Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 34
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 10/10/2025
7 Views
Episode no 34
بھرپور انداز میں جوابی کاروائی کرتے ہوئے حساب بے باک کیا تھا۔ "’’بیٹا ابھی تو فی الحال تم اپنی خیر مناؤں۔اور ذرا ہیلمٹ پہن کر گھر کی دہلیز پار کرنا۔ایسا نہ ہو تیری ان رات بھر کی آوارہ گردیوں سے عاجز بیٹھیں حیات بھابھی تیرا استقبال کچن کے برتنوں سے کریں۔"ارتضٰی نے ذو معنی انداز میں آنکھیں چلائیں تھیں۔شیرافگن نے اُس کی بات کا مفہوم سمجھتے پیٹھ پر ایک دھمكوکا جڑ دیا تھا۔ "’’تم میری فکر میں گُھلنا چھوڑ دو۔ کیونکہ میری نازک مزآج بیوی تمہاری جنگجو طیارہ بیوی کی طرح ہر گز نہیں ہے۔"شیرآفگن نے بھی طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ اس کے بینڈج لگے ماتھے کی جانب توجہ دلوائی تھی۔۔۔ "’’’مگر تم بھول رہے ہو۔کہ تم دو کشتیوں کے سوار مسافر شخص ہو۔جس کی ایک نہیں بلکہ دو دو منزلیں ہیں۔ایسا نہ ہو کہ ایک بیوی کو معاشرے میں مقام دلانے کے چکر میں تم دوسری سے ہاتھ دھو بیٹھو۔۔۔"ارتضٰی نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ بہت گہری بات کی تھی۔جبھی اُس کے ہونٹوں کی مسکراہٹ پل میں ہوا ہوگئی تھی۔۔ ’’رات بہت ہوگئی ہے۔۔میں نکلتا ہوں۔‘‘وہ سائیڈ پر رکھا کوٹ اُٹھاتا عباس پیلس سے نکل آیا تھا۔۔جبکہ پیچھے بیٹھا ارتضی اپنے روم کی جانب بڑھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ منظر، احمر کے پرمینٹ ُسسرال اوہ سوری پولیس اسٹیشن کاہے۔ جہاں وہ گولڈن شیروانی،آڑا پجامہ اور کھوسہ پہنے حوالات کے پیچھے کھڑا تھا۔کلہ اُتار کر وہ نجانے کہاں پھینک آیا تھا۔بالوں کی بے ترتیبی اور لہجے کا بھاری پن،وہ حد سےزیادہ پریشان دکھائی دے رہا تھا۔۔ ’’سر دیکھیں ،میرا بیٹا بے گناہ ہے۔آج تو شادی تھی میرے بچے کی۔‘‘ اصغر صاحب نے متوازن لہجے میں قائل کرنا چاہا تھا۔ ’’دیکھو میاں کچھ دیر میں ڈی ایس پی صاحب کی گاڑی راؤنڈ پر آنے والی ہے۔ایسی صورت حال میں آگر تم یہیں بیٹھے رہے تو۔میں بتارہوں۔کل تک بھی اس کی ضمانت ہونا ناممکنات میں سے ہے۔‘‘ وہ ایس ایچ او آج دیر تک تھانے میں موجود تھا۔ورنہ تو دن چڑھے ہی اُس کی رات ہوجاتی تھی۔ ’’سر ہم مُک مکا کر لیتے ہیں۔آپ بتائیں کیسے خوش کریں آپ کو۔‘‘وہ لائن پر آئے تھے۔ ’’ارے اصغر صاحب!بہت لمبے کیس میں آندر ہوا ہے آپ کا بیٹا۔ایک چھوڑ تین چار کیس ایک ساتھ ٹھوکے گئے ہیں۔اتنی جلدی ضمانت ناممکن ہے۔جاؤ وکیل تیار کرو۔۔کل عدالت میں پیشی ہے چھورے کی، اب تو عدالت جو فیصلہ دے گئ۔