Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 18
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 03/10/2025
3 Views
Episode no 18
میں جتنا شیر افگن صاحب کو جانتی ہوں۔ان کے تو کافی آفئیرز رہے ہیں۔ آپ کوِ ان کی عیاش طبیعت سے کوئی اعتراض نہیں ہوا۔‘‘شیر افگن کی آنکھوں کارنگ تبدیل ہونے میں محض دو لمحے لگے تھے۔ ’’مس عابثہ میری بیوی نے سب کچھ جانتے بوچھتے مجھ سے شادی کی ہے۔تو آپ بالکل بے فکر رہیں۔بلکہ آپ اپنی فکر کریں۔‘‘شیر افگن کے معنی خیز لہجے پر حیات نے ناسمجھی سے دونوں کی جانب دیکھا تھا۔ ’’حیات تم مس عابثہ کے ساتھ گپ شپ لگاؤ۔اور زرا مزید میرے متعلق راز اُگلواؤ۔جب تک میں باقی مہمانوں سے مل لوں۔‘‘حیات کے نا فہم تاثرات نظر آنداز کرتا وہ مسکرا کر رُخسار تھپتھپاتا ارتضی ٰ کی جانب بڑھا۔جو کافی دیر سے اُس کا منتظر تھا۔ ’’آپ کی افگن سے پہلی ملاقات کب ہوئی تھی؟‘‘عابثہ نظر گھُماتی حیات کی جانب متوجہ ہوئی تھی۔جو عابثہ کی شرارت کے بعد سنجیدہ ہوگئی تھی۔ ’’جی۔۔‘‘وہ چونک کر متوجہ ہوئی تھی۔ ’’ارے آپ تو سیریس ہوگئیں۔دراصل میں مزاق کر رہی تھی۔آپ ٹینشن نہ لیں پلیز!‘‘عابثہ نے ایسے کنفیوز دیکھ مسکرا کر اس کی مشکل آسان کی تھی۔ "نہیں میں کچھ نہیں سوچ رہی تھی۔۔تم بتاؤ کیا کرتی ہو؟"حیات نے جلدی سے اپنے تاثرات پر قابوں پایاتھا۔ "میں فی الحال شادی کا انتظار کر رہی ہوں۔۔"عابثہ شرارت سے گویا ہوئی تھی۔حیات کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔ "ویسے تم اپنی ہم عمر لڑکیوں سے دور کیوں کھڑی ہو؟"حیات نے ویسے ہی پوچھ لیا تھا۔ "کیونکہ میں ان لوگوں کی طرح دماغ سے فارغ ہر گز نہیں ہوں۔ان کا زندگی سے کوئی مطلب نہیں ہے۔۔بس دوسرے کی زندگی میں زہر گھولنا یا پھرکن سوئیاں لینا ہی ان کی حیات کا مقصد ہے۔جبکہ میں ابھی اپنی زندگی سے بہت کچھ چاہتی ہوں۔اس لئے ان ذہنی بیمار لوگوں سے دور رہتی ہوں۔زنگ الود سوچ والوں کے ساتھ نشست لگانے سے آپ کی خدادا صلاحیتیں بھی مفلوج ہو کر رہ جاتی ہیں۔۔"حیات نے ٹھر اُس کا سنجیدگی سے بُھرپور تبصرہ سُنا تھا۔۔حیات کو عابثہ سے ہرگز بھی اس قسم کی سنجیدگی کی ہرگز بھی تواقع نہ تھی۔۔۔ "تم زندگی سے کس طرح کا لائف پارٹنر چاہتی ہو عابثہ ؟"حیات نے اس من موہنی اور منفرد سی لڑکی کی اتنی سنجیدہ باتیں سن کر اشتیاق سے دریافت کیا تھا۔ "میں۔۔۔"عابثہ نے کچھ کہنے کے بجائے۔سامنے تھری پس میں ملبوس کھڑے ارتضی کو دیکھ دانستہ جملہ ادھورا چھوڑا تھا۔ "ہاں مطلب لائف پارٹنر میں کیا کیا خوبیاں ہونی چاہیے۔۔اچھا سا پیارا سا ہینڈسم سا ہو۔۔۔چٹا سفید ہو یا بلیک کمپلیکشن والا بھی چلے گا۔۔لک وائز کیسا ہو ؟رچ ہو۔۔کوئی تو خاکا ذہن میں ترتیب دیا ہوگا۔۔"اپنی محدود سوچ کے تحت حیات نے عام سے سوالات کئے تھے۔۔عابثہ تلخی سے مسکرائی تھی۔۔ "اگر وہ گورا ہوا تو کیا میں نے اس کا منہ فريم کراکر رکھنا ہے۔"حیات نے ناسمجھی سے دیکھا تھا۔۔ "اور اگر بہت زیادہ پیسہ والا امیر ہوا تو کیا اس کی دولت کو اپنے ساتھ قبر میں لے کر جانی ہے میں نے ۔۔"وہ مزید تلخی سے گویا ہوئی تھی۔۔حیات نے حیرت سے منہ کھول کر ہونقوں کی طرح اس عجیب سی لڑکی کو دیکھا تھا۔۔جس کے انداز و اطوار کہیں سے بھی ایک بیس سالہ لڑکی سے میل نہیں کھارہے تھے۔۔۔ "تو لڑکی پھر زندگی گزارنے کے لئے کس طرح کا ہم سفر چاہیے تمھیں ؟"دور کھڑے شیر افگن کو نظر بھر کر دیکھنے کے بعد حیات نے ذرا زچ ہو کر پوچھا تھا۔۔ "میں اپنی زندگی سے جس طرح کا لائف پارٹنر چاہتی ہوں۔ وہ گورا ہو یا کالا۔۔امیر ہو یا غریب سب چلے گا مگر عقل سے پیدل نہیں ہونا چاہیے۔۔۔مجھے مرد ہمیشہ وہی اٹریکٹ کرتے ہیں جن کا سینس آف ہیومر بہت اچھا ہوتا ہے۔۔کیونکہ جس میں سوچنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے وہ سہی اور غلط میں بہت اچھے سے تعین کرلیتا ہے۔۔۔ایسے شخص کو بار بار کسی بات کی صفائی نہیں پیش کرنی پڑتی۔۔اور جس کی سوچ ہی محدود ہو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہی موجود نہ ہو۔ایسے شخص کے ساتھ زندگی بیتانا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔۔میں ہر چیز پر كمپرومائیز کر سکتی ہوں مگر کسی ایسے شخص کے ساتھ زندگی نہیں گزار سکتی جو پڑھا لکھا ہونے کے باوجود عقل سے پیدل محدود سوچ کا مالک اور آندھا ہو۔جس کو میری خوشی اور غم سے کوئی فرق ہی نہ پڑتا ہو۔جو سب کچھ دیکھنے کے باوجود بھی آنکھیں میچ لے۔۔میں کسی ایسے شخص کو اپنا آئیڈیل نہیں مان سکتی۔۔"وہ ٹرانس میں ماضی کی تلخ یادوں میں کھوئی بس بولتی چلی گئی تھی۔۔اور حیات بس دم سادھے سنتی چلی جارہی تھی۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’کیا ہوا ارتضیٰ خیریت؟‘‘ارتضی کے پریشان تاثرات دیکھ افگن زرا عجلت میں اس کے نزدیک آیا تھا۔۔۔۔ ’’یار!اُجالا اب تک نہیں آئی۔‘‘ارتضیٰ نے زرا پریشانی سے بولا تھا۔۔ ’’شاید!کہیں بزی ہو۔میراتو کافی دیر سے رابطہ ہی نہیں ہوسکا ۔‘‘شیر افگن نے زرا ناسمجھی سے کہا تھا۔ ’’یار پتہ نہیں!کہارہ گئی یہ لڑکی۔میں نے پک کرنا تھا مگر میں تمہاری وجہ سے سیدھا یہاں آگیا۔۔اور اسے آنے میں دیر تھی۔اب میں کافی دیر سے رابطہ کرنا کی کوشش کر رہا ہوں۔مگر کوئی رسپانس ہی نہیں ہے۔‘‘ایسے فکر لاحق ہوگئی تھی۔ ’’خیر تم فکر نہیں کرو!آجائے گی۔‘‘شیرافگن اس کا شانہ تھپتھپا کر تسلی دیتا اب اپنے طور سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔جس کا نمبر مسلسل بند آرہا تھا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’ہیلو!‘‘وہ ارتضی ٰسے بات کرتا زرا سائیڈ پر آگیا تھا۔جبھی اس کا موبائیل رنگ کرنے لگا تھا۔ ’’کان سے موبائل لگاتے ہی ایسی خبر کانوں میں پڑی تھی۔جو اس کے اوسان خطا کر گئی تھی۔ محفل اور وقت کا لحاظ کئے بغیر ہی وہ اپنی گاڑی لیتا وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔
