Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 27
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 07/10/2025
7 Views
Episode no 27
کے گھوڑے جہاں تک دوڑا سکتیں تھیں۔۔وہ دوڑا چکی تھیں۔ ’’ہماری شادی کو ابھی صرف دو ماہ ہی ہوئے ہیں۔۔ اور ایسی کوئی بات نہیں ہے۔‘‘ حیات کو ان کے بے تکے سوالات پر تپ چڑھی تھی۔ ’’شوہر بھی اچھا ہے۔عیاش مزاج بھی نہیں ہے۔۔اولاد کا معاملہ بھی نہیں ہے۔۔پسند کی شادی بھی ہے مگر پھر بھی دوسری شادی کرلی۔۔۔یہ بات کچھ ہضم نہیں ہورہی۔‘‘حیات کا بس نہیں چلا وہ ان کے سوالات پر لعنت بھیجتی اور گاڑی سے اُتر جاتی،مگر سنسان سڑک دیکھ سانس خشک ہوگیا تھا۔ ’’وہ شادی انہوں نے مجبوری میں کی ہے۔۔میں جانتی ہوں وہ مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں۔‘‘ خاتون کو بس غش کھانے کی دیر رہ گئی تھی۔ ’’تو پھر تم نے اپنا گھر کیوں چھوڑا!اور آگرتھوڑا بہت ناراض ہو بھی تو اپنے ماں باپ کے گھر جانے کے بجائے سڑکوں کی خاک کیوں چھانتی پھر رہی ہو۔‘‘ وہ حیرت سے گنگ اس لڑکی کی منطق سمجھ ہی نہ سکی تھیں۔ ’’ میرے بابا کا انتقال ہوگیا۔۔ماما میری پسند کی شادی پر ناراض ہوکر دوسرے شہر شفٹ ہوگئی ہیں۔۔ میں نہیں جانتی وہ کہاں ہیں۔‘‘وہ ایک بار پھر رونے لگی تھی۔ ’’اپنے گھر کا ایڈریس بتاؤ۔۔تمہیں تمہارے شوہر کے گھر چھوڑ دوں۔۔بیچارہ پریشان ہورہا ہوگا۔۔‘‘اس بار ان کا لہجا نرم تھا۔ ’’میں ان کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔ ’’مگر کیوں؟‘‘ ’’کیونکہ انہونے مجھے دھوکا دیا ہے۔‘‘ ’’ابھی تم نے ہی تو کہا کہ مجبوری میں نکاح کیا ہے۔‘‘وہ سر پیٹ لینا چاہتی تھیں۔ ’’مگرمیں ان کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔‘‘ وہ اپنی ضد پر قائم تھی۔ ’’میرے سوالوں کا سچ سچ جواب دو۔۔ ’’کیا وہ تمہیں مارتا ہے؟‘‘ ’’نہیں۔۔‘‘ ’’کیا وہ تمہیں کھانے کو نہیں دیتا؟ ’’ایسا نہیں ہے۔ ’’تو پھر عزت نہیں دیتا۔ ’’وہ میری بہت عزت کرتے ہیں۔ ’’تو پھر محبت نہیں کرتا؟‘‘ ’’پہلے نہیں کرتے تھے شاید،مگر نکاح کے بعد سے تو وہ میری بہت کئیر کرتے ہیں اور محبت بھی۔‘‘وہ سوچ کر بولی تھی۔ ’’تو پھر دوسری شادی مجبوری میں کی ہے۔۔ہے ناں؟‘‘ ہمم!‘‘وہ بس اتنا ہی جواب دے سکی۔ ’’تواب تم سے شراکت برداشت نہیں ہورہی اور تم اپنے شوہر سے طلاق چاہتی ہو؟‘‘وہ جیسے نتیجے پر پہنچی تھیں۔ ’’نہیں ! میں ایسا کبھی مر کر بھی نہیں سوچ سکتی۔‘‘اُس کے دل پر ہاتھ پڑا تھا۔ ’’تو جب تمہیں سب پتہ ہے۔۔وہ اتنا اچھا ہے۔۔تو بیوقوفوں کی طرح گھر چھوڑنے کی کیا ضرورت آن پڑی تھی لڑکی۔‘‘ اس بار وہ اس کے کندھے پر ایک تھپڑ رسید کر چکی تھیں۔ ’’کیونکہ وہ اسے طلاق نہیں دے رہے۔ میری جگہ کسی اور کو دے دی۔‘‘ حیات نے پھپھک پھپھک کر روتے اپنا دکھڑا رویا۔ ’’ہاں تو یہ بولو ناں کہ تم سے شراکت نہیں برداشت ہو رہی۔۔اور یہ کوئی نئی بات نہیں دوسری عورت کسی سے برداشت نہیں ہوتی۔۔خیر اپنے گھر جاؤ۔۔اور اپنے شوہر سے لڑو،جھگڑو،اپنا حق مانگو۔۔اور تھوڑا دل بڑو کرلو۔۔۔کیونکہ اب تو دوسرا نکاح ہوہی گیا۔۔ آگر وہ اتنا اچھا ہے تو زرا تم بھی اس کی خوشی کی خاطر کچھ چیزوں پر کمپرومائز کرلو۔۔اور جب تمہیں لگنے لگے کہ تمہاری حق تلفی کر رہا ہے تو اپنے حق کے لئے آواز اٹھاؤ،خود گھر چھوڑنے سے بہتر ہے اسے دھکے مار کر باہر نکالو۔۔کیسی بزدل عورت ہو تم۔۔تمہاری جگہ میں ہوتی تو دونوں کم بختوں کا جینا حرام کر دیتیْ۔دوسری شادی کا مطلب آر یا پار نہیں ہوتا۔بلکہ بیچ کی راہ نكالی جاتی ہے۔۔‘‘وہ اپنے چشم تصور میں شیرافگن اور اُجالا کا قیمہ بناتی من و من خوش ہوئیں تھیں۔ ’’اور دوسری شادی۔‘‘اُس کی سوئی وہیں آٹک گئی تھیں۔ ’’دنیا میں۔۔بلکہ پاکستان میں ہی کتنے مرد دوسری شادی کرتے ہیں۔۔اور کم بخت دو نہیں چا ر چار کرلیتے ہیں۔۔ایک خاندانئ بیوی،تو دوسری پسند کی۔۔تو تیسری کزن سے۔۔۔بیہودا کہیں کہ۔۔ان کی بیویوں سے بھی برداشت نہیں ہوتا۔انبیاء اور رسول نے بھی ایک سے زائد نکاح کئے تھے۔لیکن دوسری کے معاملے میں ان کی غیرت بھی جوش مار جاتی تھی۔۔۔کیونکہ عورت کوئی بھی ہو اس کی غیرت کبھی دوسری کو گوارہ نہیں کرتی ۔مگر صبر والی تھیں۔۔۔جب وہ صبر و تحمل اور حسن سلوک رکھ سکتی ہیں تم تو پھر عام انسان ہو۔۔۔ اپنے شوہر کی ناک میں دم کرو ناکہ بیوقوفوں کی طرح محرم کی چار دیواری چھوڑ دی ۔وہ بھی جب حالات قدر بہتر ہوں۔۔ ’’آخری بات ہمارے معاشرے میں کتنی عورتیں ہیں جن کا شوہر تمہارے شوہر جیسا اچھا نہیں ہے۔۔مجھے تو وہ کوئی فلم کا ہیرو لگ رہا ہے۔خیر تم تو پھر خوش قسمت ہو۔کہ وہ تم سے بے انتہا محبت کرتا ہے۔۔ورنہ زرا جاکر پوچھو ان خواتین سےجو بیچاریاں ہر ظلم سہ کر بھی خاموش رہتی ہیں۔‘‘ وہ یکدم سنجیدہ ہوگئیں تھیں۔ ’’مگر میں ان کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔‘‘وہ اپنی ضد پر قائم تھی۔ ’’تو پھرخلالے لو۔‘‘وہ مزید رونے لگی تھی۔ ’’میرے شوہر نے بھی میرے ساتھ زندگی کے چارسال گزارنے کے بعد اپنی ایک بیوہ کزن سے شادی کرلی تھی۔۔مجھ سے برداشت نہ ہو۔۔اور میں نے خلا لے لی۔۔انہونے بہت سمجھایا تھا مجھے۔مگر بھلا میں کسے شراکت برداشت کر سکتی تھی۔ اس کے بعد جو لوگ مجھ سے ہمدردی جتا رہے تھے۔۔وہی مجھ پر نفرت اور طنز کے تیر چلانے لگے تھےمیرے اپنے ہی ماں،باپ کے گھر میں میری ایک روٹی بھاری پڑ گئی تھی۔۔۔مجھے اپنے جذباتی فیصلہ کا بہت جلد احساس ہوگیا تھا مگر افسوس کہ تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔یہ معاشرہ ایک طلاق یافتہ کو کبھی قبول نہیں کرتا۔مگر ہاں اب میں اپنے گھر میں اکیلی رہتی ہوں۔۔کیونکہ میں نے اکیلا رہنا اور بے حس معاشرے سے لڑنا سیکھ لیا ہے۔۔اب مجھے اللہ کے سوا کسی کے سہارے کی ضرورت نہیں۔۔مگر اس مقام تک پہنچنے میں میری ساری زندگی تمام ہوگئی۔ آگر واقعی تم میں دنیا کو فیس کرنے کا اور دارلامان میں زندگی گزارنے کا حوصلہ ہے تو میں تمہیں وہیں چھوڑ دونگی۔۔مگر ایک بار یہ ضرور سوچ لینا کہ کیا تمہاری غیرت یہ گوارہ کر لے گی کہ تم کسی خیراتی جگہ پر قیام کرلو بجائے اس کے اپنے شوہر کے گھر میں حق سے رہو۔‘‘حیات نے بے بسی سے انہیں دیکھا تھا۔ ’’مجھے ایک بات سمجھ نہیں آئی کہ تمہارے شوہر نے دوسری شادی کی ہی کیوں۔۔مجبوری کی بھی کوئی وجہ تو ہوگی ناں ۔یا بات کچھ اور ہے۔‘‘وہ مزید بات کی تہہ تک پہنچنا چاہتی تھیں۔ ’’دراصل میری اور شیرافگن کی پہلی بار ایف بی پر بات ہوئی تھی۔۔پھر۔۔۔۔۔۔‘‘ حیات شروع سے لر کر آخر تک تمام پیش آنے والے واقعات بتاتی چلی گئی تھی اور وہ دم سادھے سنتی چلی گئیں تھیں۔۔۔ ’’یا میرے اللہ!لڑکی تم کس قدر ناشکری عورت ہو۔۔اگر وہ واقعی سچا ہے تو پھر تو تمہیں اُس کا شکرگزار ہونا چاہئے۔۔ ناکہ تم احسان فراموشی کر رہی ہو۔۔بقول تمہارے تمہیں اب ریلائیز ہوا کہ کسی شخص نے تمہیں ٹریپ کیا تھا۔ایسی صورت حال میں جب تمہارا باپ دنیا چھوڑ گیا۔ماں نے تعلق ختم کرلیا۔۔اور وہ اجنبی شخص تمہارا دامن داغ دار کرگیا۔۔اس کے باوجود اس شخص نے تمہیں عزت دی، مان دیا۔محبت دی۔۔اور تم آج اس کی ذرا سی مجبوری نہیں سمجھ سکتیں۔۔اس نے تمہاری جیسی ایک داغ دار لڑکی کو اپنا نام دے کر عمر بھر کا کمپرومائز کرلیا اور تم اس کی ایک چھوٹی سی خواہش پر کمپرومائز نہیں کرسکتیں۔۔‘‘وہ زمانہ شناسہ در در کی ٹھوکر کھائی ہوئی عورت تھیں ۔۔حیات جیسی بیوقوف کو سمجھانے کے لئے کسی جذباتی نہیں بلکہ عقل مند خاتون کی ضرورت تھی اور وہ وہی تھیں۔ ’’فرض کرو۔۔اس روز تمہارا شوہر تمہیں اپنے