وہی ہوگا۔ہم کچھ نہیں کر سکتے۔‘‘ اُس نے فوراً اپنا دامن بچایا تھا۔کیونکہ آگر اصغر صاحب اب تک اپنی تمام سورسز لڑا چکے تھے۔مگر بند کرانے والوں نے بھی اُس کی ساری لگامیں ہاتھ میں لے لیں تھیں۔۔۔ ’’کیا میں تھوڑی دیر کے لئے اپنے بیٹے سے مل سکتا ہوں۔‘‘وہ شدید کرب سے بولے۔ ’’ہاں ضرورمگر!۔۔‘‘وہ اسے کے کچھ بولنے سے قبل پاکٹ میں ہاتھ ڈال کر چند ہزار ہزار کے نوٹ ٹیبل پر رکھتے تھانے کے لاک اپ والے حصہٰ کی جانب بڑھے تھے۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ جو دیوار سے ٹیک لگائے اضطرابی کی سی کیفیت سے دوچار سوچوں میں گُم کھڑا تھا۔سامنے باپ کو دیکھ فوری سیدھا ہوا۔ ’’بابا کیا ضمانت کرا لی آپ نے میری۔‘‘وہ پر اُمید لہجے میں بوالا تھا۔ ’’چپ کرو بد بخت! کتنی بار کہا تھا باز آجاؤ اپنی عیاش حرکتوں سے مگر نہیں۔۔تم کسی کی مانتے ہو۔سارے زمانے کے سامنے ناک کٹوا کر رکھ دی میری۔‘‘وہ قریب آتے اپنے لاڈلے پر طیش میں چنگھاڑے تھے۔ ’’بابا میں۔۔۔‘‘وہ بوکھلایا۔ "خاموش!" ’’وہ مینا!‘‘اسے اپنی نئی نویلی بیوی کی فکر لاحق ہوگئی تھی۔ ’’تمہیں کیا لگتا ہے۔اتنا سب کچھ ہوجانے کے باوجود ۔تم جیسے عیاش مزاج کے ساتھ اپنی بیٹی رخصت کریں گے وہ۔‘‘احمر نے طیش میں مکا بنا کر جیل کی سلاخوں پر مارا تھا۔ ’’میں کچھ نہیں جانتا!جلد از جلد ضمانت کرائیں میری۔۔یہ اتنا روپیہ پیسہ کس دن کام آئے گا۔‘‘وہ خودسری سے بولا تھا۔ ’’سڑتے رہو یہیں اب بد بخت ۔۔نجانے کس کی بہن ،بیٹی کی عزت خراب کی ہے تم نے زلیل انسان۔بہت اُپر سے سفارش لگی ہے۔۔ ارے عمر قید کرانے کا پلین ترتیب دئے بیٹھے ہیں یہ لوگ۔‘‘وہ لب بھینچ گیا۔ ’’پتہ نہیں کون لوگ ہیں۔کوئی سامنے بھی نہیں آرہا۔‘‘وہ پریشانی سے بولے۔کیونکہ بقول ایس ایچ او، دوسری پارٹی اب سیدھی عدالت میں ہی آئے گی۔ ’’میں جانتا ہوں،یہ کس کام ہے۔‘‘وہ جیسے نتیجے پر پہنچا تھا۔ ’’کس کا؟‘‘اصغر صاحب نے اچھنبے سے اُس کی جانب دیکھا تھا۔ ’’ارتضیٰ عباس اور شیرافگن کا۔‘‘ وہ لہجے میں بے پناہ نفرت سموئے غصے سے بولا تھا۔ ’’وہاٹ؟؟وہ دونوں تو تمہارے بچپن کے دوست ہیں ناں؟‘‘اُن کی حیرانگی بجا تھی۔ ’’دوست مائی فوٹ!ایسے لوگوں کو میں گھر کو کتا نہ رکھوں۔آپ میرا دوست بول رہے ہیں۔ویسے بھی بچپن گیا۔تو اب ساتھ دوستی بھی گئی۔۔‘‘وہ طیش میں غُرایا ۔ ’’واہ بیٹا!انہوں نے تمہاری حالت کتوں جیسی کردی ،اور اب تک تمہاری اکڑ ہی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔‘‘وہ طنزیہ لہجے میں گویا ہوئے۔ تو اس نے سخت نظروں سے باپ کی جانب دیکھا۔ ’’مرو یہیں میں تو جارہا ہوں گھر۔تمہاری ماں نے رو رو کر اپنا بُرا حال کر لیا ہوگا۔۔‘‘وہ احمر کو بُرا بھلا کہتے ہوئے ہوئے وہاں سے نکل آئے تھے۔۔جبکہ اُس کی نگاہوں کے سامنے ایک پوری فلم چلنے لگی تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (ماضی) ’’بینا۔۔۔یار۔۔کہاں جارہی ہو تم۔۔‘‘ وہ بینا کو تیزی سے کالج کے اسپورٹس گراؤنڈ کی جانب بھاگتا دیکھ خود بھی اس کے پیچھے دوڑی تھی۔ ’’یار جلدی آؤ ناں۔۔افگن اور بھائی لوگ کا میچ ہورہا ہے آرٹس گروپ والوں سے۔‘‘وہ ایک لمحے کو ٹھرتی پُر جوش لہجے میں گویا ہوتی تیزی سے بھاگی تھی۔کومل نے اپنا ماتھا پیٹ لیا تھا۔ ’’یار رُک تو جاؤ۔۔تم تو کسی دن اپنی اس بھاگم ڈور میں میرا سانس ہی چھین لو گی۔‘‘وہ اپنی ڈھونکی کی مانند چلتی سانس کو قابوں کرتی بیزاریت سے بولی۔۔جس کے قدموں کو گرؤاؤنڈ میں جاکر ہی بریک لگی تھی۔ ’’چل یار اُپر چل کر بیٹھتے ہیں۔‘‘ وہ جھٹ اُس کا ہاتھ تھامتی اسٹوڈینٹس آڈینس کے لئے مختص چئیرز پر جا بیٹھی تھی۔۔ ’’افف یار!ہم لیٹ ہو گئے۔‘‘وہ بورڈ پر لکھا اسکور دیکھ افسردہ ہوئی۔۔جہاں افگن اور ارتضیٰ کی ٹیم کی لاسٹ بالز چل رہی تھیں۔ سامنے ہی پچ پر اپنی پوزیشن سنبھالے ہاتھ میں بیٹ تھامے بیٹنگ کرتا وہ پورے کالج کا گڈ ُلکنگ لڑکا شیر افگن ہاشمی ہی تھا۔جس کی عقاب سی نگاہیں بالر اورفلڈنگ پر معمور لوگوں پر ہی تھیں۔۔۔اور دوسری جانب اُس کا ٹیم پارٹر احمر تھا۔۔جو بال ہوا میں جاتے ہی رنز کے لئے بھاگا تھا۔۔ ’’واؤ۔۔۔فور کے ساتھ دو رنز لینے پر اُن کی ٹیم میں شور بلند ہوا تھا۔۔ٹونٹی رنز کے میچ میں وہ مقابل ٹیم کو اچھے خاصے رنز کا ہدف دے چکے تھے۔۔ ’’بینا یار !کیا مزہ آتا ہے تمہیں۔ان فضول مچز کو دیکھ کر۔‘‘ کھیل ختم ہوچکا تھا۔۔اور اب وہ دونوں اپنے ڈپارٹمنٹ کی جانب جارہی تھیں۔ ’’یار مجھے بھی کوئی شوق نہیں ہے۔میچ وغیرہ دیکھنے کا۔۔حالاں کہ بھائی کا میچ میں نے کبھی نہیں دیکھا۔۔میں تو بس اپنے افگن کی وجہ سے دیکھتی ہوں یہ میچ۔‘‘وہ مزے سے بولی تھی۔۔کومل اپنی دوست کی پسندیدگی سے خوف واقف تھئ۔ ’’تو پھر اظہار محبت کب کرو گی جاناں۔‘‘وہ کندھے سے کندھا ٹکراتی شرارتی لہجے میں بولی تھی۔ ’’بس بہت جلد۔۔‘‘وہ آنکھوں میں سنُہرے سپنے سجائے ۔جوانی کی حماقتوں میں سرگرداں تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ’افگن یار بات سُن!‘‘احمر جو چھٹی کے ٹائم اپنے کسی کام سے نکلنے لگا تھا۔مگر بینا کا سوچ جلدی سے افگن کی جانب دوڑا تھا۔ ’’ہاں کیا ہوا؟‘‘انیس سالہ افگن چونک کر اُس کی جانب پلٹا تھا۔
