Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 34
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 10/10/2025
7 Views
Episode no 34
#دھوپ_چھاؤں__سا_ہرجائی #از_ہما_قریشی #قسط_نمبر_34 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ تینوں نفوس ایک ساتھ ہی عباس پیلس میں انٹر ہوئے تھے۔ہر سو سناٹا چھایا ہوا تھا۔۔آج گھر میں عجیب سی خاموشی محسوس ہوئی تھی۔۔ملازمین نے ہال کی تمام لائٹس آفس کر دی تھی۔ نیم آندھیرے میں قد آور روشن دان میں سے آتی چاند کی روشنی اور گھر کی خاموشی ارتضٰی کے ساتھ ساتھ افگن کو بھی بُری طرح کھٹکی تھی۔۔۔ ’’ارتضیٰ عابثہ کہاں ہے؟‘‘ شیر افگن کے ماتھے کے بلوں میں اضافہ ہوا تھا۔۔ ’’یہیں ہوگی یار !تو دادو کو ذرا روم تک چھوڑ کر آ۔‘‘وہ مزید کچھ کہنے کا ارادہ ترک کرتا دادو کا ہاتھ تھام کر انہیں کمرے میں لے آیا۔تو وہ فوری بیڈ پر بیٹھی تھیں۔۔۔ ’’ہائے بچے!مجھے تو رہ رہ کر اس معصوم بچی کی قسمت پر افسوس ہو رہا ہے۔کیسی پیاری لگ رہی تھی۔دلہن بن کر۔اور وہ کم بخت پولیس والے،بچے کو ہی اُُٹھا کر لے گئے۔۔‘‘وہ ابھی تک صدمے میں تھیں۔۔ ’’دادو آپ اس بارے میں زیادہ نہ سوچیں۔‘‘شیر افگن نے رسانیت سے سمجھانا چاہا تھا۔ ’’ہمم!تم بتاؤ۔۔تمہاری دونوں بیویاں ٹھیک ٹھاک ہیں؟‘‘ وہ خیال آنے کے تحت بولیں تھیں۔ ’’جی سب ٹھیک ہیں۔اب آپ آرام کریں دادو۔آپ کے آرام کا وقت ہے۔‘‘ وہ نرمی سے گویا ہوا تو وہ بھی سر ہلاتی نیم دراز ہوگئیں۔آج تو ایسا لگ رہا تھا۔جیسے جوڑ جوڑ دُکھ رہا ہو۔ ’’شب بخیر دادو!‘‘ شب بخیر!!جیتے رہو،خوش رہو۔‘‘وہ جوابً اُس کے جھکے سر پر ہاتھ پھیرتیں ،آنکھیں موند گئیں۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "ارتضی روم میں داخل ہوا تو چاروں جانب اندھیرا پھیلا ہوا تھا۔آئیر کنڈیشن کی کولنگ کی وجہ سے کمرہ چلڈ کررہا تھا۔۔جبکہ وہ بستر میں گھسی شاید سو رہی تھی۔وہ قدم اُٹھاتا نزدیک آیا تھا۔۔ "عابثہ آپ جاگ رہی ہیں ؟"وہ نزدیک آیا۔مگر دوسری جانب سے جواب ندار رہا۔وہ شاید سو رہی تھی۔۔ لیمپ کی روشنی میں اس کی سانولی سی رنگت اُسے بری طرح اپنی جانب متوجہ کرچکی تھی۔وہ نزدیک ہوتا دھیرے سے اس کے چہرے پر جھکتا ماتھے پر بوسہ دیتا،مزید پیش قدمی کرتا اُس کے گالوں اور پھر چہرے کے ایک ایک نقش کو اپنی محبّت سے مہکاتا بہکنے لگا تھا۔۔عابثہ کی نیند میں اس کی مداخلت اور انجانے سے لمس پر پیشانی پر بل نمودار ہوئے تھے۔۔آنکھیں پٹ سے کھلی تھیں۔