Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 39&40
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 13/10/2025
5 Views
Episode no 39&40
اُٹھایا ہے حیات کاظمیٰ۔۔‘‘ احمد کاظمیٰ صاحب کا چہرہ سبکی، اور طیش کے باعث سُرخ پڑ گیا تھا۔ ’’ایسا نہیں ہے بابا!وہ بہت اچھا ہے۔۔‘‘ وہ جلدی سے صفائیہ لہجے میں بولی تھی۔ ’’میں تمہاری شادی طے کر چکا ہوں۔۔یہ بات یاد رکھنا۔آگر میں تمہیں آزادی دے سکتا ہوں تو تمہارے پر کاٹ بھی سکتا ہوں۔‘‘انہیں اپنی بیٹی کا باغیانہ آنداز ایک آنکھ نہ بھایا تھا۔ ’’بابا بس مجھے ایک موقع تو دیں۔‘‘وہ منتی لہجے میں بولی تھی۔ ’’اچھا !تو پھر کہاں ہے وہ لڑکا۔۔اب تک وہ رشتہ کیوں نہ لے کر آیا تمہارا۔۔کون ہے۔کہاں رہتاہے۔۔تمہیں کہاں مل گیا۔۔گھر خاندان۔۔‘‘کچھ دیکھا بھی تم نے حیات کاظمیٰ یا پھر بس یونہی منہ اُٹھا کرہماری محبتوں کا جنازہ نکالنے نکل پڑیں۔‘‘وہ غصےٰ سے دھاڑے تھے۔ ’’نہیں بابا!وہ ایک بہت بڑے بزنس مین کا بیٹا ہے۔ہماری تین سال پہلے ایف بی پر ملاقات ہوئی تھی۔۔اُس نے مجھ سے کہا ہے ،وہ ضرور مجھ سے شادی کرے گا۔۔بس وہ ابھی اُس کے ماں باپ اُس رشتے کے لئے نہیں مان رہے۔مگر وہ اِنکی اکلوتی اولاد ہے۔۔وہ جلد مان جائیں گے۔‘‘حیات نے اِنہیں قائل کرنا چاہا تھا۔۔اُن کا ہاتھ زندگی میں پہلی بار اُٹھا تھااور حیات کا گال سُن کر گیا۔ ’’بد بخت،بے شرم تمہیں زرا حیا نہ آئی میری عزت کا جنازہ نکالتے۔ تمہیں ایک بار بھی خیال نہ آیا کہ یہ سب جاننے کے بعد تمہارے باپ پر کیا گزرے گی۔اور اپنی بے غیرتی دیکھو باپ کے سامنے کیسے اپنی حماقتوں کا علان کر رہی ہو۔‘‘ان کا وجود غصےٰ کی شدت سے کپکپا اُٹھاتھا۔جبکہ اس کےچلتے لبوں کو بریک لگی تھی۔ ’’ارے بیوقوف لڑکی۔جو عزت دار لوگ ہوتے ہیں ناں وہ بنت حوا کی عزت کو پامال نہیں کرتے۔آگر وہ واقعی اتنا کھرا اور سچا ہوتا تو اب تک یہاں میرے سامنے کھڑا ہوتا سمجھیں۔‘‘وہ سمجھدار انسان تھے۔ ہر بات کو غیرت کا مسلہ بنانا ضروری نہیں ہوتا یہ بات وہ بخوبی جانتے تھے۔ ’’آگر وہ تین سال میں اپنے ماں ،باپ کو نہ منا سکا نہ تو میری ایک بات ذہن نشین کرلو وہ ساری زندگی بھی کبھی اپنے ماں ،باپ کو نہیں منا سکے گا۔میری بچہ یہ لوگ بس تم جیسی معصوم بچیوں کے ساتھ وقت پاس کرنے کے سوا کچھ نہیں کرتے۔‘‘‘وہ اس کا ندامت سے جھکا سر دیکھ نرمی سے بولے۔آخر باپ تھے۔