Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 35
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 11/10/2025
7 Views
Episode no 35
؟‘‘ارتضیٰ افگن کو پکڑ کر شرارتی لہجے میں بولتا زرا سا دھکا دیتا پیچھے کرنے ہی لگا تھا ،کہ ساتھ کھڑی بینا جو کسی ٹرانس کی سی کیفیت سے دوچار افگن کو دیکھ رہی تھی وہ بے ساختہ افگن کی جانب لپکی ،جو نیچے کو گرتا محسوس ہوا تھا۔۔ ’’بینا!‘‘وہ شیرافگن کی جانب بڑھتی لمحے کے ہزارویں حصےٰ میں کھائی میں جاگری تھی۔۔۔اور وہ سب حواس باختہ رہ گئے۔۔دو لمحوں کے فرق سے سب سے پہلے ہوش شیر افگن کو آیا تھا۔۔ ’’بینا۔۔۔۔۔احمر ۔۔بینا۔۔۔۔میڈم۔۔۔سر۔۔‘‘ وہ ذور ذور سے چیخ کر سب کو سب کو پکارنے لگے تھے۔۔مگر جب تک بہت دیر ہوچکی تھی۔گہرائی میں گرتی بینا دور دور تک کہیں بھی نظر نہیں آرہی تھی۔۔وہ لمحوں میں نظروں سے اُوجھل ہوگئی تھی۔۔۔ ’’تین روزہ ریسکیو آپریشن کے بعد بامشکل بینا کی ڈیڈ باڈی مل سکی تھی۔۔۔ اصغر صاحب کے گھر میں قہرام مچ گیا تھا۔۔۔جوان بیٹی ایک لمحے میں ہاتھوں سے نکل گئی تھی۔۔اس حادثاتی جوان موت پر ہر دوسرا شخص افسوس کر رہا تھا۔۔۔احمر تو بہن کے صدمے میں کچھ روز افگن اور ارتضیٰ کی شرارت پر ان سے ناراض رہا تھا۔۔۔مگر پھر اللہ کی مرضی جان کر ناراضگی ختم کرلی۔۔۔ شرمندہ تو وہ دونوں بھی بہت تھے۔۔۔مگر وقت کا کام ہے گزرنا اور وہ مزید آگے بڑھ گیا۔۔۔بینا کا دُکھ آگر چہ بہت بڑا تھا۔۔مگر وقت ہر زخم کا سب سے بڑا مرہم ہوتا ہے۔۔وقت مزید دو سال آگے بڑھ گیا تھا۔۔اب وہ سب یونیورسٹی میں پہنچ گئے تھے۔۔ سب دوستوں کے مشترکہ فیصلے کے تحت اُجالا سمیت سب نے بزنس پڑھنے کا فیصلہ کیا تھا۔۔ دن اپنی رفتارسے تیزی سے گزر رہے تھے۔۔شیرافگن کا جھکاؤ اُجالا کی جانب زیادہ ہی بڑھ گیا تھا۔۔جبکہ اُجالا کا دل محض ارتضیٰ میں کہیں آٹک کر رہ گیا تھا۔۔ یونیورسٹی میں آنے کے بعد احمر کی عادتوں میں واضح تبدیلیاں رونما ہوئی تھیں۔۔اور آج کل ان دوستوں کے گروپ میں ایک مزید لڑکے کا اضافہ ہوگیا تھا۔۔نعمان عادتً ایک عیاش مزاج لڑکا تھا۔۔ احمر اور نعمان یونیورسٹی کی ہر ایکٹیوٹی میں پیش پیش ہوا کرتے تھے۔۔جبکہ ارتضیٰ اور افگن کا فوکس فی الحال محض پڑھائی پر تھا۔۔ارتضیٰ تو عادتً سنجیدہ مزاج تھا اور یونیورسٹی کی تمام خرافات سے زرا فاصلے پر ہی رہتا تھا۔۔مگر افگن اب اکثر اُن سب کے ساتھ مل کر مستی مذاق میں لگا رہتا تھا۔جس وجہ سے ناصر صاحب سے وہ کئی بار جھڑپ بھی سُن چکا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ عام سے دنوں کا ایک دن تھا۔۔احمر آج نجانے گزرے تین سالوں میں کیسے بہن کے روم میں آگیا تھا۔۔ورنہ اُس نے تو اس طرف آنا ہی چھوڑ دیا تھا۔۔وہ دو ہی بہن بھائی تھے اور اب بینا کے چھوڑ جانے کے بعد وہ بالکل اکیلا ہوگیا تھا۔۔۔ڈیڈ نے خود کو بزنس میں مصروف کرلیا تھا۔البتہ اُس کی مدر اب زیادہ تر خود کو سوشل ایکٹیوٹیز میں مصروف رکھتی تھیں۔بینا کا کمرہ اُس کی موت کے چند روز بعد ہی جوں کا توں بند کردیا گیا تھا۔۔۔ احمر روم میں داخل ہوا تو سیدھی نظر دھول مٹی سے آٹی بینا کی تصویر سے جا ٹکرائی تھی۔ اس کے چہرے پر ایک افسردہ مسکراہٹ کھل گئی تھی۔ ’’آہ بینا!بھائی کی جان!اتنی جلدی کیوں چلی گئیں آپ۔‘‘دیوار گیر سینکڑوں تصاویروں پر ایک نظر ڈالتا وہ کڑیل جوان مرد آنسوؤں سے رو پڑا تھا۔۔وہ جیسا بھی صحیح مگر اپنی بہن سے انتہا کی محبت کرتا تھا۔۔ کمرے میں دھول مٹی دیکھ اسے اپنی ماں کی لاپرواہی پر افسوس ہوا تھا۔۔۔بھلا بینا کا کمرہ کبھی اتنا گندا نہیں رہا تھا۔۔وہ ایک سلیقہ مند لڑکی تھی۔۔مگر ماں اپنے غم میں اپنی بیٹی کی یادوں سے بھی دامن چھڑانا چاہتی تھی۔۔وہ سر جھٹک کر بیڈ پر بیٹھ گیا۔۔سائیڈ ٹیبل کی دراز بس یونہی کھول کر دیکھی تو اس میں ایک ڈائری پڑی نظر آگئی تھی۔۔وہ اس پر بینا کا نام دیکھ دُکھ سے مسکرایا۔ ’’اُسے یاد تھا بینا کو ڈائری لکھنے کا بے حد شوق تھا،مگر ُاس کی ڈائری آج تک اس کے علاوہ کسی نے بھی نہیں پڑھی تھی۔۔۔ ڈائری کے کور پر ہاتھ پھیرتا وہ رنجیدہ ہوگیا تھا۔۔اور پھر وہ دل ہی دل میں بینا کو سوری کرتا صفحہ پلٹنے لگا ۔۔چند بچپن کی خوبصورت یادوں کو قلم بند دیکھ ،اُس کا دل غم سے پھٹنے لگا تھا۔۔ وہ آنسوؤں سے تر چہرہ لئے اپنی بہن کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں اور خواہشات پڑھ کر مزید دُکھی ہوگیا تھا۔۔اب وہ کالج لائف کا پہلا دن لکھ رہی تھی۔۔اور انہی دنوں میں سے ایک دن میں نیا انکشاف یہ بھی ہوا تھا کہ بینا شیرافگن کے معاملے میں نہ صرف حساس تھی بلکہ وہ اس سے انتہا کی حد تک محبت بھی کرتی تھی۔وہ کتنے ہی لمحے سکت میں رہا تھا۔۔وہ سب بچپن کے دوست تھے مگر بینا کو اُس سے محبت کب ہوئی وہ اس بات سے انجان تھا۔۔وہ جیسے جیسے آگے پڑھتا جارہا تھا۔۔کالج کی ڈیڑ سال کی لائف میں بینا نے محض شیرافگن کا ہی ذ کر رکھا تھا۔۔۔ڈائری میں شیرافگن کا ذکر کئی مقامات پر موجود تھا لیکن وہاں اس کے ساتھ اس کا بھی ذکر تھا۔۔نہ ہی اُس نے کسی قسم کی فیلنگز کا ذکر کیا تھا۔۔مگر کالج لائف میں ایسا لگ رہا تھا ،جیسے بینا کی زندگی کے ڈیڑھ سال کا محورمحض شیرافگن گرد ہی چکر کاٹتا رہا تھا۔اور پھر ایک جگہ اظہار محبت کے دن کے بارے میں بھی تفصیل سے لکھا تھا۔ ۔ مطلب افگن بھی ا س حقیقت سے واقف تھا۔۔اور پھر اگلے تمام صفحات افگن کے انکار،اور پھر اس کی بے رُخی کی داستان سے بھرے ہوئے تھے۔۔بیشتر مقامات پر اُجالا سے نفرت کا اظہار بھی کیا گیا تھا،جس کی وجہ سے شیر افگن اُس کی جانب دیکھتا بھی نہیں تھا۔۔وہ اُس کی موت کے دن کے آخری صفحات تھے۔جس میں محض اس کی محبت نہیں بلکہ بینا نے اپنے دل کا درد قلم بند کردیا تھا۔۔صفحوں پر موجود آنسوؤں کے نشان اس بات کا واضح ثبوت تھے کہ قلم کار لکھتے وقت بے انتہا ُدکھی تھی۔ ’’اُس نے ایک مقام پہ لکھا تھا کہ شیرافگن کی محبت اور اُس کی بے رُخی کسی دن اُس کی جان نکال لے گی۔۔‘‘اور حقیقتاً بالکل ایساہی ہوا تھا۔وہ دیوانی سی لڑکی اُس کی محبت میں اتنی آندھی ہوگئی تھی کہ اُس کی جگہ خود موت کو گلے لگا لیا تھا۔۔۔‘‘ احمر کے آنسوؤں گالوں پر بہتے چلے جارہے تھے۔۔آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر بیٹھا،وہ شخص بہن کے گزر جانے کے سالوں بعد بھی اس کا درد دل سے محسوس کرتا شدّتوں سے پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا۔۔ اور شیر افگن۔۔۔وہ ہمیشہ سے اُس کا بہت اچھا دوست رہا تھا مگر اُس کی بہن کو مار کر وہ کس قدر مطمئن تھا۔کیا اُسے زرا افسوس نہیں تھا۔۔۔احمر کو یکدم اُس سے بے انتہا نفرت محسوس ہوئی تھی۔۔ ’’وہ قاتل تھا۔۔۔۔۔۔ہاں ہاں شیرافگن ہاشمی قاتل تھا اُس کی معصوم بہن کا۔جس کی محبت نے اُس کی جان لے لی تھی۔وہ قاتل تھا اُس معصوم کے ارمانوں کا۔۔اُس کی زرا سی نادانی نے اُس کی جان لے لی تھی۔۔وہ اُس سے کتنی محبت کرتی تھی کہ اُس کی خاطر اپنی جان تک دینے سے درییغ نہیں کیا اور وہ۔۔۔۔وہ تو شاید بھول بھی گیا تھا کہ کوئی بینا نام کی دیوانی لڑکی اس کی محبت میں پاگل بھی تھی۔۔۔۔ ’’تم نے بہت بُرا کھیل کھیلا ہے شیرافگن ہاشمی۔۔میری معصوم بہن کی جان لے کر بہت بڑی غلطی کی ہے تم نے۔۔۔بہت بڑی غلطی،میں تمہیں بخشوں گا نہیں۔۔‘‘وہ
