Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 39&40
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 13/10/2025
5 Views
Episode no 39&40
،واشروم میں بند ہوگیا تھا۔۔جبکہ اُس کے لبوں پر ایک پر سکون مسکراہٹ ِکھل گئی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’حیات یار آگر تم سوئیں نہ تو پھر دیکھنا۔۔ آئی پرومس میں یہ گاڑی لے جا کر سیدھی کسی پیڑ میں دے مارونگا۔‘‘ وہ فرنٹ سیٹ پر بیٹھی حیات کو اُونگھتا دیکھ غصٰے سے بولا۔ ’’’افف اللہ !کیا ہوگیا ہے آپ کو۔۔میں ابھی نہیں مرنا چاہتی ۔ابھی تو میرے بچے بھی اس دنیا میں نہیں آئے۔‘‘وہ ہڑبڑا کر ہوش میں آتی،بامشکل آنکھیں کھولتی منہ بنا کر بولی۔افگن کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔۔یہ لڑکی اپنی محبت کا اظہار کرنے میں شاید ہی کبھی کترائی ہو۔ ’’ہاں تو جیسے مجھے تو مرنے کا بہت شوق ہے ناں۔اور محترمہ بچے تو ابھی میرے بھی اس دنیا میں نہیں آئے ہیں۔‘‘افگن کی شرارت پر،حیات نے گھور کر اُسے دیکھا تھا۔۔ ’’ ایک بندہ گاڑی ڈرائیو کر رہا ہے اور فرنٹ سیٹ پر براجمان محترمہ بے خبر سو رہی ہیں۔۔تو ڈرائیور نے گاڑی کسی دوسری گاڑی سے ہی ٹھوکنی ہوتی ہے۔‘‘وہ اُسے گھور کر بولا جو اُس کی جھلبلاہٹ پر اُسے چڑانے کے لئے قہقہہ مارتی پاؤں سمیٹ کر بیٹھ گئی تھی۔ ’’ہاں بس یہ کرالوں میڈم سے۔سیٹ پر نہیں جیسے صوفے پر بیٹھی ہیں۔‘‘وہ اُسے اپنی فیو کار کی سیٹ پر پاؤں رکھ کر بیٹھتا دیکھ گھور کر بولا،مگر وہ حیات ہی کیا جو باز آجائے۔ ’’میں تو ایسے ہی بیٹھونگی۔۔کیا آپ روک سکتے ہیں مجھے؟‘‘ وہ آئی بروز اُٹھاتی چیلنجنگ لہجے میں بولی تو شیر افگن کو یکدم شرارت سُوجھی تھی۔اور حیات جو یونہی بیٹھی ہوئی تھی ۔گاڑی کے ڈس بیلنس ہونے اور جھٹکے پر سیدھی افگن پر جا گری تھی۔ ’’ افگن !خدا کا خوف کریں کچھ۔ہم مین روڈ پر ہیں۔‘‘ وہ خود کو محفوظ دیکھ جلدی سے پاؤں نیچے کر کے بیٹھی تھی۔ ’’ہاں!ایسے بیٹھتے ہیں کار میں ،تمیز کے ساتھ۔ اب آئندہ یہ حرکت کی نہ تو یہ تو صرف ٹیلر تھا۔۔سیٹ بیلٹ لگاؤ فوراً۔‘‘حیات اُس کی چالاکی پر دل مسوس کر رہ گئی ،مگر ضد میں سیٹ بیلٹ لگانے کے بجائے اُس کے بازو پر سر ٹیکا کر بیٹھ گئی،جس کی نظریں سڑک پر مرکوز تھیں۔ ’’انسان بن جاؤ حیات!‘‘وہ اُسے پیچھے نہیں دھیکیلنا چاہتا تھا مگر وارن ضرور کیا۔ ’’ بھئی نیند آرہی ہے مجھے۔ہم گھر کب پہنچے گے۔‘‘ وہ بیزاریت سے بولی۔ ’’کتنی نیند آتی ہے تمہیں۔سو سو کر دل نہیں بھرتا تمہارا۔‘‘ اُس نے زرا کی زرا نظر اُٹھا کر اُسے گھورا۔جس نے آئی برو اُٹھائے۔ ’’آگر آپ بھول رہے ہیں تو میں یاد کرا دیتی ہوں کہ کل رات ہم فجر کے بھی بعد سوئے تھے۔‘‘اُس نے جتاتے لہجے میں کہا۔ ’’اچھا ٹھیک سے بیٹھو۔۔اِس روڈ پر بہت ٹریفک ہوتا ہے۔‘‘ وہ سڑک پر گاڑیوں کا جھوم دیکھ سنجیدگی سے بولا۔تو وہ بھی سیدھی ہو بیٹھی۔ ’’اب وہ باتیں کرنے کے ساتھ ساتھ موبائل میں بھی مصروف ہوگئی تھی۔ جبکہ افگن ،جو بامشکل لفظ ترتیب دے رہا تھا۔۔بل آخر پوچھ بیٹھا۔ ’’حیات!‘‘ ’’ہمم!‘‘ ’’ایک بات پوچھوں۔‘‘وہ سنجیدہ تھا۔ ’’ہم پوچھیں۔‘‘وہ مصروف سی بولی تھی۔ ’’یہ موبائل تو رکھو یار۔‘‘ُاسے چڑ ہوئی تھی۔ ’’اچھا بابا!اب بولیں کیا بات ہے۔‘‘وہ پوری طرح ہمہ تن گوش ہوئی۔ ’’مجھےاُس رات کے بارے میں تفصیل سے جاننا ہے۔‘‘اُس نے گلا کھنکھار کر نرم لہجے میں کہا تھا۔ ’’کس رات کے بارے میں۔‘‘ وہ سمجھ کر بھی انجان بنی تھی۔ ’’ تم جانتی ہو۔‘‘اُس نے ایک نظر دیکھ پھر نظریں سڑک پر مرکوز کی تھیں۔ ’’کیا جاننا ہے آپ کو۔سب کچھ تو میں بتا چکی ہوں۔‘‘وہ تلخ ہوئی تھی۔ ’’لیکن مجھے سب دوبارہ سے جاننا ہے۔ تمہارے ساتھ کب کیا ہوا۔تم گھر سے کیسے نکلیں،اور جب تمہیں اغوا کیا گیا تو اُس وقت تم کہاں تھیں۔۔مطلب سب کچھ تفصیل سے۔‘‘اُس نے اُس کا ہاتھ پکڑ کر ملائم لہجے میں کہا۔جو ٹرانس کی سی کیفیت سے دوچاربالکل خاموش ہوگئی تھی۔۔۔ ’’بھروسہ تو ہے ناں مجھ پر۔‘‘اسے خاموش دیکھ وہ گاڑی سائیڈ میں لگاتا با قاعدہ طور پر اُس کی جانب گھوما تھا۔ اُس نے خالی خالی نظروں سے افگن کو دیکھا تھا۔جس نے تھامے ہوئے ہاتھ کی پشت پر لب رکھے تھے۔اور پھر حیات کی نظروں کے سامنے ایک فلم سی چلنے لگی تھی۔ وہ ٹرانس کی سی کیفیت سے دوچار بس بولتی چلی گئی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’حیات اُٹھ جاؤ لڑکی۔۔ساری ساری رات جاگتی ہو ،اور دن بھر سوتی رہتی ہو۔کچھ تو اللہ کا خوف کھاؤ۔دن اللہ نے کام دَھندے کے لئے بنایا ہے نہ کہ بستر توڑنے کے لئے۔‘‘ حیات کی والدہ معمول کے مطابق صبح صبح اُسے کمرےمیں اُٹھانے کی غرض سے آتی ناگوار لہجے میں جھاڑ پلا رہی تھیں۔ ’’یار ماما !آج تو سنڈے کا دن ہے۔میں رات کو سوئی بھی تو لیٹ تھی۔‘‘وہ بالوں کا جوڑا لپیٹی ایک بھرپور انگڑائی لے کر بیدار ہوئی تھی۔ ’’اچھا زرا جلدی سے اُٹھ جاؤ۔ آج بھائی صاحب لوگوں کے یہاں ہماری دعوت ہے۔ بس سمجھو،آج تمہاری شادی کی تاریخ طے کرنی ہے۔‘‘ حیات کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے، ’’یار ماما کیا ہوگیا ہے آپ کو۔۔