لاڈلی بیٹی پر پہلی بار ہاتھ اُٹھا کر انہیں اپنا آپ بہت بُرا محسوس ہورہا تھا۔۔۔جبکہ حیات کو ایک بار پھر اعتماد ملا تھا۔ ’’بابا!!وہ جلد آجائے گا ،،منا لے گا اپنے ماں باپ کو۔۔آپ بس میری شادی کینسل کردیں۔‘‘وہ ذرا ضدی لہجے میں بولی تھی۔ ’’حیات شاید تمہاری جیسی ہی بیٹیاں ہوتی ہیں جن کی وجہ سے باپ بھائی اِنہیں ضرورت سے زیادہ آزادی دینے سے ڈرتے ہیں۔ شاید میں ہی بیوقوف تھا۔۔جو تمہیں پڑھایا ،لکھایا،زمانے سے قدم سے قدم ملا کر چلنا سکھایا،دنیا کی اونچ نیچ سمجھائی اسی لئے کہ کہیں تم کبھی کسی سے دھوکا نہ کھا سکو۔۔تم سے لاڈ کیا۔پیار دیا۔۔مان دیا۔۔ تمہارے لئے ہمیشہ اپنے بھائی کے سامنے ڈٹ گیا۔بہت فخر سے کہتا تھا یہ میری بیٹیاں ہیں بھائی صاحب میں نے انہیں تعلیم اور شعور دونوں دیا ہے۔۔۔مگر افسوس ذرا سی بے جا آزادی کا تم نے بھی ناجائز فائدہ ہی اُٹھایا ہے۔‘‘اُن کے لہجے میں افسوس بول رہا تھا۔ ’’بابا!‘‘ ’’میں نے تمہارا رشتہ اپنے بھتیجے کے ساتھ طے کیا ہے حیات۔اور آگر تم نے اب انکار کیا تو میں تمہیں کچھ نہیں کہونگا۔بلکہ خودزہر کھا لونگا۔کیونکہ تمہیں رُلتا ہوا ،زمانے کی ٹھوکروںمیں دیکھنےسےبہترہےکہ میں مرجاؤں۔‘‘کاظمیٰ صاحب شدید رنج کی کیفیت سے دوچار تھے۔۔ ’’بابا!پسند کی شادی کی اجازت تو ہمارا مذہب بھی دیتا ہے۔‘‘حیات کی جانب سے ایک آخری کوشش تھی۔ ’’اچھا!مذہب صرف اپنے مطلب کے لئے یاد آیا ہے میری لاڈلی کو۔‘‘ وہ استہزائیہ مسکرائے۔حیات نے شرمندگی سے سر جھکا لیا تھا۔ ’’خیر!تمہارے پاس صرف آج شام تک کا وقت ہے۔آگر وہ تمہاری پسند کا لڑکا ۔عزت سے اپنے ماں،باپ کو لے کر آجاتا ہے تو ٹھیک ہے۔۔اپنے بھائی سے صرف تمہاری خاطر معذرت کرلونگا۔‘‘وہ دُکھ سے بولے تھے۔ ’’بابا!وہ شام تک نہیں آسکتے۔آپ جان بوجھ کر ایسی شرط رکھ رہیں ہیں۔جو میں پوری نہیں کر سکتی۔‘‘حیات نے خودغرض لہجے میں کہا تھا۔ ’’مطلب تمہارے نزدیک باپ کی عزت کا جنازہ اُٹھ جائے،تمہیں اس سے کوئی غرض نہیں ہے۔‘‘وہ شدید رنج میں مبتلہ تھے۔ ’’آگر میری جگہ ،آپ کا کوئی بیٹا ہوتا تو کیا آپ جب بھی اسے یونہی اموشنل بلیک میل کرتے۔‘‘حیات نے ذرا ناگوار لہجے میں بولا تھا۔ ’’آگر تمہاری جگہ ،اب تک میرا کوئی بیٹا ہوتا تو اِس خودغرضی پر اس کا منہ توڑ چکا ہوتا۔مگر مسلہ تو یہی ہے کہ تم اس باپ کی وہ بیٹی ہو،جس بیٹی کو عزت و محبت دینا نبی کی سنت ہے۔تم پر ہاتھ اُٹھانا تو بہت دور کی بات ہوگئی۔‘‘حیات نے ایک جھٹکے سے سر اُٹھا کر اپنے باپ کو دیکھا تھا۔