Dhoop Chaoon Sa Harjai Complete Urdu Novel PDF — Episode no 13
Written by: Huma Qureshi
Genre: Romance
Published: 01/10/2025
4 Views
Episode no 13
موبائل اسکرین گھور کر گیا۔ ’’ماما!بابا!اتنی جلدی چھوڑ کر چلے گے اپنی عابی کو۔۔‘‘اب وہ اپنے ماں باپ کی تصویر کا فریم تھامے ان سے شکوہ کر رہی تھی۔جبکہ کتنے ہی آنسو تھے جو تصویر پر گر کر بے مول ہو رہے تھے۔بے شک ماں باپ کی جگہ کوئی بھی پُر نہیں کرسکتا ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’حیات یار اور کتنی دیر لگاؤگی۔۔‘‘شیر آفگن کافی دیر سے بیٹھا۔۔اس کا انتظار کر رہا تھا۔۔جس کی تیاری مکمل ہونے میں ہی نہیں آرہی تھی۔ ’’شیر پلیز!آپ پہلے ہی اتنے دن لیٹ کر چکے ہیں میری شاپنگ کو۔۔اب بس مجھے سکون سے تیار ہونے دیں۔۔اور آج کا سارا دن آپ نے میرے ساتھ گزارنا ہے بس۔‘‘حیات آرڈر دینے والے آندازز میں گویا ہوئی تھی۔۔۔۔ ’’’اچھا بابا!مگر پلیز جلدی کرو۔۔راستے میں بھی وقت لگے گا۔پھر شاپنگ کب کروگی تم۔‘‘وہ صوفہ کم بیڈ پر بیٹھا موبائل میں مگن زرا مصروف آنداز میں بولا تھا۔ ’’کرلونگی۔۔اور آپ پلیز اب اپنی اس محبوبہ کی جان چھوڑ دیں۔‘‘وہ ایسے ہنوز موبائل میں مگن دیکھ زچ ہوئی۔ ’’اچھا بابا!تم ریڈی ہو۔‘‘وہ موبائل ایک سائیڈ پر رکھتا۔۔ایسے سنگھار آئینہ کے سامنے کھڑا اپنا جائزہ لیتا دیکھ قدم اُٹھا کر نزدیک آیا۔ ’’جی ریڈی ہوں۔۔چلیں۔‘‘وہ بالوں میں برش پھیرتی پلٹی تھی۔ ’’آہاں!چل بھی لیں گے۔۔مگر میڈم شاپنگ پر جانے سے پہلے اتنی تیاری۔‘‘شیر نے تنقیدی نگاہوں سے اس کا جائزہ لیا تھا۔جوفیروزی اور پنک کنٹراسٹ رنگ کے لانگ قمیض اور فلیپر میں ملبوس شیفون کا دوپٹہ کندھے پر ایک سائیڈ کو ڈالے بالوں کو پشت پر کھلا چھوڑے اس کی توجہ اپنی جانب مبذول کراگئی تھی۔ ’’اتنی تو نہیں ہے،،اب کیا میں اچھے کپڑے بھی نہ پہنوں۔‘‘حیات نے آنکھیں چھوٹی کئے کمر پر ہاتھ رکھ کر گھورا تھا۔ ’’ہاہاہاہا بھئی ضرور پہنیں۔۔مگر باہر جاتے ہوئے زرا خیال کریں۔۔میں نہیں چاہتا کوئی میری اتنی پیاری بیوی کو نظر لگا دے۔‘‘شیر نے آنکھ مار کر شرارت سے کہا تھا۔ ’’افف آفگن !آپ کی عادت گئی نہیں فضول باتیں بنانےکی۔۔اب جلدی کریں۔۔کیا اب آپ کو دیر نہیں ہورہی۔‘‘وہ ماتھے پر ہاتھ مارتی اسکا ہاتھ تھام کر زبردستی کھینچتی ہوئی کمرے سے باہر نکلی تھی۔ ’’میری عادتیں پختہ ہیں۔۔اور وہ اتنی جلدی تبدیل نہیں ہوتیں۔سمجھیں۔۔ ۔‘‘راہداری سے گزرتے آفگن نے ایسے کندھوں سے تھام کر دیوار سے پن کیا تھا۔۔حیات حواس باختہ سی رہ گئی تھی۔ ’’آفگن کیا ہوگیا ہے آپ کو؟‘‘حیات اس کاسرخ چہرہ دیکھ اچھنبے سے بولی تھی۔اسکی گرم سانسیں چہرے پر محسوس ہورہی تھیں۔۔جس کی تیز نظریں اس کے چہرے پر ہی مرکوز تھیں۔ ’’کچھ نہیں ہوا!تمہیں کتنی بار کہا ہے کہ تم میرے سامنے فضول بکواس کرنے سے پرہیز کیا کرو۔۔جلدی نیچے آؤ گاڑی میں تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔‘‘جھک کر نرمی سے اس کا گال چھوکر اپنے حصار سے آزاد کرتا وہ تیزی سے سیڑھیاں پھلانگتا وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا۔جبکہ وہ منہ کھولے کھڑی ہونق بنی رہ گئی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔۔۔
