Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 35
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 11/10/2025
7 Views
Episode no 35
سنگھار آئینے پر شدت سے ہاتھ مارتا کانچ چکنا چور کر گیا تھا۔ ۔جبکہ ہاتھ سے بہتی خون کی دھار سے کمرےکا فرش رنگین ہوتا جارہا تھا۔۔مگر نفرت کی آگ،اور روح پر لگے زخم اس معمولی سے درد کو محسوس کرنے میں نکام ٹھرے تھے۔۔۔ ’’اصل کھیل تو اب شروع ہوگا شیرافگن ہاشمی! اب تک تو تم نے محض میری دوستی اور مخلصی دیکھی تھی۔ اب میری نفرت کی انتہا دیکھو گے۔۔‘‘ وہ جبڑے بھینچ کر بڑبڑاتا شدید کرب کی سی کیفیت میں مبتلہ تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وقت اپنی رفتار سے گزر رہا تھا۔۔احمر ابھی بھی بظاہر ُان کا بہت اچھا دوست تھا۔مگر افگن اور اُجالا کو برباد کرنےکا تہیہ وہ دل سے کر چکا تھا۔۔وہ ہر اُس شخص کو برباد کرنا چاہتا تھا ۔جس کا تعلق شیر افگن ہاشمی سے تھا۔ شیر افگن ہاشمی احمر کی سنگت کے باعث کچھ نہ کرنے کے باوجود یونیورسٹی اور اپنے سرکل میں ایک بگڑا ہوا امیر زادہ،اور عیاش مزاج کے نام سے مشہور تھا۔جو بھی غلط کام ہوتا اس کا سب سے پہلا سہرا شیرافگن کے سر سجایا جاتا ،اور وہ اپنی صفائی میں ایڑھی چوٹی کا زور لگا ڈالتا مگر کوئی اس پر یقین ہی نہیں کرتا تھا۔۔اب ناصر صاحب بھی اُس سے انتہائی خائف رہتے تھے۔۔ تعلیم مکمل کرنے کے باوجوداُس نے کبھی بزنس میں انٹرسٹ نہیں لیا تھا۔ بے فکری کی زندگی تھی۔۔اُس کا نام نہادوست کس طرح اس کی زندگی برباد کرنے کی پلینگ ترتیب دیئے بیٹھا تھا وہ اس بات سے یکسر انجان تھا۔۔اور زندگی کی متوازن دھارے میں اس وقت طغیانی برپا ہوئی تھی۔۔جب یکدم اچانک سے ایک لڑکی اُس کے گھر کی دہلیز پر کھڑی ہوکر اُس سے محبت کی شدید دعوایدار بن کر آگئی تھی۔ وہ حیران وپریشان اور حواس باختہ نہ ہوتا تو کیا ہوتا۔۔ ایک لڑکی اچانک سے زندگی میں آگئی۔بقول اُس کو وہ دونوں پچھلے تین سالوں سے ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں۔محبت کرتے ہیں۔۔شادی کے وعدے کر رکھے تھے۔شادی کی رات کو کڈنیپ کرلیا تھا۔۔۔۔اففف۔ ان تمام تر حالات نے اُس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو مفلوج کر کے رکھ دیا تھا۔۔اور پھر پے در پے ملنے والے شاکس نے اُس کی ہستی ہلا ڈالی تھی۔۔۔ احمر شیر افگن کے نام سے کتنی ہی لڑکیوں کی زندگی برباد کر چکا تھا۔۔ جس کا ایک شکار حیات کاظمیٰ بھی تھی۔۔جس سے اس کی ملاقات ایف بی پر ہی ہوئی تھی۔۔یہ ایک علیحدہ فیس ُبک اکاؤنٹ تھا جو شیرافگن ہاشمی کے نام سے بنا رکھا تھا۔۔اور یونیورسٹی کے تمام فرینڈز کو بلاکڈ کر رکھا تھا۔۔ ویسے تو وہ شیر افگن کے نام سے کتنی ہی لڑکیوں کی عزت کے ساتھ کھیل چکا تھا۔۔۔ مگر اِس لڑکی کو وہ ایک الگ ہی مقصد کے لئے تیار کر رہا تھا۔۔مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ حیات کاظمیٰ کے کندھے پر رکھ کر بندوق چلانا اُسے کس قدر بھاری پڑنے والا تھا۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔
