Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 35
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 11/10/2025
7 Views
Episode no 35
#دھوپ_چھاؤں__سا_ہرجائی از_ہما_قریشی #قسط_نمبر_35 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ہیلو ہینڈسم!‘‘وہ کار کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھتی خاصی بے باکی سے بولی تھی۔ ’’ہیلو!‘‘شیرافگن جو اِس کے مزاج سے خوب واقف تھا۔۔دھیرے سے مُسکرایا۔ ’’چلیں!‘‘ ’’بالکل چلیں!‘‘وہ مُسکراکر گاڑی آگے بڑھا گیا۔۔ ’’اور سناؤ۔کیا چل رہا ہے۔۔اسٹڈیز کیسی جا رہی ہیں؟‘‘وہ اُس سے ایک سال سنئیر تھا۔ ’’اچھی جارہی ہیں۔۔لیکن کالج لائف بہت بورنگ ہے ۔‘‘وہ منہ بنا گئی۔ ’’کیوں بھئی بورنگ کیوں لگ رہا ہے۔۔ اس لائف کا تو اپنا ہی مزہ ہے۔‘‘وہ سڑک سے موڑ لیتا ہلکی مسکراہٹ سے گویا ہوا۔ ’’نہیں بھئی!یہ لائف بالکل بورنگ ہے۔مجھے تو شادی کرنی ہے۔۔‘‘شیرافگن نے پہلے حیرت سے اس کی جانب دیکھا اور پھر قہقہہ لگایا۔۔ ’’توبہ ہے لڑکی۔۔۔تمہیں اتنی سی عمر میں شادی کا شوق چڑھ گیا ہے۔‘‘وہ ہاتھ بڑھا کر اُس کے سر پر پیار سے چپت لگاتا نرمی سے بولا تھا۔۔ ’’بھئی مجھے تو بڑا شوق ہے شادی کا۔‘‘وہ ہنوز شوخی سے بولی تھی۔ ’’اچھا !تو بیٹا جی شادی کرنے کے لئے ایک عدد لڑکے کی بھی اشد ضرورت ہوتی ہے تو کیا تم نے لڑکا ڈھونڈ لیا؟‘‘وہ اِسے چھیڑنے کی غرض سے ،آئی برو اُٹھا کر بولا۔۔ ’’جی بالکل ڈھونڈ لیا لڑکا۔‘‘افگن کو اب مزید حیرت ہوئی تھی۔ ’’کون ہے وہ بچارہ ،جس کی تم بینڈ بجانے کا سوچ رہی ہو؟‘‘ وہ سڑک پر نظریں مرکوز کئے سوالیہ گویا ہوا۔ ’’تم۔۔۔‘‘وہ اِس قدر بے ساختگی سے بولی تھی کہ بوکھلاہٹ میں شیرافگن نے ڈگمگاتی گاڑی کو بامشکل سنبھالا تھا۔۔ ’’لڑکی!تمہارا مزاق ناں کسی دن کسی معصوم کی جان ضرور لے گا۔‘‘وہ اُسے مسکراتا دیکھ گہری سانس بھر كررہ گیا۔ ’’میں مزاق نہیں کر رہی مسٹر!آئی رئیلی لو یو شیرافگن۔۔میں تم سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔‘‘اس بار شیر افگن نے باقاعدہ اُسے چونک کر دیکھا تھا۔ ’’کیا بکواس کر رہی ہو بینا؟‘‘اُس کے ماتھے پر بل نمودار ہوئے تھے۔ ’’بکواس نہیں سچ بول رہی ہوں۔میں سچ میں تم سے محبت کرتی ہوں شیر افگن۔‘‘وہ لمحہ میں سیریس ہوئی تھی۔ ’’یار تم پاگل ہوگئی ہو!‘‘وہ گاڑی رُوکتا اپنا سر پکڑ گیا۔ ’’تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے،جانتی بھی ہو کیا بکواس کر رہی ہو؟میں تمہیں بہنوں کی طرح سمجھتا ہوں اور تم۔۔۔تف ہے یار۔۔‘‘وہ ددرشتگی سے دھاڑا تو وہ معصوم اس کے لہجے کی سنگینی پر سہم کر رہ گئی۔ ’’مگر میرا بھائی صرف ایک ہی ہے۔۔اور اس کا نام ہے احمر اصغر ،تم میرے کچھ نہیں لگتے۔‘‘وہ خود کو سنبھالتی مضبوط لہجے میں زرا ناگواریت سے پھُنکاری۔ ’’شٹ اپ یار!‘‘اُس کا دل کیا اُس لڑکی کے دو زبردست قسم کے تھپڑ رسید کر ڈالے۔ ’’اس میں بُرائی ہی کیا ہے افگن۔‘‘ ’’برائی!اپنی عمر دیکھو۔۔بچی ہو تم ابھی۔۔۔اور تمہیں ابھی سے شادی کا شوق چڑھ گیا ہے وہ بھی مجھ سے۔۔اوہ مائی گاڈ احمر کو پتہ لگے گا تو وہ نجانے میرے بارے میں کیا سوچے گا۔‘‘وہ لبوں پر ہاتھ رکھتا حواس باختہ ہوا۔ ’’کچھ نہیں سوچیں گے بھائی۔۔تم اس کی ٹینشن نہ لو۔‘‘وہ مزے سے بولئ تو افگن کو مزید طیش آیا۔ ’’مگر میں ایسا کچھ نہیں سوچتا تمہارے بارے میں۔۔جیسا تم میرے بارے میں سوچنے لگی ہو۔‘‘وہ لمحے میں بگڑا تھا۔ ’’آخر بُرائی ہی کیا ہے مجھ میں؟‘‘اُس نے منہ بنایا۔ ’’ بینا تمہارے میں کوئی برائی نہیں ہے۔۔۔مگر ایک بات یاد کرلو۔۔۔نہ آج نہ پھر کبھی۔۔میں تم سے کسی قسم کا کوئی ریلشن شپ نہیں رکھنا چاہتا،اور نہ ہی کبھی ایسی کوئی توقع رکھنا۔۔تم میرے دوست کی بہن ہو۔میرے لئے بھی بہنوں جیسی ہی ہو۔۔اپنی ویلیو ڈی گریڈ نہ کرو میری نظروں میں۔اور آگر آئندہ بھی تم اپنی حماقتوں سے باز نہ آئی ناں تو میں انکل آنٹی سے تمہاری شکایت کرونگا ۔۔۔اور انکل کے مزاج سے تو تم خوب واقف ہو۔۔‘‘وہ تیز لہجے میں بولتا، دھمکی دینا نہیں بھولا تھا۔۔جو ہمیشہ اپنے باپ کے بلا وجہ کے غصےٰ سے ہمیشہ خائف رہتی تھی۔ ’’شیرافگن!میں محبت کرتی ہوں تم سے۔‘‘ایک آخری التجا۔ ’’گھر آگیا۔‘‘وہ سپاٹ لہجے میں بولا۔ ’’شیر افگن آگر آج تم نے میری طرف نہیں دیکھا تو میں اپنی جان لے لونگی۔‘‘وہ مزید نڈر آنداز میں بولی تھی۔ ’’بینا میں احمر نہیں ہوں جو تمہاری ان گیدڑ بھگتیوں میں آجاؤں گا۔۔سو پلیز اپنا اور میرا وقت برباد کرنے سے گریز کرو۔ویسے بھی میں ُاجالا کو پسند کرتا ہوں۔‘‘ وہ ہنوز سپاٹ لہجے میں بولتا اُس کے ارمانوں کا بیدردی سے خون کر گیا تھا۔۔۔ ’’یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ تمہارے دوست کی منگ ہے۔‘‘ ’’ہاں!کیونکہ میرے دوست کو اُس میں صفر برابر بھی دلچسپی نہیں ہے۔۔۔‘‘وہ نظریں سامنے مرکوز کئے سپاٹ آنداز میں بولا تھا۔ ’’تم بہت ظالم ہو شیر افگن۔۔مگر ابھی تم بینا اصغر کو جانتے نہیں ہو کہ میں تمہارے ساتھ کیا کرسکتی ہوں۔‘‘وہ خفاسے لہجے میں بولتی رُخ پھیر کر گاڑی سے باہر نکل گئی۔۔جبکہ وہ غصےٰ سے اسٹیرنگ وہیل پر ہاتھ مارتا ، زن سے گاڑی سڑک پر بھگا لے گیا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج شیر افگن اور بینا کی آخری ملاقات ہوئے دو ماہ گزر چکے تھے۔۔شیر افگن نے خفگی کے اظہار میں اسے اپنےہر سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے بلاک کر دیا تھا۔نہ ہی اس سے بات کرتا تھا۔۔۔نہ ہی اس کی طرف دیکھتا تھا۔یہ گریز اُس کی طبیعت پر اچھا خاصہ گراں گزر رہا تھا۔۔ آج کالج والے تمام اسٹوڈینٹس کو سمر ویکشنز پر پکنک پر لے جارہے تھے۔۔بس میں موجود تمام اسٹوڈینٹس تفریح میں مگن تھے۔اُجالا شیر افگن کے ساتھ بیٹھی کسی بات پر شوخی سے مسکرائی تھی۔۔وہ دونوں ہی بہت اچھے دوست تھے۔وہ بخوبی جانتی تھی کہ اُجالا ارتضیٰ کو پسند کرتی تھی ،مگر پھر بھی اُسے اجالا سے بے انتہا نفرت محسوس ہوئی تھی۔۔ ’’بینا بچے تم پیچھے کیوں بیٹھی ہو۔۔یہاں ہمارے ساتھ آکر بیٹھو ناں۔‘‘احمر بینا کو خاموش اور سب سے الگ تھلگ بیٹھا دیکھ محبت سے بولا۔ ’’تمہاری بہن کی دوست کومل ساتھ نہیں آئی ناں۔۔اس لئے اس کا دل نہیں لگ رہا۔‘‘ ارتضیٰ نے شرارتی لہجے میں کہا تو وہ مسکرا بھی نہ سکی تھی۔ ’’اور یونہی وہ دپہر سے پہلے ہی اپنی منزل پر پہنچ گئے تھے۔یہ کوئی پہاڑی علاقہ تھا۔۔ منظربے انتہا خوبصورت اور دلکش تھا۔۔وہ منظر میں کھو سی گئی تھی۔۔سب اسٹوڈینٹس گاڑی سے اُترتے تیزی سے ہوٹل کی جانب بھاگے تھے۔۔جبکہ وہ بھی مریل قدموں سے اُن کی ہمراہی میں ساتھ گئی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (بینا کی ڈائری) ’’آج اُجالا کو شیرافگن کے ساتھ دیکھ کر مجھے شدید نفرت محسوس ہوئی تھی۔۔۔وہ کہتا ہے کہ وہ اُجالا سے بے حد محبت کرتا ہے۔۔میں اور افگن پہلے بہت اچھے دوست تھے۔۔ مگر اب وہ میری طرف دیکھتا بھی نہیں ہے۔۔نفرت کرنے لگا ہے مجھ سے۔۔مجھے بہت تکلیف ہوتی ہے۔دل خون کے آنسو روتا ہے۔ جب وہ مجھے نظر آنداز کرتا ہے۔۔۔اس کا یہ گُریز کسی دن بینا اصغر کی جان لے لے گا۔۔مجھے شیرافگن ہاشمی سے عشق ہے۔۔‘‘صفحوں پر گرتے آنسوؤں بیدردی سے رگڑتی وہ مزید حال ِدل قرطاس کے پنوں پر اُتارنے لگی۔۔ ’’وہ مجھ سے محبت کیوں نہیں کرتا۔۔آخر کیا کمی ہے مجھ میں۔۔میں اُس اُجالا سے زیادہ خوبصورت اور حسین ہوں۔۔مگر افگن ہر لمحہ مجھ سے غفلت برت کر میرے دل پر کڑے وار کرتا ہے۔اُس کی یہ بے اعتنائی میرے لئے ناقاِبل برداشت ہے۔۔میں واقعی کسی دن اپنی جان لے لونگی۔۔۔۔‘‘مزید آگے دو لائنز کھینچتی وہ ڈائری کو بند کر گئی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’یار یہ والا پہاڑ دیکھ،یہاں کتنی گہرائی ہے۔۔‘‘ وہ سب ایک پہاڑ کے کنارے پر جھکے کھڑے نیچے کی جانب دیکھ رہے تھے۔۔۔جہاں نیچے زمین کسی کنارے دکھائی ہی نہ دے رہی تھی۔۔۔ ’’شیرافگن تجھے پھینک دوں میں یہاں سے
