Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 39&40
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 13/10/2025
5 Views
Episode no 39&40
&#دھوپ_چھاؤں__سا_ہرجائی #از_ہما_قریشی #قسط_نمبر 39 &40 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’کیا خیال ہے چلیں روم میں!‘‘ارتضیٰ نے لان میں خاموش کھڑی عابثہ کو دیکھ آئی بروز اُٹھائے۔وہ اُس کی گرے آنکھوں میں جذبات کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر دیکھ گڑبڑا سی گئی۔ ’’وہ میں کہ رہی تھی۔کتنی پیاری،اور ٹھنڈی ہوا چل رہی ہے ناں ۔پُرسکون سا رات کا خوبصورت نظارا ہے۔ کچھ دِیر لان میں ہی چہل قدمی کرتے ہیں۔‘‘وہ اُدھر اُدھر نگاہیں گھُماتی لب چباتی بہانہ بنا گئی۔۔ارتضیٰ کے لبوں پر مچلتی مسکراہٹ گہری ہوگئی تھی۔ ’’ہمم!توآجائیں پھر۔‘‘ارتضیٰ نے اُس کی جانب اپنا ہاتھ بڑھایا تو وہ تھوڑا جھجھک کر اُس کی مضبوط ہتھیلی پر اپنا مومی ہاتھ رکھتی اس کی سنگت میں قدم اُٹھانے لگی تھی۔۔ ’’ویسے آپ غالباً یونیورسٹی کی اسٹوڈینٹ ہونگی۔ کونسا سمسٹر چل رہا ہے۔۔سبجیکٹس کون کونسے ہیں۔ ‘‘وہ جانتا تھا کہ وہ پڑھائی چھوڑ چکی ہے۔مگر جان بوجھ کر سوال داغا تھا۔ ’’اممم!نہیں۔۔میں نے دوسالہ بی اے کیا ہے بس۔‘‘اُسے پہلی بار اپنی ڈگری بتاتے شرمندی ہوئی۔ ’’ڈیٹس وری نائس!بی اے بس تو نہیں ہوتا۔‘‘ اُس کا کترانہ وہ بخوبی بھانپ چکا تھا۔وہ بار بار گھبراہٹ ،بوکھلاہٹ میں بال کان کے پیچھے اُڑس رہی تھی۔ ’’جی۔۔بس ویسے ہی۔‘‘ وہ سر ہلا گیا۔۔اب دونوں کے درمیان معنی خیز خاموشیاں باتیں کر رہی تھیں۔ ’’آپ نے میرے اِن دونوں سوالوں کے جوابات تو نہیں دئے تھے۔۔لیکن ایک سوال کا جواب مجھے ہر حال میں چاہیئے۔‘‘ وہ یکدم سنجیدہ ہوگیا تھا۔ ’’کس سوال کا؟‘‘وہ چونکی۔ ’’آپ آدھی رات کو گھر سے اکیلی باہر کیوں نکلی تھیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ آپ پہلے ہی ایک حادثہ کا شکار ہوچکی ہیں؟‘‘ وہ اُسکا رُخ اپنی جانب کرتا ،اس کی آنکھوں میں اپنی گہری مقناطیشی آنکھیں گاڑتا باز پرس پر اُتر آیا تھا۔ ’’وہ زبردستی میرا نکاح کرانا چاہتے تھے۔۔۔اپنے شادی شدہ پوتے کے ساتھ۔۔لیکن میں ایسا نہیں چاہتی تھی۔‘‘اُس نے کسی قسم کے جھوٹ کا سہارا لینا مناسب نہیں سمجھا تھا۔جبکہ ارتضیٰ کی آنکھوں میں ناگواری چھا گئی تھی۔ ’’تو آپ نے گھر سے بھاگنا بہتر سمجھا۔۔ہمم!‘‘اس بار وہ ناراض لہجے میں افسوس سے بولا۔ ’’جب آگے کنواں اور پیچھے کھائی ہو تو فیصلہ ہمیشہ وہ کرنا چاہئے جو انسان کو مطمئن کردے۔کہ ہاں میں نے خود کو محفوظ رکھنے کی ایک ممکن کوشش تو ضرور کی تھی۔‘‘ وہ کرب آمیز لہجے میں بولتی استہزائیہ مسُکرائی تھی۔۔ارتضیٰ نے ہوا کے دوش پر اُس کے چہرے پر لہراتی آوارہ زُلف کو کان کے پیچھے اُڑسا تھا۔جو اُن دونوں کے درمیان پردہ سا حائل کرتی ارتضیٰ کو اچھا خاصہ اریٹیٹ کر رہی تھی۔۔ ’’یہ جانتے ہوئے بھی کہ باہر کیسے کیسے درندے گھوم رہے ہیں۔ایک لڑکی کہ لیے اُس کی عزت سے زیادہ کچھ اہم نہیں ہوتا۔‘‘وہ بڑی فرصت سے اُس کے تیکھے نقوش میں کھویاگھمبیر لہجے میں بولا تھا۔ ’’اور جب ایک لڑکی کے لئے گھر کی چار دیواری ہی غیر محفوظ ہوجائے تو پھر ؟‘‘اِس بار اُس نے براہ راست اُس کی آنکھوں میں جھانکتے سوال کیا تھا۔وہ جو دھیرے سے اُس کے گہرے گلابی سرخی مائل لب اپنے انگوٹھے سے سہلا رہا تھا،یکدم چونکا۔ ’’مطلب!‘‘اُس نے بے ساختہ ہی اُسے سختی سے تھاما تھا۔ ’’اب آپ اتنے بھی نادان نہیں کہ میرے لفظوں میں چھپا مفہوم نہ سمجھ سکیں۔۔اُس گھر میں ، میں نے اپنا بچپن اور جوانی گزاری ہے۔ نانو بہت بُری صحیح مگر میں نے ہمیشہ اس چار دیواری میں خود کو محفوظ سمجھا ۔مگر چند روز قبل میرے ہی گھر میں،میرے کمرے میں کوئی اجنبی آکر مجھے چھونے کی کوشش کرتا ہے۔اور میری چیخ و پکار پر فردوس منزل کے مکینوں نے اُلٹا مجھے ہی قصور وار ٹھرا دیا۔‘‘وہ سُنہری آنکھوں میں آنسو بھر لائی تھی۔ارتضیٰ نے آنکھیں میچ کر کھولی تھیں۔ ’’نام کیا اُس کا؟‘‘ ارتضیٰ کا سخت لہجا محسوس کر وہ ہوش میں آئی۔ ’’آپ ۔۔۔جو ہوگیا اُسے جانے دیں ارتضیٰ۔‘‘وہ جانتی تھی کہ ارتضیٰ اس بات کا ذکر افگن سے ضرور کرتا اور پھراُ س کے بعد۔۔جو کچھ ہوتا وہ اُس کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ ’’عابثہ ارتضیٰ عباس میں نے آپ سے رائے نہیں مانگی۔بلکہ اس بد بخت کا نام پوچھا ہے۔‘‘اُس کو کمر سے پکڑ کر نزدیک کرتا وہ پل میں ہراساں کر گیا۔ ’’اُس کا نام کیا ہے ۔۔کیا یہ وہی شخص ہے جو اُس روز تمہاری نانی کے ساتھ آیا تھا؟‘‘وہ جو ارتضٰی کے بے باک لمس پر پہلے ہی سُن سی کھڑی تھی۔۔اس بار اپنے ہوش گنوانے کے در پر آگئی تھی۔۔ ’’جی۔۔ وہی ہے۔‘‘ جب گرفت میں شدت اور سختی در آئی تو لڑکھڑاتے لہجے میں بولی تھی۔ ’’خیر!رات بہت ہوگئی ہے۔چلو روم میں چلتے ہیں۔۔ویسے آج تم میرے لئے اتنے دل سے تیار ہوئی تھیں۔۔اور میں نے ایک بار بھی تمہاری تعریف نہیں کی۔‘‘وہ دھیرے سے جھک کر اُس کےسُرخ رخسار پر اپنے دہکتے لب رکھتا عابثہ کو ششدر کر گیا۔وہ شخص لمحوں میں بدل رہا تھا۔ ’’میرا دل آج تک کسی لڑکی کی جانب مائل نہ ہوسکا۔۔جبکہ میرے اِرد گرد ہمیشہ سے لڑکیوں کا ایک ہجوم رہا ہے۔۔یہ پتھر دل کبھی کسی صنف نازک کے لئے موم نہ ہوسکا۔مگر نجانے کیوں ایک ہی رات میں ،ایسا لگ رہا ہے کہ تم وہ واحد لڑکی ہو جو اِس دل کو اپنا اسیر کرلو گی یا پھر کر چکی ہو۔‘‘وہ جنون خیز لہجے میں بولتا پر شد ت آنداز میں اُس کے چہرے کے ایک ایک نقش کو اپنے پُر کیف لمس سے مہکاتا دیوانگی کے عالم میں میٹھی سی سرگوشیاں کرتا اُس کی رگ و پے میں اپنی محبت کا سُرور پھونکتا چلا جا رہا تھا۔۔عابثہ اُس کے لہجے کی شدت بے باک لمس پَر پورے وجود سے کپکپا اُٹھی تھی۔ ’’عابثہ اس رشتے کی شروعات میں سچ کے ساتھ کرنا چاہتا ہوں۔مجھے سب کچھ برداشت ہے مگر جھوٹ اور دھوکہ نہیں۔کوشش کرنا کہ تمہارے اور میرے درمیان یہ دو چیزیں کبھی نہ آئیں۔‘‘اُس کے یخ بستہ وجود کو خود میں سموتا وہ کان میں دھیمی مگر سخت سی سرگوشی کرنا نہیں بھولا تھا۔۔۔ ’’ارتضیٰ پلیز۔‘‘عابثہ کی آنسوؤں میں گھُلی آواز محسوس کر اُسے فوری اپنی شدت کا احساس ہوا تھا۔ ’’سوری!چلیں روم میں چلتے ہیں۔‘‘وہ اپنے کان کی لو سہلاتا عابثہ کو خائف سا نظریں چُراتا دیکھ بولا۔ ’’جی۔‘‘وہ اب تک اُس کی قربت کے حصار میں جکڑی ناسمجھی کے عالم میں گویا ہوئی تھی۔ وہ معنی خیز آنداز میں مسکرایا اور پھر ایک جھٹکے سے اُسے اپنے حصار میں اُٹھاتا سیڑھیاں چڑھنے لگا ،جو اس اچانک افتاد پر سنبھلتی خود کو ارتضیٰ کی بانہوں میں محسوس کر بُری طرح گڑبڑائی تھی۔ ’’میں۔۔میں خود چل سکتی ہوں۔‘‘اُس کی آنکھوں میں مخفی شرارت دیکھ ،اُس کا دل بہت تیزی سے دھڑک رہا تھا۔جونظرآنداز کرتا اب پیر سے کمرے کا دروازہ کھولتا , روم میں داخل ہو تا اُسے بیڈ پر بیٹھا چکا تھا۔ ’’ڈریسنگ روم میں جاؤ۔وارڈروب چیک کرو،وہاں تمہارا سارا سامان سیٹ ہے۔ اِس ڈریس میں تم خاصی انکمفر ٹیبل ہوگئی ہوگی۔میں جب تک باقر صاحب کو کافی کا بول کر آتا ہوں۔‘‘وہ اپنے لئے بھی نائٹ سوٹ نکالتا متوازن لہجے میں بولا تاکہ وہ ریلیکس فیل کرے۔ ’’کافی کا میں بول دیتی ہوں۔بلکہ میں بنا دیتی ہوں۔‘‘وہ تیزی سے اُٹھی۔ ’’اِس کی کوئی ضرورت نہیں ہے سویٹ ہارٹ! باقر صاحب اس وقت تک اپنے کواٹر میں چلے جاتے ہیں۔۔اور آپ کا اس وقت سرونٹس کواٹر میں جانا ٹھیک نہیں۔اور رہی بات آپ کے ہاتھ کی کافی۔۔تو آج رہنے دیجیے پھر عمر بھر یہ ڈیوٹی آپ ہی نے ہی نبھانی ہے۔‘‘وہ آنکھ کا کونا دباتا