جن کا لہجا ہر احساس سے عاری تھا۔ ’’بابا آپ کا جھکا سر میں بھی نہیں دیکھ سکتی۔مگر میں کچھ غلط تو نہیں بول رہی ،صرف اپنا حق مانگ رہی ہوں۔وہ حق جس کا حکم ،مجھے میرے رب نے دیا ہے۔‘‘وہ ایک بار پھر منتی لہجے میں بولی۔ ’’بیٹا جی میرے اللہ نے مرد اور عورت دونوں کو پسند کی شادی کا حق دیا ہے۔لیکن پسند کی شادی کی اجازت دینا کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تم لوگوں سالوں ماں،باپ کی آنکھوں میں دھول جھونکتے رہو،اور ایک ناجائز رشتے کے تحت سالوں تنہائی میں گفتگو کرتے رہو،اور عین موقع پر ابا نہیں مان رہے،اماں نہیں مان رہیں کا فضول جواز پیش کر کے مکر جاؤ۔آگر واقعی سنت پر عمل کرنا ہے تو پسند آگیا یا آگئی اسے جلد از جلد اپنے نکاح میں لو۔‘‘اُ نہوں نے دونوں طرف کی بات کی تھی۔ ’’میں تو ابھی اور اسی وقت تمہیں اُس کے نکاح میں دینے کے لئے تیار ہوں،مگرشرط یہی ہے کہ وہ اپنے ماں،باپ کولے آئے۔ان پندرہ دنوں میں کسی ایک دن بھی وہ اپنے ماں ،باپ کو منا کر لے آیا ناں ، تو میرا وعدہ ہے کہ میں اسی وقت تمہارا ہاتھ ،اُس کے ہاتھ میں دے دونگا۔‘‘وہ ایک بار پھر اسے رعایت دے گئے ،جبکہ وہ لب چبا گئی۔ ’’مگر ایک بات یاد رکھنا حیات کاظمٰی جو شخص گز شتہ تین سالوں سے اپنے ماں ،باپ کو نہیں منا سکا،اُسے آگر پچاس سال مزید بھی دے دئے جائیں تو وہ جب بھی کبھی نہ منا سکے گا۔آگر وہ واقعی کھرا ہوتا،تو اب تک تمہیں بیاہ کر لے جا چکا ہوتا۔سمجھیں۔‘‘وہ اس بار سخت لہجے میں بولے تھے۔ ’’پندرہ دن بہت کم ہیں بابا۔‘‘کمزور سی آواز۔ ’’آگر اب تم نے کوئی انتہائی قدم اُُٹھانے کا سوچا بھی تو حیات کاظمیٰ پھر تم اپنے باپ کا مرا ہوا منہ دیکھو گی۔‘‘حیات آنسوؤں سے تر چہرہ لئے جھکے سر کے ساتھ،ان کے کمرے سے نکل آئی تھی۔بیچ میں ہی اس کا ٹکراؤ شہریار سے ہوگیا تھا۔جو شاید روم میں ہوتی گفتگو سُن چکا تھا۔وہ نظر آنداز کرتی اپنے کمرے میں بند ہوگئی۔کاظمیٰ صاحب نے دل میں اُٹھتے درد کو نظر آنداز کر آنکھیں موند لیں تھیں۔اور پھر حیات کاظمیٰ نے احمر کو بہت کالز کیں ،مگر رابطہ ممکن نہ ہوسکا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پندرہ دن پر لگا کر اُڑ گئے تھے۔حیات نے چارو نچار بلآخر خود کو اس شادی کے لئے راضی کر ہی لیا تھا۔ کل شام میں اُس کا نکاح تھا، وہ شدید جلبلاہٹ میں کسی کے نہ راضی ہونے پر اپنے لہنگے کے ساتھ جیولری
