Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 18
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 03/10/2025
3 Views
Episode no 18
دھوپ چھاؤں سا ہرجائی از_ہما_قریشی قسط_نمبر_18 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شیر افگن طیش میں سیڑھیاں پھلانگتا نیچے آیا تھا۔جہاں مسز ناصر ڈرائینگ روم میں پڑےصوفوں پر اپنی چار پانچ دوستوں کے ہمراہ براجمان خوش گپوں میں مصروف تھیں۔ان کی گفتگو سُن کر اُیسے کچھ حد تک آندازہ ہوگیا تھا کہ حیات نے آخر کیوں اس قدر سخت رد عمل کا اظہار کیا تھا۔ ’’ہیلو بیوٹیفل لیڈیز!‘‘چہرہ پر بھرپور مسکراہٹ سجائے وہ ساتھ ہی نشست سنبھال گیا تھا۔وہ تینوں چاروں چونک اُٹھی تھیں۔ ’’ہائے ہینڈسم!ہاؤ آر یو؟‘‘گھنگھریالے بالوں والی مسز فراز زرا نزاکت سے خیریت دریافت کرنے لگی تھیں۔جس کی سخت نگاہیں اپنی ماں کے چہرہ کا طواف کر رہی تھیں۔ ’’ائی ایم فائن!میری جان سے ملیں آپ لوگ؟‘‘بظاہر مسکراتا لہجامگر بڑا چبھتا ہوا تھا۔ ’’اپنی بیوی کی بات کر رہے ہو۔‘‘مسز غیور آئی بُرو اٹُھائے سوالیہ آنداز میں گویا ہوئیں۔ ’’آفکورس! اپنی جان کی بات ہی کر رہاہوں۔تو کیسی لگی آپ کو حیات شیرافگن ہاشمی؟‘‘اس بار اس کا لہجا آپ سنجیدہ ہوگیا تھا۔چہرے پر پتھریلے تاثرات واضح تھے۔سیڑھیاںُ اتر کر آتی حیات شیر افگن کو بیٹھا مسکرا مسکرا کر باتیں کرتا دیکھ لب چبا گئی۔ ’’یہ لیں میری جان بھی آگئی۔ڈرالنگ یہاں آجاؤ میرے پاس۔‘‘محبت سے چور لہجے میں بولتا وہ نسرین بیگم کا ماتھا ٹھنکا گیا تھا۔ ’’افگن تم جاؤ۔۔دیکھو تمہارے بابا بلا رہے تھے شاید۔‘‘وہ گھبرا کر جلدی سے اس کی توجہ بھٹکانے کی خاطر بولی تھیں۔ ’’جی چلا جاؤنگا۔۔مگر پہلے ان بیوٹیفل لیڈیز کے ساتھ اپنی بیگم کا تعارف تو کروادوں۔‘‘چہرے پر دل جلانے والی مسکراہٹ مسلسل رقص کر رہی تھی۔لب چباتی حیات خاموشی سے اس کے پہلو میں زرا فاصلے پر آبیٹھی تھی۔جو ایسے اپنے حصار میں سمیٹ گیا تھا۔ ’’حیات ان سے ملو،یہ ہیں مسز ناصر کی فرینڈز۔۔اور بیوٹیفل لیڈیز یہ ہیں مسز حیات شیر افگن ہاشمی۔میری جان،میری عزت،اور غیرت بھی۔کوئی اس کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی دیکھے یا پھر اس کے کرادر کے متعلق کوئی ٹیڑھی بات کرے تو وہ شخص مجھ سے برداشت نہیں ہوتا۔کیونکہ اس کی عزت میری عزت ہے۔اس کی بے عزتی گویا میری بے عزتی ہے۔۔اس کی کردار کشی میری کردار کشی ہے۔کیونکہ اس سےسرزد ہوئی کسی بھی خطا کے لیے جواب طلبی کا حق صرف میرے پاس محفوظ ہے۔۔آگر آپ میں سے کسی کو بھی میری بیوی سے کوئی شکایت ہے تو آپ مجھ سے رجوع کیجئے۔پھر ایسے کیسے سمجھانا ہے یہ میرا پرسنل میٹر ہے۔آئندہ میں اپنی بیوی کے کردار کے لئے آپ میں سے کسی کا ایک لفظ بھی نہیں برادشت کرونگا۔۔یہ بات اچھی طرح زہن نشین کرلیجئے۔اپنی ریگولر گوسپ کے لئے کسی اپنی جیسی خاتون کا زیر ِبحث لایئے۔میری بیوی آپ کی انٹرٹینمنٹ کا سامان ہر گز نہیں ہے۔ ‘‘شیر افگن کے سیدھے اور کھرے آنداز پر مسز ناصر سمیت تینوں خواتین کو سانپ سونگھ گیا تھا۔جو ان پر ایک غلط نگاہ ڈالے بغیر ہی حیات کو اپنے حصار میں لیتا انہیں اسٹل چھوڑ کر وہاں سے نکل آیا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اُسی آنداز میں حیات کو لئے کمرے میں آیا تھا۔۔جو خاموشی سے جاکر گلاس ونڈو کے پاس کھڑی ہوگئی تھی۔افگن نے ایک گہری سانس فضا کے سپرد کی تھی۔اور خاموشی سے اس کے ساتھ جاکر کھڑا ہوگیا تھا۔ ’’اُس روز تمہارے لفظوں نے مجھے طیش دلادیا تھا۔۔اور میری ایک بہت گندی عادت ہے۔غصے میں ،میں بالکل پاگل ہوجاتا ہوں۔اپنے لفظوں کا خیال نہیں رہتا مجھے۔اس روز طیش میں آکر تمہیں جو کچھ بھی کہا تھا میں اس کی معافی چاہتا ہوں۔‘‘گلاس کے پار نظر آتے ڈھلتی شام کے پرُکیف منظر پر نظریں ٹیکائے وہ سنجیدگی سے معذرت خواں لہجے میں گویا ہوا تھا۔ ’’کچھ بولوگی نہیں؟‘‘دوسری جانب سے ہنوز خاموشی برقرار تھی۔ ’’کیا بولوں آپ بتادیں۔‘‘سپاٹ تاثرات کے ساتھ رُخ بدلتی وہ استہزائیہ لہجے میں بولی تھی۔شیر افگن نے کچھ لمحے خاموشی سے اس کا آنداز برداشت کیا تھا۔جو شاید اس کی غصے میں کی گئی باتیں دل سے لگا کر بیٹھ گئی تھی۔ ’’میں اسٹڈی میں جارہا ہوں۔کچھ کام تھا مجھے۔۔ملازمہ سے کہ کر ایک کپ کافی کابھیجوادو۔‘‘شیر افگن نے خاموشی آگے بڑھ کر حیات کاچہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لے کرزرا ُجھک اس کے ماتھے پر پیارکیا،نرم لہجے میں حکم سُناتا وہ اِسٹدی میں غائب ہوگیا تھا۔۔یہ محض اُس کی خفگی دور کرنے کی خاطر معذرتی کاروائی تھی۔ جو اب گہری سانس بھرتی خود ہی اس کے حکم کی تکمیل کی خاطر کچن کا رُخ کر چکی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صبح کا اُجالا چاروں جانب پھیل چکا تھا۔ایسے میں اُجالا انگڑائیاں بھرتی طبیعت کے بَر خلاف زرا جلدی بیدار ہوگئی تھی۔آج شیر افگن کا ولیمہ تھا۔طبیعت پر اُداسی سی چھائی ہوئی تھی۔وہ جس کی ایک نظر کی منتظر رہتی تھی وہ تو اس کی جانب آنکھ اُٹھاکر دیکھنے کا روادار نہیں تھا۔ارتضیٰ عباس نجانے کب اس کی آنکھوں میں پنپتی محبت کی گہرائی کو جان پاتا۔وہ اُس کی بچپن کی منگ تھی۔ارتٰضی عباس کے نام سے بچپن سے منسوب تھی۔