Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 27
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 07/10/2025
7 Views
Episode no 27
’’آپ کی بچی کو میں نے گھر سے نہیں نکالا ہے۔۔اپنی مرضی سے گئی ہے۔۔۔ آپ کے کہنے پر میں نے نکاح کرلیا تھا ناں۔۔اور نبھانے کی بھی بھرپور کوشش کر رہا ہوں۔۔۔مگر شاید اسے عزت راس ہی نہیں ہے۔‘‘ وہ شدید بدگمان دکھائی دے رہا تھا۔۔مگر چہرے سے پریشانی واضح تھی۔ ’’ بکواس بند کرو اپنی۔یہ سب تمہارا قصور ہے۔تم نہ تو دوسری شادی کا ُگل کھلاتے اور نہ آج حیات ناراض ہوکر یہاں سے جاتی۔‘‘وہ استہزائیہ مسکرایا۔۔ ’’ہاں سارا قصور ہی میرا ہے۔۔۔تو بہترہے کہ اب آپ اپنی بیٹی کو خود ہی ڈھونڈ لیں۔۔اور ہاں گمشدگی کی خبریں اخبار کی زینت بناتے وقت اس لڑکی کا نام میرے نام سے منسوب کرنے کی قطعً کوئی ضرورت نہیں ہے۔جس کو میری عزت کی ذرا پرواہ نہیں۔۔۔‘‘وہ سخت لہجے میں درشتگی سے پھنکارتا سیڑھیوں کی جانب بڑھا تھا۔۔۔مگر اپنے بیٹے کی آنکھوں میں رقم اذیت ناصر صاحب کی جانچتی نگاہوں سے ہر گز بھی مخفی نہ رہ سکی تھی۔۔۔ شیر افگن !‘‘ افگن کے قدم کسی غیر مانوس آواز پر ٹھٹھک کر ٹھر گئے تھے۔ناصر صاحب،اور اُجالا نے بے ساختہ پیچھے مڑ کر غیر شناسہ چہرہ کو دیکھا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حیات ابھی ایک گلی کی جناب مڑی ہی تھی کہ دو چار لڑکوں کا ٹولا تھا جو گلی کے نکڑ پر بیٹھا رات کی تاریکی میں اکیلی لڑکی کو دیکھ چہرہ پر خبیث مسکراہٹ سجائے اُس کی جانب بڑھا تھا۔ اِس سے قبل کہ وہ ذرا نزدیک پہنچتے خوفزدہ سی حیات نے نہ آگے دیکھا تھا اور نہ ہی پیچھے اور اُلٹے قدموں اپنا دوپٹہ سختی سے پکڑتی بھاگ پڑی تھی۔۔۔ ’’اوہ پکڑ اِسے ۔۔‘‘ رات کی تاریکی کا فائدہ اُٹھاتے وہ انسانوں کے روپ میں چار بھیڑئے مسلسل اس کے تعقب میں تھے۔جو حواس باختہ سی فل رفتار سے بھاگتی مین روڈ پر آگئی تھی۔ پکی سڑک پر بھاگتی حیات کہ پاؤں سے کب چپل نکل کر دور جاگری تھی اسے علم تک نہ ہوسکا تھا۔وہ بس بھاگتی چلی جارہی تھی۔۔اس وقت اُسے سب سے زیادہ عزیز اپنی عزت تھی۔۔ لڑکی کہ پاس ایک عزت ہی تو ہوتی ہے جو سب سے زیادہ انمول اور قیمتی شے ہوتی ہے۔۔اور آگر وہ بھی نہ رہے تو وہ زندہ لاش رہ جاتی ہے۔۔۔ وہ اَندھا دھند بھاگ رہی تھی کہ جبھی سامنے سے آتی گاڑی کی چندھیا دینے والی روشنی دیکھ وہ لڑکھڑا سی گئی تھی۔۔مُقابل نے آگر بروقت بریک نہ لگایا ہوتا تو وہ شاید اب تک کسی شدید قسم کے حادثے کا شکار ہوچکی ہوتی۔۔وہ شاید ہی زندگی میں کبھی اتنی رفتار سے بھاگی تھی۔۔اُس کے تعاقب میں آتے لڑکے کہیں پیچھے ہی رہ گئے تھے۔۔۔۔ ’’لڑکی آندھی ہو کیا؟ابھی مرجاتی تو۔۔آگر مرنے کا زیادہ ہی شوق ہے تو جاكر کیماڑی کے سمندر میں چھلانگ لگا لو۔۔ یا خودکشی کے لئے کوئی اور گاڑی تلاش کرو۔‘‘ ڈرائیونگ سیٹ پر موجود کوئی خاتون تھیں جو سیخ پا ہوئی باہر آئی تھیں۔اور درشت لہجے میں اسے سنُانے لگی تھیں۔ ’’ وہ ۔ وہ کچھ لوگ میرے پیچھے۔۔۔پلیز میری ہیلپ کریں۔‘‘وہ پھولے ہوئے سانس سے بامشکل بول پائی تھی۔ ’’کون لوگ!جلدی بیٹھو گاڑی میں۔۔‘‘وہ سنسان رات میں اس کی بکھری سی حالت دیکھ تشویش میں مبتلہ جلدی سے گاڑی میں بیٹھا چکی تھی۔۔اور ہمیشہ کی طرح عقل سے پیدل حیات بغیر کچھ سوچے سمجھے فرنٹ سیٹ پر بیٹھ چکی تھی۔۔ اور انہونے تیزی سے گاڑی آگے بڑھائی تھی۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’تمہیں کہاں چھوڑنا ہے لڑکی؟‘‘وہ خاتون حد سے زیادہ بدمزاج تھیں۔۔جبھی زرا روکھے سے لہجے میں بولی تھیں۔ ’’آپ مجھے کسی دارلامان میں چھوڑ دیں۔‘‘ اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو دیکھتی وہ شدید ضبط سے بولی تھی۔۔انہونے حیرت سے حیات کو دیکھا تھا جو اپنے حلیے سے تو اچھی خاصی لگ رہی تھی۔۔۔ ’’کہاں چھوڑ دوں؟‘‘انہوں نے ایک بار پھر تصدیق چاہی تھی۔ ’’دارلامان۔‘‘وہ سرگوشیانہ بولی تھی۔۔ ’’کیوں تمہارا گھر بار نہیں ہے کیا؟‘‘وہ آئی برو اٹُھائے ہنوز سختی سے بولی تھیں۔ ’’ نہیں۔‘‘وہ کڑے ضبط سے بولتی کار ونڈو سے باہر دیکھنے لگی تھی۔۔جہاں گاڑی انجان راستوں کی جناب گامزن تھی۔ ’’تم یقیناً اپنے کسی چاہنے والے کے کہنے پر گھر سے بھاگی ہوگی اور اب اس نے تمہارا ستعمال کرنے کے بعد تمہیں چھوڑ دیا ہوگا۔۔ہے نا؟‘‘ وہ خاصی گھاگ قسم کی خاتون لگ رہی تھیں جو لمحوں میں اپنے تجربے کی بنا کر طنزیہ آنداز میں سوالیہ گویا ہوئیں۔ ’’بولو بھی ۔۔اب منہ میں گُڑ کیوں ڈال لیا ہے لڑکی۔۔۔ جب لٹ پٹ جاتی ہو تو لوگوں کی ہمدردیاں سمیٹنے کے لئے معصوم چہرے لئے روتی پھرتی ہو۔۔جب ماں باپ کے سامنے ان کی موجودگی میں ان کی آنکھوں میں دھول جھونک رہی ہوتی ہو۔۔جب زرا خیال نہیں آتا تمہیں اپنا،اپنے گھر والوں کا،ان کی عزت کا؟‘‘ وہ جیسے شدید تپی ہوئیں تھیں۔۔یا پھر یہ کہانی ان کے لئے کوئی نئی نہیں تھی۔ ’’شادی شُدہ ہوں ۔۔اپنے شوہر کے گھر سے اپنی مرضی سے آئی ہوں۔۔کوئی ایسی ویسی لڑکی نہیں ہوں میں۔‘‘وہ غصیلے لہجے میں صفائی پیش کرنے لگی تھی۔انہوں نے آئی بروز اُٹھائے۔ ’’تو شوہر کا گھر کیوں چھوڑ دیا؟کماتا نہیں تھا یا پھر مار پیٹ کرتا تھا؟‘‘ ان خاتوں میں حیات کو کسی ظالم وکیل صاحبہ والی ساری کوالیٹیز نظر آئی تھیں۔جو کڑے تیور لئے مسلسل بازپرس پر اُتری ہوئیں تھیں۔۔ ’’ میرے شوہر ایسے نہیں ہیں۔۔‘‘افگن کے لئے اس طرح بات کرنا اُسے ناگوار گزرا تھا۔ ’’ تو پھر بی بی شوہر کا گھر کیوں چھوڑ دیا؟‘‘ اب وہ گاڑی ایک سائیڈ میں لگا چکی تھیں۔۔ حیات کی آنکھیں آنسوؤں سے بھرگئیں تھیں۔ ’’یہ میرا ذاتی معاملہ ہے۔‘‘ ’’ذاتی معاملہ ہے تو پھر باہر نکلو میری گاڑ ی سے۔۔۔‘‘حیات نے گڑ بڑا کر ان کی جانب دیکھا تھا۔جو کڑے تیوروں سے گھورتیں اسے زندہ سالم نکلنے کے در پر تھیں۔ ’’میں۔۔یہاں کیسے۔‘‘حیات نے ایک نظر سنسان سڑک کو دیکھا اور پھرمعصوم نگاہوں سے ان خاتون کو۔ ’’ ہاں تو پھربتاؤ کیوں چھوڑا تم نے اپنے شوہر کا گھر۔‘‘لب چباتی حیات عجیب کشمکش میں گھر گئی تھی۔ ’’انہوں نے میرے ہوتے ہوئے دوسری شادی کرلی اس لئے ۔‘‘رندھی ہوئی آواز میں بامشکل الفاظ ادا کئے تھے۔ ’’اوہ ہو!بڑا ہی ظالم آدمی ہے تمہارا شوہر تو۔۔۔بڑا افسوس ہوا۔۔۔۔‘‘انہوں نے روایتی لہجے میں افسوس کیا۔۔۔حیات نے نفی میں سرہلا کرافگن کی پوزیشن کلئیر کرنا چاہی تھی۔ ’’دراصل وہ۔۔‘‘ وہ کچھ کہنا چاہ رہی تھی۔۔ ’’کیا یہ شادی تمہارے اماں اباّ نے کروائی تھئ۔۔۔اوہ!! تو اب میں سمجھی۔۔تم اب یقیناً انہیں کوئی دُکھ نہیں دینا چاہتیں اِسی لئے ان کے پاس نہیں جانا چاہتیں ناں ۔‘‘حیات کو بولنے کا موقع دیے بغیر وہ ستر فیصد آبادی کی مانند یک طرفہ کہانی سُن کر اپنی رائے پیش کرنے چلی آئی تھیں۔۔تو اب بھلا وہ کیا جواب دیتی وہ تو خود ہی پورا اسٹار پلس تھیں۔۔ ’’نہیں افگن سے شادی میری پسند کی تھی۔‘‘جلدی سے گڑبڑا کر صفائی پیش کرنی چاہی تھی۔ ’’ارے تو بی بی ایسے عیاش مزاج مردکو پسند کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔۔جس کا ایک کے ساتھ گزارا ہی ممکن نہیں۔‘‘وہ ناگواری سے بولتیں سر جھٹک گئیں۔ ’’شیر افگن عیاش مزاج مردوں میں سے ہر گز بھی نہیں۔۔۔مجھ سے بہت محبت کر تے ہیں،بہت عزت کرتے ہیں میری۔۔‘‘ وہ ان کی قیاسہ آرائیوں پر سیخ پا ہوتی زرا تیز لہجے میں بولی تو وہ ہونق ہوئیں۔ ’’اری بنو! آگر تمہارا شوہر اتنا اچھا ،نیک صالح ہے تو اس نے دوسری شادی کیوں کی؟‘‘ان کی تفتش ابھی بھی جاری تھی۔ ’’کیا اولاد کا معاملہ تھا؟‘‘ وہ جہاندیدہ خاتون تھیں۔۔اپنی سوچ