نیم اندھیرے کمرے میں کوئی شخص تھا جو اس پر جھکا ہوا تھا۔۔وہ موبائل ہاتھ میں پکڑے سو رہی تھی۔۔جهنجھاتے حواسوں کے ساتھ خود پر جھکے شخص کو پیچھے دھکیلتی موبائل سر پر زور سے مارتی کاری ضرب لگا چکی تھی۔۔ ارتضیٰ جو چہرے کے بعد اس کی گردن کے خم کو چھونے کو تھا۔۔عابثہ کے شدید رد عمل پر گھبرا کر پیچھے ہوا تھا۔۔ "کون ہو تم ۔۔۔"جلدی سے کمفرٹر خود پر کھینچتی وہ اب بیڈ سے بھاگنے کو تھی۔۔جبکہ وہ بے یقینی سے نیم اندھیرے میں خود کو گهورتی اپنی نئی نویلی بیوی کو دیکھ رہا تھا۔۔ "بولو کون ہو ؟؟ارتضی دادو۔۔"وہ چیخ کر سب کو پکارنے لگی تھی۔جبھی وہ گڑبڑا کر ذرا نزدیک ہوا۔۔ "یار میں ہوں عابثہ !!کیا ہوگیا ہے آپ کو۔۔۔کم از کم لڑکی اپنے شوہر کی خوشبو سے تو آشنائی رکھو۔۔"کندھوں سے تھام کر پیچھے لٹاتا وہ ذرا خفا سے لہجے میں بولا تھا۔عابثہ کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں تھیں۔۔ "آپ !جی میں۔۔اور پلیز خاموش رہیں۔نیچے وہ آپ کا چہیتا بھائی بھی آیا ہوا ہے۔آپ کیوں لوگوں کی نظروں میں مجھ نیک شریف انسان کو مشکوک کرنا چاہتی ہیں۔۔"وہ اس پر جھکا گهمبیر لہجے میں بولا تھا۔جس کی ڈھڑکنوں میں طغیانی برپا تھی۔۔ "وہ میں ۔۔۔سوری۔۔مجھے لگا کہ۔۔"وہ شرمنده سی لب چبا گئی۔ "آپ کو لگا کہ آپ کے شوہر کے گھر میں بھی کسی کی اتنی ہمّت ہے کہ وہ آپ کے کمرے میں اور آپ کے اس قدر اتنا نزدیک آسکتا ہے۔۔"اس بار عابثہ نے اپنی نم نگاہیں اس کی محبّت و جذبات سے چھلکتی کرسٹل گرے آنکھوں سے ملائیں تھیں۔رنگت میں آپ ہی سُرخیاں گُھل گئیں تھیں۔۔ "نہیں ایسا نہیں ہے۔۔وہ اندھیرا ۔۔مجھے علم نہیں تھا کہ آپ۔۔"وہ لفظ اَدھورے چھوڑ گئی۔ "روئیں کیوں تھیں۔۔"اس بار وہ دھیرے سے جھکتا اُس کی آنکھوں پر بوسہ دیتا پیچھے ہوا۔اُس کا چہرہ بلش کرنے لگا تھا۔ "نہیں۔۔۔میں تو آپ کا انتظار کر رہی تھی ۔"روانگی میں بول کر زبان دانتوں تلے دبائی تھی۔ارتضی کے لبوں پر گہری مسکراہٹ نے اپنی چھاپ دکھائی تھی۔ "پھر انتظار کا کوئی خوبصورت انعام بھی تو ہونا چاہیے ناں۔"وہ شرارت سے بولتا اُس کے چہرے پر جھکا تھا۔کئی لمحے معنی خیز خاموشی کی نظر ہوگئے تھے۔۔ "شادی مبارک !کل سے اب تک تو آپ کو مبارک دینا کا موقع ہی نہیں مل سکا تھا۔۔"آنکھیں میچے اُسے سانسوں کی روانگی درست کرتا دیکھ وہ دھیرے سے بولتا پیچھے ہوتا۔۔پھر مسکرا کر ،اس کا حیا سے تمتماتا چہرہ آنکھوں میں بساتا روم سے باہر نکل آیا تھا۔۔جبکہ وہ ابھی تک اس لمحے میں کھوئی آنکھیں میچ کر ہی پڑی تھی۔۔جسم میں عجیب کپکپی سی طاری تھی۔۔مگر وہ اس انوکھے احساس کو دل سے محسوس کر رہی تھی۔۔اب وہ شاید ہی کبھی اِس خوشبو کو کبھی بھلا سکتی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’کیا ہوا سب ٹھیک ہے؟‘‘ارتضیٰ کو سر پکڑ کر ہال میں ہی صوفے پر بیٹھا دیکھ وہ متعب لہجے میں بولتا ساتھ ہی براجمان ہوا تھا۔جس کے ماتھے پر سنی پلاسٹ لگی ہوئی تھی۔ ’’ہمم!سب ٹھیک ٹھاک ہے۔سو رہیں ہیں عابثہ صاحبہ تو۔ہم فضول میں پریشان ہوگئے تھے۔‘‘وہ سر جھٹک گیا۔اب کیا بتاتا کہ اُس کے اچانک روم میں جانے پر خوف کے مارے نیند میں ہی ہاتھ میں پکڑا موبائل اس کہ سر پر دے مارا تھا۔ ’’خیر یار!خیال رکھنا ُاس کا اب!!! میں نے بھائی بن کر اُس کا نکاح تجھ سے کرایا ہے تو اب تو ذرا ہوشیار رہ،آگر میری بہن کو کسی قسم کی کوئی تکلیف ہوئی تو میں تیرا گلا بھی پکڑ لونگا۔‘‘افگن شرارت سے بولا تو وہ متبسم ہوا۔ ’’اور بھائی کا بہن کی رخصتی کے بارے میں کیا خیال ہے؟‘‘اس نے آئی برو اُچکائے۔ ’’بھئی کل نکاح کے ساتھ رخصتی بھی ہوگئی سمجھو۔اب تم جانو اور تمہاری بیوی۔ہم تو ولیمے کے چاول کھانے آئیں گے۔‘‘وہ دونوں ہاتھ صو فے کی پشت پر رکھتا مزید چوڑا ہوکر بیٹھا تھا۔ ’’اوہ ااچھا!یعنی تو کنجوس آدمی اپناخرچا بچانا چاہ رہا ہے۔‘‘‘وہ بھی بس یونہی بولا تھا۔ ’’ظاہر ہے۔اب بھائی بن کر نکاح کر دیا تو کیا خرچا بھی کروں۔‘‘ارتضیٰ نے آنکھیں گھومائی تھیں۔ ’’خیر تو اب تک یہاں کیا کر رہا ہے۔۔گھر جا حیات بھابھی تیرا انتظار کر رہی ہونگی۔‘‘وہ گھڑی میں آدھی رات کا وقت دیکھ، جتاتے لہجے میں بولا۔ ’’ابے میں بتا کر آیا تھا حیات کو۔۔کہ آج دیر ہوجائے گی۔۔سوچ رہا ہوں۔۔آج اپنے دوست کے گھر ہی رہ جاؤں۔‘‘وہ شرارتی لہجے میں بولا تو ارتضیٰ نے اسے گھور کردیکھا تھا۔ ’’سیدھی شرافت سے اُٹھو اور نکلو میرے گھر سے۔‘‘ارتضیٰ نے دو منٹ میں اسے چلتا کیا تھا۔ ’’ابے ہاں جارہا ہوں۔مر مت۔‘‘وہ صوفے پر سر پھینکتا آنکھیں موند گیا۔جبھی ارتضیٰ کو شرارت سوجھی تھی۔ "ماموں۔۔" میرے جلد ہونے والے بچوں کے۔"ارتضی نے لبوں کا کونادانتوں تلے دبا کر مسکراہٹ ضبط کرتے شرارت سے بول کر خود ہی تصیح کی تھی۔ "’’سدھرجاؤ بیٹا تم۔بلکہ مجھے آئندہ وقت اور بھابھی صاحبہ سے پوری اُمید ہے کہ ان کی سنگت میں جلد آپ کے مزاج میں واضح تبديلی رونما ہوگی۔یہ جتنی بھی شوخ مزاجی ہے ناں اس پہ زرا لگام ڈالئے ایسا نہ ہو کہ کچھ عرصے بعد آپ کے بچے دی گریٹ کھڑوس ارتضی عباس کو ماموں بنا رہے ہوں۔"شیرافگن نےآنکھیں کھول کر
