Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 27
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 07/10/2025
7 Views
Episode no 27
#دھوپ_چھاؤں_سا_ہرجائی #از_ہما_قریشی #قسط_نمبر_27 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’السلام علیکم!‘‘ وہ روم میں حیات کی غیرموجوددگی محسوس کر خود ہی آفس کے لئے تیار ہوتا ،ناشتے کی میز پر آیا تھا۔جہاں اُجالا سمیت زرین اور ناصر صاحب بھی موجود تھے۔ ’’وعلیکم السلام!حیات نہیں آئی ناشتہ کے لئے؟طبیعت کیسی ہے اب اُس کی؟‘‘ زرین بیگم نے زرانخوت سے مروتً پو چھ لیا تھا۔۔۔ ’’محترمہ صبح سے نیچے ہیں آپ اُس سے خود پوچھ لیتیں۔‘‘ گلاس میں جوس ڈالتا وہ زرا لاپرواہی سے گویا ہوا تھا۔ناصر صاحب نے بغور اس کے تاثرات جانچے تھے۔ ’’کیا حیات اپنے روم میں نہیں ہے؟ کیونکہ وہ تو صبح سے اپنے روم سے باہر ہی نہیں نکلی ہے۔‘‘زرین نے ذرا اچھنبے سے استفسار کیا معاً وہ ٹھٹھک گیا تھا۔ ’’کیا مطلب ہے اس بات کا؟صبح سے کہاں ہے وہ؟‘‘ اُس کی پیشانی پر بل پڑ گئے تھے۔۔۔ ’’ہمیں کیا معلوم!تمہاری بیوی ہے۔۔تمہیں معلوم ہونا چاہیئے۔کہ وہ اس وقت کہاں ہے۔۔‘‘ناصر صاحب کا لہجا سخت تھا۔۔۔جبکہ افگن اپنا سر تھام گیا تھا۔۔ُاُجالا نے تاسفی آنداز میں اس کا پریشان چہرہ دیکھا تھا۔ ’’کہاں جارہے ہو افگن؟‘‘ وہ ایک جھٹکے سے چئیر چھوڑتا طیش میں اپنے قدموں کا رُخ بیرونی دروازے کی جانب موڑ چکا تھا۔۔ ’’میں دنیا کا بیوہ قوف مرد اور کہاں جاسکتا ہوں ؟؟اُس بیو قوف کو ڈھونڈنے جارہا ہوں۔۔پتہ نہیں کہاں کی خاک چھاننے نکل گئی ہے۔‘‘وہ شدید غصےٰ میں دکھائی دے رہا تھا۔ ’’اور تمہاری میٹنگز؟‘‘وہ سوالیہ بولے۔ ’’بھاڑ میں گیا سب کچھ!آج پہلے میں اِس لڑکی کا دماغ سیٹ کرلوں۔۔‘‘ لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہ منظر سے غائب ہوگیا تھا۔۔جبکہ وہ نفی میں سر ہلاتے اپنے بیٹے کے جذباتی فیصلہ پر بڑبڑا کر رہ گئے۔ ’’ بڑا شوق تھا صاحب زادے کو باپ سے الگ بزنس سیٹ کرنے کا۔اپنے بلبوتے پر اپنا نام بنانے کا۔بیویاں تو سنبھل نہیں رہیں۔بزنس سنبھالیں گے۔۔۔دو دن میں ہی طوطے نظر آگئے ہیں۔۔چلے تھے باپ کی برابری کرنے۔‘‘ وہ بڑبڑائے تھے ،زرین بھی ناک بھنؤئیں سمیٹ کر اپنے روم کی جانب چل دی تھیں۔۔گویا خس کم جہاں پاک۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج مینا کی مہندی تھی۔ فردوس منزل میں خوشیاں رقص کر رہی تھیں۔جبکہ کل رات کے بھیانک انکشافات اور ان درندہ صفت انسانوں کی منصوبہ بندیوں سے پریشان وہ جلد از جلد اپنا کوئی نہ کوئی بندوبست کرنا چاہتی تھی۔مگر سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔آخر جائے تو کہاں جائے۔۔۔۔ وہ لب چباتی من و من آگے کے لائحہ عمل ترتیب دیتی سوچ بچار میں مصروف تھی کہ ہالہ عادتً دھڑام سے دروازہ کھول کر روم میں داخل ہوئی تھی۔ ’’کیا ہوا؟‘‘ وہ پہلی بار شدید خوفزدہ ہوئی تھی۔۔۔آواز کی تازگی کہیں دور جاسوئی تھی۔ ’’کچھ نہیں۔۔۔تمہارا رنگ کیوں اُڑا ہوا ہے بلیك بے بی؟ وہ شرارتی لہجے میں آنکھیں مٹکا کر سوالیہ انداز میں بولی تھی۔۔۔عابثہ نے بغور اس کا جائزہ لیا تھا۔وہ بوٹل گرین کلر کے لہنگے میں ملبوس لائٹ میک اپ کئے قیامت ڈھا رہی تھی۔۔۔ مگر ایک ہی سوچ تھی جو اسے ہلکان کئے دیے رہی تھی کہ اس شاہویز کو اُس کی عام شکل و صورت میں نجانے کیا نظر آیا تھا جو وہ ہاتھ دھو کر پیچھے پڑ گیا تھا۔کیا اسے یہ ہالہ بے بی نظر نہیں آتی تھی۔ ’’جو کام ہے وہ بتاؤ۔‘‘اپنا ذہن جھٹکتی وہ ذرا رکھائی سے بولی۔ ’’محترمہ عالی دادی جانی آپ کو نیچے بلا رہی ہیں۔۔۔آگر طبیعت کو گراں نہ گزرے تو گھر آئے مہمانوں کو اپنے درشن لازمی کروادیجئے گا۔۔۔۔اور ہاں۔فئیر اینڈ لالی لازمی لگا لینا۔ایسا نہ ہو سب ڈر کر ہی بھاگ جائیں۔۔ہاہاہا۔۔‘‘ وہ طنزیہ لہجے میں ایک جاندار قہقہہ فضا کے سپرد کرتی اُس کا دل جلانا ہر گز نہیں بھولی تھی۔ ’’گیٹ آوٹ!‘‘اُس کا سُرخ چہرہ دیکھ وہ کھلکھلا کر وہاں سے نکل آئی تھی۔۔جبکہ اب عابثہ کو مزید جب کوئی راہ نہ سجھُائی دی تو وہ اپنا سامان اُٹھا کر نکل پڑی تھی۔اِس امید کے ساتھ کہ شاید اب تو وہ دنیا کہ سامنے اپنے اور اس کے مابین رشتے کو ضرور ایکسیپٹ کرلے گا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صبح سےدپُہر ہونے کو آئی تھی۔۔۔حیات سب سے پہلے اپنے گھر آئی تھی جہاں مین گيٹ پر پڑا بڑا سا تالا اُس کا منہ چڑا رہا تھا۔وہ کتنی ہی دیر گھر کی دہلیز پر بیٹھی رہی تھی ،اور خود کو کوستی رہی تھی کہ کاش اُس نے محبت کے سراب میں اپنے ماں باپ کو نہ ٹھکرایا ہوتا۔کاش کہ ان دیکھے شخص کی محبت میں اتنی آندھی نہ ہوئی ہوتئ کہ اپنا عزت ،مان،وقار،اپنے باپ کی سالوں کی عزت خاک میں ملا دی تھی۔۔۔وہ پچھتا رہی تھی۔۔۔ہاں آج حیات کاظمیٰ بہت زیادہ پچھتا رہی تھی۔۔محلہ کی کتنی ہی خواتین گھروں کی کھڑی ،بالکونیوں سے اسے ترحم اور حقارت آمیز نگاہوں سے دیکھتیں بغیر خیریت دریافت کئے ہی جا چکی تھی۔۔۔کسی ایک کو بھی شاید اس پر ترس نہیں آیا تھا۔۔۔ یہ دنیا تھی اور اُس کے واضح دو رُخ۔۔۔ ایک جانب وہ خواتین کے لئے حد سے زیاددہ ہمدری کی حق دار تھی کیونکہ اس کے شوہر نے اس کی موجودگی میں دوسرا نکاح کر لیا تھا۔۔دوسری جانب وہ اسی دنیا کی عورتوں کہ لئے کسی کتے سے بھی گئی گزری ، انتہا کی حقارت اور نفرت کی مستحق تھی،کیونکہ اس نے اپنے ماں ،باپ کی عزت کو مان کو سب کو ٹھکرا کر ایک انجان شخص کی محبت میں گرفتار ہوکر پسند کی شادی کرلی تھی۔۔۔سب کی عزت خاک میں ملا دی تھی۔ایک ہی شخصیت بیک وقت دو قسم کے لوگوں کے رویوں کی بھینٹ چڑھ گئی تھی۔۔ وہ اِرد گرد میں سب سے اپنی ماں کا پوچھ چکی تھی۔۔مگر کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ محلے کے اتنے پُرانے بسنے والے آخر راتوں رات کہاں غائب ہوگئے تھے۔۔۔۔۔۔عزت کی نيلامی کے بعد بھلا کوچا تبدیل کرنے والے کب اپنےآشیانوں کی خبر کرتے ہیں۔۔اپنے ہاتھوں اپنا آشیانہ اجُاڑنے کے بعد حیات کاظمی بےآسرا ہوگئی تھی۔۔ واپسی کا راستہ کتنا ہی حسین کیوں نہ ہو مگر مشکل ہوتا ہے۔۔شکستہ خور قدموں سے واپسی کا سفر طے کرتی وہ انجان راستوں کی جناب گامزن تھی ،بھری دپہر بیت کر شام میں تبدیل ہونے لگی تھی۔۔ وہ صبح سویرے بغیر اطلاع دیے نکل تو آئی تھی ،مگر اب شیر افگن کے گھر تک واپسی کا راستہ طے کرنا انتہا کا مشکل لگ رہا تھا۔۔۔بار بار انا آڑے آرہی تھی۔۔شیرافگن کا اُجالا کےقریب ہونا،اُس کے لئے فکرمندی جتانا سب کچھ یاد کر آنکھیں بھیگ گئیں تھیں۔ رنگینیوں سے بھری شام اب مکمل تاریکی میں ڈوب گئی تھی اور وہ مصروف شاہراہوں اور بے مقصد راستوں کی جانب گامزن تھی۔۔۔۔ ’’نہیں !میں اب کبھی اس گھر میں واپس نہیں جاؤنگی جہاں میرا وجود کسی بوجھ سے کم نہیں ہے۔‘‘من و من بڑبڑاتی وہ اپنی خود ساختہ سُوچوں میں گہری ایک بار پھر مخالف سمت اور انجان راستوں کی جانب بڑھ چکی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’حیات کا کچھ پتہ چلا؟‘‘وہ تھکے قدموں سے گھر میں واپس داخل ہوا تو ناصر صاحب پریشانی سے سوالیہ گوئے ہوئے تھے۔ ’’نہیں!‘‘وہ سپاٹ لہجے میں بولا تھا۔ ’’تو تم نے پولیس میں کمپلین کی؟‘‘شیر افگن نے زرا ناگواری سے اپنے باپ کا یہ جملہ برداشت کیا تھا۔ ’’سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق وہ اپنی مرضی سے گھر چھوڑ کر گئی ہے۔۔کسی نے اغوا نہیں کیا ہے اُسے۔‘‘وہ ناگواری سے بولا تھا۔ ’’جو بھی ہے مگر تم زرا تحمل سے کام لو۔اور حیات کو ڈھونڈو۔۔اس بچی کا تو اس دنیا میں کوئی ہے بھی نہیں ۔نجانے کہاں ہوگی۔‘‘وہ ہنوز پریشانی سے گویا ہوئے تھے۔۔۔شیرافگن کے ماتھے پر بل پڑ گئے تھے۔۔۔
