنکھ کھلی تو اُس نے خود کو اپنے گھر کے دروازے کے سامنے لیٹا پایا۔اِرد گرد محلے کہ اور گھر کے کئی لوگ جمع تھے۔ وہ نہیں جانتی تھی ،کہ اُس کے ساتھ کیا ہونے والا تھا۔اس کی تائی نے ایک جھٹکے سے ہاتھ تھاما تھا۔اور آنگن میں لاکر ایک جھٹکے سے پیچھے دھکیلا تھا۔ ’’بولو کہاں گئیں تھیں۔ارے کہاں سے آرہی ہو ہماری عزتوں کا جنازہ نکال کر۔۔بد بخت تجھے شرم نہ آئی ۔باپ کو یوں سارے زمانے کے سامنے رسوا کرتے ہوئے۔‘‘تائی نے تھپڑوں کی برسات سے حیات کا چہرہ سُرخ کر کے رکھ دیا۔۔جبکہ اس کی بے یقین نظریں اپنے باپ کی جانب اُٹھی تھیں۔جو بالکل خاموش بیٹھے تھے۔ ’’بابا!نہیں تائی امی۔۔میرا کوئی قصور نہیں ہے۔۔۔میں نہیں جانتی۔۔۔بابا ،،بابا میرے بابا۔۔بابا آپ تو میری بات کا یقین کریں۔‘‘وہ آنسوؤں سے رو پڑی تھی۔اور بھاگ کر اِن کے قدموں میں گر گئی تھی۔۔ ’’جہاں سے آئی ہو۔۔بہتر ہے کہ اب تم وہیں واپس چلی جاؤ۔‘‘ایک مزید رات کی سیاہ تاریکی ڈھل کر روشن صبح میں تبدیل ہورہی تھی۔۔اپنے باپ کی خاموشی اور ماں کے تلخ لفظوں پر پاگل ہوگئی تھی۔۔اور پھر جو باپ اپنی بیٹی پر جان چھڑکتا تھا،وہ اُسے صبح کا روشن سویرا ہوتے ہی خاموش نظروں سے گھر سے چلے جانے کا پیغام دے چکے تھے۔بھلا جو لڑکی ایک پورا دن اور رات باہر گزار آئے،اس کا اس معاشرے میں بھلا کیا مقام ہوتا ہے۔تایا تائی گھر سے باہر دھکا دے چکے تھے۔جبکہ کاظمیٰ صاحب خود خاموشی سے اُٹھ کر اپنے کمرے میں جاکر بند ہوگئے تھے۔جانتے تھے کہ اب محض سیاہی ہی اُن کی بیٹی کا مقدر تھی۔وہ کتنی ہی دیر تک دروازہ پیٹتی رہی اور بلآخر وہ ذہن میں بازگشت کرتے لفظوں پر پیدل ہی شیرافگن کے گھر کی جانب روانہ ہوگئی تھی،جہاں سے اُس کی زندگی نے ایک الگ ہی رُخ اختیار کیا تھا۔۔ دوسری جانب احمد کاظمیٰ صاحب اتنی زلت اور جگ ہنسائی کے بعد خاموشی سے دل کا درد دل میں ہی دباتے دنیا سے نظریں پھیر گئے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حیات کا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔شیرافگن کی گرفت اسٹیرنگ وہیل پر سخت سے سخت ہوگئی تھی۔آنکھوں میں خون دوڑ رہا تھا۔۔دل چاہا کہ احمر کی ہستی مٹا دے۔جس نے محض اُس سے بدلہ لینے کی خاطر ایک معصوم لڑکی کی زندگی برباد کری تھی۔۔۔ ’’لو پانی پیو۔‘‘کچھ دیر بعد خود کو کمپوزڈ کرتا وہ متوازن لہجے میں پانی کی بوتل اس کی جانب بڑھاتا نرمی سے بولا۔۔۔۔ شیرافگن خاموشی سے گاڑی آگے بڑھا چکا تھا۔ابھی وہ ایک ہی گھونٹ بھر سکی تھی کہ اچانک دوسری جانب سے ان کے تعقب میں آتی دو گاڑیوں کی طرف سے فائرنگ شروع ہوگئی تھی۔۔۔ ’’حیات سر نیچے کرو جلدی۔۔‘‘وہ گاڑی کو بامشکل سنبھالتا تیزی سے چیخ کر بولا۔۔ساتھ ہی سیٹ کے نیچے رکھی پسٹل نکال کر ایک ہاتھ سے اسٹیرنگ سنبھال کروہ بھی دو تین فائر کر چکا تھا۔۔سامنے ہی دو سڑکیں مخالف سمت میں جارہی تھیں۔۔اُسے اس وقت محض حیات کی فکر تھی،جو خوفزدہ سی سختی سے اُس کی تھائی تھامے سر جھکائے بیٹھی تھی۔۔۔ ’’حیات بس دو منٹ!کچھ بھی ہوجا ئے تم سرنہ اُٹھانا۔‘‘وہ وارن کرتا ایک دوسرے روڈ سے کچے کی جانب گاڑی اُتار چکا تھا۔جبکہ وہ گاڑیاں جو اَندھا دھنُد گولیاں برسا رہی تھیں۔وہ لمحوں میں غائب ہوگئی تھیں۔اور شاید بدقسمتی سے ان کی گاڑی کا ٹائر بھی پنکچر ہوگیا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔۔
