Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 18
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 03/10/2025
3 Views
Episode no 18
اپنا موڈ خراب نہیں کرنا چاہتی تھی۔ویسے بھی لاؤنج میں فردوس بیگم اس کی منتظر تھی آج شیر افگن کے ولیمے پر وہ انہی کے ساتھ جانے والی تھی۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاشمی خاندان کے اکلوتے چشم و چراغ کا ولیمہ شہر کے ایک مشہور ہوٹل میں رکھا گیا تھا۔جس میں شہر بھر کی ساری ہی ایلیٹ کلاس کریم موجود تھی۔پاکستانی بزنس ٹائیکون کی فیملیز،سیاسی احباب،بیروکیرسی کے لوگ،وکیل جج،حتی کے فارن بزنس پارٹنرز اس وقت سب ہی شیر افگن ہاشمی اور مسز افگن ہاشمی کی خوشی میں شامل ہونے کے لیے خاص الخاص اپنی تشریف آوری سے محفل میں چار چاند لگاگئے تھے۔حیات کے تیاری میں ابھی کچھ وقت مزید لگنا تھا۔جبھی کچھ دیر قبل ہی مسز ناصر ڈرائیور کی ہمراہی میں پارلر کے لئے نکلی تھیں۔اب جو بھی تھا ولیمے کی دلہن کو محض ڈرائیور کے ہاتھوں تو نہیں بُلوایا جاسکتا تھا۔جبکہ شیر افگن ناصر صاحب کی ہدایات کے عین مطابق مہمانوں کو ریسیو کرنے کی خاطر وقت سے پہلے ہی ہوٹل پہنچ گیا تھا۔ بلیک ٹیکسیڈومیں ملبوس وہ اپنی سحر انگیز شخصیت کے ساتھ مہمانوں کے ساتھ گفتگو کرتا ماحول پر چھایا ہوا تھا۔ایک ہاتھ پینٹ کی پاکٹ میں ڈالے دوسرے میں ولیکم ڈرینک تھامے وہ کسی بات پر دلکشی سے مسکرایا تھا۔جبھی ایسے دور سے ہی فردوس بیگم کے ہمراہ انٹرانس پر کھڑی عابثہ نظر آگئی تھی۔ساتھ ہی ارتضیٰ عباس نے بھی انٹری کی تھی۔شیر افگن ساتھی بزنس پارٹنر سے اکیسکیوز کرتا جلدی سے ان کی جانب بڑھا تھا۔ ’’ہیلو بڈی!آج تو بڑا چمک رہا ہے تو۔‘‘ارتضٰی خلاف طبیعت بغل گیر ہوتے ہی شرارت سے گویا ہوا تھا۔جبکہ عابثہ کی تمام تر سماعتیں انہی دونوں کی جانب متوجہ تھیں۔ ’’اُجالا نہیں آئی یار ابھی تک۔‘‘شیر افگن نے کلائی پر بندھی گھڑی پر ایک نگاہ ڈال کر زرا پریشانی سے کہا تھا۔ارتضٰی کا جواب زبان پر اَدھورا ہی رہ گیا تھا۔۔ ’’اے لڑکے ماں کہاں ہے تمہاری؟‘‘شیر افگن ارتضٰی کے ساتھ کھڑا فردوس بیگم کو بالکل فراموش کر چکا تھا۔ ’’اوہ سوری! السلام علیکم آنٹی !کیسی ہیں آپ؟‘‘شیر افگن آنکھیں گھُماتا جلدی سے اُن کی جانب متوجہ ہوا تھا۔جبکہ ساتھ کھڑے ارتضٰی نے بڑی دلچسپی نے عابثہ کاُ اپر سے نیچے تک جائزہ لیا تھا۔جو زرا خائف سی نگاہوں سے دیکھتی رُخ پھیر گئی تھی۔ ’’ہیلو مس عابثہ کیسی ہیں آپ؟‘‘ارتضٰی کے مخاطب کرنے پر عابثہ نے گھبرا کر دادی بیگم کو دیکھا تھا جو شیر افگن سے باتوں میں مصروف زرا فاصلے پر ہوگئی تھیں۔ ’’میں ٹھیک ہوں۔آپ کیسے ہیں؟‘‘عابثہ بلا وجہ ہی گھبرا گئی تھی۔ ’’ائم ایم گڈ!ُلکس اسٹننگ! ‘‘ارتضٰی پینٹ کی پاکٹ میں ہاتھ پھنسائے زرا سنجیدگی سے بولا تھا۔عابثہ خواں مخواہ ہی شرمندہ ہوتی نظر چرا رہی تھی۔ ’’اوہ سوری یار!یہ فردوس آنٹی بھی نہ۔۔بس بندے کو گھُما کر رکھ دیتی ہیں۔‘‘ایک گہری سانس بھرتا شیر افگن جلدی سے اُنہیں ان کی ہم عمر خواتین کے ساتھ مصروف دیکھ دوڑ کر آیا تھا۔ ’’چل کوئی نہیں تو مس عابثہ کو کمپنی دے۔میں زرا باقی سب سے مل لوں۔‘‘ارتضٰی خاموش کھڑی عابثہ پر ایک جتاتی نگاہ ڈالتا اکیسکوز کرتا آگے بڑھ گیا تھا۔ ’’تھنکس فار کمنگ عابثہ اسمعیل!‘‘شیر افگن اب باقاعدہ اس کی جانب متوجہ ہوا تھا۔جو ارتضی ٰ کی پشت تکتی چونک کر اس کی جناب متوجہ ہوئی تھی۔ ’’ہمم!ہمیں تو آنا ہی تھا شیر افگن صاحب۔مبارک ہو۔۔اب زرا اپنی مسز سے بھی ملوا ہی دیں۔‘‘عابثہ اس کی آنکھوں میں ناچتی شرارت دیکھ زرا ناگواری سے چھبتے ہوئے لہجے میں بولی تھی۔ ’’اوہ یس!اچھا ہوا یاد دلا دیا۔۔میں تو اپنی جان کو بھُول ہی گیا تھا۔اکسکیوز می۔میں زرا ماما کو ایک کال کر کے ابھی آیا بس۔‘‘شیرافگن گھڑی میں وقت دیکھتا نسرین بیگم کو کال ملانے لگا تھا۔جبکہ وہ ایک گہری سانس بھرتی فردوس بیگم کی تلاش میں دوسری جانب آگئی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہر جانب بیٹھے رنگا رنگ لوگ،ہنستے کھلکھلاتے چہروں میں عابثہ کو اپنا آپ خاصہ غیر ضروری سا محسوس ہوا تھا۔تقریباً محفل اپنے عروج پر تھی۔شیر افگن مہمانوں سے گفتگو میں مصروف تھا۔جبھی ایسے حیات کے آنے کی خبر ملی تھی۔ابھی وہ اسے ریسیو کرنے جاہی رہا تھا۔کہ وہ لفٹ سے باہر نکلتی نظر آئی تھی۔شیر افگن کی نظریں ٹھٹھک کر ٹھر گئی تھیں۔ شیر افگن ہاشمی کی پسند میں سر سے پاؤں تک پور پور سجی لڑکیوں کی ہمراہی میں سہج سہج کر قدم اُٹھاتی وہ شیرافگن کے دل پر بجلیاں گرارہی تھی۔نظروں کی تپش ہی تھی کہ اس نے بے ساختہ نظریں ُاٹھائیں تھیں،سیاہ پینٹ کوٹ زیب تن کئے اپنی دلکش پرُ کش پر سنالٹی کے ساتھ محبت بھری نگاہوں سے اُس کے سراپے کا جائزہ لیتا اُس کی دھڑکنیں منتشر کر گیا تھا۔۔۔ حیات گھبرا کر نظریں چُراتی نگاہیں پھیر گئی تھی۔جبکہ مسز ناصر فی الحال ایسے برائیڈل روم میں لے گئیں تھیں۔کوٹ جھٹکتا بالوں میں ہاتھ پھیر کر وہ بھی پیچھے ہی گیا تھا۔ ’’اتنی دیر لگا دی آپ لوگوں نے۔‘‘حیات اپنی میکسی کا گھیر سنبھالتی ایک نظر ڈال کر سکون سے بیٹھ گئی تھی۔ ’’بھئی وہ پارلر والی کے ساتھ کچھ ایمرجنسی ہوگئی تھی۔اور اُسی نے حیات کو ریڈی کرنا تھا ۔۔مجھے تو اسٹاف پر بالکل بھی بھروسہ نہیں تھا۔‘‘نفاست سے سیٹ کی گئی ساڑھی کا پلو درست کرتیں وہ زرا منہ بنا کر بولی تھیں۔جبکہ شیر افگن کی ساری توجہ حیات پر تھی۔ ’’خیر الریڈی ہم کافی لیٹ ہیں۔آئی تھنک اب حیات کو اسٹیج پر لے جانا چاہیے۔پھر فوٹو شوٹ بھی ہونا ہے۔‘‘گھڑی میں نگاہِ ڈالتا وہ سنجیدگی سے بولا تو وہ سر ہلاتیں حیات کواُٹھانے لگی تھیں۔ ’’ہوٹل کی تمام تر لایٹس بند کردی گئی تھیں۔جبکہ کچھ ہی لمحوں کے توقف سےفوکس لائٹ کی روشنی میں بلیک ٹیکسیڈو میں ملبوس شیرافگن کی ہمراہی میں کھڑی حیات پر پہلی نظر پڑھتے ہی سب کے منہ سے بے ساختہ ماشاءاللہ ادا ہوا تھا۔جو سلور اور ڈارک گرے رنگ ٹیل میکسی کے ساتھ ڈائمنڈ کی جیولری پہنے برائیڈل میک آور کے باعث حسین لگ رہی تھی۔گھنی پلکوں کے سائے میں مسکارے سے چمکتی سیاہ آنکھوں میں چمکتے موتی شیر افگن کی آنکھوں سے مخفی نہیں رہے تھے۔عابثہ دو قدم چل کر نزدیک آئی تھی۔شیر افگن کی بے ساختہ ہی نظریں اس پر پڑی تھی تو وہ ہولے سے مسکرا دی تھی۔جبکہ حیات کو لوگوں کے ہجوم میں اپنوں کی کمی شدت سے محسوس ہورہی تھی۔ ’’حیات ڈانٹ کرائے!آنسو میری بیوی کی آنکھوں سے باہر نہیں آنے چاہیے۔سب کی نظریں ہم دونوں پر ہی مرکوز ہیں۔‘‘اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر دھیرے دھیرے قدم اُٹھاتا اسٹیج کی جانب بڑھتا وہ دھیمی سی سر گوشی میں باخبر کر گیا تھا۔ ’’’وہ لینس پہلی بار لگائے ہیں نا میں نے۔اس لئے ایسا ہو رہا ہے۔‘‘ناچاہتے ہوئے بھی گلا رندھ گیا تھا۔جبکہ کمر پر افگن کے ہاتھ کی سخت ہوتی گرفت وہ واضح محسوس کر رہی تھی۔ کچھ دیر بعد وہ دونوں اسٹیج پر موجود تھے۔کچھ دیر شیر افگن حیات کے ساتھ کلوز آپ لیتا۔اس کا ہاتھ تھام کر فرداً فرداً سب کے پاس جاکر ملتا حیات سے سب کا تعارف کروا رہا تھا۔ ’’حیات ان سے ملو! یہ عابثہ اسمعیل ہیں۔۔ایک دور تھا جب بابا کے عابثہ کی فیملی سے کافی اچھے مراسم رہے ہیں۔‘‘عابثہ کے چہرے پر نظریں جمائے وہ زرا شرارتی لہجے ٰمیں گویا ہواتھا۔ ’’ہیلو!آپ بہت پیاری ہیں حیات!‘‘عابثہ اسیے ایک گھوری سے نوازتی حیات کا ہاتھ تھامتی خوش دلی سے بولی تھی۔حیات کو وہ پیاری سی لڑکی پہلی نظر میں دیکھنے میں ہی پیاری لگی تھی۔ ’’آپ بھی بہت پیاری ہو۔‘‘حیات بھی دھیرے سے گویا ہوئی تھی۔ ’’ویسے