مگر اس نے ہمیشہ اس رشتہ سے انکار کیا تھا۔ سر جھٹکتی وہ جلدی سے واشروم کی جانب بڑھی تھی۔آج اس کے سب سے عزیز دوست کی زندگی کا بہت اہم دن تھا جیسے وہ پورے دل سے سلیبریٹ کرنا چاہتی تھی۔مگر اس حسین صبح کا اختتام کس قدر بھیانک ہونے والا تھا اُجالا حسین اس بات سے بالکل انجان تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’حیات یار جلدی کرو۔تمہاری چار بجے کی بُکنگ ہے۔پھر مجھےاور بھی کام ہیں۔‘‘ شیرا فگن عجلت بھرے لہجے میں بولتا کمرہ میں داخل ہوا تھا۔حیات جلدی سے آنسو پونچھتی ہڑبڑ اکر ڈریسنگ کی جانب بھاگی تھی۔ ’’میں گاڑی میں تمہارا ویٹ کررہا ہوں۔زرا جلدی آنا۔‘‘حیات کی نم آنکھیں دیکھ وہ ہدایت کرتا روم سے باہر نکل گیا تھا۔ فی الحال اس کے پاس حیات کو منانے کا وقت نہیں تھا۔وہ بھی جلدی سےاپنی جیولری اور ڈریس کا بیگ اُٹھاتی اس کے پیچھے بڑھی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عابثہ تیزی سے ہاتھ چلاتی اپنی تیاری میں مصروف تھی۔آج شیر افگن ہاشمی کا ولیمہ تھا جس میں فردوس منزل کے مکین بمعہ اہل ؤ عیال مدعو تھے۔ اور وہاں ارتضٰی عباس بھی آنے والا تھا۔تو بھلا وہ یہ موقع کیسے ہاتھ سے جانے دے سکتی تھی۔ بلیک خوبصورت سا گاؤن زیب تن کئے،چہرے پر ہلکی سی بی بی لگا کر ہلکے سُرخی مائل سیاہ لبوں پر گلابی لپ گلوز لگاتی خود پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالتی وہ رسیپشن میں جانے کے لیے بالکل ریڈی تھی۔ آنکھوں میں شرارت ناچ رہی تھی۔جبکہ لب مسلسل مسکرا رہے تھے۔آج کا دن اِس کے لیے بہت خاص تھا۔ایک پل کے لیے بھی مسکراہٹ لبوں سے جدا نہ ہوئی تھی۔پاؤں میں سینڈل اور کندھے پر ہینڈ بیگ ڈالتی وہ جیسے ہی پلٹی تھی۔نظر سیدھی دروازہ میں استادہ شاہ ویز سے جا ملی تھی۔جو آنکھوں میں کمینگی لئے پوسٹ مارٹم کرتی نگاہوں سے ایسے ہی گھُور رہا تھا۔عابثہ کا حلق تک کڑواہ ہوگیا تھا۔ ’’کیا بات ہے بڑی چمک رہی ہو؟آج اپنے کس یار سےملنے جارہی ہو۔‘‘ خباثت بھری مسکراہٹ لئے وہ کمینگی کی انتہاؤں پر تھا۔ ’’دفعہ ہو میرے کمرے سے۔‘‘ مقابل کا چہرہ اس کے چہرے کے ناگوار تاثرات دیکھ پل میں سنجیدہ ہوا تھا۔ ’’اپنی اوقات میں رہو سمجھیں۔اس رات تمہاری چیخ و پکار کی وجہ سے بچت ہوگئی تھی۔مگر اس بار کہیں منہ دِکھانے کے قابل نہیں چھوڑوں گا ۔‘‘شاہویز درشتگی سے پھُنکارا تھا۔جبھی فردوس بیگم کی بانگ نما آواز نے عابثہ کو کچھ بھی کہنے سے باز رکھا تھا۔۔۔۔ ’’تمہیں تو میں دیکھ لونگی۔‘‘ایسے ایک سخت تنبیہ گھُوری سے نوازتی وہ تیزی سے باہر نکل گئی تھی۔۔۔۔ اس وقت وہ
