Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 27
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 07/10/2025
7 Views
Episode no 27
نکاح میں نہ لیتا تو تم اس وقت کہاں ہوتیں؟؟سوچو اور آگر سوچ کر تمہاری روح نہیں کانپتی تو لڑکی میں اللہ سے دعا کرونگی کہ وہ تمہیں عقل دے۔۔۔عورت کی عزت نازک ابگینے کی مانند ہوتی ہے۔۔ زرا سی خراش آجائے تو وہ عمر بھر بھی صفائیاں دیتی رہے تو وہ پہلے جیسی نہیں ہوسکتی۔۔مجھے تو اب اس شخص سے ملنے کا اشتیاق ہوگیا ہے۔بھلا اصل زندگی میں ایسے باظرف مرد کہاں ملتے ہیں۔مجھے تو یہ کسی شہزادی کی فرضی کہانی لگتی ہے۔‘‘حیات نے ناسمجھی سے ان کی جانب دیکھا تھا۔۔جو کچھ دیر قبل شیرافگن کو برُا بھلا کہ رہی تھیں اور اب انہیں وہ شارخ خان جیسا لگنے لگا تھا یا اس سے بھی کوئی آگے کی چیز۔وہ اس کایا پلٹ پر جی بھر کر حیران ہوئی تھی۔ ’’آپ کی تمام باتوں کا لبّ لباب یہ ہے کہ میں اپنے شوہر کی دوسری بیوی کے ساتھ کمپرومائز کرلوں رائٹ؟؟‘‘ اس بار وہ سپاٹ آنداز میں بولتی استہزائیہ مسکرائی تھی۔ ’’نہ کرو۔۔۔فیصلہ تمہارا اپنا ہے۔۔۔مگر پیش بندی رکھنا سمجھداری کی نشانی ہے۔‘‘وہ کندھے اچکاگئیں۔ ’’فرض کرو،جس طرح تمہیں شراکت برداشت نہیں اور تم ایسے چھوڑ کر آگئی ہو۔ بالکل ایسی طرح آگر تمہارا شوہر تمہیں شراکت داری برداشت نہ ہونے پر طلاق دے دے تو۔۔۔‘‘حیات سانسن تک روک گئی تھی۔ ’’مگر میں نے تو بےوفائی نہیں کی۔‘‘اس نے صفائی پیش کرنی چاہی۔ ’’یہ تو تمہیں لگتا ہے ناں۔۔لیکن فرض کرو تمہارا شوہر بھی روایتی جاہل مردوں کی طرح ہو۔۔اور تمہاری کردار کشی کردے کہ تم اس کے نکاح میں آنے سے قبل کسی اجنبی کے پاس رات گزار کر آئی تھیں۔۔تمہیں اغوا کرلیا گیا تھا۔۔ اس رات تمہارے ساتھ کیا کچھ ہوا تمہیں وہ بھی یاد نہیں۔۔آگر ابھی وہ ا نہی تمام باتوں کو مہرہ بنا کر تمہیں اپنی زندگی سے الگ کردے جبکہ تم بے قصور ہو تو تمہیں کیسے لگے گا؟میرے خیال سے تمہاری ذات کا عیب تمہارے شوہر کی دوسری شادی پر زیادہ بھاری ہے۔‘‘اب اس کی برداشت کی حد ہوگئی تھی۔۔وہ ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی تھی۔سسکیاں لیتا وجود۔۔۔ ’’لڑکی میں نے زندگی میں تمہاری جیسی بیوقوف لڑکی کبھی نہیں دیکھی۔۔اتنی بڑی ڈس کھانے کے باوجود تم ایک بار پھر مجھ اجنبی پر بھروسہ کر اپنے تمام راز فاش کر گئی ہو۔۔فرض کرو ابھی میں تمہاری مجبوری کا فائدہ اُٹھا لوں اور تمہیں کسی غلط کے ہاتھوں فروخت کردوں ۔۔ تو پھر تمہارا کیا ہوگا؟کیا تم اپنے شوہر کے گھر میں اتنی زلت آمیز زندگی گزار رہی ہو،،جس پر تم اس زندگی کو بھی فوقیت دینے کو تیار ہو؟‘‘وہ سسکتے وجود کے ساتھ نفی میں سرہلاتی خود پر ضبط نہیں کر پارہی تھی۔ ’’مجھ سے بہتر تمہارا دُکھ اور کوئی نہیں جان سکتا۔میں جانتی ہوں کہ تمہارے دل پر کیا بیت رہی ہوگی۔۔میں یہ نہیں کہتی کہ تم اس سے ناراض نہ ہو۔۔یا پھر ہر چیز پر سمجھوتا کرلو۔۔بس اپنے محافظ کی عزت کی چار دیواری نہ پھلانگو۔۔یاد کرلو۔۔آگر گھر سے باہر تمہاری آج کی رات گزر گئی ناں تو تمہیں تمہارا بے انتہا محبت کرنے والا شوہر تو کیا یہ معاشرہ بھی کبھی قبول نہیں کرے گا۔۔جو آج تمہارا خیر خواہ بنا ہوا ہے۔کل تک پر پتھر برسا رہے ہونگے۔۔۔ اس گھمبیرصورتحال میں آگر کوئی واقعی تم سے ہمدردی کا جذبہ رکھتا ہے تو وہ تمہارا محرم ہے۔۔قدر کرو اس کی۔‘‘وہ محبت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھتی سمجھانے کی غرض سے بولتیں گاڑی اسٹارٹ کر چکی تھیں۔۔اور اب وہ لوگ حیات کے بتائے ہوئے ایڈریس کی جانب گامزن تھے۔۔۔ ’’زندگی میں بعض اوقات ہم انسان بیچ منجھدار میں پھنس کر رہ جاتے ہیں ۔آگے کنواں تو پیچھے کھائی ہے۔تمہارے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے۔۔اور سالوں پہلے میں بھی اسی بھنور میں پھنس کر رہ گئی تھی۔۔میرا ایک زرا سا سمجھوتا میری زندگی سنوار سکتا تھا۔ مگر مجھ سے یہ حقیقت برداشت ہی نہ ہوئی۔۔ اور آج میں تمہارے سامنے ہوں۔تھوڑی سی تلخ،بد دماغ،اور زبان دراز۔۔مگر ایسا مجھے میرے سابقہ شوہر نے نہیں بلکہ اس معاشرے نے بنایا ہے۔۔جو تمہارا اور میرا ہمدرد ہے۔۔۔رشتہ کوئی بھی ہو قربانی مانگتا ہے۔کہیں انا،تو کہیں عزت،کہیں محبت، تمہارے نصیب میں یہی لکھا تھا تم شراکت داری قبول کرلو۔۔۔اسی میں تمہاری بہتری ہے۔۔۔‘‘ راستہ ختم ہوگیا تھا۔۔ہاشمی ولا پر تعینات گاڈرز نے گاڑی میں حیات کو دیکھ فوراً صدر دروازہ کھول دیا تھا۔۔۔اب وہ آندر جارہے تھے۔۔جہاں ایک اور امتحان اُس کا منتظر تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔۔۔