کتنی بار کہاں ہے۔مجھے نہیں کرنی ابا کے اُس بھتیجے سے شادی۔‘‘وہ ہمیشہ کی طرح ناگوار لہجے میں بولی تھی۔ ’’جاؤ۔۔اور یہ بات زرا جا کر اپنے باپ سے بولو۔‘‘وہ کمرہ سمیٹتی گھور کر بولیں۔۔جس کےماتھے پر بل پڑ گئے تھے۔ ’’ماما یار!‘‘وہ تیزی سے اُٹھ کر واشروم کی جانب بھاگی تھی۔ جبکہ وہ بڑبڑاتی ہوئیں،روم سے نکل گئیں تھیں۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’افگن کال پک کریں میری!‘‘احمر نے دیکھا ،حیات کی ڈھیروں مسڈ کالز اور میسجز تھے۔ ’’ہاں بولو!‘‘اُس نے ہمیشہ کی طرح میسج کیا تھا۔ ’’بابا میری شادی کی تاریخ طے کر رہے ہیں۔۔آخر آپ کب آئیں گے۔اپنے ماما ،بابا کو لے کر،تین سال کے اس افئیر کا اب کوئی اینڈ ہونا بھی ہے یاپھر آپ نے بس مجھے یونہی بیوقوف بنانا ہے۔‘‘ اُس نے غصےٰ بھراوائس نوٹ سینڈ کیا تھا۔احمر کی پیشانی پر بل نمودار ہوئے۔ ’’یار میں جلد لے آؤنگا اپنے پیرنٹس کو۔کہا تو تھا وہ ہمارے اسٹینڈرذ میں فرق ہونے کی وجہ سے نہیں مان رہے۔‘‘ اُس نے ہمیشہ کی طرح ٹالنا چاہا تھا۔ ’’تو میں کیا کروں۔۔بابا میری شادی شہریار سے کرادیں گے۔‘‘ وہ روہانسو ہوگئی تھی۔ ’’تو میں کیا کروں؟ابھی تمہاری عمر ہی کیا ہے۔محض چوبیس سال۔۔تمہارے ماں ،باپ کو کیا جلدی پڑ گئی ہے جلد شادی کرنے کی۔‘‘وہ ہمیشہ کی طرح بپھر گیا تھا۔ ’’افگن!میں آپ کو بتا رہی ہوں۔آپ کے بغیر میں کسی سے شادی نہیں کرونگی۔آگر ایسا ہوا تو میں اپنی جان لے لونگی۔‘‘ وہ شدید جذباتیات سے بولی تھی۔ ’’ابھی خاموش بیٹھو،میں ذرا کچھ روز کے لئے دبئی جا رہا ہوں۔وہاں سے واپس آجاؤں۔پھر بات کرتا ہوں تم سے۔‘‘وہ ایک وائس نوٹ سینڈ کرتا نمبر آف کر چکا تھا۔۔جبکہ وہ دل مسوس کر رہ گئی۔کیونکہ وہ ایسے ہی نخرہ دکھایا کرتا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’بابا!میں یہ شادی نہیں کرنا چاہتی۔‘ہفتہ قبل شہریار کی اورحیات کی شادی کی تاریخ طے پا گئی تھی۔۔ دونوں گھر کے بچے تھے۔پندرہ روز بعد شاددی تھی۔ حیات نے اپنی دانستہ میں افگن کو بہت بار کال کی تھی۔۔مگر دوسری جانب موجود احمر کچھ اور ہی پلینگ کیئے بیٹھاتھا۔ ’’حیات!بیٹا یہ آپ کیا کہ رہی ہیں؟‘‘ وہ اپنی لاڈلی بیٹی کے منہ سے اس قدر غیر متوقع بات سُن کر حیران ہوگئے تھے۔ ’’بابا میں کسی اور سے محبت کرتی ہوں۔‘‘یہ اُن کا ہی دیا ہوا مان تھا جو وہ اس قدر دیدہ دلیری سے اپنے باپ کے سامنے اپنی محبت کا اظہار کر رہی تھی۔ ’’تم نے ہماری محبت اور بے جا لاڈ پیار کا ناجائز فائدہ
